Banner
Daily Sahafat Quetta
September 4, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
اے این ایف کی کارروائی، افغان منشیات اسمگلنگ نیٹ ورک بے نقابپی ای سی کا ملک بھر میں 1,400 گریجویٹ انجینئرز کے لیے اسکل ڈویلپمنٹ ٹریننگ کا آغازعزم سے برتری تک: شاہینوں کا سفرپاک فوج کی مستونگ، کوئٹہ، قلات اور سبی میں کارروائیاں، 36 دہشت گرد ہلاکخاران سمیت بلوچستان کے تمام اضلاع کی متوازن ترقی ترجیح ہے، میر شعیب نوشیروانیخواتین کی معاشی خودمختاری کے بغیر پائیدار ترقی ممکن نہیں، ڈاکٹر ربابہ بلیدیبلوچستان کی منڈیوں میں جدید سہولیات کی فراہمی ناگزیر ہے، بابر خانبلوچستان میں ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری بڑھانے پر توجہ ہے، بلال خان کاکڑلورالائی میں ماں اور بچے کی صحت سے متعلق آگاہی ورکشاپ، بروقت طبی معائنے کی اہمیت پر زورکوئٹہ میں امن و امان کی صورتحال تشویشناک ہے، مولانا عبدالرحمن رفیقاے این ایف کی کارروائی، افغان منشیات اسمگلنگ نیٹ ورک بے نقابپی ای سی کا ملک بھر میں 1,400 گریجویٹ انجینئرز کے لیے اسکل ڈویلپمنٹ ٹریننگ کا آغازعزم سے برتری تک: شاہینوں کا سفرپاک فوج کی مستونگ، کوئٹہ، قلات اور سبی میں کارروائیاں، 36 دہشت گرد ہلاکخاران سمیت بلوچستان کے تمام اضلاع کی متوازن ترقی ترجیح ہے، میر شعیب نوشیروانیخواتین کی معاشی خودمختاری کے بغیر پائیدار ترقی ممکن نہیں، ڈاکٹر ربابہ بلیدیبلوچستان کی منڈیوں میں جدید سہولیات کی فراہمی ناگزیر ہے، بابر خانبلوچستان میں ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری بڑھانے پر توجہ ہے، بلال خان کاکڑلورالائی میں ماں اور بچے کی صحت سے متعلق آگاہی ورکشاپ، بروقت طبی معائنے کی اہمیت پر زورکوئٹہ میں امن و امان کی صورتحال تشویشناک ہے، مولانا عبدالرحمن رفیق

کسان بھوکا، گودام بھرے

محمدنسیم رنزوریار

کسان بھوکا، گودام بھرے

قارئین کرام،زرعی ملک کی سب سے بڑی سچائی یہ ہے کہ ملک کا کسان محنت کی حتمی حدوں کو چھو کر بھی بھوک اور غربت کی تصویر بنا ہوا ہے جبکہ ریاستی اور نجی گودام اناج اور زرعی اجناس سے چھپرا چھپر بھرے پڑے ہیں۔ پاکستان جیسے زرعی اور وسائل سے مالا مال ملک میں یہ خونی تضاد صرف ایک انتظامی نااہلی نہیں بلکہ ایک جاری سماجی اور معاشی المیہ ہے جو کروڑوں محنت کشوں کے خون سے روز تحریر ہو رہا ہے۔ کسان پورے سال کی کڑی محنت، جلتی دھوپ، کڑکتی سردی، بارش اور ناہموار موسموں کے باوجود جب فصل تیار کرتا ہے تو اسے اپنی محنت کا جائز معاوضہ تک نصیب نہیں ہوتا۔ بیج، کھاد، بجلی، ڈیزل اور زہر کی قیمتوں میں مسلسل اور ہوشربا اضافے نے پیداواری لاگت کو اس حد تک بڑھا دیا ہے کہ عام ہاری اور کسان کے لیے کھیتی باڑی اب منافع بخش پیشے کے بجائے اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنے کے مترادف بن چکی ہے۔ فصل منڈی میں پہنچتے ہی آرتھی اور درمیانے طبقے کی اجارہ داری اس کا گلا گھونٹ دیتی ہے اور حتمی پیداوار کو انتہائی معمولی قیمت پر خرید کر کسان کو مقروض کر دیا جاتا ہے۔ کسان جب اپنی محنت کے عوض ملنے والی کمائی سے گھر لوٹتا ہے تو اس کے پاس اگلے سیزن کی تیاری تو درکنار، بچوں کے لیے روٹی، علاج اور تعلیم کا بندوبست کرنا بھی ناممکن ہو چکا ہوتا ہے۔دوسری طرف حکومتی پالیسیاں اور گندم سمیت دیگر ذخائر کے لیے بنائے گئے سرکاری و غیر سرکاری گودام لبالب بھرے نظر آتے ہیں لیکن ان گوداموں کی موجودگی کا فائدہ عام شہری یا محنت کش کسان تک کبھی نہیں پہنچتا۔ سرکاری خریداریاں یا تو تاخیر کا شکار ہوتی ہیں یا پھر بدعنوان انتظامی نیٹ ورک اور فوڈ ڈیپارٹمنٹ کے ماتحت افسران کسانوں کے پاسپورٹ اور پاس بکس پر کٹوتی کے بہانے بنا کر انہیں خوار کرتے ہیں جس سے مجبور ہو کر کسان کم قیمت پر نجی مافیا اور ذخیرہ اندوزوں کو اپنی فصل بیچنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ یہی مافیا بعد میں اسی اناج کو گوداموں میں بند کر کے مصنوعی قحط پیدا کرتا ہے اور مارکیٹ میں فلور ملز کے ذریعے مہنگے داموں آٹا اور خوراک فروخت کر کے اربوں روپے کماتا ہے۔ یوں گوداموں کی بھرتی اور زرعی پیداوار کی فراوانی کے باوجود مارکیٹ میں آٹا، دالیں اور سبزیاں عوام کی پہنچ سے دور ہو جاتی ہیں اور ملک بھر میں خوراک کی سیکیورٹی کے سنگین بحران جنم لیتے ہیں۔ وہ ہاتھ جو پوری قوم کا پیٹ بھرنے کے لیے مٹی سے سونا اگاتے ہیں، وہی ہاتھ اپنے بچوں کے پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے نوالے کو ترستے ہیں۔صوبائی اور قومی سطح پر اگر دیکھا جائے تو ہماری زراعت کا المیہ محض پیداوار کی کمی کا نہیں بلکہ غیر متوازن، مفاد پرستانہ اور ناقص ترین تقسیمِ کار کا ہے۔ مرکزی اور صوبائی حکومتیں سالہا سال سے زراعت کی بہتری اور کسان کی خوشحالی کے کھوکھلے دعوے تو کرتی چلی آ رہی ہیں لیکن حقیقت میں کسی بھی دیرپا زراعت دوست پالیسی کی تشکیل میں ہمیشہ ناكام رہی ہیں۔ ہنگامی بنیادوں پر امپورٹ اور ایکسپورٹ کے غلط فیصلے، نااہل منصوبہ بندی اور تاجر دوست معاشی پالیسیوں نے زراعت کے پورے ڈھانچے کو تباھی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ ہر سال اربوں روپے کی سبسڈیز اور پیکیجز کا اعلان کیا جاتا ہے لیکن اس کا بڑا حصہ بدعنوان افسر شاہی، وڈیروں اور بااثر زمینداروں کے حصّے میں چلا جاتا ہے جبکہ حقیقی چھوٹے اور درمیانے درجے کے کسان کے حصے میں صرف لائنوں میں لگنا اور دھکے کھانا آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ملک کے دیہی علاقوں سے شہروں کی طرف غیر معمولی ہجرت جاری ہے اور کسان زراعت سے بدظن ہو کر دیگر شعبوں میں معمولی نوعیت کی مزدوری کرنے پر مجبور ہو چکا ہے جو کہ مستقبل میں ملکی غذائی خودکفالت کے لیے انتہائی خطرناک اشارہ ہے۔اس بھیانک اور طویل المیے کے پائیدار اور حتمی حل کے لیے لازم ہے کہ ریاستی سطح پر فوری اور سخت اصلاحات کا آغاز کیا جائے جن کے تحت کسان کو اس کی فصل کی واجبی اور ضمانت شدہ قیمتِ خرید کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ آرتھی اور درمیانے درمیانی مافیا کے اثر و رسوخ کو ختم کر کے براہِ راست کسان سے سرکاری سطح پر منصفانہ خرید کا شفاف نظام وضع کیا جانا چاہیے تاکہ محنت کش کو اس کا جائز حق مل سکے۔ کھاد، بیج اور زراعتی مشینری پر سے غیر ضروری ٹیکسز اور امپورٹ ڈیوٹیز ختم کر کے پیداواری لاگت کو عام کسان کی دسترس میں لایا جائے اور جدت پر مبنی زرعی پالیسی کے تحت ہر سطح پر کسانوں کو آسان اور بلا سود قرضہ جات فراہم کیے جائیں۔ اس کے علاوہ فوڈ ڈیپارٹمنٹ اور گوداموں کے نظام کی ڈیجیٹلائزیشن اور سخت نگرانی لازمی ہے تاکہ اناج کی ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی بحران پیدا کرنے والے عناصر کے خلاف فوری قانونی کارروائی ہو سکے۔ جب تک کسان معاشی طور پر مستحکم اور خوشحال نہیں ہوگا، گوداموں کا بھرا ہونا محض ایک ستم ظریفی کے سوا کچھ نہیں اور ملک واقعی معاشی و غذائی بنیادوں پر کبھی ترقی کی راہ پر گامزن نہیں ہو سکتا۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *