Banner
Daily Sahafat Quetta
November 6, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
شورِ عنادل۔۔۔ لفظوں کی خوشبو، احساس کی موسیقی اور محبت کا نغمہمولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ کی مبینہ ڈرون عکس بندی کے خلاف اوستہ محمد میں احتجاجعوامی مسائل کے حل کے لیے مثبت اور تعمیری صحافت وقت کی ضرورت ہے، میر اورنگزیب خان دیناریمشکل وقت میں ساتھ دینے والوں کا شکر گزار ہوں، آئندہ بھی ان کے ساتھ کھڑا رہوں گا، سردار امیر بخش بھٹوپیٹرول اور ڈیزل سستا ہونے کے بعد گڈز ٹرانسپورٹرز کا کرایوں میں 5 فیصد کمی کا اعلانپنجاب حکومت کو بدنام کرکے متبادل انتظام لانے کی کوشش ہو رہی ہے، خواجہ آصففتنۃ الہندوستان کا اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کیلیے خواتین کا استعمال، اہم انکشافات سامنے آگئےمولانا فضل الرحمان کے قریبی اتحادی سے منسوب حج ٹور آپریٹرز کو شوکاز نوٹس جاری2025 میں ختم دہائی کے دوران پاکستان کا کل بیرونی قرضہ تقریباً دگنا ہوگیاٹرمپ کا ایران پر 9 نومبر کو دوبارہ حملوں کا امکان، وائٹ ہاؤس میں سکیورٹی ٹیم سے اہم مشاورتشورِ عنادل۔۔۔ لفظوں کی خوشبو، احساس کی موسیقی اور محبت کا نغمہمولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ کی مبینہ ڈرون عکس بندی کے خلاف اوستہ محمد میں احتجاجعوامی مسائل کے حل کے لیے مثبت اور تعمیری صحافت وقت کی ضرورت ہے، میر اورنگزیب خان دیناریمشکل وقت میں ساتھ دینے والوں کا شکر گزار ہوں، آئندہ بھی ان کے ساتھ کھڑا رہوں گا، سردار امیر بخش بھٹوپیٹرول اور ڈیزل سستا ہونے کے بعد گڈز ٹرانسپورٹرز کا کرایوں میں 5 فیصد کمی کا اعلانپنجاب حکومت کو بدنام کرکے متبادل انتظام لانے کی کوشش ہو رہی ہے، خواجہ آصففتنۃ الہندوستان کا اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کیلیے خواتین کا استعمال، اہم انکشافات سامنے آگئےمولانا فضل الرحمان کے قریبی اتحادی سے منسوب حج ٹور آپریٹرز کو شوکاز نوٹس جاری2025 میں ختم دہائی کے دوران پاکستان کا کل بیرونی قرضہ تقریباً دگنا ہوگیاٹرمپ کا ایران پر 9 نومبر کو دوبارہ حملوں کا امکان، وائٹ ہاؤس میں سکیورٹی ٹیم سے اہم مشاورت

شورِ عنادل۔۔۔ لفظوں کی خوشبو، احساس کی موسیقی اور محبت کا نغمہ

شورِ عنادل۔۔۔ لفظوں کی خوشبو، احساس کی موسیقی اور محبت کا نغمہ
معروف پاکستانی شاعر بلبلِ ہزار داستان ڈاکٹر حبیب الرحمٰن کے پانچویں شعری مجموعے کی تقریبِ رونمائی، فلیٹیز ہوٹل لاہور میں ادبی و تخلیقی ذوق کی خوبصورت محفل

منشا قاضی
حسبِ منشا

اردو شاعری کی دنیا میں بعض تخلیقات محض الفاظ کا مجموعہ نہیں ہوتیں بلکہ شاعر کے باطن میں آباد موسموں، احساسات، تجربات اور مشاہدات کی ایسی دل آویز تصویریں ہوتی ہیں جو قاری کے دل و دماغ میں دیر تک اپنا اثر قائم رکھتی ہیں۔ ایسی ہی تخلیقی اور فکری روایت کے امین معروف پاکستانی شاعر ، بلبلِ ہزار داستان ڈاکٹر حبیب الرحمٰن ہیں، جن کا پانچواں شعری مجموعہ ’’شورِ عنادل‘‘ حال ہی میں شائع ہو کر اہلِ ذوق کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار اس خوبصورت کتاب کی تقریبِ رونمائی کی صدارت کی کرسی پر جلوہ افروز پروفیسر ڈاکٹر محمد کامران ڈین ، کلیہ علوم شرقیہ ، پنجاب یونیورسٹی لاھور نے اپنے صدارتی خطبہ میں کیا ۔پروفیسر ڈاکٹر محمد کامران نے کہا یہ فطرت کے حُسن اور جمالیاتی توازن کی شاعری ہے، یہ ماحول کو خوبصورت بنانے کی تخلیقی سعی ہے ، یہ ہوا بارش اور سورج کی روشنی کی شاعری ہے، یہ سماجی بحران کے دور میں رشتوں کے تحفظ کی پیامبری ہے، اس شاعری کی منڈیر پر سدا بہار پھول کھلتے ہیں اور بلبلیں غزل خواں ہوتی ہیں ۔ حبیب الرحمن کے شعری منظر نامے کی تکمیل شورِ عنادل سے مشروط ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حبیب الرحمن بلبلِ ہزار داستان ہیں اور انہوں نے اپنے قلب میں موجود ہزاروں داستانوں کو منظوم کر کے اس شعری مجموعے کے کینوس پر منتقل کر دیا ہے مہمانِ خصوصی انجینئر توقیر احمد شریفی نے بڑے خوبصورت انداز میں کہا کہ
ڈاکٹر حبیب الرحمٰن کا شمار ان شعرا میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنے تخلیقی سفر کو محض اظہارِ ذات تک محدود نہیں رکھا بلکہ اپنے احساسات کو انسانی زندگی، محبت، معاشرتی رویوں اور کائنات کے رنگا رنگ مظاہر سے ہم آہنگ کیا ہے۔ توقیر احمد شریفی نے کہا کہ ڈاکٹر حبیب الرحمٰن کینیڈا میں مقیم ہونے کے باوجود ان کا دل اپنی زبان، تہذیب، ادبی روایت اور وطن کی مٹی سے جڑا ہوا ہے۔ اس لیئے جغرافیائی فاصلے تخلیق کے راستے میں کبھی رکاوٹ نہیں بنتے، بلکہ بعض اوقات یہی فاصلے یادوں، احساسات اور تخیل کو مزید گہرائی عطا کرتے ہیں۔ ڈاکٹر حبیب الرحمٰن کی شاعری میں بھی اسی قلبی وابستگی اور فکری تسلسل کی جھلک محسوس ہوتی ہے۔ تو قیر احمد شریفی نے کہا کہ ڈاکٹر حبیب الرحمن معروف ادبی مراکز سے دور ایک پرسکون گوشے میں بیٹھ کر اردو شعر و ادب کی خدمت میں مصروف ہیں شورِ عنادل ان کا تازہ شعری مجموعہ ہے جس میں مظاہر فطرت کی عکاسی اس خوبصورتی سے کی گئی ہے کہ روح سیراب ہو جاتی ہے بہت کم عرصے میں شعری ترفع کی ایسی مثال کم کم ملتی ہے جیسی ڈاکٹر حبیب الرحمن کے کام سے ھویدا ہے شورِ عنادل ایک ایسا شعری مجموعہ ہے جس سے اساتذہ، طالب علم اور اہل فکر و نظر یکساں بہرہ مند ہوں۔ ڈاکٹر حبیب الرحمن سٹیج پر آئے تو سامعین ہمہ تن گوش ہو گئے اور ان کا تقاضا تھا کہ ڈاکٹر صاحب اپنا کلام اپنی زبان سے ہمارے دلوں تک پہنچائیں ۔ آپ نے اپنا کلام سامعین کی سماعتوں کی جب نذر کیا تو سامعین کے جسم و بدن میں ایک لرزش خفی پیدا ہوگی ، ان کی غزل کے نمونے ملاحظہ فرمائیں۔

کیوں صدف کا انتظار ابرِ نیساں دیکھیئے

گِر گئے جو خاک میں وہ اشک غلطاں دیکھیئے

گر تمسخر دیکھنا ہے تو سرودِ درد پر

غنچہ ء گل کا تبسم ہائے پنہاں دیکھیئے

گر نہیں آتا نظر داغِ محبت آپ کو

اٹھ رہا ہے داغِ دل سے دودِ پیچاں دیکھیئے

صورِ محشر سن لیا، ہے انتظار باز پرس

آئیئے دہشت کدے میں بید لرزاں دیکھیئے

یہ سیہ بختی کبھی جینے نہیں دے گی تجھے

تیرگی کے دیکھنے کو بزمِ امکاں دیکھیئے

اعتبارِ گردشِ لیل و نہار اب کیوں کروں

شاد و خنداں کو یہاں اب زار و نالاں دیکھئے

لے چلوں میں آپ کو شہرِ دل و جاں میں کبھی

یاس و بیم کاروانِ دشتِ حراماں دیکھیئے

اب تلک اس کو رہا پاسِ حجاب عاشقاں

اب تنِ عریاں میں برباد بہاراں دیکھیئے

کیوں نہیں پاگل کہیں اس کو بھلا تم ہی کہو

سالک شوریدہ سر کا چاکِ داماں دیکھیئے

پنجاب یونیورسٹی کی پروفیسر ڈاکٹر ثمینہ بشریٰ اور محترمہ زوبیہ انور نے خوب داد دی راقم نے تو اس غزل کو حرزِ جاں بنا لیا ہے ۔ جناب خالد شریف کی نظامت و نقابت کی بلاغت نے سامعین کو شگفتگی کا ماحول فراہم کیا ۔ خالد شریف نے کہا کہ ’’شورِ عنادل‘‘ ڈاکٹر حبیب الرحمٰں کے شعری سفر کا پانچواں پڑاؤ ہے۔ اس سے قبل ان کے چار شعری مجموعے ’’متاعِ زیست‘‘، ’’صدائے عشق‘‘، ’’دشتِ تشنگی‘‘ اور ’’آدابِ عشق‘‘ شائع ہو کر ادبی حلقوں میں اپنی شناخت قائم کر چکے ہیں۔ خالد شریف نے کہا کہ ان کتابوں کے عنوانات ہی شاعر کے فکری اور جذباتی سفر کی مختلف جہتوں کی نشان دہی کرتے ہیں۔ کہیں زندگی کی متاع سمیٹنے کی خواہش ہے، کہیں عشق کی صدا سنائی دیتی ہے، کہیں تشنگی کے دشت میں بھٹکتے ہوئے احساسات ہیں اور کہیں محبت کے آداب و تقاضوں کا بیان۔ اب ’’شورِ عنادل‘‘ کے ذریعے شاعر نے اپنے تخلیقی سفر میں ایک اور خوبصورت اضافہ کیا ہے۔ محترمہ نوین روما نے کہا کہ
کتاب کا عنوان نہایت معنی خیز اور شاعرانہ ہے۔ ’’عنادل‘‘ بلبلوں کو کہا جاتا ہے اور بلبل کی آواز ہمیشہ سے اردو اور فارسی شعری روایت میں حسن، محبت، نغمگی اور باغِ حیات کی علامت رہی ہے۔ شورِ عنادل گویا ان آوازوں کا استعارہ ہے جو خاموشی کے سینے میں بھی اپنی موجودگی کا احساس دلاتی ہیں۔ روما نے کہا کہ یہ عنوان اپنے اندر نغمگی، لطافت اور تخلیقی ارتعاش کی ایک پوری کائنات سموئے ہوئے ہے۔ روما نے کہا کہ کتاب کا سرورق بھی اپنے نام کی معنویت کے ساتھ خوب صورت ہم آہنگی رکھتا ہے، جس میں پھولوں، شاخوں، پتوں اور خوش الحان پرندوں کی دل کش منظرکشی نے کتاب کو ایک جمالیاتی شناخت عطا کی ہے۔

جناب خالد شریف نے نہایت خوش اسلوبی سے انجام دیے۔ ان کی عمدہ میزبانی اور ادبی انداز نے محفل کے ماحول کو خوش گوار اور بامعنی بنائے رکھا۔ جن مقررین نے شور عنادل کے مصنف ڈاکٹر حبیب الرحمن پر گفتگو کی ان میں ڈاکٹر اختر حسین سندھو، راقم منشا قاضی ، محترمہ نوین روما ، محترمہ سحر غفور، محترمہ رابعہ رحمٰن ، محترمہ سیدہ فاطمہ بتول، محترمہ راحیلہ اشرف اور محترم ندیم مرزا نے ڈاکٹر حبیب الرحمن کی شاعری کو بے پناہ پسند کیا اور اپنے جذبات و احساسات کا اظہار کرتے ہوئے انہیں شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا
ندیم مرزا نے کہا کہ تقریبِ رونمائی کا بنیادی مقصد ڈاکٹر حبیب الرحمٰن کی نئی تخلیقی کاوش کو اہلِ ادب کے سامنے پیش کرنا اور ان کے طویل ادبی سفر کی پذیرائی کرنا تھا۔ ندیم مرزا نے مزید کہا کہ اس موقع پر کتاب کی اشاعت کو اردو شاعری کے تسلسل اور ادبی سرمایہ میں ایک قابلِ قدر اضافے کے طور پر دیکھا گیا ہے ۔ محترمہ راحیلہ اشرف نے کہا کہ ایسی تقریبات نہ صرف تخلیق کار کی حوصلہ افزائی کا ذریعہ بنتی ہیں بلکہ ادیب، شاعر، قاری اور اہلِ ذوق کے درمیان ایک ایسا فکری رابطہ بھی قائم کرتی ہیں جو زبان و ادب کی ترویج و ترقی کے لیئے ناگزیر ہے۔ محترمہ رابعہ رحمٰن نے کہا کہ بلاشبہ ایک شاعر کے لیئے اس سے بڑی خوشی کیا ہو سکتی ہے کہ اس کے دل میں جنم لینے والے احساسات کتابی صورت اختیار کرکے قارئین تک پہنچیں اور اس کے لفظ کسی دوسرے دل کی دھڑکنوں سے ہم آہنگ ہو جائیں۔ محترمہ زوبیہ انور نے کہا کہ شاعری دراصل دل سے دل تک پہنچنے کا وہ لطیف راستہ ہے جہاں لفظ اپنی لغوی حدود سے نکل کر احساس کی زبان بن جاتے ہیں۔ محترمہ سیدہ فاطمہ بتول نے کہا کہ ڈاکٹر حبیب الرحمٰن کی پانچویں کتاب کی اشاعت اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کا تخلیقی سفر مسلسل جاری ہے اور وہ اپنے ادبی تجربات کو نئے عنوانات اور نئے احساسات کے ساتھ قارئین کے سامنے پیش کر رہے ہیں۔ منشا قاضی نے کہا ڈاکٹر حبیب الرحمن کی شاعری ہمالہ کی رفعتوں کو چھو رہی ہے اور ان کے لیئے شعر کہنا اور سانس لینا یکساں ہے منشا قاضی نے کہا ڈاکٹر حبیب الرحمن ایک عجوبہ ء روزگار معالج بھی ہیں اور عجوبہ ء روزگار شاعر بھی آپ اجسام و ابدان کی صحت مندی کے ساتھ روحوں کو بھی سیراب کر رہے ہیں ۔

تقریب کے اختتام پر شرکائے محفل کی تواضع پرتکلف ہائی ٹی سے کی گئی۔ فلیٹیز ہوٹل کی خوب صورت فضا، مہمانوں کی پرتپاک میزبانی اور باہمی ملاقاتوں نے اس ادبی اجتماع کو ایک خوش گوار یاد میں تبدیل کر دیا۔ حکیم سلیم اختر نے منظوم ہدیہ ء عقیدت ڈاکٹر حبیب الرحمٰن کی عظیم شخصیت کی ادبی خدمات کے اعتراف میں پیش کیا ۔ حکیم سلیم اختر نے کہا کہ
’’شورِ عنادل‘‘ کی اشاعت پر ڈاکٹر حبیب الرحمٰن بجا طور پر مبارک باد کے مستحق ہیں۔ دعا ہے کہ ان کے قلم کی یہ نغمگی یونہی برقرار رہے، ان کے لفظوں سے محبت، زندگی اور انسان دوستی کی خوشبو پھیلتی رہے اور ان کی آنے والی تخلیقات بھی اردو ادب کے دامن کو مزید وسعت عطا کرتی رہیں۔ کیونکہ حقیقی شاعری کا سفر کسی ایک کتاب پر ختم نہیں ہوتا؛ یہ تو احساس کے اس چشمے کی مانند ہے جو ہر نئے موسم میں ایک نئی لے، ایک نئی آواز اور ایک نیا نغمہ لے کر پھوٹتا ہے۔ یہ تقریب فلیٹیز ہوٹل لاہور میں منعقد ہوئی جس میں علم و ادب سے وابستہ شخصیات اور شعر و سخن کے قدر دانوں نے شرکت کر کے اس ادبی تقریب کو یادگار بنا دیا۔

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *