Banner
Daily Sahafat Quetta
September 8, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
7 ستمبر قادیانیت کو غیر مسلم قرار دینے کا عظیم یومِ فتح ہے، مولانا عبدالقادر لونیعقیدہ ختمِ نبوت کیلئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائیگا ،مولانا عبدالرفیقجھل مگسی: ایک شخص کو فائرنگ کرکے قتل کردیا گیاکوئٹہ: سول ویٹرنری ہسپتال میں جدید ویٹرنری سہولیات کا افتتاحتعمیراتی کام میں کسی قسم کی غیر ضروری تاخیر نہ کی جائے ،مہراللہ بادینیحاجی عبدلواحد لمڑ انتقال کرگئےگوھر کاریز گرلز مڈل سکول میں یومِ دفاع کی شاندار تقریباسسٹنٹ کمشنر مسلم باغ ماجد سلیم سے سردار محمد حنیف سرگڑہ کی ملاقاتنادرا اور نیرا کے مابین جاری شراکت داری کو مزید آگے بڑھانے کے لیے صومالیہ کی نیشنل آئیڈینٹیفکیشن اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی کے وفد کا نادرا کا دورہیومِ فضائیہ کے موقع پر پاک فضائیہ کا پائلٹ آفیسر راشد منہاس شہید، نشانِ حیدر کو خراجِ عقیدت7 ستمبر قادیانیت کو غیر مسلم قرار دینے کا عظیم یومِ فتح ہے، مولانا عبدالقادر لونیعقیدہ ختمِ نبوت کیلئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائیگا ،مولانا عبدالرفیقجھل مگسی: ایک شخص کو فائرنگ کرکے قتل کردیا گیاکوئٹہ: سول ویٹرنری ہسپتال میں جدید ویٹرنری سہولیات کا افتتاحتعمیراتی کام میں کسی قسم کی غیر ضروری تاخیر نہ کی جائے ،مہراللہ بادینیحاجی عبدلواحد لمڑ انتقال کرگئےگوھر کاریز گرلز مڈل سکول میں یومِ دفاع کی شاندار تقریباسسٹنٹ کمشنر مسلم باغ ماجد سلیم سے سردار محمد حنیف سرگڑہ کی ملاقاتنادرا اور نیرا کے مابین جاری شراکت داری کو مزید آگے بڑھانے کے لیے صومالیہ کی نیشنل آئیڈینٹیفکیشن اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی کے وفد کا نادرا کا دورہیومِ فضائیہ کے موقع پر پاک فضائیہ کا پائلٹ آفیسر راشد منہاس شہید، نشانِ حیدر کو خراجِ عقیدت

ایک خواب سے ایک عظیم درسگاہ تک

ایک خواب سے ایک عظیم درسگاہ تک
نسرین محمود قصوری کی تعلیمی بصیرت، قیادت اور خدمت کی داستان

منشاقاضی
حسبِ منشا

پاکستان کی تاریخ میں بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو محض اپنے عہد کا حصہ نہیں بنتیں بلکہ اپنے عہد کی سمت متعین کرتی ہیں۔ ان کی زندگی کسی ایک منصب، ادارے یا شعبے تک محدود نہیں رہتی؛ وہ ایک فکر، ایک روایت اور ایک تحریک کی صورت اختیار کر لیتی ہیں۔ محترمہ نسرین محمود قصوری
بھی ایسی ہی ہمہ جہت شخصیت ہیں، جنہوں نے پاکستان میں نجی تعلیم کے منظرنامے کو نئی جہت عطا کی اور ایک ایسے خواب کو حقیقت میں بدلا جس کی ابتدا ایک چھوٹی سی نرسری سے ہوئی تھی، مگر جس کی وسعت آج لاکھوں ذہنوں اور ہزاروں خاندانوں تک پھیل چکی ہے۔
محترمہ نسرین محمود قصوری کا تعلق ایک کاروباری خاندان سے تھا، لیکن ان کی اصل شناخت کاروباری دنیا سے زیادہ تعلیم، انتظام، سماجی خدمت اور انسانی ترقی کے میدان میں قائم ہوئی۔ 1975ء میں جب انہوں نے ایک چھوٹی سی نرسری کے قیام سے اپنے سفر کا آغاز کیا تو شاید کسی نے یہ تصور بھی نہ کیا ہوگا کہ یہ معمولی سا تعلیمی بیج آنے والے برسوں میں ایک ایسے تناور درخت میں تبدیل ہوجائے گا جس کی شاخیں پاکستان سے نکل کر دنیا کے مختلف ممالک تک پھیل جائیں گی۔
اسی ابتدائی کوشش نے آگے چل کر Beaconhouse School System کی صورت اختیار کی، جو پاکستان کے قدیم ترین اور سب سے بڑے نجی تعلیمی نظاموں میں شمار ہوتا ہے۔ آج یہ ادارہ ملک کے تقریباً 30 شہروں کے علاوہ بیرونِ ملک بھی موجود ہے، جبکہ اس سے وابستہ طلبہ کی تعداد دو لاکھ کے قریب اور عملے کی تعداد پندرہ ہزار سے زائد بتائی جاتی ہے۔
یہ سفر صرف اعداد و شمار کی کہانی نہیں۔ یہ اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ تعلیم کے بارے میں ایک واضح وژن، مستقل مزاجی اور ادارہ سازی کی صلاحیت کسی چھوٹے سے آغاز کو قومی اور بین الاقوامی سطح کی تحریک میں بدل سکتی ہے۔
نسرین قصوری کی تعلیمی فکر کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ ان کے نزدیک تعلیم محض امتحانات پاس کرنے یا اسناد حاصل کرنے کا نام نہیں، بلکہ انسان کو ایک باشعور، خوداعتماد، ذمہ دار اور عالمی شہری بنانے کا عمل ہے۔
Beaconhouse نے پاکستان میں ایک ایسے وسیع البنیاد اور ترقی پسند تعلیمی تصور کو فروغ دینے میں کردار ادا کیا جس میں طالب علم کو صرف کتاب کا حافظ نہیں بلکہ سوچنے، سوال کرنے، تخلیق کرنے اور دنیا کو سمجھنے والا فرد بنانے پر توجہ دی گئی۔
ادارے میں کیمبرج کے ’O‘ اور ’A‘ لیولز کے ساتھ ساتھ مقامی میٹرک کے امتحانی نظام کی تعلیم بھی دی جاتی ہے۔ یوں Beaconhouse نے مختلف تعلیمی راستوں کو ایک ہی وسیع تعلیمی چھتری تلے جمع کرنے کی کوشش کی۔
یہاں نسرین قصوری کا وژن خاص طور پر قابلِ ذکر ہے: انہوں نے تعلیم کو مقامی ضروریات سے جوڑتے ہوئے عالمی معیار اور عالمی شعور کے دروازے بھی کھولے۔ Global Citizen کا تصور اسی وسیع فکر کا حصہ ہے-ایسا فرد جو اپنی زبان، ثقافت اور وطن سے جڑا ہو، مگر دنیا کے مسائل، تہذیبوں اور انسانی اقدار سے بھی باخبر ہو۔
نسرین محمود قصوری کی اپنی علمی تربیت بھی ان کی تعلیمی بصیرت کو سمجھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ انہوں نے کنیئرڈ کالج لاہور سے Applied Psychology اور History میں بیچلرز کی ڈگری حاصل کی۔ بعد ازاں پنجاب یونیورسٹی سے اعلیٰ سطح پر Child Psychology کا مطالعہ کیا۔
بچوں کی نفسیات کا یہ علم ان کے تعلیمی تصور میں ایک بنیادی ستون کی حیثیت رکھتا ہے۔ آخر تعلیم کا اصل مرکز کتاب، عمارت یا امتحان نہیں بلکہ بچہ ہے—اس کی شخصیت، اس کے جذبات، اس کی ذہنی صلاحیتیں اور اس کے امکانات۔
انہوں نے بعد ازاں Master in Business Administration (MBA) بھی کیا اور نیویارک یونیورسٹی (NYU)، لندن اسکول آف اکنامکس (LSE) اور فرانس کے HEC سے مشترکہ طور پر جاری کردہ ڈگری بھی حاصل کی۔ یوں ان کی شخصیت میں نفسیات، تاریخ، تعلیم، انتظام اور کاروباری حکمتِ عملی کے مختلف پہلو یکجا ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔
شاید یہی امتزاج Beaconhouse کی ادارہ سازی میں بھی نمایاں ہوا—بچے کو سمجھنے والی نفسیات، معاشرے کو سمجھنے والی تاریخ اور ادارے کو چلانے والی انتظامی بصیرت۔
پاکستان میں نجی شعبے کی تعلیم نے گزشتہ چند دہائیوں میں جو غیر معمولی وسعت اختیار کی ہے، اس کے پس منظر میں جن شخصیات کی کاوشوں کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا، نسرین قصوری ان میں نمایاں مقام رکھتی ہیں۔
Beaconhouse نے نجی تعلیم کو محض چند اسکولوں کے انتظام سے نکال کر ایک منظم، وسیع اور پیشہ ورانہ تعلیمی نظام میں تبدیل کرنے میں کردار ادا کیا۔ اس کی وسعت نے یہ تصور بھی مضبوط کیا کہ تعلیمی ادارہ صرف ایک عمارت نہیں بلکہ ایک مکمل نظام ہوتا ہے—جس میں نصاب، اساتذہ، انتظامیہ، تربیت، امتحانات، ٹیکنالوجی اور طلبہ کی شخصیت سازی سب ایک دوسرے سے مربوط ہوتے ہیں۔
یہی ادارہ جاتی سوچ Beaconhouse کے پھیلاؤ کا ایک اہم سبب بنی۔
ایک چھوٹی نرسری سے شروع ہونے والا سفر آج نو ممالک تک پہنچ چکا ہے۔ اس اعتبار سے محترمہ نسرین قصوری کی کامیابی محض ایک کامیاب تعلیمی برانڈ کی تشکیل نہیں بلکہ پاکستان میں نجی تعلیم کے تصور کی تشکیلِ نو کی داستان بھی ہے۔
نسرین قصوری کی خدمات کا ایک نہایت اہم پہلو خواتین کو بااختیار بنانے سے متعلق ہے۔ Beaconhouse میں خواتین کی نمایاں موجودگی اس وژن کی عملی تصویر پیش کرتی ہے۔ ادارے کے 60 فیصد سے زیادہ ملازمین خواتین پر مشتمل ہیں اور اعلیٰ انتظامی سطح پر بھی خواتین کی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔ یہ پہلو اس لیے اہم ہے کہ کسی بھی معاشرے میں خواتین کی حقیقی ترقی صرف تقریروں اور نعروں سے نہیں ہوتی؛ انہیں تعلیم، روزگار، فیصلہ سازی اور قیادت کے مواقع فراہم کرنا پڑتے ہیں۔
محترمہ نسرین قصوری نے اپنے ادارے کے ذریعے ہزاروں خواتین کو پیشہ ورانہ زندگی میں آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کیے۔ یوں ان کی تعلیمی خدمات کا دائرہ طلبہ تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے پاکستانی خواتین کے لیے بھی نئے امکانات پیدا کیے۔ کسی بھی تعلیمی نظام کی کامیابی کا انحصار صرف شاندار عمارتوں، جدید سہولیات یا بہترین نصاب پر نہیں ہوتا۔ اصل طاقت استاد ہوتا ہے۔ محترمہ نسرین قصوری نے اس حقیقت کو ابتدا ہی سے اہمیت دی اور Beaconhouse میں اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت کو مرکزی حیثیت دی۔ ادارے کا اپنا کامیاب Teacher Training Programme قائم کیا گیا، جس میں برطانیہ کی معروف جامعات کے ساتھ تعاون بھی شامل رہا۔
یہ تصور اپنے اندر ایک گہری حکمت رکھتا ہے: اچھا طالب علم بنانے سے پہلے اچھا استاد بنانا ضروری ہے۔
ایک تربیت یافتہ استاد صرف سبق نہیں پڑھاتا؛ وہ ذہنوں کو ترتیب دیتا، سوالوں کو جنم دیتا اور شخصیتوں کی تعمیر کرتا ہے۔ اس اعتبار سے اساتذہ کی تربیت پر نسرین قصوری کی توجہ ان کی تعلیمی فکر کے دیرپا اثرات میں شمار کی جاسکتی ہے۔
محترمہ نسرین قصوری کی شخصیت کا ایک اور روشن پہلو ان کی فلاحی اور انسانی خدمات ہیں۔ انہوں نے متعدد سرکاری اور غیر سرکاری اداروں کے بورڈز میں خدمات انجام دیں اور مختلف غیر منافع بخش اور فلاحی تنظیموں کے ساتھ بھی فعال طور پر وابستہ رہیں۔
ان کی انسانی اور فلاحی خدمات کے اعتراف میں حکومتِ پاکستان نے 2006ء میں انہیں ستارۂ امتیار سے بھی نوازا۔ یہ اعزاز کسی ایک کامیابی کا اعتراف نہیں بلکہ اس وسیع تر تصور کی پذیرائی ہے جس میں تعلیم کو معاشرے کی خدمت کا وسیلہ سمجھا جاتا ہے۔ کیونکہ تعلیم اگر صرف فرد کو کامیاب بنائے تو وہ ذاتی کامیابی ہے؛ لیکن اگر تعلیم فرد کو دوسروں کے لیے مفید بنا دے تو وہ سماجی خدمت بن جاتی ہے۔
نسرین قصوری کی تعلیمی خدمات کا دائرہ اسکول کی سطح پر ختم نہیں ہوتا۔ وہ پاکستان کی پہلی لبرل آرٹس یونیورسٹی کے طور پر متعارف کرائی جانے والی غیر منافع بخش Beaconhouse National University کی چیئرپرسن بھی رہی ہیں۔
لبرل آرٹس کی تعلیم دراصل انسان کو کسی ایک پیشے تک محدود کرنے کے بجائے اسے سوچنے، سوال اٹھانے، دلیل دینے، تخلیق کرنے اور مختلف علوم کے باہمی رشتے کو سمجھنے کی تربیت دیتی ہے۔ یہ تصور نسرین قصوری کے وسیع تر تعلیمی وژن سے ہم آہنگ نظر آتا ہے، جہاں تعلیم کا مقصد محض روزگار نہیں بلکہ فکری آزادی اور انسانی شعور کی توسیع بھی ہے۔
نسرین قصوری کی شخصیت پاکستان کی سرحدوں تک محدود نہیں رہی۔ ایک ماہرِ تعلیم، منتظم، مقرر اور عوامی شخصیت کے طور پر انہوں نے بین الاقوامی سطح پر بھی پاکستان کی تعلیمی اور سماجی شناخت کو اجاگر کیا۔
ستمبر 2012ء میں لندن میں انہیں Woman Power 100 Award سے نوازا گیا۔ یہ اعزاز بین الاقوامی پاکستانی کمیونٹی سے تعلق رکھنے والی ان بااثر خواتین و حضرات کی خدمات کو تسلیم کرتا ہے جنہوں نے مقامی، قومی اور عالمی سطح پر مثبت اثرات مرتب کیے۔
یہ اعزاز دراصل اس حقیقت کی علامت بھی ہے کہ پاکستان کی کہانی صرف سیاسی بحرانوں، معاشی مشکلات یا منفی خبروں کی کہانی نہیں۔ پاکستان کی ایک دوسری تصویر بھی ہے وہ پاکستان جو تعلیم دیتا ہے، ادارے بناتا ہے، عورتوں کو آگے لاتا ہے اور دنیا کے سامنے اپنے مثبت کردار کا تعارف کراتا ہے۔
محترمہ نسرین محمود قصوری کی زندگی کو اگر صرف Beaconhouse کی کامیابی کے تناظر میں دیکھا جائے تو شاید ان کی شخصیت کا مکمل احاطہ نہ ہوسکے۔ ان کی اصل اہمیت ادارہ سازی کی اس فکر میں ہے جو ان کے کام کے پس منظر میں نظر آتی ہے۔
انہوں نے ایک ایسا سفر شروع کیا جس میں ایک نرسری سے اسکول، اسکول سے اسکول سسٹم، اسکول سسٹم سے یونیورسٹی اور پھر تعلیم سے سماجی خدمت تک ایک مسلسل ربط دکھائی دیتا ہے۔
یہ سفر ہمیں بتاتا ہے کہ بڑے ادارے اچانک وجود میں نہیں آتے۔ ان کے پیچھے برسوں کی محنت، وژن، انتظامی صلاحیت، فیصلوں کی جرأت اور سب سے بڑھ کر مستقبل پر یقین ہوتا ہے۔
محترمہ نسرین قصوری نے شاید سب سے بڑا سبق یہی دیا کہ اگر تعلیم کو محض کاروبار نہیں بلکہ قوم سازی کا وسیلہ سمجھا جائے تو ایک چھوٹا سا قدم بھی نسلوں کے مستقبل پر اثرانداز ہوسکتا ہے۔
ہر عہد میں کچھ لوگ عمارتیں تعمیر کرتے ہیں اور کچھ لوگ انسان تعمیر کرتے ہیں۔ عمارتیں وقت کے ساتھ پرانی ہوجاتی ہیں، مگر انسانوں کے ذہنوں میں روشن کیے گئے چراغ نسل در نسل سفر کرتے ہیں۔ محترمہ نسرین محمود قصوری کی داستان اسی چراغ کی داستان ہے۔ 1975ء میں ایک چھوٹی سی نرسری سے روشن ہونے والی یہ روشنی آج ہزاروں اساتذہ، لاکھوں طلبہ، متعدد تعلیمی اداروں اور ایک وسیع تر تعلیمی فلسفے تک پہنچ چکی ہے۔ ان کی خدمات ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ قوموں کی تقدیر صرف ایوانوں میں نہیں لکھی جاتی؛ کلاس روم میں بھی لکھی جاتی ہے۔
اور شاید یہی کسی ماہرِ تعلیم کی سب سے بڑی کامیابی ہوتی ہے کہ وہ اپنے نام سے زیادہ اپنے بعد آنے والی نسلوں کے ذہنوں میں زندہ رہے۔
واجب الاحترام محترمہ نسرین قصوری نے ایک ادارہ ضرور بنایا، مگر اس سے بڑھ کر انہوں نے ایک تعلیمی خواب کو اجتماعی حقیقت میں بدلنے کی کوشش کی۔ ان کی زندگی اس یقین کی روشن مثال ہے کہ ایک فرد کا وژن، اگر اخلاص، علم اور مسلسل جدوجہد سے جڑ جائے، تو وہ ایک نسل نہیں بلکہ آنے والی کئی نسلوں کی فکری سمت متعین کرسکتا ہے۔ میں ممنونِ احسان ہوں محترمہ عذرا مجیب آفتاب کا ، جنہوں نے محترمہ نسرین محمود قصوری کے بارے میں معلومات فراہم کیں اور ساجدہ احمد جو نسرین محمود قصوری کے نقشِ قدم پر چل کر آشیانہ قائد میں دو مرلے کے مکان میں گریڈز اپ سکول چلا رہی ہے

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *