Banner
Daily Sahafat Quetta
September 5, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
مسلم باغ: اسسٹنٹ کمشنر ماجد سلیم کا THQ ہسپتال کا تفصیلی دورہ7 ستمبر: یومِ ختمِ نبوت ۔۔۔۔ ایک عقیدہ، ایک عہد اور ایک تاریخی فیصلہکمشنر لسبیلہ سائرہ عطاء کا ضلع حب کے مختلف علاقوں کا دورہ، ترقیاتی منصوبوں کا جائزہعقیدۂ ختمِ نبوت ﷺ کا تحفظ ہر مسلمان کی دینی ذمہ داری ہے، علما کرامبھاگ ناڑی حملے میں زخمی پانچ شہری سکھر، لاڑکانہ اور کوئٹہ منتقل، شاہد رندمیجر جنرل فیصل نصیر تین سال کے لیے نیکٹا کے کوآرڈینیٹر مقرر نوٹیفیکشن جاریاے این ایف کی کارروائی، افغان منشیات اسمگلنگ نیٹ ورک بے نقابپی ای سی کا ملک بھر میں 1,400 گریجویٹ انجینئرز کے لیے اسکل ڈویلپمنٹ ٹریننگ کا آغازعزم سے برتری تک: شاہینوں کا سفرپاک فوج کی مستونگ، کوئٹہ، قلات اور سبی میں کارروائیاں، 36 دہشت گرد ہلاکمسلم باغ: اسسٹنٹ کمشنر ماجد سلیم کا THQ ہسپتال کا تفصیلی دورہ7 ستمبر: یومِ ختمِ نبوت ۔۔۔۔ ایک عقیدہ، ایک عہد اور ایک تاریخی فیصلہکمشنر لسبیلہ سائرہ عطاء کا ضلع حب کے مختلف علاقوں کا دورہ، ترقیاتی منصوبوں کا جائزہعقیدۂ ختمِ نبوت ﷺ کا تحفظ ہر مسلمان کی دینی ذمہ داری ہے، علما کرامبھاگ ناڑی حملے میں زخمی پانچ شہری سکھر، لاڑکانہ اور کوئٹہ منتقل، شاہد رندمیجر جنرل فیصل نصیر تین سال کے لیے نیکٹا کے کوآرڈینیٹر مقرر نوٹیفیکشن جاریاے این ایف کی کارروائی، افغان منشیات اسمگلنگ نیٹ ورک بے نقابپی ای سی کا ملک بھر میں 1,400 گریجویٹ انجینئرز کے لیے اسکل ڈویلپمنٹ ٹریننگ کا آغازعزم سے برتری تک: شاہینوں کا سفرپاک فوج کی مستونگ، کوئٹہ، قلات اور سبی میں کارروائیاں، 36 دہشت گرد ہلاک

7 ستمبر: یومِ ختمِ نبوت ۔۔۔۔ ایک عقیدہ، ایک عہد اور ایک تاریخی فیصلہ

تحریر: حافظ محمد صدیق مدنی . چمن
تاریخ کے اوراق میں کچھ دن محض تاریخیں نہیں ہوتے بلکہ وہ اپنے اندر ایک پوری داستان سموئے ہوتے ہیں۔ ان دنوں کو جب بھی یاد کیا جاتا ہے تو ماضی کے واقعات کے ساتھ قوم کے جذبات، جدوجہد اور اجتماعی شعور کی کئی تصویریں آنکھوں کے سامنے آجاتی ہیں۔ پاکستان کی تاریخ میں 7 ستمبر 1974ء بھی ایسا ہی ایک دن ہے۔ یہ وہ دن تھا جب پاکستان کی پارلیمنٹ نے ایک طویل بحث، غور و فکر اور آئینی عمل کے بعد قادیانی گروہ کو آئینی طور پر غیر مسلم قرار دیا۔ اس فیصلے کا تعلق براہِ راست مسلمانوں کے بنیادی عقیدے، یعنی ختمِ نبوت سے ہے۔ آج 7 ستمبر کو اسی تاریخی فیصلے کی یاد میں یومِ ختمِ نبوت کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ ختمِ نبوت کوئی نیا تصور نہیں جسے 1974ء میں متعارف کرایا گیا ہو۔ یہ اسلام کے بنیادی عقائد میں شامل وہ حقیقت ہے جو قرآن کریم، احادیث نبویہ اور امت کے متواتر علمی موقف سے ثابت ہے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول اور آخری نبی ہیں۔ یہ ایک مختصر مگر فیصلہ کن حقیقت ہے۔ رسول اکرم ﷺ کے بعد نبوت کا سلسلہ ہمیشہ کے لیے ختم ہوچکا ہے۔ اسلام کا پیغام مکمل ہوچکا، قرآن محفوظ ہے اور محمد مصطفیٰ ﷺ کی سنت قیامت تک انسانیت کے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے بھی واضح طور پر فرمایا کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ یہ فرمان عقیدہ ختم نبوت کی بنیادی اور واضح دلیل ہے۔ اسی وجہ سے صحابہ کرامؓ، تابعین، تبع تابعین اور امت کے معتبر علماء نے ہمیشہ ختم نبوت کو اسلام کے بنیادی عقائد میں شمار کیا۔ ختم نبوت کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے وصال کے فوراً بعد جب بعض لوگوں نے نبوت کے جھوٹے دعوے کیے تو صحابہ کرامؓ نے ان فتنوں کو معمولی معاملہ نہیں سمجھا۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ کے دور میں مسیلمہ کذاب کے خلاف جنگ یمامہ ہوئی۔ اس معرکے میں بڑی تعداد میں صحابہ کرامؓ نے جام شہادت نوش کیا۔ ان واقعات سے واضح ہوتا ہے کہ صحابہ کرامؓ کے نزدیک ختم نبوت ایمان کا ایسا بنیادی مسئلہ تھا جس پر کوئی سمجھوتا ممکن نہیں تھا۔ صدیاں گزرتی رہیں لیکن امت کا بنیادی عقیدہ تبدیل نہیں ہوا۔ برصغیر میں جب مرزا غلام احمد قادیانی نے نبوت سے متعلق دعویٰ کیا تو مسلمان علماء کرام نے اس کے خلاف علمی جدوجہد کی۔ مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے علماء نے اپنی اپنی علمی روایت کے مطابق اس مسئلے کو واضح کیا اور مسلمانوں کو عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت سے آگاہ کیا۔ پاکستان کے قیام کے بعد بھی یہ مسئلہ وقتاً فوقتاً قومی سطح پر زیر بحث آتا رہا۔ 1974ء میں معاملہ پاکستان کی قومی اسمبلی تک پہنچا۔ اسمبلی میں طویل کارروائی ہوئی، بحث ہوئی اور متعلقہ فریق کو بھی اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع دیا گیا۔ بالآخر 7 ستمبر 1974ء کو پاکستان کی پارلیمنٹ نے آئینی ترمیم کے ذریعے قادیانی گروہ کو غیر مسلم قرار دیا۔ یہ فیصلہ پاکستان کے آئینی سفر میں ایک اہم واقعہ تھا۔ اس فیصلے کی اپنی ایک آئینی تاریخ، پارلیمانی کارروائی اور قانونی پس منظر ہے لیکن اس کے پیچھے مسلمانان پاکستان کی ایک طویل مذہبی اور عوامی جدوجہد بھی موجود تھی۔ یہاں ایک سوال آج پہلے سے زیادہ اہم ہے کہ کیا یوم ختم نبوت صرف جلسہ منعقد کرنے، نعرے لگانے اور جلوس نکالنے کا نام ہے؟ یقیناً نہیں۔ اگر ہم واقعی اس دن کی روح کو سمجھنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے آپ سے یہ سوال بھی کرنا ہوگا کہ ہماری زندگی میں رسول اللہ ﷺ کی سنت کتنی موجود ہے؟ ہم نبی کریم ﷺ سے محبت کا اظہار تو کرتے ہیں مگر کیا ہمارے معاملات میں دیانت ہے؟ کیا ہماری زبان سچ بولتی ہے؟ کیا ہم اپنے مخالف کے ساتھ انصاف کرتے ہیں؟ کیا ہم غریب کی مدد کرتے ہیں؟ کیا ہم والدین، پڑوسیوں، رشتہ داروں اور معاشرے کے کمزور طبقات کے حقوق ادا کرتے ہیں؟ رسول اللہ ﷺ کی محبت کا تقاضا صرف جذباتی وابستگی نہیں بلکہ عملی اتباع بھی ہے۔ قرآن کریم ہمیں بتاتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی ذات ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یوم ختم نبوت کا اصل حسن اس وقت سامنے آئے گا جب ہم اپنے گھروں، مدارس، اسکولوں، کالجوں اور جامعات میں سیرت رسول ﷺ کو زندہ کریں گے۔ آج کی نسل سوال کرتی ہے، تحقیق کرتی ہے اور سوشل میڈیا سے معلومات حاصل کرتی ہے۔ اس لیے صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ یہ ہمارا عقیدہ ہے بلکہ نئی نسل کو قرآن مجید، حدیث نبویّ، سیرت اور اسلامی تاریخ کی روشنی میں اس عقیدے کو سمجھانا بھی ضروری ہے۔ ہمیں اپنے نوجوانوں کو ایسا دینی شعور دینا ہوگا جس میں علم بھی ہو، دلیل بھی ہو اور اخلاق بھی۔ سوشل میڈیا پر پھیلنے والی ہر بات کو بغیر تحقیق آگے بڑھانا بھی درست نہیں۔ ختم نبوت جیسے حساس اور بنیادی عقیدے کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے مستند حوالوں اور ذمہ دارانہ طرز بیان کو اختیار کرنا چاہیے۔ ایک اہم بات جسے یوم ختم نبوت کے موقع پر ضرور یاد رکھنا چاہیے وہ یہ ہے کہ عقیدے کی حفاظت کے ساتھ قانون کی پاسداری بھی ضروری ہے۔ اسلام ہمیں عدل، حکمت، صبر اور حسن اخلاق کا درس دیتا ہے۔ کسی انسان پر ظلم کرنا، قانون ہاتھ میں لینا یا کسی بے گناہ کو نقصان پہنچانا کسی صورت دین کی خدمت نہیں ہوسکتی۔ ریاستی قوانین اور آئینی دائرے کے اندر رہتے ہوئے اپنے عقائد کا اظہار کرنا ہی ایک ذمہ دار شہری اور باشعور مسلمان کا راستہ ہے۔ 7 ستمبر کا دن ہمیں ماضی یاد دلاتا ہے لیکن اس کا پیغام صرف ماضی تک محدود نہیں۔ یہ دن ہم سے مستقبل کا عہد بھی لیتا ہے۔ ہم عہد کریں کہ رسول اللہ ﷺ کی محبت کو اپنی زندگی کا مرکز بنائیں گے، قرآن سے اپنا تعلق مضبوط کریں گے، سنت کو اپنائیں گے، اپنی اولاد کو سیرت نبوی ﷺ پڑھائیں گے اور نوجوان نسل کو دلیل اور علم کے ذریعے اپنے بنیادی عقائد سے روشناس کرائیں گے۔ ہمیں یہ بھی عہد کرنا چاہیے کہ معاشرے میں امن، عدل، برداشت اور انسانیت کی خدمت کو فروغ دیں گے۔ کیونکہ ختم نبوت کا عقیدہ صرف زبان سے کہنے کا نام نہیں یہ ایسا ایمان ہے جو دل میں محبت رسول ﷺ پیدا کرتا ہے اور انسان کے کردار کو بدل دیتا ہے۔ 7 ستمبر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ محمد مصطفیٰ ﷺ اللہ کے آخری نبی ہیں اور یہ عقیدہ ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔ اس دن کو محض ایک تاریخی واقعہ یاد کرنے کے بجائے تجدید ایمان، تجدید محبت رسول ﷺ اور سنت سے وابستگی کا دن بنانا چاہیے۔ آج جب دنیا تیزی سے بدل رہی ہے اور نئی نسل کو بے شمار فکری چیلنجز درپیش ہیں اور ہمیں جذبات کے ساتھ ساتھ علم کی قوت بھی پیدا کرنا ہوگی۔ اپنے عقیدے کو سمجھنا ہوگا، اسے دلیل کے ساتھ بیان کرنا ہوگا اور اپنے کردار سے اس کی خوبصورتی دنیا کے سامنے پیش کرنا ہوگی۔ یہی 7 ستمبر کا حقیقی پیغام ہے کہ ہم اپنے ایمان کی حفاظت کریں، اپنے نبی کریم ﷺ سے محبت کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں، آپ ﷺ کی تعلیمات پر عمل کریں اور آنے والی نسلوں تک اس روشن عقیدے کو علم، حکمت اور محبت کے ساتھ منتقل کریں۔ اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں کو محبت رسول ﷺ سے منور فرمائے، عقیدہ ختم نبوت پر استقامت عطا فرمائے، ہمیں قرآن و سنت پر عمل کرنے والا بنائے اور ہماری نئی نسل کو دین کی صحیح سمجھ، علم، اخلاق اور کردار کی دولت عطا فرمائے۔ آمین۔

#siddiqmadani

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *