Banner
Daily Sahafat Quetta
September 4, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
اے این ایف کی کارروائی، افغان منشیات اسمگلنگ نیٹ ورک بے نقابپی ای سی کا ملک بھر میں 1,400 گریجویٹ انجینئرز کے لیے اسکل ڈویلپمنٹ ٹریننگ کا آغازعزم سے برتری تک: شاہینوں کا سفرپاک فوج کی مستونگ، کوئٹہ، قلات اور سبی میں کارروائیاں، 36 دہشت گرد ہلاکخاران سمیت بلوچستان کے تمام اضلاع کی متوازن ترقی ترجیح ہے، میر شعیب نوشیروانیخواتین کی معاشی خودمختاری کے بغیر پائیدار ترقی ممکن نہیں، ڈاکٹر ربابہ بلیدیبلوچستان کی منڈیوں میں جدید سہولیات کی فراہمی ناگزیر ہے، بابر خانبلوچستان میں ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری بڑھانے پر توجہ ہے، بلال خان کاکڑلورالائی میں ماں اور بچے کی صحت سے متعلق آگاہی ورکشاپ، بروقت طبی معائنے کی اہمیت پر زورکوئٹہ میں امن و امان کی صورتحال تشویشناک ہے، مولانا عبدالرحمن رفیقاے این ایف کی کارروائی، افغان منشیات اسمگلنگ نیٹ ورک بے نقابپی ای سی کا ملک بھر میں 1,400 گریجویٹ انجینئرز کے لیے اسکل ڈویلپمنٹ ٹریننگ کا آغازعزم سے برتری تک: شاہینوں کا سفرپاک فوج کی مستونگ، کوئٹہ، قلات اور سبی میں کارروائیاں، 36 دہشت گرد ہلاکخاران سمیت بلوچستان کے تمام اضلاع کی متوازن ترقی ترجیح ہے، میر شعیب نوشیروانیخواتین کی معاشی خودمختاری کے بغیر پائیدار ترقی ممکن نہیں، ڈاکٹر ربابہ بلیدیبلوچستان کی منڈیوں میں جدید سہولیات کی فراہمی ناگزیر ہے، بابر خانبلوچستان میں ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری بڑھانے پر توجہ ہے، بلال خان کاکڑلورالائی میں ماں اور بچے کی صحت سے متعلق آگاہی ورکشاپ، بروقت طبی معائنے کی اہمیت پر زورکوئٹہ میں امن و امان کی صورتحال تشویشناک ہے، مولانا عبدالرحمن رفیق

میاں چنوں کی وہ تاریخی رات ایک عالمی مشاعرے کی یادیں

میاں چنوں کی وہ تاریخی رات ایک عالمی مشاعرے کی یادیں
تحریر: امجد اقبال امجد
کچھ مشاعرے وقت کے ساتھ ختم نہیں ہوتے، بلکہ یادوں میں زندہ رہتے ہیں۔ کچھ شامیں گزرتی نہیں، دل کے کسی روشن گوشے میں ٹھہر جاتی ہیں۔ میاں چنوں کا وہ عالمی مشاعرہ بھی میرے لیے ایسی ہی ایک یادگار رات ہے۔
یہ نومبر 2010ء کی بات ہے۔ میاں چنوں جیسے شہر میں دنیا بھر سے معروف شعراء کو ایک جگہ جمع کرنا بلاشبہ ایک بڑا ادبی کارنامہ تھا۔ راوی فاؤنڈیشن انٹرنیشنل اور ماہنامہ ’’ارژنگ‘‘ کے زیرِ اہتمام ہونے والی اس عالمی محفل کے انتظام و انعقاد میں معروف شاعر و صحافی عامر بن علی کا بنیادی کردار تھا۔
15 نومبر 2010ء کو ٹی ایم اے میاں چنوں کے سبزہ زار میں سجنے والی اس محفل میں 63 سے زائد ملکی و غیر ملکی شعراء نے شرکت کی۔ اردو، پنجابی اور سرائیکی کے شعراء نے اپنی شاعری سے اس رات کو یادگار بنا دیا۔ اخباری اعلان میں انور مسعود، کشور ناہید، امجد اسلام امجد، عطاء الحق قاسمی، وصی شاہ، عباس تابش، سعود عثمانی، صغریٰ صدف، رخشندہ نوید اور بہت سے دوسرے نامور شعراء کے ساتھ امجد اقبال امجد، متحدہ عرب امارات کا نام بھی شامل تھا۔
میرے لیے یہ بات آج بھی باعثِ مسرت ہے کہ دبئی سے آنے والے ایک شاعر کی حیثیت سے مجھے اپنے وطن کی سرزمین پر اس بڑے ادبی اجتماع کا حصہ بننے کا موقع ملا۔
مشاعرے کی صدارت ظفر اقبال نے کی۔ اسٹیج پر بڑے بڑے اہلِ قلم موجود تھے اور سامعین میں شعر و ادب سے محبت کرنے والوں کا ایک بڑا ہجوم تھا۔ ایسی محفل میں جب شاعر اپنا کلام پیش کرتا ہے تو وہ صرف شعر نہیں سناتا، وہ اپنے شہر، اپنے ملک اور اپنی تہذیب کی نمائندگی بھی کرتا ہے۔
اس رات میاں چنوں صرف ایک شہر نہیں تھا؛ وہ اردو ادب کا ایک خوبصورت مرکز بن گیا تھا۔
عامر بن علی کی سب سے بڑی خوبی شاید یہی تھی کہ انہوں نے بڑے شہروں تک محدود ادبی سرگرمیوں کو میاں چنوں تک پہنچایا۔ دنیا بھر سے شعراء کو ایک نسبتاً چھوٹے شہر میں جمع کرنا محض انتظامی صلاحیت نہیں بلکہ ادب سے غیر معمولی محبت کا تقاضا کرتا ہے۔
مجھے آج بھی محسوس ہوتا ہے کہ اس مشاعرے کی اصل خوبصورتی صرف اس میں شریک بڑے نام نہیں تھے، بلکہ وہ ماحول تھا جس میں شاعر اور سامع کے درمیان کوئی فاصلہ باقی نہیں رہتا تھا۔ شعر پڑھا جاتا، داد ملتی، کوئی مصرع دل میں اتر جاتا اور پھر پوری رات سخن کی روشنی پھیلتی رہتی۔
یہ بھی ایک خوبصورت اتفاق تھا کہ بیرونِ ملک سے آنے والے شعراء کے لیے یہ مشاعرہ وطن سے دوبارہ جڑنے کا ایک وسیلہ بن گیا تھا۔ دبئی، امریکہ، انگلینڈ، فرانس، ناروے، کویت اور دیگر ممالک سے آنے والے شعراء اپنے ساتھ صرف شاعری نہیں لائے تھے، بلکہ دنیا کے مختلف حصوں میں آباد اردو زبان و ادب کی خوشبو بھی ساتھ لائے تھے۔
آج سولہ برس بعد جب میں اس رات کو یاد کرتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ بڑے مشاعرے دراصل وقت کے دریچے ہوتے ہیں۔ ان میں ایک ہی رات میں کئی نسلیں، کئی شہر اور کئی ملک ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔
میاں چنوں کا وہ عالمی مشاعرہ بھی میرے ادبی سفر کا ایک ایسا ہی روشن باب ہے۔
اور شاید اس یاد کی سب سے خوبصورت دستاویز وہ اعلان ہے جس میں بڑے بڑے ناموں کے درمیان ایک سطر آج بھی موجود ہے:
امجد اقبال امجد — متحدہ عرب امارات
یہ صرف ایک نام نہیں تھا؛ یہ دبئی سے میاں چنوں تک میرے شعری سفر کی ایک روشن منزل تھی۔
میاں چنوں کی وہ رات گزر گئی، مشاعرہ ختم ہوگیا، شعراء اپنے اپنے شہروں اور ملکوں کو لوٹ گئے، مگر شعر باقی رہ گئے۔
اور شعر کی یہی تو خوبی ہے—
محفل ختم ہو جاتی ہے،
مگر سخن باقی رہتا ہے۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *