Banner
Daily Sahafat Quetta
October 27, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
کمشنر لورالائی ڈویژن ولی محمد بڑیچ کا ٹیچنگ ہسپتال لورالائی کا تفصیلی دورہ، طبی سہولیات اور جاری اصلاحات کا جائزہڈویژنل ڈائریکٹر اسکولز عبدالواسیع خان کاکڑ کا مڈل اسکول کھچ عمقزئی کا دورہ27 اکتوبر کشمیری عوام کی تاریخ کا سیاہ دن ہے، وزیراعلیٰ بلوچستان​نیشنل پریس کلب میرپورخاص کا اہم اجلاس، صحافیوں کا پیشہ ورانہ ذمہ داریاں احسن طریقے سے نبھانے کا عزمقصبہ گجرات پولیس کی بہترین کارکردگی، چوری شدہ موٹر سائیکل برآمد کرکے مالک کے حوالےملیر جرنلسٹ پینل کا چوتھا اجلاس صدر علی بلیری کی زیرِ صدارت منعقد، صحافیوں کے مسائل پر غورسوشل میڈیا پر مؤثر فعالیت موجودہ وقت کی اہم ضرورت ہے، مولوی عبدالوکیل حقیارگنداواہ: شہید مولوی محمد صادق ابڑو کی نمازِ جنازہ پیر محمد ایوب شاہ بخاری قبرستان میں ادا کر دی گئی، شہریوں اور معززین کی بڑی تعداد میں شرکتگنداواہ گزشتہ دنوں کھاری سے اغوا ہونے والے دو مزید اشخاص کی تشدد زدہ لاشیں برآمدحب سوک سینٹر میں محتسبِ اعلیٰ بلوچستان کی سربراہی میں کھلی کچہری، شہریوں نے شکایات کے انبار لگا دیےکمشنر لورالائی ڈویژن ولی محمد بڑیچ کا ٹیچنگ ہسپتال لورالائی کا تفصیلی دورہ، طبی سہولیات اور جاری اصلاحات کا جائزہڈویژنل ڈائریکٹر اسکولز عبدالواسیع خان کاکڑ کا مڈل اسکول کھچ عمقزئی کا دورہ27 اکتوبر کشمیری عوام کی تاریخ کا سیاہ دن ہے، وزیراعلیٰ بلوچستان​نیشنل پریس کلب میرپورخاص کا اہم اجلاس، صحافیوں کا پیشہ ورانہ ذمہ داریاں احسن طریقے سے نبھانے کا عزمقصبہ گجرات پولیس کی بہترین کارکردگی، چوری شدہ موٹر سائیکل برآمد کرکے مالک کے حوالےملیر جرنلسٹ پینل کا چوتھا اجلاس صدر علی بلیری کی زیرِ صدارت منعقد، صحافیوں کے مسائل پر غورسوشل میڈیا پر مؤثر فعالیت موجودہ وقت کی اہم ضرورت ہے، مولوی عبدالوکیل حقیارگنداواہ: شہید مولوی محمد صادق ابڑو کی نمازِ جنازہ پیر محمد ایوب شاہ بخاری قبرستان میں ادا کر دی گئی، شہریوں اور معززین کی بڑی تعداد میں شرکتگنداواہ گزشتہ دنوں کھاری سے اغوا ہونے والے دو مزید اشخاص کی تشدد زدہ لاشیں برآمدحب سوک سینٹر میں محتسبِ اعلیٰ بلوچستان کی سربراہی میں کھلی کچہری، شہریوں نے شکایات کے انبار لگا دیے

موٹر سائیکل : سہولت سے حادثے تک، ذمہ دار کون؟

موٹر سائیکل : سہولت سے حادثے تک، ذمہ دار کون؟
تحریر: یاسر دانیال صابری
پاکستان سمیت ملک کے مختلف شہروں اور دیہی علاقوں میں موٹر سائیکل عام آدمی کی بنیادی ضرورت بن چکی ہے، جس کی وجہ سے موٹر سائیکل بنانے والی کمپنیوں کو بھی بڑا کاروبار مل رہا ہے۔ 2024 کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں تقریباً 2 کروڑ 87 لاکھ موٹر سائیکلیں رجسٹرڈ تھیں۔ ان میں کچھ غیر رجسٹرڈ یا چوری شدہ بھی ہو سکتی ہیں، جبکہ نان کسٹم پیڈ موٹر سائیکلوں کا معاملہ الگ ہے۔ موٹر سائیکلوں کی رجسٹریشن متعلقہ صوبائی محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کرتا ہے، چوری کی تحقیقات پولیس اور کسٹم قوانین کی خلاف ورزی کے معاملات کسٹمز حکام دیکھتے ہیں
پاکستان میں موٹر سائیکل اب محض ایک سواری نہیں بلکہ عام آدمی کی بنیادی ضرورت بن چکی ہے۔ مزدور ہو، طالب علم، ملازم یا کاروباری شخص، ہر کوئی کم وقت اور کم خرچ میں اپنی منزل تک پہنچنے کے لیے موٹر سائیکل کا استعمال کرتا ہے۔ مہنگائی کے اس دور میں ہر شخص کے لیے گاڑی خریدنا ممکن نہیں اور نہ ہی ہر علاقے میں پبلک ٹرانسپورٹ کی سہولت دستیاب ہے، اس لیے موٹر سائیکل نے لوگوں کی زندگی آسان بنا دی ہے۔ لیکن افسوس کہ جس سواری کو ہم اپنی سہولت کے لیے استعمال کرتے ہیں، اسی پر سفر کرتے ہوئے اکثر اپنی اور دوسروں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیتے ہیں۔ روزانہ کہیں نہ کہیں ٹریفک حادثات کی خبریں سامنے آتی ہیں، کسی گھر کا نوجوان زخمی ہو جاتا ہے، کوئی باپ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے اور کسی ماں کی گود اجڑ جاتی ہے۔ ہم حادثے کی خبر سنتے ہیں، چند لمحے افسوس کرتے ہیں اور پھر اپنی زندگی میں مصروف ہو جاتے ہیں، لیکن جس خاندان پر یہ قیامت گزرتی ہے، اس کے لیے وہ ایک لمحہ پوری زندگی کا درد بن جاتا ہے۔ ذرا سوچیے، صبح گھر سے روزی کمانے کے لیے نکلنے والا شخص اگر شام کو واپس نہ آئے تو اس کے بچوں، والدین اور اہلِ خانہ پر کیا گزرے گی؟ ایک حادثہ صرف ایک انسان کی جان نہیں لیتا بلکہ پورے خاندان کے خواب، خوشیاں اور مستقبل بھی متاثر کر سکتا ہے۔ ہمارے ہاں موٹر سائیکل حادثات کی ایک بڑی وجہ تیز رفتاری، ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی اور احتیاطی تدابیر کو نظرانداز کرنا ہے۔ بعض نوجوان سڑکوں پر تیز رفتار موٹر سائیکل چلا کر خود کو بہادر سمجھتے ہیں، کوئی ٹریفک اشارہ توڑتا ہے، کوئی غلط سمت میں سفر کرتا ہے اور کوئی چند منٹ بچانے کے لیے گاڑیوں کے درمیان سے خطرناک انداز میں نکلنے کی کوشش کرتا ہے۔ انہیں یہ احساس نہیں ہوتا کہ سڑک صرف ان کی نہیں بلکہ وہاں پیدل چلنے والے افراد، بچوں، بزرگوں اور دوسری گاڑیوں میں سفر کرنے والوں کی بھی ہے۔ کسی ایک شخص کی لاپروائی کسی بے گناہ کی زندگی بھی چھین سکتی ہے۔ سب سے زیادہ افسوس اس وقت ہوتا ہے جب موٹر سائیکل سوار ہیلمٹ کے بغیر سڑکوں پر نظر آتے ہیں۔ بعض لوگ ہیلمٹ کو غیر ضروری سمجھتے ہیں، حالانکہ حادثے کی صورت میں سر پر لگنے والی چوٹ جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔ ہیلمٹ پولیس کے چالان سے بچنے کے لیے نہیں بلکہ اپنی زندگی کی حفاظت کے لیے پہننا چاہیے۔ موٹر سائیکل چلاتے وقت معیاری ہیلمٹ پہننے کے ساتھ اس کی پٹی باندھنا، مناسب جوتے اور ہاتھوں کے دستانے استعمال کرنا اور ضرورت کے مطابق حفاظتی لباس پہننا بھی ضروری ہے۔ اس کے علاوہ موٹر سائیکل کے بریک، ٹائر، لائٹس اور اشاروں کی باقاعدگی سے جانچ ہونی چاہیے۔ تیز رفتاری سے گریز، ٹریفک اشاروں کی پابندی، محفوظ فاصلہ برقرار رکھنا، موڑ کاٹتے وقت احتیاط کرنا اور دورانِ ڈرائیونگ موبائل فون استعمال نہ کرنا ایسے اقدامات ہیں جو کئی حادثات سے بچا سکتے ہیں۔ خاص طور پر بارش، دھند اور رات کے وقت زیادہ احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔ آج کل شہروں میں موٹر سائیکل پر مسافروں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانے کا رجحان بھی بڑھ رہا ہے۔ بہت سے لوگ اس ذریعے سے روزگار کماتے ہیں، لیکن بعض سوار مسافروں کی حفاظت کو نظرانداز کرتے ہیں، ہیلمٹ فراہم نہیں کرتے یا کرایوں میں من مانی کرتے ہیں۔ متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ وہ ایسے معاملات کی نگرانی کریں، کرایوں میں شفافیت یقینی بنائیں اور حفاظتی اصولوں کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کریں۔ تاہم یہ بھی ضروری ہے کہ روزگار کمانے والے افراد کے مسائل کو سمجھتے ہوئے ایسا نظام بنایا جائے جس میں ان کا روزگار بھی برقرار رہے اور مسافروں کی جان بھی محفوظ ہو۔ والدین کی ذمہ داری بھی کم نہیں؛ بچوں کو موٹر سائیکل دینے سے پہلے ان کی عمر، قانونی اہلیت اور تربیت کو مدنظر رکھنا چاہیے، کیونکہ بغیر تجربے اور تربیت کے سڑک پر نکلنا اپنے لیے بھی خطرہ ہے اور دوسروں کے لیے بھی۔ دوسری جانب ٹریفک پولیس کو صرف چالان کرنے تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ عوام میں شعور پیدا کرنا، ٹریفک قوانین پر عمل درآمد یقینی بنانا اور خطرناک مقامات پر مناسب سائن بورڈز اور دوسری ضروری سہولتیں فراہم کرنا بھی ضروری ہے۔ اسکولوں، کالجوں اور عوامی مقامات پر آگاہی مہم چلائی جائے تاکہ نوجوان یہ سمجھ سکیں کہ اصل بہادری تیز رفتاری میں نہیں بلکہ ذمہ داری کے ساتھ سفر کرنے میں ہے۔ ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ہر حادثے کا ذمہ دار صرف موٹر سائیکل سوار نہیں ہوتا؛ بعض اوقات خراب سڑکیں، ناقص روشنی، غیر محتاط ڈرائیور اور ٹریفک انتظامات کی کمزوریاں بھی حادثات کا سبب بن سکتی ہیں۔ اس لیے حکومت، ٹریفک پولیس اور شہریوں سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ آخر میں بات صرف اتنی سی ہے کہ موٹر سائیکل ہماری ضرورت ہے، مگر زندگی اس سے کہیں زیادہ قیمتی ہے۔ منزل پر پانچ منٹ دیر سے پہنچ جانا کوئی بڑا نقصان نہیں، لیکن چند لمحوں کی لاپروائی انسان کو عمر بھر کے پچھتاوے میں مبتلا کر سکتی ہے۔ جب بھی موٹر سائیکل پر سوار ہوں تو اپنے گھر والوں کے چہروں کو یاد کریں، ان لوگوں کو یاد کریں جو آپ کی واپسی کے منتظر ہیں اور یہ سوچیں کہ آپ کی زندگی صرف آپ کی نہیں، آپ سے کئی رشتے اور امیدیں وابستہ ہیں۔ ہیلمٹ پہنیں، رفتار قابو میں رکھیں، قوانین کی پابندی کریں اور دوسروں کی جان کا بھی اتنا ہی خیال رکھیں جتنا اپنی جان کا رکھتے ہیں، کیونکہ موٹر سائیکل ایک سہولت ہے، منزل تک پہنچنے کا ذریعہ ہے، زندگی کو خطرے میں ڈالنے کا نہیں؛ زندگی محفوظ ہوگی تو سفر بھی جاری رہے گا اور گھر والوں کی امیدیں بھی زندہ رہیں گی۔
یاسر دانیال صابری
انٹرنیشنل رائٹرز ایسوسی ایشن چئیرمن پاکستان
ممبر آف APNEC

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *