Banner
Daily Sahafat Quetta
September 1, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
لاہور ہائیکورٹ کا خلع، حق مہر، جہیز اور گھر کی ملکیت سے متعلق اہم فیصلہ جاریراولپنڈی اسلام آباد میں شدید بارش سے نظام زندگی درہم برہم، عام تعطیل کا اعلان، فوج اسٹینڈ بائیسندھ کابینہ کا بڑا فیصلہ؛ پاسکو سے 2 لاکھ 23 ہزار ٹن سے زائد گندم خریدنے کی منظوریGen Alpha کے بچے ،ہماری آنے والی نسل کیسی ہوگی؟عمر کے افق پر ابنِ سینا کی روشنی ڈاکٹر کمال آیدن کا علمی و انسانی سفرسندھ طاس معاہدہ برقرار، عالمی ثالثی عدالت کا فیصلہ پاکستان کے مؤقف کی کامیابی ہے،وزیراعلیٰ بلوچستانزیارت کراس پر مسلح افراد کا حملہ، فائرنگ کے بعد کسٹم ویئر ہاؤس میں آتشزدگی، 5 اہلکار جاں بحقکشمیر کی پکار اور ہماری خاموشیTNDER NOTICE /dprq/prq No.1118/31-8-2026NOTICE INVITING TENDER Dprq/prq no.1106/31-08-2026لاہور ہائیکورٹ کا خلع، حق مہر، جہیز اور گھر کی ملکیت سے متعلق اہم فیصلہ جاریراولپنڈی اسلام آباد میں شدید بارش سے نظام زندگی درہم برہم، عام تعطیل کا اعلان، فوج اسٹینڈ بائیسندھ کابینہ کا بڑا فیصلہ؛ پاسکو سے 2 لاکھ 23 ہزار ٹن سے زائد گندم خریدنے کی منظوریGen Alpha کے بچے ،ہماری آنے والی نسل کیسی ہوگی؟عمر کے افق پر ابنِ سینا کی روشنی ڈاکٹر کمال آیدن کا علمی و انسانی سفرسندھ طاس معاہدہ برقرار، عالمی ثالثی عدالت کا فیصلہ پاکستان کے مؤقف کی کامیابی ہے،وزیراعلیٰ بلوچستانزیارت کراس پر مسلح افراد کا حملہ، فائرنگ کے بعد کسٹم ویئر ہاؤس میں آتشزدگی، 5 اہلکار جاں بحقکشمیر کی پکار اور ہماری خاموشیTNDER NOTICE /dprq/prq No.1118/31-8-2026NOTICE INVITING TENDER Dprq/prq no.1106/31-08-2026

عبدالصمد خان قزلباش، تاریخی شواہد، خاندانی پس منظر اور قبیلہ قزلباش سے تعلق کا جائزہ

احمدخان اچکزئی

عبدالصمد خان قزلباش، تاریخی شواہد، خاندانی پس منظر اور قبیلہ قزلباش سے تعلق کا جائزہ

محترم قارئین، (ڈاکٹر سلیم کُرد کی کتاب “یوسف عزیز مگسی اور بلوچستان ریفارمز موومنٹ” کی روشنی میں)تاریخی دستاویزات اور مستند مطبوعات جہاں تاریخ کے گمشدہ اور تنازعہ برپا کرنے والے حقائق کو بے نقاب کرتی ہیں، وہاں نامور شخصیات کی اصل نسلی و خاندانی شناخت کو آشکار کرنے میں بھی کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔ خطہ بلوچستان اور برٹش بلوچستان کی سیاسی و سماجی تاریخ کے مطالعے کے دوران اکثر و بیشتر ایسی تاریخی حقیقتیں سامنے آتی ہیں جو عام روایتی بیانیے سے بالکل مختلف اور محققین کے لیے انتہائی حیران کن ہوتی ہیں۔ اسی نوعیت کا ایک انتہائی اہم، موثق اور مستند تاریخی انکشاف معروف مورخ اور محقق ڈاکٹر سلیم کرد کی شہرہ آفاق کتاب “یوسف عزیز مگسی اور بلوچستان ریفارمز موومنٹ” (شائع کردہ سنگت اکیڈمی کوئٹہ، 2018ء) کے صفحات میں محفوظ معلومات سے ہوتا ہے۔ عمومی طور پر تاریخ کی عام کتب میں عبدالصمد خان کا ذکر محض ان کی علاقائی یا بعد میں اختیار کردہ قومی شناخت کے حوالہ جات سے ملتا ہے، مگر مذکورہ کتاب کے حتمی اور مستند صفحات صراحت کے ساتھ یہ حقیقت ثابت کرتے ہیں کہ ان کی حقیقی، اصل نسلی و جدّی بنیاد ‘قزلباش’ قبیلے سے مربوط ہے اور وہ بنیادی طور پر عبدالصمد خان قزلباش ہیں۔ کتاب کے صفحات پر درج تحریر اس بات کی شاہد ہے کہ عبدالصمد خان قزلباش کا اصل تعلق برٹش بلوچستان کے سرحدی علاقے گلستان سے تھا، جبکہ ان کا جدّی اور نسلی شجرہ قندھار کے معروف قزلباش قبیلے کی شاخ “قرباش” سے جا ملتا ہے۔ تاریخ کا یہ مسلمہ قاعدہ ہے کہ افغانستان اور گرد و نواح کے علاقوں میں قزلباش ایک ترکی-ایرانی نسل کا قبیلہ رہا ہے جو نادر شاہ افشار اور احمد شاہ ابدالی کے ادوار میں قندھار اور کابل جیسے اہم مراکز میں فوج، شاہی دربار اور اعلیٰ انتظامی عہدوں پر فائز ہوا۔ عبدالصمد خان قزلباش کے خاندانی پس منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے کتاب کا معلومات یہ اہم ترین نکتہ واضح کرتا ہے کہ ان کے دادا نے قندھار کے اپنے اصل قزلباش اور قرباش قبیلے سے ہجرت یا سکونت کے بعد پشتونوں کے اچکزئی قبیلے میں شادی کی تھی۔ اس سیاسی، سماجی اور قبیلہ جاتی رشتے داری کے نتیجے میں وہ اور ان کی آنے والی نسلیں مقامی طور پر اچکزئی کہلانے لگیں، حالانکہ نسلی اور خون کے اعتبار سے وہ خالصتاً قزلباش قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس تاریخی حقیقت کی تصدیق کتاب میں موجود ایک اور اہم تحریری حوالے سے بھی ہوتی ہے جہاں ان کے خاندانی نام کے ساتھ “ارباب” کا مؤقر اور روایتی خطابی عنوان درج ہے، یعنی “عبدالصمد خان قزلباش ارباب خدائے داد کا”۔ تاریخ دان اس بات سے خوب واقف ہیں کہ قندھار، کابل اور سرحدی خطوں میں “ارباب” کا خطاب تاریخی طور پر قزلباش اور غیر مقامی معززین و زمینداروں کا خاندانی لقب رہا ہے۔ برٹش بلوچستان کی مقامی تشکیل میں جب مختلف قبائل ایک دوسرے میں ضم ہو رہے تھے تو قزلباش خاندانوں کی مقامی قبائل میں شادیوں کے ذریعے یہ معاشرتی تبدیلی رونما ہوئی۔ پختونخوا اور بلوچستان کی مقامی روایات کے مطابق جب کوئی غیر پشتون قبیلہ یا خاندان کسی مقامی قبیلے کے ساتھ رفاقت یا ازدواجی رشتہ قائم کر لیتا ہے تو چند نسلوں کے بعد وہ اسی قبیلے کی نسبت سے پہچانا جانے لگتا ہے، مگر علمی اور تاریخی تحقیق میں اصل نسل کو ہی بنیاد مانا جاتا ہے۔ لہٰذا ڈاکٹر سلیم کُرد کی کتاب کا یہ جلی اور واضح متن بغیر کسی ابہام کے یہ ثابت کرتا ہے کہ جنہیں بعد میں اچکزئی کے نام سے جانا گیا، وہ اصل گوہر، نسلی رگ و پے اور جدّی روایات کے اعتبار سے عبدالصمد خان قزلباش ہی ہیں۔ کتاب کے صفحات پر رقم یہ جملے کہ “آپ قندھار کے قزلباش قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں” خود اس بات کی بین دلیل ہیں کہ ان کی نسلی شناخت پر مصنف اور تاریخی ریکارڈ کو کوئی شک و شبہ نہیں تھا۔ قزلباش قبیلے کی تاریخی اہمیت پر نظر ڈالی جائے تو یہ حقیقت اور بھی نکھر کر سامنے آتی ہے کہ وسطی ایشیا اور ایران و افغانستان سے ہجرت کر کے آنے والے قزلباش خاندانوں نے خطے کی سیاسی و دفتری ساخت پر گہرے نقوش چھوڑے۔ قندھار کا قرباش اور قزلباش قبیلہ علم، تدبیر اور انتظامی صلاحیتوں میں ممتاز سمجھا جاتا تھا، اور اسی قزلباش خون کی جولانی عبدالصمد خان قزلباش کی شخصیت اور خاندانی خصائص سے بھی آشکار ہوتی ہے۔ کتاب کے متون کا عمیق مطالعہ ثابت کرتا ہے کہ ان کے دادا کی اچکزئی قبیلے میں شادی محض ایک مقامی ازدواجی تعلق تھا جس کے باعث وہ مقامی طور پر اچکزئی کہلائے، مگر حقیقت کی کسوٹی پر ان کی بنیاد قزلباش ہی رہی۔ اس تاریخی صراحت سے یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ برٹش بلوچستان کے نوآبادیاتی دور کی تاریخ میں جو شخصیات ابھریں، ان کے آباؤ اجداد کا نسلی پس منظر قزلباش قبیلے کی تاریخی شان و شوکت اور قندھاری تہذیب سے پیوستہ تھا۔ یوں یہ مستند کتاب نہ صرف تاریخ کے اس اہم ورق کی تصدیق کرتی ہے بلکہ محققین کو یہ دعوتِ فکر بھی دیتی ہے کہ وہ عبدالصمد خان قزلباش کی اصل نسبی حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے تاریخ کو اس کی حقیقی شکل میں محفوظ کریں۔ مستند حوالہ جات کے مطابق اس تحقیق کا بنیادی ماخذ سنگت اکیڈمی کوئٹہ سے 2018ء میں شائع ہونے والی مذکورہ کتاب کا صفحہ نمبر 518 ہے، جس کے عین متن میں واضح درج ہے کہ ” عبدالصمد خان کا تعلق برٹش بلوچستان کے سرحدی علاقہ گلستان سے تھا۔ آپ قندھار کے قزلباش قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں، آپ کے دادا نے پشتونوں کے اچکزئی قبیلے میں شادی کی جس سے وہ اچکزئی کہلائے”، اور انہیں کتاب میں “عبدالصمد خان ارباب خدائے داد کا” کے لقب سے پکارا جانا ان کے قزلباش پس منظر کی حتمی علمی و تاریخی دلیل ہے۔

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *