Banner
Daily Sahafat Quetta
September 8, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
7 ستمبر قادیانیت کو غیر مسلم قرار دینے کا عظیم یومِ فتح ہے، مولانا عبدالقادر لونیعقیدہ ختمِ نبوت کیلئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائیگا ،مولانا عبدالرفیقجھل مگسی: ایک شخص کو فائرنگ کرکے قتل کردیا گیاکوئٹہ: سول ویٹرنری ہسپتال میں جدید ویٹرنری سہولیات کا افتتاحتعمیراتی کام میں کسی قسم کی غیر ضروری تاخیر نہ کی جائے ،مہراللہ بادینیحاجی عبدلواحد لمڑ انتقال کرگئےگوھر کاریز گرلز مڈل سکول میں یومِ دفاع کی شاندار تقریباسسٹنٹ کمشنر مسلم باغ ماجد سلیم سے سردار محمد حنیف سرگڑہ کی ملاقاتنادرا اور نیرا کے مابین جاری شراکت داری کو مزید آگے بڑھانے کے لیے صومالیہ کی نیشنل آئیڈینٹیفکیشن اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی کے وفد کا نادرا کا دورہیومِ فضائیہ کے موقع پر پاک فضائیہ کا پائلٹ آفیسر راشد منہاس شہید، نشانِ حیدر کو خراجِ عقیدت7 ستمبر قادیانیت کو غیر مسلم قرار دینے کا عظیم یومِ فتح ہے، مولانا عبدالقادر لونیعقیدہ ختمِ نبوت کیلئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائیگا ،مولانا عبدالرفیقجھل مگسی: ایک شخص کو فائرنگ کرکے قتل کردیا گیاکوئٹہ: سول ویٹرنری ہسپتال میں جدید ویٹرنری سہولیات کا افتتاحتعمیراتی کام میں کسی قسم کی غیر ضروری تاخیر نہ کی جائے ،مہراللہ بادینیحاجی عبدلواحد لمڑ انتقال کرگئےگوھر کاریز گرلز مڈل سکول میں یومِ دفاع کی شاندار تقریباسسٹنٹ کمشنر مسلم باغ ماجد سلیم سے سردار محمد حنیف سرگڑہ کی ملاقاتنادرا اور نیرا کے مابین جاری شراکت داری کو مزید آگے بڑھانے کے لیے صومالیہ کی نیشنل آئیڈینٹیفکیشن اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی کے وفد کا نادرا کا دورہیومِ فضائیہ کے موقع پر پاک فضائیہ کا پائلٹ آفیسر راشد منہاس شہید، نشانِ حیدر کو خراجِ عقیدت

کیا نبوت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سماجی تربیت اور عصری بے اطمینانی کا علاج ممکن ہے -؟؟؟

ختم نبوت پر
خصوصی مضمون-!!!

کیا نبوت محمد
صلی اللہ علیہ وسلم
کے ذریعے سماجی تربیت
اور عصری بے اطمینانی
کا علاج ممکن ہے -؟؟؟

ختم نبوت و
تقابلِ ادیان کے درمیان قادیانیت و احمدیت کا ارتقاء کیسے ہوا ہے -؟

مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ و مولانا عبد الستار خان نیازی مرحوم و مغفور کو ختم نبوت کے پاداش میں پھانسی کی سزا سنائی گئی ـ@

عبدالمتین اخونزادہ ڈائریکٹر
قرآن اکیڈمی
حکومت بلوچستان

محمد رسول اللہ ،
صلی اللہ علیہ وسلم ،خاتم النبیین
اور تکمیل النبیین ہیں ـ
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھٹی صدی عیسوی میں آ کر بے اطمینان انسان کو اطمینان حاصل کرنے کی رہبری کی –
یہی فریضہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم بذریعہ انسان آگے بڑھتا رہا اور آج اکیسویں صدی میں جب انسان کائناتی شعور کی بلندیوں پر پہنچ گیا ہے یہی کار نبوت ہے لیکن سفر ابھی باقی ہے –
مادی تسخیر کی یک طرفہ کامیاب جدوجھد نے عقلی و سائنسی بنیادوں پر جس نئی معاشرت و تمدن کو جنم دیا ہے اس میں بے اطمینانی نے شدت سے جنم لیا ہے ایک طرف انسان تمدن کی کئی سیڑھیاں اوپر چڑھ گیا ہے اور لگتا ہے کہ اپنی آرزوؤں و تمناؤں کے بہت قریب ہے مگر اس کے ساتھ وہ اطمینان کی کئی سیڑھیاں نیچے آگیا ہے اگر یہی آرزوئیں اور تمنائیں ہی انسان کی منزل تھیں تو اتنے قریب آ کر اطمینان میں اضافہ ہونا چاہیے اسے مسرور ہونا چاہیےایسا ہوا نہیں ہے تو دو سوال پیدا ہوتے ہیں کہ
یا تو یہ آرزوئیں اور تمنائیں وہ نہیں جن کے پیچھے انسان چل رہا ہے یا پھر اس نے اپنے اطمینان کے نظام اور لائحہ عمل کو جوڑ کر نہیں رکھا ـ
انسان کی تمنا باقی رہنے اور آگے بڑھنے کی ہے اس لئے بھی کہ باقی رہنے اور آگے بڑھنے کی تمنا اور جدوجھد انسانی فطرت کا حصہ ہے ـ
انسان بہت تیزی میں تھا اور روحانی پہلو کو
نظر انداز کرکے مادی مقاصد کے لئے آمادہ جدوجھد رہا –
اب انسانی بے اطمینانی اس کی رفتار ترقی میں سستی کا سبب بن رہی ہے یہاں تازہ حکمت عملی کی ضرورت ہے –
حقیقت یہ ہے کہ کئی صدیوں سے اسلام ہی استحصال اور جبری انداز میں ڈھال دیا گیا لیکن جناب محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کسی خصوصی قوم کے رہبر و پیغمبر نہ تھے بلکہ پوری انسانیت کے رہبر کامل تھے –
: سورة الأعراف میں
کہا گیا ہے کہ
قُلۡ یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اِنِّیۡ رَسُوۡلُ اللّٰہِ اِلَیۡکُمۡ جَمِیۡعَا ﴿۱۵۸﴾
,,تم فرماؤ اے لوگو !
میں تم سب کی طرف اس اللہ کا رسول ہوں،،۔
دوسرا
وہ سلسلہ انبیاء کرام و مذاہب کے تکمیلی کردار کے طور پر ایک مضبوط کردار کے طور پر زندہ و برقرار ہیں ـ
: سورة المائدة میں فرمایا ہے کہ
اَلۡیَوۡمَ اَکۡمَلۡتُ لَکُمۡ دِیۡنَکُمۡ وَ اَتۡمَمۡتُ عَلَیۡکُمۡ نِعۡمَتِیۡ وَ رَضِیۡتُ لَکُمُ الۡاِسۡلَامَ دِیۡنًا ؕ﴿۳﴾
,, آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین کامل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لئے اسلام کو دین,
پسند کیا ۔،،
تیسرا
ختم نبوت کا نتیجہ یہ ہوا کہ فریضہ نبوت اب انسان کے ذمے آگیا ہے –
چوتھا
قرآن حکیم کو
محفوظ طریقے سے اکیسویں صدی کے
انسان کے ہاتھوں
میں تھما دیا گیا ہے –
پانچواں
محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عقیدت و محبت کے معجزانہ نمونے آج بھی انسانیت کے لئے یقین و اطمینان کا باعث ہیں ـ
چھٹا
یورپ کے علم جدید کے جدید بنیادی اصول ارتقاء کے تحت بھی آخری نبوت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر مکمل ہوتی ہے گویا سلسلہ انبیاء کرام علیہم السلام میں ارتقاء کی یہ آخری و مکمل کھڑی ہے –
ساتواں
یہ کہ ارتقاء کی اگلی کڑی بسلسلہ کار نبوت انسان کو قرار دے کر تمام مادی و روحانی حکمت عملی کا ذمہ دار ٹھرایا گیا ہے –
سورت حم السجدہ
(41 تا 53)

اسلام کے بنیادی اراکین کی بجا آوری میں اس قدر طاقت ور محرکات اور نتائج رکھے گئے ہیں جو ہر دور ،ہر سماج اور ہر شخص کی تربیت کا زبردست نظام دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں –
یہ اراکین اسلام ،توحید ،نماز، زکوٰۃ ، روزہ ،حج و جہاد ہمہ وقت داخلی طور پر انسان کے عقیدے ،ایمان اور ذہنی ترقی کے عمل کو دلیل ،طاقت اور تصدیق بخشتے ہیں – خارجی طور پر ٹھیک اسی طاقت و جذبے سے انسان کو محرکات ،عملی کارکردگی ،اخلاقیات اور انسان دوستی کے لئے آمادہ جدوجھد رکھنے کا سبق دیتے ہیں –
ان میں سے ایک مثالی سماج تشکیل پانے کی طاقت رکھی گئی ہے ان میں ایک خاص قسم کی حکمت عملی کار فرما ہے جس کے دو رخ ہیں –
اول -::
ایمان کو ہر دم تازہ رکھنے ،اس کو تقویت دینے اور بطور انسانی نصب العین کے برقرار رکھنے کے لئے عبادات نماز زکوٰۃ روزہ حج و جہاد لازمی اجزاء ہیں دوسرے لفظوں میں انسان کے داخلی نظام کو ایک خدا یعنی توحید سے روحانی طور پر طاقت بخشتا ہے –
دوم -::
دینا انسان کی عمل گاہ اور امتحان گاہ ہے وہ دینا میں آ کر ،رہ کر نظام دینا کو قائم رکھنے اور آباد رکھنے میں اسے ہر حالت میں اپنے حصے کا کردار ادا کرنا ہے،
یہ توحید ،نماز، زکوٰۃ ، روزہ ، حج و جہاد ہر دم اسے درست نصب العین پر کار بند رہنے اور درست کردار ادا کرنے پر طاقت بخشتے ہیں –
حقیقت یہ ہے کہ
قرآن کریم فرقان حمید اور رسالت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم الہامی پیغام کی افادیت اور انسانی صلاحیت عمل کا ایک مکمل اور خوبصورت امتزاج ہے یعنی انسان اللہ کے احکامات پر مکمل عمل کرنے کی مکمل قدرت رکھتا ہے،
اب ہم نے شعوری طور پر شعور نبوت و رسالت کا درست ادراک کرنا ہے۔ یہی اصل میں پندرہویں صدی ہجری اور اکیسویں صدی عیسوی کے بے اطمینان مرد و عورت بچے و بوڑھے اور امیر و غریب کا بنیادی مقدمہ ہیں –
سوال ہے کہ آج کا انسان 1500 ںرس قبل کے انسان سے زیادہ خود آگاہ اور خود شناس ہے اور کائنات کی تخلیق و ارتقاء کے کسی نہ کسی نظریے کا حامی بھی ہے تو پھر وہ بے اطمینانی کا شکار کیوں ہے ،
جلد یا بدیر ہر ذی عقل روح پر الہامی پیغام کی حقیقت بھی آشکار ہو جائے گی ۔ یہی جستجو اور تحقیق انسانی راستہ ہے راز حقیقت کو پانے کے لئے ۔
آج کے اس ٹیکنالوجی اور ترقی یافتہ دور میں
1500 برس قدیم پیغام کیونکر مؤثر ثابت ہو سکتا ہے ؟
کیا یہ آج کے دور کے مسائل ،ترقی، ٹیکنالوجی ،معیشت،
معاشرت اور دیگر کئی شعبوں پر کوئی مثبت اثرات مرتب کر سکتا ہے؟
اگر ان سوالات کا جواب ہاں میں ہے تو مسلم معاشرے دنیاوی ترقی کے پیرامیٹرز پر پورا کیوں نہیں اتر رہے ؟
جس طرح اسلام کے بنیادی عقائد توحید ،رسالت ،ملائکہ،
کتابیں بدلیں گے نہیں اسی طرح سیرت مطہرہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے مظاہرہ کئے جانے والے اخلاقی معیارات چاہے وہ انفرادی سطح پر ہوں یا معاشرتی غیر متغیر تھے ،ہیں اور رہیں گے اور جب معاشرے ان مضبوط بنیادوں پر تعمیر ہوں گے جہاں دیانتداری ،امانت،صداقت،ایفائے عہد،عدل و انصاف,کسب حلال ،ایثار موجود ہوں گے، وہ معاشرے چاہے مذہبی نہ ہوں صحت مند ہوں گے ۔ہاں ان اقدار کا معیار رسالت سے ہی اخذ کرنے سے کامیاب ہوں گے ۔اور رذائل اخلاق فساد زندگی ہے جو قوموں کو تباہ کرنے کا سبب بن رہے ہیں ۔
اب ہماری زندگیاں ٹیکنالوجی کی مدد سے ترقی یافتہ دور میں داخل ہوچکی ہیں لیکن ذہنی صحت ،جذباتی معاملات ایک خطرناک رخ اختیار کر رہے ہیں تحمل، برداشت اور رواداری کی مقدار ناپید ہوتی جا رہی ہے یہ وہی اقدار ہیں جن کی وجہ سے رسالت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام عرب و عجم میں اپنی فتوحات کے جھنڈے گاڑے ۔ غرض ہم نے رسالت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کو گناہ اور ثواب سے ہٹا کر بھی مفید پایا ہے اور جب عشق کی چاشنی کو اس میں شامل کیا تو شعور نبوت کے دروازے نئے افق لئے ہمارے سامنے ہیں- عشق و محبت کے انسانی نفسیات و نصب العین ممتاز ماہر قرآنیات و اقبالیات ڈاکٹر محمد رفیع الدین کشیمری مرحوم کی بنیادی تشریح و تعبیر نو سمجھنے کے لئے ضروری کردار و مطالعہ درکار ہیں کہ نصب العینی زندگی اختیار کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم اپنے پیراڈایم اور تعبیری معنویت کو از سر نو تعین و تشکیل دیں ،
رسالت کے ادارے کی شعوری ارتقاء معاشرتی روح ہے جسے زندہ رکھنے کے لئے علمی و فکری مکالمے کا احیاء ضروری ہے مادی ترقی و اطمینان کی کمی نے ہدایت و رہنمائی کے طریقے کار کو تبدیل کر دیا ہے
ماہ ستمبر پاکستان میں ختم نبوت و قادیانی تحریک کے حوالے سے جانا جاتا ہے جس میں مفکر اسلام حضرت مولانا سید
ابو الاعلیٰ مودودی رح ، مولانا ، مولانا عبد الستار خان نیازی مرحوم و مغفور کو قید و بند کے ساتھ پھانسی کی سزا سنائی گئی –
آج پچاس ساٹھ سال کے بعد معاشرتی و سماجی طور پر ختم نبوت و شعور نبوت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق احساس و ادراک کے حوالے سے سنجیدہ اور انسانی نفسیات و ذہانت کے ادراک و کمال منزل مقصود تک پہنچنے کے لئے ضروری سوالات و تاثرات موجود ہیں،
بطور خاص ادرو انگریزی لٹریچر کے ساتھ ساتھ پشتو بلوچی اور براھوئی زبانوں میں
ترجمہ و تخلیق کے لئے ضروری کردار و اقدامات اٹھانے کا راستہ اختیار کیا جانا چاہیے تاکہ
تحقیق تزکیہ ترقی کا راستہ ہموار کیا جائے
,,ختم نبوت و
شعور نبوت ،
ادب و اذہان میں
سوالات و چئیلنجز کے ساتھ
علم و ادب اور
ثقافت و مزاحمت ہی, مظلوم عوام و قوموں کا ہتھیار رہ گیا ہے جس کا تجزیہ غزہ میں
اسرائیل درندگی کا نشانہ مزاحمت ہی ہے جسے وہ ختم نہیں کرسکتے ہیں -##

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *