Banner
Daily Sahafat Quetta
September 22, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
پولیو مہم کو سبوتاژ کرنے کی کوششیں کامیاب نہیں ہوں گی، صادق عمرانیبلوچستان پولیس کو بڑی سہولت، 865 موٹر سائیکلیں فراہم کردی گئیںنوشکی میں پولیو ٹیم پر حملے کی مذمت، امیر حمزہ زہری کا اظہار افسوسبلوچستان کے نوجوانوں کو معیاری تعلیم کے مواقع دینا ضروری ہے، ڈاکٹر عبدالمالک بلوچپولیو ٹیم کی حفاظت پر مامور اہلکاروں کو نشانہ بنانا قابل مذمت ہے، شاہد رندکوئٹہ، طاقت کے نشے میں دھت قوتوں نے ریاست کی بنیادیں کھوکھلی کر دیں،مولانا عبدالرحمن رفیقلواحقین کوٹہ پر بھرتیاں میرٹ اور شفافیت کے مطابق ہوں گی، بابر خاندہشتگردوں اور سہولت کاروں کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، وزیراعلیٰ بلوچستانکیا ہمارا تعلیمی نصاب عملی مہارتوں کی کمی کا شکار ہے؟لورالائی میونسپل کارپوریشن، میختر کو میونسپل کمیٹی بنانے کا عمل جلد مکمل ہوگا، حاجی محمد خانپولیو مہم کو سبوتاژ کرنے کی کوششیں کامیاب نہیں ہوں گی، صادق عمرانیبلوچستان پولیس کو بڑی سہولت، 865 موٹر سائیکلیں فراہم کردی گئیںنوشکی میں پولیو ٹیم پر حملے کی مذمت، امیر حمزہ زہری کا اظہار افسوسبلوچستان کے نوجوانوں کو معیاری تعلیم کے مواقع دینا ضروری ہے، ڈاکٹر عبدالمالک بلوچپولیو ٹیم کی حفاظت پر مامور اہلکاروں کو نشانہ بنانا قابل مذمت ہے، شاہد رندکوئٹہ، طاقت کے نشے میں دھت قوتوں نے ریاست کی بنیادیں کھوکھلی کر دیں،مولانا عبدالرحمن رفیقلواحقین کوٹہ پر بھرتیاں میرٹ اور شفافیت کے مطابق ہوں گی، بابر خاندہشتگردوں اور سہولت کاروں کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، وزیراعلیٰ بلوچستانکیا ہمارا تعلیمی نصاب عملی مہارتوں کی کمی کا شکار ہے؟لورالائی میونسپل کارپوریشن، میختر کو میونسپل کمیٹی بنانے کا عمل جلد مکمل ہوگا، حاجی محمد خان

کیا ہمارا تعلیمی نصاب عملی مہارتوں کی کمی کا شکار ہے؟

کیا ہمارا تعلیمی نصاب عملی مہارتوں کی کمی کا شکار ہے؟
تحریر، شکیل گوندل
ہمارا تعلیمی نصاب بڑی حد تک کتابی علم پر مبنی ہے، جو عملی زندگی کی ضروریات سے کافی حد تک کٹا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ ایک طالب علم سولہ سالہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد بھی بجلی کا پلگ درست کرنے، بینک چالان پُر کرنے یا اپنا کاروبار شروع کرنے کی بنیادی مہارت سے محروم ہوتا ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ہمارے تعلیمی نظام میں رٹے اور امتحانی نتائج کو عملی مہارتوں کے مقابلے میں زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔ ہم بچوں کو معلومات یاد کرواتے ہیں، مگر انہیں ان معلومات کو عملی زندگی میں استعمال کرنے کا ہنر کم ہی سکھاتے ہیں۔

نصاب کی بڑی کمزوریاں

1۔ فرسودہ نصاب:
ہمارے نصاب میں کئی ایسے مضامین اور تدریسی طریقے آج بھی رائج ہیں جو کئی دہائیاں پہلے تشکیل دیے گئے تھے۔ مصنوعی ذہانت (AI)، کوڈنگ، فری لانسنگ اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ جیسے جدید شعبوں کی ضروریات کو نصاب اور تدریس میں مناسب اہمیت دینے کی ضرورت ہے۔ بدلتی ہوئی دنیا میں تعلیمی نصاب کو وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ناگزیر ہے۔
2۔ نظریہ زیادہ، عمل کم:
سائنس کی کتابوں میں تجربات کی تصاویر تو موجود ہوتی ہیں، مگر کئی تعلیمی اداروں میں عملی تجربات کے لیے ضروری لیبارٹری، سامان اور سہولیات دستیاب نہیں ہوتیں۔ چنانچہ بچہ بجلی کی تعریف تو یاد کر لیتا ہے، لیکن بلب یا برقی سرکٹ کے بنیادی عملی استعمال سے ناواقف رہتا ہے۔ تعلیم کا مقصد صرف معلومات فراہم کرنا نہیں، بلکہ ان معلومات کو عملی صلاحیت میں تبدیل کرنا بھی ہونا چاہیے۔
3۔ ہنر کو کم تر سمجھنے کا رجحان:
ہمارے معاشرے میں میٹرک یا انٹرمیڈیٹ کے بعد فنی تعلیم اور ہنر سیکھنے والے بعض اوقات کم تر سمجھے جاتے ہیں، جبکہ ڈگری حاصل کرنے کو کامیابی کا واحد معیار تصور کیا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک ماہر الیکٹریشن، پلمبر، مکینک یا کسی دوسرے ہنر مند کی معاشی قدر اور آمدنی اس کی مہارت، تجربے اور مارکیٹ کی طلب پر منحصر ہوتی ہے۔ اس لیے فنی تعلیم اور ہنر کو عزت، مواقع اور مناسب تربیت فراہم کرنا ضروری ہے۔
4۔ سب کے لیے یکساں تعلیمی طریقہ:
ہمارے نظامِ تعلیم میں مختلف ذہنی صلاحیتوں، دلچسپیوں اور سیکھنے کی رفتار رکھنے والے بچوں کے لیے اکثر یکساں نصاب اور تدریسی طریقہ اختیار کیا جاتا ہے۔ تعلیمی نفسیات کے مطابق بچوں میں انفرادی اختلافات پائے جاتے ہیں۔ ہر بچے کی ذہانت، استعداد، دلچسپی اور سیکھنے کا انداز ایک جیسا نہیں ہوتا۔
اگر تمام بچوں کو ایک ہی پیمانے سے پرکھا جائے تو کچھ بچے بہتر نتائج حاصل کر لیتے ہیں، جبکہ دوسرے اپنی صلاحیت کے مطابق کارکردگی دکھانے میں مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ نصاب اور تدریسی طریقوں میں بچوں کی مختلف صلاحیتوں اور ضروریات کو مدنظر رکھا جائے۔ نظریاتی تعلیم کے ساتھ فنی، تخلیقی اور عملی سرگرمیوں کے مواقع بھی فراہم کیے جائیں، تاکہ ہر بچہ اپنی صلاحیت کے مطابق ترقی کر سکے۔

نصاب کو قابلِ عمل کیسے بنایا جائے؟

1۔ ابتدائی جماعتوں سے ہنر کی تعلیم:
پانچویں جماعت سے ہی ہر بچے کو اس کی عمر اور دلچسپی کے مطابق کم از کم ایک عملی ہنر سکھانے کا انتظام کیا جائے۔ اس میں بنیادی برقی کام، سلائی کڑھائی، زراعت، کمپیوٹر، موبائل ریپیرنگ اور دیگر مفید فنی مہارتیں شامل ہو سکتی ہیں۔ اس کا مقصد بچوں کو کم عمری میں عملی صلاحیتوں سے روشناس کرانا اور انہیں مستقبل کے لیے تیار کرنا ہونا چاہیے۔
2۔ مقامی ضروریات سے ہم آہنگ نصاب:
نصاب میں مقامی ماحول، معیشت اور وسائل کو مناسب جگہ دی جائے۔ مثلاً منڈی بہاؤالدین کے بچوں کو نہروں، زراعت اور گندم کی پیداوار سے متعلق عملی معلومات دی جائیں، جبکہ کراچی کے بچوں کو سمندر، بندرگاہ اور بحری تجارت سے متعلق موضوعات پڑھائے جائیں۔ اس طرح بچے اپنی تعلیم کو اپنے ماحول اور معاشرتی ضروریات سے جوڑ سکیں گے۔
3۔ نظریاتی اور عملی تعلیم میں توازن:
ہر مضمون میں عملی سرگرمیوں کو زیادہ اہمیت دی جائے۔ جہاں ممکن ہو، تعلیم میں 70 فیصد عملی اور 30 فیصد نظریاتی سرگرمیوں کا ہدف مقرر کیا جا سکتا ہے، تاہم یہ تناسب مضمون، جماعت اور تعلیمی سطح کے مطابق مختلف ہونا چاہیے۔ امتحانات میں صرف یادداشت جانچنے کے بجائے عملی کارکردگی، مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت اور سیکھے ہوئے علم کے استعمال کو بھی شامل کیا جائے۔ بچوں کو صرف یہ نہ پوچھا جائے کہ وہ کیا جانتے ہیں، بلکہ یہ بھی دیکھا جائے کہ وہ کیا کر سکتے ہیں۔
4۔ اساتذہ کی عملی تربیت:
اساتذہ کی تربیت بھی تعلیمی اصلاحات کا ایک لازمی حصہ ہے۔ اساتذہ کو فیکٹریوں، کھیتوں، کاروباری مراکز اور آئی ٹی اداروں کے مطالعاتی دورے کروائے جائیں، تاکہ وہ کتابی علم کے ساتھ عملی دنیا کے تقاضوں سے بھی واقف ہوں۔ ایک تربیت یافتہ استاد طلبہ کو نظریاتی معلومات کے ساتھ ان کے حقیقی زندگی میں استعمال کی مثالیں بہتر انداز میں سمجھا سکتا ہے۔
5۔ زبانوں اور عملی مہارتوں کی تعلیم:
میٹرک تک ہر بچے کو اردو اور انگریزی کے ساتھ بنیادی کمپیوٹر، کاروباری فہم اور اخلاقی تربیت کی تعلیم دی جائے۔ بچوں کو ڈیجیٹل خواندگی، مالی معاملات، کاروباری منصوبہ بندی اور ذمہ دارانہ رویے سے متعلق عملی سرگرمیوں میں شامل کیا جائے۔ اس طرح تعلیم کا مقصد صرف ڈگری کا حصول نہیں رہے گا، بلکہ شخصیت سازی، روزگار اور خود انحصاری بھی اس کا حصہ بنیں گے۔
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ ڈگری اور ہنر ایک دوسرے کے متبادل نہیں، بلکہ ایک دوسرے کے معاون ہونے چاہییں۔ ایسا تعلیمی نظام جو صرف امتحانات میں کامیابی کے لیے تیار کرے، مگر عملی زندگی کے مسائل سے نمٹنے کی صلاحیت پیدا نہ کرے، اپنی افادیت کا ایک اہم پہلو کھو دیتا ہے۔ ہمیں ایسے نصاب کی ضرورت ہے جو علم، کردار، ہنر اور تخلیقی صلاحیتوں کو یکجا کرے۔
جب تک تعلیم کے ساتھ عملی مہارتوں کو اہمیت نہیں دی جائے گی، ڈگری یافتہ نوجوانوں کے لیے روزگار اور خود انحصاری کے مسائل برقرار رہ سکتے ہیں۔ اس لیے تعلیمی نصاب میں عملی تربیت، فنی تعلیم اور بدلتی ہوئی معاشی ضروریات کو شامل کرنا نہ صرف تعلیمی نظام کی بہتری کے لیے ضروری ہے، بلکہ ملکی ترقی اور معاشی استحکام کی جانب بھی ایک اہم قدم ہے۔

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *