Banner
Daily Sahafat Quetta
September 22, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
بلوچستان میں ڈیجیٹل ہیلتھ کے فروغ کیلئے اہم معاہدہ طے پاگیا بلوچستان میں ڈیجیٹل ہیلتھ نظام مزید مستحکم کیا جائے گا، میر سرفراز بگٹیتعمیراتی شعبے کے حقوق کا تحفظ ہماری اولین ترجیح ہوگی، حاجی عبدالمالک کاکڑبلوچستان کا تعلیم یافتہ نوجوان مایوسی کا شکارصفدر خان باغی نے گلوبل ٹائمز میڈیا یورپ کے چیف ایگزیکٹو اکرام الدین کے چھوٹے بھائی ڈاکٹر عبدالحق فاروقی کی شادی کے ولیمہ میں شرکتپشتون تہذیب و ثقافت سماجی انصاف ،توانائی و مکالمے کا متلاشی !!،،،پشتون کلچر ڈے 23 ستمبر کو منایا جائے، سردار منظور کاکڑایرانی حملوں میں متاثرہ خلیجی توانائی تنصیبات کی بحالی کے لیے امریکا نے 5 ارب ڈالر کی پیشکش کر دیفیلڈ مارشل کی فارمیشنز کو ہمہ وقت چوکس رہنے اور اعلیٰ آپریشنل تیاری برقرار رکھنے کی ہدایتاقوام متحدہ نے ایران جنگ ختم کرانے کیلئے پاکستان سے رابطے کی تصدیق کردیپیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا، 22 ستمبر کے لیے نئی قیمتوں کا اعلان کردیا گیابلوچستان میں ڈیجیٹل ہیلتھ کے فروغ کیلئے اہم معاہدہ طے پاگیا بلوچستان میں ڈیجیٹل ہیلتھ نظام مزید مستحکم کیا جائے گا، میر سرفراز بگٹیتعمیراتی شعبے کے حقوق کا تحفظ ہماری اولین ترجیح ہوگی، حاجی عبدالمالک کاکڑبلوچستان کا تعلیم یافتہ نوجوان مایوسی کا شکارصفدر خان باغی نے گلوبل ٹائمز میڈیا یورپ کے چیف ایگزیکٹو اکرام الدین کے چھوٹے بھائی ڈاکٹر عبدالحق فاروقی کی شادی کے ولیمہ میں شرکتپشتون تہذیب و ثقافت سماجی انصاف ،توانائی و مکالمے کا متلاشی !!،،،پشتون کلچر ڈے 23 ستمبر کو منایا جائے، سردار منظور کاکڑایرانی حملوں میں متاثرہ خلیجی توانائی تنصیبات کی بحالی کے لیے امریکا نے 5 ارب ڈالر کی پیشکش کر دیفیلڈ مارشل کی فارمیشنز کو ہمہ وقت چوکس رہنے اور اعلیٰ آپریشنل تیاری برقرار رکھنے کی ہدایتاقوام متحدہ نے ایران جنگ ختم کرانے کیلئے پاکستان سے رابطے کی تصدیق کردیپیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا، 22 ستمبر کے لیے نئی قیمتوں کا اعلان کردیا گیا

بلوچستان کا تعلیم یافتہ نوجوان مایوسی کا شکار

تحریر: وارث دیناری
پاکستان کا سب سے بڑا اثاثہ اس کے تعلیم یافتہ نوجوان ہیں۔ یہی نوجوان سنہرے مستقبل کی خاطر دن رات سر توڑ محنت کرکے تعلیمی میدان میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد عملی زندگی میں روزگار کی تلاش میں نکلتے ہیں۔ پھر جب وہ میرٹ کا قتلِ عام، اقربا پروری، رشوت اور سفارشی کلچر دیکھتے ہیں تو ان کے خواب چکنا چور ہو جاتے ہیں۔
بدقسمتی سے آج یہی اثاثہ مایوسی کی دلدل میں دھنس رہا ہے۔ ملک کی نامور یونیورسٹیوں سے ڈگریاں ہاتھوں میں تھامے لاکھوں نوجوان نوکری کی تلاش میں در در کی خاک چھان رہے ہیں۔ دوسری طرف سرکاری محکموں کا یہ حال ہے کہ ہزاروں ملازمین ایسے ہیں جو یا تو گھر بیٹھے مفت کی تنخواہیں بٹور رہے ہیں یا سفارشی بنیادوں پر، بغیر کسی کارکردگی کے، قومی خزانے پر بوجھ بنے ہوئے ہیں۔
یوں تو پورے ملک میں یہی صورتِ حال ہے، لیکن دیگر صوبوں میں کسی حد تک نجی شعبے میں آسامیاں دستیاب ہو جاتی ہیں۔ میرے بلوچستان میں اس طرح کے مواقع نہ ہونے کے برابر ہیں۔
ستم ظریفی دیکھیے کہ حکومت کا کہنا ہے کہ وسائل نہیں ہیں اور ملازمتوں کے لیے مزید آسامیاں پیدا کرنا ممکن نہیں رہا، لیکن پھر مختلف اداروں میں ہزاروں کی تعداد میں گھر بیٹھے تنخواہیں وصول کرنے والے افراد کے بارے میں کیوں چشم پوشی کی جا رہی ہے؟
ایک تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوان جب دیکھتا ہے کہ ایک طرف ہمارے لیے روزگار کے دروازے بند ہیں، تو دوسری جانب گھر بیٹھے تنخواہیں اور مراعات لینے والے افراد کس طرح پُرآسائش زندگی گزار رہے ہیں، اپنی مرضی سے کاروبار اور دیگر معاملات میں مصروف ہیں، تو یقیناً اس کا دل دکھتا ہے اور وہ اس نظام سے نفرت کرنے لگتا ہے۔
آج سے تقریباً ایک عشرہ قبل ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی، جس میں ایک جج کسی ہسپتال کا معائنہ کرتے ہوئے ناقص صفائی پر برہمی کا اظہار کرتا ہے۔ پوچھتا ہے صفائی کرنے والا عملہ کہاں ہے اسی دوران وہاں موقع پر کھڑے ایک شخص کو دیکھتا ہے جس کے گلے میں خاکروب کا کارڈ لٹک رہا تھا، لیکن موصوف شکل و صورت اور لباس سے ایک کھاتے پیتے گھرانے کا فرد لگ رہا تھا۔
جج نے حکم دیتا ہے آپ کے بچوں کی روٹی روزی یہی ہے، کام شروع کریں۔جس پر اس شخص نے کدال پکڑی اور بند گٹر کھولنے لگا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ وہ حلقے کے ایم این اے کا قریبی رشتہ دار اور زرعی زمینوں کا مالک بھی تھا۔
یہ ویڈیو اس قدر وائرل ہوئی کہ ملک بھر سے آنے والے کمنٹس میں زیادہ تر یہی لکھا گیا کہ کاش اس طرح کا ایکشن تمام سرکاری محکموں میں اور ہر جگہ ہوتا تو بات بنتی
میں نے تو آٹھ، دس سال پرانی ویڈیو کا ذکر کیا ہے، آج کل تو آئے روز اس طرح کی ویڈیوز دیکھی جا سکتی ہیں۔ ظلم کی انتہا تو یہ جب ایک خوشحال فرد دو تین اسکیل میں بھرتی ہونا چاہیے اس سے بڑا المیہ اور کیا ہو سکتا ہے
بلوچستان میں گڈ گورننس‘بہتر طرزِ حکمرانی اور میرٹ‘کا بڑا واویلا کیا جا رہا ہے۔ دعوے کیے جا رہے ہیں کہ اب نوکریاں صرف اور صرف حقداروں کو مل رہی ہیں، لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ چوری چھپے من پسند افراد کو مختلف محکموں میں پچھلے دروازے سے بھرتی کر دیا جاتا ہے اور مہینوں تک کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہونے دی جاتی۔
یہ کیسا میرٹ ہے؟ یہ کیسی گڈ گورننس ہے؟
اگر حکمران واقعی بلوچستان کے نوجوانوں کو مایوسی اور بے راہ روی سے بچانا چاہتے ہیں تو انہیں بند کمروں میں ہونے والی اس بندر بانٹ کو روکنا ہوگا۔ جب تک گھوسٹ ملازمین کا خاتمہ نہیں ہوتا اور چوری چھپے ہونے والی بھرتیوں پر پابندی نہیں لگتا، تب تک بلوچستان کا نوجوان یونہی سڑکوں پر رلتا رہے گا اور صوبے کا مستقبل اندھیروں میں ڈوبا رہے گا۔
وقت کا تقاضا ہے کہ اب الفاظ کے گورکھ دھندوں سے نکل کر عملی اقدامات کیے جائیں، ورنہ مایوسی کا یہ لاوا کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ بھی بن سکتا ہے۔
شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے تمام اداروں میں حاضری کے لئے بائیو میٹرک سسٹم رائج کرنے کے ساتھ ملک کے ہر سرکاری دفتر کے باہر یا ہال میں ایک بڑا ڈسپلے بورڈ آویزاں کیا جائے، جس پر وہاں تعینات تمام ملازمین کے نام، ان کی حالیہ تصاویر اور عہدے واضح طور پر درج ہوں۔
اس ایک اقدام سے نظام میں درج ذیل مثبت تبدیلیاں آ سکتی ہیں:
جب دفتر آنے والے عام شہریوں اور سائلین کو معلوم ہوگا کہ اس شعبے میں کتنے ملازمین اور کہاں کہاں تعینات ہیں، تو کوئی بھی افسر یا اہلکار ڈیوٹی سے غائب رہنے کی جرات نہیں کر سکے گا۔
گھوسٹ ملازمین کی فوری شناخت: اگر کسی ملازم کی تصویر اور نام بورڈ پر موجود ہو، لیکن وہ مہینوں دفتر نہ آئے، تو عوام اور میڈیا فوراً اس کی نشاندہی کر سکتے ہیں۔
سفارش کلچر کا خاتمہ: یہ بورڈز اس بات کا ثبوت ہوں گے کہ کس عہدے پر کون سا شخص کام کر رہا ہے، جس سے بیک ڈور انٹریز اور فرضی بھرتیوں کی حوصلہ شکنی ہوگی۔
یہ ایک ایسا کم خرچ اور سہل طریقہ ہے، جس پر عمل درآمد کے لیے حکومت کو کسی بیرونی قرضے یا بھاری بجٹ کی ضرورت نہیں، بلکہ صرف ایک سیاسی عزم اور انتظامی حکم نامے کی ضرورت ہے۔
وزیراعظم اور تمام وزرائے اعلیٰ کو چاہیے کہ گھر بیٹھے تنخواہیں بٹورنے والے قومی خزانے پر بوجھ بنے افراد کے خلاف کارروائی کی جائے، حاضری کو یقینی بنانے کے لیے ہر دفتر میں ملازمین کی تصاویر والے بورڈز لازمی آویزاں کیے جائیں، اور ان خالی ہونے والی جگہوں پر ملک کے باصلاحیت، ڈگری ہولڈر بے روزگار نوجوانوں کو موقع دیا جائے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ مراعات یافتہ طبقے کی عیاشیوں کو ختم کرکے میرٹ اور انصاف کا بول بالا کیا جائے۔
جب بااثر یا غیر حاضر ملازمین کی تصاویر اور عہدے عوام کے سامنے بورڈ پر آ جائیں گے تو ان پر شدید اخلاقی اور سماجی دباؤ بڑھے گا۔ معاشرے میں رسوائی کے خوف سے ایسے لوگ یا تو باقاعدگی سے ڈیوٹی کرنے پر مجبور ہوں گے یا پھر ملازمت چھوڑنے پر مجبور ہو جائیں گے، جس سے اصل حقداروں کے لیے راستے کھلیں گے۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *