Banner
Daily Sahafat Quetta
August 30, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
جرم کا تعین شواہد اور تحقیقات سے ہوتا ہے حکومتی بیانات یا مفروضوں سے نہیں، مولانا عبدالرحمن رفیقبلوچستان کے نامور باکسر عبدالغنی مینگل کی اچانک وفات افسوسناک ہے، سردار منظور احمد کاکڑبطور کمشنر کوئٹہ ڈویژن عوامی مسائل کے حل کی ہر ممکن کوشش کی ،شاہزیب کاکڑانسداد پولیو مہم کو کامیاب بنانے کیلئے ہر ممکن اقدامات اٹھائے جائیں ،مہراللہ بادینیبلوچستان میں بڑھتی بدامنی ، اراکین اسمبلی کا اظہار تشویشحکومت امن دشمنوں کے مذموم عزائم کامیاب نہیں ہونے دےگی،ضیاءاللہ لانگوپشتون قومی جرگہ خطے میں پائیدار امن کےلئے آئندہ کا لائحہ عمل طے کرےگا،محمود خان اچکزئیصحافیوں کے مسائل کا حل اور حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے، سیدال خان ناصرمدارس میں بچوں پر تشدد – اصلاح کی ضرورت، کردار کشی نہیںعوام اور تاجروں کو لاوارث نہیں چھوڑیں گے، مولانا محمد طاہر توحیدیجرم کا تعین شواہد اور تحقیقات سے ہوتا ہے حکومتی بیانات یا مفروضوں سے نہیں، مولانا عبدالرحمن رفیقبلوچستان کے نامور باکسر عبدالغنی مینگل کی اچانک وفات افسوسناک ہے، سردار منظور احمد کاکڑبطور کمشنر کوئٹہ ڈویژن عوامی مسائل کے حل کی ہر ممکن کوشش کی ،شاہزیب کاکڑانسداد پولیو مہم کو کامیاب بنانے کیلئے ہر ممکن اقدامات اٹھائے جائیں ،مہراللہ بادینیبلوچستان میں بڑھتی بدامنی ، اراکین اسمبلی کا اظہار تشویشحکومت امن دشمنوں کے مذموم عزائم کامیاب نہیں ہونے دےگی،ضیاءاللہ لانگوپشتون قومی جرگہ خطے میں پائیدار امن کےلئے آئندہ کا لائحہ عمل طے کرےگا،محمود خان اچکزئیصحافیوں کے مسائل کا حل اور حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے، سیدال خان ناصرمدارس میں بچوں پر تشدد – اصلاح کی ضرورت، کردار کشی نہیںعوام اور تاجروں کو لاوارث نہیں چھوڑیں گے، مولانا محمد طاہر توحیدی

14اگست یوم آزادی، یوم احتساب یا تجدید عہد

تحریر:ڈاکٹر فضلیت بانو

14اگست یوم آزادی، یوم احتساب یا تجدید عہد

دنیا کی تاریخ میں بعض ایام محض کیلنڈر کی تاریخیں نہیں ہوتے بلکہ وہ قوموں کے اجتماعی شعور، جدوجہد، قربانی اور قومی تشخص کی علامت بن جاتے ہیں۔ 14 اگست 1947ء بھی برصغیر کے مسلمانوں کی تاریخ کا ایسا ہی ایک یادگار دن ہے۔ یہ وہ دن ہے جب ایک طویل سیاسی، فکری اور آئینی جدوجہد کے بعد پاکستان دنیا کے نقشے پر ایک آزاد مملکت کی حیثیت سے نمودار ہوا۔ پاکستان کا قیام محض ایک خطۂ زمین کا حصول نہیں تھا بلکہ یہ ایک ایسے سیاسی تصور کی عملی تعبیر تھا جس کے تحت برصغیر کے مسلمان اپنے مذہبی، تہذیبی، معاشرتی اور سیاسی تشخص کو محفوظ رکھتے ہوئے آزادانہ زندگی بسر کرنا چاہتے تھے۔یومِ آزادی ہمیں صرف جشن منانے کا موقع نہیں دیتا بلکہ ہمیں یہ سوچنے کی دعوت بھی دیتا ہے کہ یہ آزادی کن قربانیوں کے نتیجے میں حاصل ہوئی، اس کے مقاصد کیا تھے اور ایک آزاد قوم کی حیثیت سے ہماری ذمہ داریاں کیا ہیں۔برصغیر میں مسلمانوں کی سیاسی صورتِ حال انیسویں صدی کے وسط کے بعد تیزی سے تبدیل ہوئی۔ 1857ء کی جنگِ آزادی کے بعد مسلمانوں کو سیاسی، معاشی اور تعلیمی میدان میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد جدید تعلیم اور بدلتے ہوئے سیاسی حالات سے دور تھی، جس کے نتیجے میں وہ قومی زندگی کے متعدد شعبوں میں پیچھے رہ گئے۔اس دور میں سرسید احمد خان نے مسلمانوں کو جدید تعلیم کی طرف متوجہ کیا اور ان میں سیاسی و سماجی شعور پیدا کرنے کی کوشش کی۔ علی گڑھ تحریک نے مسلمانوں کے اندر ایک نئی فکری بیداری پیدا کی۔ رفتہ رفتہ مسلمانوں کو یہ احساس ہونے لگا کہ برصغیر میں ان کے مذہبی، تہذیبی اور سیاسی مفادات کے تحفظ کے لیے ایک منظم سیاسی جدوجہدضروری ہے۔1906ء میں آل انڈیا مسلم لیگ کا قیام برصغیر کے مسلمانوں کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوا۔ مسلم لیگ نے مسلمانوں کے سیاسی حقوق کے تحفظ کے لیے جدوجہد شروع کی۔ ابتدا میں اس کا مقصد برطانوی حکومت کے سامنے مسلمانوں کے مطالبات پیش کرنا اور ہندوستانی سیاست میں مسلمانوں کی مؤثر نمائندگی کو یقینی بنانا تھا۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہندو مسلم سیاسی اختلافات میں اضافہ ہوا اور مسلمانوں کے اندر یہ احساس مضبوط ہوتا گیا کہ محض سیاسی تحفظات کافی نہیں بلکہ انہیں ایک ایسے سیاسی نظام کی ضرورت ہے جہاں وہ اپنی اجتماعی شناخت کے مطابق زندگی بسر کر سکیں۔
قیامِ پاکستان کی فکری بنیادوں میں علامہ محمد اقبال کا کردار نہایت اہم ہے۔ علامہ اقبال نے مسلمانوں کے لیے ایک ایسے سیاسی نظام کا تصور پیش کیا جس میں وہ اپنے مذہبی، تہذیبی اور معاشرتی تشخص کے مطابق زندگی گزار سکیں۔1930ء کے خطبۂ الٰہ آباد میں علامہ اقبال نے ہندوستان کے شمال مغربی مسلم اکثریتی علاقوں کو ایک سیاسی وحدت کی صورت میں منظم کرنے کا تصور پیش کیا۔ ان کی فکر نے مسلمانوں کو ایک واضح سمت فراہم کی اور بعد میں یہی تصور تحریکِ پاکستان کی فکری بنیادوں میں شامل ہوا۔
علامہ اقبال کی عظیم خدمت یہ تھی کہ انہوں نے مسلمانوں کے اندر خودی، خود اعتمادی اور قومی شعور پیدا کیا۔ ان کی شاعری نے سوئی ہوئی قوم کو بیداری، عمل اور اتحاد کا پیغام دیا۔تحریکِ پاکستان کو ایک مضبوط، منظم اور عملی سیاسی قیادت محمد علی جناح کی صورت میں حاصل ہوئی۔ قائداعظم محمد علی جناح نے آئینی، جمہوری اور سیاسی جدوجہد کے ذریعے مسلمانوں کے حقوق کے لیے آواز بلند کی۔قائداعظم کی قیادت میں مسلم لیگ ایک مضبوط عوامی سیاسی قوت بن گئی۔ انہوں نے مسلمانوں کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کیا اور ان کے سیاسی مطالبات کو واضح انداز میں دنیا کے سامنے پیش کیا۔
قائداعظم کی قیادت کا سب سے نمایاں وصف اصول پسندی، نظم و ضبط، سیاسی بصیرت اور عزمِ صمیم تھا۔ انہوں نے مشکل ترین حالات میں بھی مسلمانوں کے حقِ خود ارادیت کی جدوجہد جاری رکھی۔23 مارچ 1940ء کو لاہور میں مسلم لیگ کے تاریخی اجلاس میں وہ قرارداد منظور ہوئی جسے بعد میں قراردادِ پاکستان کہا گیا۔ اس قرارداد نے برصغیر کے مسلم اکثریتی علاقوں کے لیے الگ سیاسی وحدتوں کے قیام کا مطالبہ واضح کیا۔قراردادِ لاہور تحریکِ پاکستان کی تاریخ میں فیصلہ کن موڑ ثابت ہوئی۔ اس کے بعد مسلمانوں کی سیاسی جدوجہد نے ایک واضح منزل اختیار کر لی۔ اب مطالبہ محض سیاسی حقوق یا جداگانہ انتخاب تک محدود نہیں رہا بلکہ مسلمانوں کے لیے ایک الگ سیاسی مستقبل کی جدوجہد بن گیا۔قیامِ پاکستان کسی ایک فرد یا طبقے کی جدوجہد کا نتیجہ نہیں تھا۔ اس تحریک میں علماء، ادیبوں، شاعروں، طلبہ، خواتین، صحافیوں، تاجروں، مزدوروں، کسانوں اور عام مسلمانوں نے اپنی اپنی حیثیت میں کردار ادا کیا۔خواتین نے تحریکِ پاکستان میں نمایاں خدمات انجام دیں۔ طالب علموں نے مسلم لیگ کے پیغام کو عام کیا۔ صحافت نے مسلمانوں میں سیاسی شعور پیدا کیا اور شعر و ادب نے قومی جذبات کو مہمیز دی۔اردو شاعری خصوصاً ملی شاعری نے مسلمانوں کے اندر آزادی، اتحاد اور قومی تشخص کا احساس پیدا کیا۔ اس طرح تحریکِ پاکستان ایک ہمہ گیر عوامی تحریک کی شکل اختیار کر گئی۔طویل سیاسی جدوجہد، مذاکرات اور بے شمار قربانیوں کے بعد بالآخر برطانوی ہندوستان تقسیم ہوا اور 14 اگست 1947ء کو پاکستان ایک آزاد مملکت کے طور پر دنیا کے نقشے پر ابھرا۔
یہ ایک ایسا تاریخی لمحہ تھا جس کا خواب برصغیر کے مسلمانوں نے طویل عرصے تک دیکھا تھا۔ پاکستان کے قیام نے مسلمانوں کو ایک ایسی آزاد ریاست فراہم کی جہاں وہ اپنے سیاسی، تہذیبی اور معاشرتی مستقبل کا فیصلہ خود کر سکتے تھے۔آزادی کے اس سفر میں لاکھوں لوگوں نے ہجرت کی اور بے شمار خاندانوں نے اپنے گھر، کاروبار، زمینیں اور جائیدادیں چھوڑ دیں۔ ہجرت کے دوران لوگوں کو بے شمار مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس لیے 14 اگست کی خوشی کے ساتھ ان قربانیوں کو یاد کرنا بھی ضروری ہے جن کے نتیجے میں پاکستان حاصل ہوا۔14 اگست پاکستانی قوم کے لیے کئی اعتبار سے اہم ہے۔یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ آزادی کسی قوم کے لیے کتنی بڑی نعمت ہے۔ ایک آزاد ملک میں قوم اپنے سیاسی، معاشی اور تہذیبی فیصلے خود کر سکتی ہے۔پاکستان نے برصغیر کے مسلمانوں کو ایک الگ قومی شناخت اور سیاسی تشخص فراہم کیا۔ آج پاکستانی قوم اپنی مخصوص تہذیب، روایات، زبانوں اور ثقافتی رنگا رنگی کے ساتھ ایک مشترکہ قومی شناخت رکھتی ہے۔14 اگست ہمیں ان لاکھوں افراد کی قربانیوں کو یاد کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے جنہوں نے قیامِ پاکستان کے لیے جدوجہد کی اور ہجرت کے کٹھن مراحل سے گزرے۔پاکستان مختلف زبانوں، ثقافتوں، علاقوں اور روایات کا حسین امتزاج ہے۔ یومِ آزادی ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہماری قومی قوت باہمی اتحاد، رواداری اور یکجہتی میں ہے۔14 اگست نئی نسل کو پاکستان کی تاریخ سے روشناس کرانے کا اہم موقع ہے۔ بچوں اور نوجوانوں کو یہ بتایا جانا چاہیے کہ آزادی کی قدر صرف پرچم لہرانے اور تقریبات منعقد کرنے میں نہیں بلکہ ملک کی تعمیر و ترقی میں مثبت کردار ادا کرنے میں ہے۔
پاکستان کے قیام کو سمجھنے کے لیے نظریۂ پاکستان کی اہمیت کو سمجھنا ضروری ہے۔ برصغیر کے مسلمانوں نے اپنی مذہبی، تہذیبی، تاریخی اور سیاسی شناخت کے تحفظ کے لیے ایک الگ ریاست کا مطالبہ کیا۔ اس جدوجہد میں اسلام محض ایک مذہبی حوالہ نہیں تھا بلکہ مسلمانوں کی اجتماعی تہذیب، اخلاقی اقدار اور معاشرتی شناخت کا بھی بنیادی عنصر تھا۔
قائداعظم نے پاکستان کے مستقبل کے لیے قانون کی حکمرانی، جمہوریت، مساوات، مذہبی آزادی، اقلیتوں کے حقوق اور شہری ذمہ داریوں پر زور دیا۔ اس لیے پاکستان کے قیام کی روح کو سمجھنے کے لیے ان اصولوں کو بھی پیشِ نظر رکھنا ضروری ہے۔آزادی صرف حقوق کا نام نہیں بلکہ ذمہ داریوں کا بھی تقاضا کرتی ہے۔ ایک آزاد ملک کے شہری کی حیثیت سے ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم قانون کی پابندی کریں، دوسروں کےحقوق کا احترام کریں، دیانت داری کو فروغ دیں، تعلیم حاصل کریں اور اپنے ملک کی ترقی میں کردار ادا کریں۔پاکستان کی تعمیر صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں۔ استاد، طالب علم، ڈاکٹر، انجینئر، ادیب، شاعر، صحافی، کسان، مزدور، تاجر اور ہر شہری اپنے اپنے میدان میں ملک کی تعمیر میں حصہ لے سکتا ہے۔اگر ہم اپنے فرائض دیانت داری سے ادا کریں تو یہی یومِ آزادی حقیقی معنوں میں آزادی کی روح کا ترجمان بن سکتا ہے۔
پاکستان کی آبادی میں نوجوانوں کا حصہ بہت اہم ہے۔ ملک کا مستقبل نوجوان نسل کے ہاتھ میں ہے۔ نوجوان اگر علم، تحقیق، کردار، محنت اور مثبت سوچ کو اپنا شعار بنا لیں تو پاکستان ترقی کی نئی منزلیں طے کر سکتا ہے۔
آج کے نوجوان کے لیے حب الوطنی کا مطلب صرف جذباتی نعرے نہیں بلکہ تعلیم میں محنت، تحقیق میں پیش رفت، ٹیکنالوجی کا مثبت استعمال، معاشرتی ذمہ داری، برداشت اور قانون کی پاسداری بھی ہے۔14 اگست کو ہم گھروں، عمارتوں، بازاروں اور شاہراہوں کو قومی پرچموں سے سجاتے ہیں۔ تقریبات منعقد ہوتی ہیں، ملی نغمے گائے جاتے ہیں اور وطن سے محبت کا اظہار کیا جاتا ہے۔ یہ سب قومی جذبات کے اظہار کے خوب صورت طریقے ہیں۔لیکن یومِ آزادی ہمیں ایک سوال بھی دیتا ہے کہ کیا ہم نے آزادی کے مقاصد کو اپنی اجتماعی زندگی میں پوری طرح اختیار کیا ہے؟یہ سوال ہمیں اپنے قومی کردار کا جائزہ لینے کی دعوت دیتا ہے۔ ہمیں دیکھنا ہوگا کہ ہم تعلیم، انصاف، صحت، معیشت، تحقیق، اخلاقیات اور سماجی ترقی کے میدان میں کہاں کھڑے ہیں۔ اگر ہم اپنی کمزوریوں کا اعتراف کرکے انہیں دور کرنے کی کوشش کریں تو یومِ آزادی محض ایک تہوار نہیں رہے گا بلکہ قومی تجدیدِ عہد کا دن بن جائے گا۔پاکستان نے اپنے قیام کے بعد مختلف مشکلات کا سامنا کیا، لیکن اس کے باوجود پاکستانی قوم نے ہر دور میں اپنی صلاحیت، عزم اور حوصلے کا مظاہرہ کیا۔ زراعت، صنعت، تعلیم، سائنس، طب، ادب، کھیل اور ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں میں پاکستانیوں نے نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ہمیں اپنے ملک کی خامیوں سے مایوس ہونے کے بجائے انہیں دور کرنے کے لیے عملی کردار ادا کرنا چاہیے۔ قومیں صرف وسائل سے نہیں بلکہ عزم، علم، کردار اور مسلسل محنت سے ترقی کرتی ہیں۔
قیامِ پاکستان برصغیر کے مسلمانوں کی ایک طویل جدوجہد، سیاسی بصیرت، فکری بیداری اور بے شمار قربانیوں کا نتیجہ تھا۔ 14 اگست 1947ء ہماری قومی تاریخ کا وہ روشن باب ہے جو ہمیں آزادی کی قدر، اپنے ماضی کی قربانیوں اور مستقبل کی ذمہ داریوں کا احساس دلاتا ہے۔
یومِ آزادی کا حقیقی تقاضا یہ ہے کہ ہم پاکستان کو صرف ایک جغرافیائی خطہ نہیں بلکہ ایک مشترکہ قومی ذمہ داری سمجھیں۔ ہمیں اپنے اختلافات کو کم کرکے اتحاد، رواداری، انصاف، علم اور ترقی کو فروغ دینا چاہیے۔
ہمیں یہ عہد کرنا چاہیے کہ پاکستان کی آزادی کو مضبوط بنائیں گے، اس کی عزت و وقار کا خیال رکھیں گے، قانون کی پاسداری کریں گے اور اپنی صلاحیتوں کو ملک و قوم کی تعمیر کے لیے بروئے کار لائیں گے۔
14 اگست ہمیں ماضی کی قربانیوں کی یاد بھی دلاتا ہے، حال کی ذمہ داریوں کا احساس بھی دلاتا ہے اور مستقبل کے روشن پاکستان کا خواب بھی دکھاتا ہے۔
پاکستان ہماری شناخت، ہماری امید اور ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے۔
قیامِ پاکستان اور 14 اگست کی اہمیت — شخصیات کے حوالے سے
پاکستان کا قیام کسی ایک دن کا واقعہ نہیں بلکہ کئی دہائیوں پر محیط ایک مسلسل فکری، سیاسی، علمی اور عوامی جدوجہد کا نتیجہ تھا۔ اس جدوجہد کے مختلف مراحل میں ایسی نابغۂ روزگار شخصیات سامنے آئیں جنہوں نے اپنی فکر، قلم، کردار اور سیاسی بصیرت سے مسلمانوں کو ایک نئی منزل کی طرف رہنمائی دی۔ اگر سرسید احمد خان نے مسلمانوں میں جدید سیاسی و تعلیمی شعور پیدا کیا، علامہ اقبال نے ان کے اندر خودی اور جداگانہ قومی تشخص کا احساس بیدار کیا تو قائداعظم محمد علی جناح نے اس فکری تصور کو منظم سیاسی جدوجہد کے ذریعے ایک آزاد ریاست کی صورت عطا کی۔تحریکِ پاکستان کے پس منظر میں سرسید احمد خان کی تعلیمی اور اصلاحی خدمات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ 1857ء کے بعد مسلمانوں کی سیاسی اور تعلیمی پسماندگی نے انہیں شدید تشویش میں مبتلا کیا۔ انہوں نے محسوس کیا کہ مسلمان اگر جدید علوم سے وابستہ نہ ہوئے تو بدلتے ہوئے سیاسی نظام میں ان کا کردار مزید محدود ہو جائے گا۔سرسید نے علی گڑھ تحریک کے ذریعے مسلمانوں میں تعلیم، سائنسی فکر اور جدید شعور پیدا کیا۔ ان کی کوششوں نے ایک ایسی تعلیم یافتہ مسلم نسل تیار کی جس نے بعد میں برصغیر کی سیاست میں اہم کردار ادا کیا۔ یوں سرسید کی تحریک کو تحریکِ پاکستان کی فکری تمہید قرار دیا جا سکتا ہے۔علامہ محمد اقبال تحریکِ پاکستان کے سب سے اہم فکری رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں۔ اقبال نے اپنی شاعری اور خطابات کے ذریعے مسلمانوں کو ان کے شاندار ماضی، تہذیبی شناخت اور اجتماعی قوت کا احساس دلایا۔
اقبال کے نزدیک مسلمان محض ایک مذہبی گروہ نہیں بلکہ ایک جداگانہ تہذیبی اور فکری ملت تھے۔ ان کی فکر میں خودی، آزادی، عمل، اتحاد اور روحانی اقدار بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔1930ء کے خطبۂ الٰہ آباد میں اقبال نے ہندوستان کے مسلم اکثریتی علاقوں کے لیے ایک سیاسی وحدت کا تصور پیش کیا۔ یہ تصور بعد میں تحریکِ پاکستان کی فکری بنیادوں میں نمایاں حیثیت اختیار کر گیا۔
اقبال نے جس خواب کو فکری سطح پر دیکھا، قائداعظم نے اسے سیاسی حقیقت میں تبدیل کرنے کا تاریخی کارنامہ انجام دیا۔
محمد علی جناح تحریکِ پاکستان کے عملی قائد تھے۔ ان کی سیاسی زندگی اصول، استقامت، آئینی جدوجہد اور غیر معمولی سیاسی بصیرت کی مثال ہے۔قائداعظم نے مسلمانوں کے سیاسی حقوق کے تحفظ کے لیے طویل عرصے تک آئینی جدوجہد کی۔ انہوں نے سیاسی حالات کا گہرا مشاہدہ کیا اور وقت کے ساتھ اس نتیجے تک پہنچے کہ برصغیر کے مسلمانوں کے لیے ایک الگ سیاسی مستقبل ناگزیر ہے۔قائداعظم کی قیادت میں مسلم لیگ نے مسلمانوں کو ایک مضبوط سیاسی پلیٹ فارم فراہم کیا۔ انہوں نے مختلف علاقوں، زبانوں اور سماجی طبقات سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کو ایک مشترکہ مقصد کے تحت متحد کیا۔قائداعظم کی کامیابی کا ایک بڑا سبب ان کی تنظیمی صلاحیت تھی۔ انہوں نے جذبات کے بجائے دلیل، قانون اور سیاسی حکمتِ عملی کو اپنی جدوجہد کا ذریعہ بنایا۔ ان کا پیغام واضح تھا کہ قومیں نظم و ضبط، اتحاد اور مسلسل محنت سے اپنی منزل حاصل کرتی ہیں محترمہ فاطمہ جناح: خواتین کی بیداری کی علامتفاطمہ جناح نے تحریکِ پاکستان میں قائداعظم کا بھرپور ساتھ دیا۔ وہ صرف قائداعظم کی بہن نہیں بلکہ ایک باشعور، باہمت اور سیاسی شعور رکھنے والی رہنما تھیں۔
انہوں نے مسلمان خواتین کو سیاسی اور قومی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی ترغیب دی۔ تحریکِ پاکستان میں خواتین کی شرکت نے اس جدوجہد کو ایک وسیع عوامی تحریک بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔فاطمہ جناح کی زندگی پاکستانی خواتین کے لیے یہ پیغام رکھتی ہے کہ قومی تعمیر اور سیاسی جدوجہد میں خواتین کا کردار بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا معاشرے کے دوسرے طبقات کا۔
لیاقت علی خان قائداعظم کے قابلِ اعتماد ساتھیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ انہوں نے مسلم لیگ کی تنظیم سازی اور تحریکِ پاکستان میں نمایاں خدمات انجام دیں۔
قیامِ پاکستان کے بعد وہ ملک کے پہلے وزیرِ اعظم بنے اور نومولود ریاست کو درپیش سیاسی، انتظامی اور معاشی مسائل سے نمٹنے میں اہم کردار ادا کیا۔
ان کی سیاسی زندگی اس حقیقت کی عکاس ہے کہ آزادی حاصل کرنا ایک مرحلہ ہے، جبکہ نئی ریاست کو مستحکم اور منظم کرنا ایک الگ اور طویل ذمہ داری ہے۔
محمد علی جوہر نے صحافت اور سیاست دونوں میدانوں میں مسلمانوں کے اندر سیاسی شعور پیدا کیا۔ ان کی صحافتی سرگرمیوں نے برصغیر کے مسلمانوں کو اپنے حقوق اور سیاسی حالات سے باخبر کیا۔
انہوں نے اپنی تحریروں اور خطابات کے ذریعے مسلمانوں میں آزادی، خود اعتمادی اور سیاسی بیداری کے جذبات کو مضبوط کیا۔ ان کی زندگی اس بات کا ثبوت ہے کہ قلم بھی قومی جدوجہد میں ایک طاقتور ہتھیار بن سکتا ہے۔ظفر علی خان نے صحافت کو تحریکِ آزادی کا مؤثر ذریعہ بنایا۔ ان کا اخبار زمیندار مسلمانوں میں سیاسی شعور بیدار کرنے کے حوالے سے خاص اہمیت رکھتا تھا۔مولانا ظفر علی خان کی نثر اور شاعری میں قومی جذبات، آزادی کا ولولہ اور مسلمانوں کے سیاسی حقوق کی ترجمانی نمایاں تھی۔ انہوں نے صحافت کے ذریعے عوام کو سیاسی حالات سے آگاہ کیا اور انہیں اپنے قومی مفادات کے لیے منظم ہونے کا پیغام دیا۔چودھری رحمت علی نے 1933ء میں اپنے مشہور پمفلٹ Now or Never کے ذریعے “Pakistan” کا نام پیش کیا۔ اگرچہ تحریکِ پاکستان کی عملی سیاسی قیادت مختلف مراحل سے گزری، تاہم پاکستان کے نام کے حوالے سے چودھری رحمت علی کی تجویز تاریخی اہمیت رکھتی ہے۔ان کا تصور اس دور میں سامنے آیا جب برصغیر کے مسلمانوں میں ایک الگ سیاسی تشخص کے امکانات پر بحث جاری تھی۔حسین شہید سہروردی اور دیگر مسلم رہنما۔
تحریکِ پاکستان کی تاریخ متعدد مسلم رہنماؤں کی خدمات سے عبارت ہے۔ حسین شہید سہروردی، خواجہ ناظم الدین، سردار عبدالرب نشتر اور دیگر رہنماؤں نے مختلف علاقوں میں مسلم لیگ کے سیاسی پیغام کو عام کرنے اور مسلمانوں کو منظم کرنے میں اپنا کردار ادا کیا۔
یہ حقیقت قابلِ ذکر ہے کہ پاکستان کسی ایک علاقے یا طبقے کی جدوجہد کا نتیجہ نہیں تھا۔ پنجاب، سندھ، بلوچستان، سرحد، بنگال اور برصغیر کے دیگر علاقوں کے مسلمانوں نے اپنی اپنی سطح پر تحریک میں حصہ لیا۔
تحریکِ پاکستان میں خواتین کی خدمات بھی قابلِ تحسین ہیں۔ محترمہ فاطمہ جناح کے علاوہ بیگم رعنا لیاقت علی خان اور متعدد دوسری خواتین نے مسلم خواتین کو سیاسی طور پر متحرک کیا۔خواتین نے جلسوں، اجتماعات، سیاسی سرگرمیوں اور عوامی رابطوں میں حصہ لیا۔ انہوں نے اپنے گھروں میں بھی نئی نسل کو آزادی اور قومی تشخص کا شعور دیا۔ اس اعتبار سے تحریکِ پاکستان گھر کی چار دیواری سے لے کر عوامی میدان تک پھیلنے والی ایک ہمہ گیر
تحریکِ پاکستان صرف سیاسی میدان تک محدود نہیں رہی۔ اردو ادب نے بھی مسلمانوں کے قومی شعور کو بیدار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ شاعروں نے آزادی، اتحاد، قومی تشخص اور قربانی کے جذبات کو الفاظ کا پیکر عطا کیا۔علامہ اقبال کی شاعری نے مسلمانوں کو خودی اور عمل کا پیغام دیا، مولانا ظفر علی خان کی شاعری نے سیاسی ولولہ پیدا کیا، جبکہ دیگر ادیبوں اور صحافیوں نے اپنی تحریروں کے ذریعے عوامی شعور کو بیدار کیا۔یوں تحریکِ پاکستان کے پس منظر میں تلوار سے زیادہ فکر، قلم، دلیل، تنظیم اور اجتماعی شعور کی قوت کارفرما نظر آتی ہے۔14 اگست صرف ماضی کی یاد منانے کا دن نہیں بلکہ مستقبل کے لیے عہد کرنے کا دن بھی ہے۔ یہ دن ہم سے سوال کرتا ہے کہ جن اصولوں اور مقاصد کے لیے ایک آزاد وطن حاصل کیا گیا، ہم ان کی حفاظت کے لیے کیا کر رہے ہیں؟آزادی کا حقیقی مفہوم یہ ہے کہ قوم اپنے فیصلے خود کرے، شہریوں کو بنیادی حقوق حاصل ہوں، قانون سب کے لیے برابر ہو، تعلیم عام ہو، معاشی مواقع پیدا ہوں اور معاشرے میں برداشت، رواداری اور انصاف کو فروغ ملے۔قائداعظم کے اصول اور آج کا پاکستان قائداعظم نے پاکستان کے شہریوں کو اتحاد، ایمان اور تنظیم کا پیغام دیا۔ آج بھی قومی زندگی میں ان اصولوں کی معنویت برقرار ہے۔
اتحاد کا مطلب یہ ہے کہ علاقائی، لسانی اور گروہی اختلافات کے باوجود ہم اپنی مشترکہ پاکستانی شناخت کو مقدم رکھیں۔ تنظیم کا مطلب یہ ہے کہ ہم قانون، نظم و ضبط اور اجتماعی ذمہ داری کو اہمیت دیں۔ ایمان ہمیں کردار، دیانت اور اصول پسندی کی طرف متوجہ کرتا ہے۔اگر ہم ان اصولوں کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنا لیں تو یومِ آزادی کا جشن محض رسمی سرگرمی نہیں رہے گا بلکہ قومی اصلاح اور تعمیر کا ذریعہ بن جائے گا۔آج پاکستان کی نوجوان نسل کے سامنے نئے چیلنجز ہیں۔ دنیا تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔ علم، سائنس، ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور تحقیق نے ترقی کے نئے راستے کھول دیے ہیں۔
ایسے حالات میں حب الوطنی کا تقاضا یہ ہے کہ نوجوان علم حاصل کریں، تحقیق کریں، اپنی صلاحیتوں کو نکھاریں اور پاکستان کو ایک مضبوط علمی و معاشی قوت بنانے میں کردار ادا کریں۔آج کا نوجوان اگر کتاب کو اپنا دوست، تحقیق کو اپنا راستہ، کردار کو اپنی پہچان اور پاکستان کو اپنی ذمہ داری سمجھ لے تو آنے والا پاکستان زیادہ مضبوط، روشن اور خوشحال ہو سکتا ہے۔قیامِ پاکستان کی داستان دراصل فکر، قربانی، قیادت اور عوامی جدوجہد کی داستان ہے۔ سرسید نے تعلیمی بیداری کا چراغ روشن کیا، علامہ اقبال نے مسلمانوں کو فکری سمت عطا کی،قائداعظم نے سیاسی جدوجہد کو منزل تک پہنچایا، فاطمہ جناح اور دیگر خواتین نے قومی تحریک میں خواتین کی شرکت کو مؤثر بنایا، جبکہ صحافیوں، شاعروں، ادیبوں، طلبہ اور عام مسلمانوں نے اس تحریک کو عوامی قوت فراہم کی۔14 اگست 1947ء اسی طویل سفر کی منزل کا نام ہے۔ہمیں چاہیے کہ ہر یومِ آزادی پر صرف پرچم نہ لہرائیں بلکہ اپنے دل میں یہ عہد بھی تازہ کریں کہ ہم پاکستان کو علم، کردار، اتحاد، انصاف اور محنت کے ذریعے مضبوط بنائیں گے۔آزادی ایک نعمت ہے، مگر اس نعمت کی حفاظت ایک مسلسل ذمہ داری ہے۔پاکستان ان لوگوں کی قربانیوں کا امین ہے جنہوں نے ایک آزاد وطن کے لیے اپنا آج قربان کیا۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ان قربانیوں کو صرف تاریخ کی کتابوں میں محفوظ نہ رکھیں بلکہ اپنے کردار اور عمل کے ذریعے ان کا احترام کریں۔14 اگست ہماری آزادی کی تاریخ بھی ہے، ہماری قومی شناخت کا دن بھی، ہماری قربانیوں کی یاد بھی اور مستقبل کے پاکستان کے لیے تجدیدِ عہد کا موقع بھی۔
قیامِ پاکستان کی تاریخ ہجرت کے ذکر کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتی۔ 1947ء میں جب ایک نئی مملکت وجود میں آئی تو لاکھوں مسلمانوں نے اپنے آبائی علاقوں، گھروں، زمینوں، کاروباروں اور صدیوں پرانے معاشرتی تعلقات کو چھوڑ کر پاکستان کی طرف سفر کیا۔ یہ ہجرت محض جغرافیائی نقل مکانی نہیں تھی بلکہ ایک ایسے مستقبل کی تلاش تھی جس میں وہ اپنی شناخت، تہذیب اور مذہبی و سماجی اقدار کے مطابق آزادانہ زندگی بسر کر سکیں۔
مہاجرین نے نئے وطن میں بے شمار مشکلات کا سامنا کیا۔ بہت سے خاندانوں کو اپنے پیچھے اپنی پوری زندگی چھوڑنا پڑی، مگر ان کے حوصلے پست نہ ہوئے۔ انہوں نے پاکستان کے ابتدائی معاشی، تعلیمی، انتظامی اور شہری ڈھانچے کی تشکیل میں نمایاں کردار ادا کیا۔اس اعتبار سے 14 اگست ہمیں آزادی کی خوشی کے ساتھ ان لوگوں کی قربانیوں کی یاد بھی دلاتا ہے جنہوں نے پاکستان کے لیے اپنا ماضی چھوڑ کر نئے وطن کے مستقبل کی تعمیر میں حصہ لیا۔
تحریکِ پاکستان میں پنجاب کا کردار نہایت اہم تھا۔ پنجاب برصغیر کی سیاست میں ایک اہم خطہ تھا اور یہاں مسلم لیگ کی سیاسی سرگرمیوں نے تحریک کو عوامی سطح پر قوت فراہم کی۔لاہور میں 1940ء کا تاریخی اجلاس اور قراردادِ لاہور تحریکِ پاکستان کی تاریخ کا فیصلہ کن واقعہ تھا۔ پنجاب کے سیاسی رہنماؤں، علماء، طلبہ، صحافیوں اور عام مسلمانوں نے مسلم لیگ کے پیغام کو عوام تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔پنجاب کے عوام نے قیامِ پاکستان کے مرحلے پر بے مثال قربانیاں بھی دیں۔ ہجرت کے المناک حالات نے اس خطے کے سماجی ڈھانچے کو شدید متاثر کیا، لیکن اسی دور میں لوگوں نے ایک دوسرے کی مدد، خدمت اور آبادکاری کے ذریعے انسانیت کی روشن مثالیں بھی قائم کیں۔سندھ کو پاکستان کی تحریک میں خصوصی تاریخی حیثیت حاصل ہے۔ قائداعظم کا تعلق سندھ سے تھا اور کراچی ان کی سیاسی و قومی زندگی کا اہم مرکز رہا۔سندھ کے مسلمانوں نے مسلم لیگ کی جدوجہد میں فعال حصہ لیا۔ 1943ء میں سندھ اسمبلی وہ پہلی صوبائی اسمبلی بنی جس نے پاکستان کے قیام کے حق میں قرارداد منظور کی۔ یہ واقعہ تحریکِ پاکستان کے سیاسی سفر میں خاص اہمیت رکھتا ہے۔قیامِ پاکستان کے بعد کراچی کو پاکستان کا دارالحکومت بنایا گیا اور یہی شہر نئی ریاست کے ابتدائی انتظامی و سیاسی سفر کا مرکز بنا۔
پاکستان کی جدوجہد میں صرف پنجاب اور سندھ ہی نہیں بلکہ سرحدی علاقوں، بلوچستان اور بنگال کے مسلمانوں نے بھی اہم کردار ادا کیا۔خیبر پختونخوا میں مسلم لیگ کے رہنماؤں اور کارکنوں نے پاکستان کے مطالبے کو عوام تک پہنچانے کے لیےجدوجہد کی۔ بلوچستان میں بھی سیاسی بیداری پیدا ہوئی اور مسلم اکثریتی علاقوں کے مستقبل کے حوالے سے پاکستان کے تصور کو تقویت ملی۔اسی طرح بنگال نے تحریکِ پاکستان میں بنیادی اہمیت حاصل کی۔ بنگال کی مسلم آبادی نے مسلم لیگ کی سیاست میں نمایاں کردار ادا کیا اور بنگال کے سیاسی رہنماؤں نے پاکستان کے مطالبے کو مضبوط بنانے میں حصہ لیا۔یہ تمام عوامل اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ پاکستان کسی ایک صوبے، زبان یا علاقے کا منصوبہ نہیں تھا بلکہ برصغیر کے مسلمانوں کی مشترکہ سیاسی جدوجہد کا نتیجہ تھا۔تحریکِ پاکستان میں طلبہ نے غیر معمولی جوش و جذبے کا مظاہرہ کیا۔ مسلم طلبہ نے جلسوں، جلوسوں، تقریروں، سیاسی مہمات اور عوامی رابطوں میں حصہ لیا۔ انہوں نے مسلم لیگ کے پیغام کو تعلیمی اداروں اور نوجوانوں تک پہنچایا۔طلبہ کسی بھی قوم کا متحرک طبقہ ہوتے ہیں۔ تحریکِ پاکستان کے دور میں نوجوانوں نے ثابت کیا کہ قومی تحریکیں صرف بزرگ سیاست دانوں کی قیادت سے کامیاب نہیں ہوتیں بلکہ نوجوان نسل کا جذبہ، توانائی اور قربانی بھی انہیں قوت فراہم کرتا ہے۔آج بھی پاکستانی نوجوانوں کے لیے تحریکِ پاکستان کے طلبہ کا کردار ایک روشن مثال ہے کہ تعلیم کے ساتھ قومی شعور بھی ضروری ہے۔تحریکِ پاکستان میں اخبارات اور رسائل نے فکری محاذ پر اہم خدمات انجام دیں۔ اس زمانے میں اخبار صرف خبروں کا ذریعہ نہیں تھا بلکہ سیاسی تعلیم اور قومی بیداری کا مؤثر وسیلہ بھی تھا۔مولانا ظفر علی خان کا زمیندار، مولانا محمد علی جوہر کا ہمدرد اور کامریڈ، اور دیگر مسلم اخبارات نے مسلمانوں کے سیاسی مسائل کو اجاگر کیا۔صحافیوں نے عوام کو سیاسی فیصلوں کے مضمرات سے آگاہ کیا، مسلم لیگ کے موقف کو عام کیا اور مسلمانوں میں اجتماعی شعور پیدا کیا۔ یوں صحافت نے تحریکِ پاکستان میں قلمی سپاہ کا کردار ادا کیا۔اردو زبان نے بھی برصغیر کے مسلمانوں کے درمیان رابطے کا اہم فریضہ انجام دیا۔ مختلف علاقوں میں رہنے والے مسلمان الگ الگ مقامی زبانیں بولتے تھے، لیکن اردو نے ایک وسیع تہذیبی اور ادبی رابطے کی زبان کے طور پر مسلمانوں کو ایک دوسرے کے قریب کیا۔
اردو شاعری، نثر، اخبارات، رسائل اور ملی ادب نے آزادی کے جذبات کو عام کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ قومی شاعری نے مسلمانوں کو ان کے ماضی کی عظمت اور مستقبل کی امید سے جوڑا۔اس طرح اردو صرف ایک زبان نہیں رہی بلکہ تحریکِ پاکستان کے فکری اور تہذیبی سفر کی ایک اہم آواز بن گئی۔تحریکِ پاکستان کے مختلف مراحل میں علماء اور مذہبی رہنماؤں نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ بہت سے علماء نے مسلمانوں کے سیاسی حقوق، تہذیبی شناخت اور مستقبل کے بارے میں عوام میں شعور پیدا کیا۔علماء نے اجتماعات، خطابات اور تحریروں کے ذریعے عوام کو سیاسی حالات سے آگاہ کیا۔ ان کی سرگرمیوں نے تحریک کو مذہبی و سماجی سطح پر بھی اثرانداز ہونے میں مدد دی۔اگرچہ علماء کے درمیان سیاسی نقطۂ نظر کے اختلافات بھی موجود تھے، تاہم مسلم لیگ کے ساتھ وابستہ علماء نے قیامِ پاکستان کی جدوجہد کو عوامی سطح پر تقویت پہنچائی۔تحریکِ پاکستان نے برصغیر کی مسلم خواتین میں بھی ایک نئی سیاسی بیداری پیدا کی۔ خواتین نے گھروں میں سیاسی شعور پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ عوامی اجتماعات اور مسلم لیگ کی سرگرمیوں میں شرکت کی۔فاطمہ جناح کی شخصیت اس حوالے سے علامتی حیثیت رکھتی ہے۔ ان کے علاوہ بیگم رعنا لیاقت علی خان اور بہت سی دوسری خواتین نے سیاسی شعور اجاگر کرنے اور خواتین کو قومی جدوجہد میں شریک کرنے کے لیے خدمات انجام دیں۔یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ تحریکِ پاکستان نے خواتین کو محض تماشائی نہیں رہنے دیا بلکہ انہیں قومی زندگی کا فعال حصہ بنایا۔14 اگست 1947ء کے بعد سب سے بڑا چیلنج ایک آزاد ملک کو منظم ریاست میں تبدیل کرنا تھا۔ پاکستان کو محدود وسائل، مہاجرین کی آبادکاری، مالی مشکلات، انتظامی مسائل اور دیگر پیچیدہ حالات کا سامنا تھا۔نومولود ریاست کے پاس وسائل کم تھے، مگر قوم کے حوصلے بلند تھے۔ سرکاری اداروں کی تشکیل، تعلیمی مراکز کا قیام، صنعت و تجارت کی ترقی اور انتظامی نظام کی تعمیر جیسے کام بتدریج آگے بڑھے۔
یہ دور ہمیں بتاتا ہے کہ آزادی کا حصول منزل کا اختتام نہیں بلکہ قومی تعمیر کے ایک نئے سفر کا آغاز ہوتا ہے۔قائداعظم نے پاکستان کے شہریوں کے لیے قانون کی بالادستی، مساوات اور مذہبی آزادی کی اہمیت پر زور دیا۔ ان کے نزدیک ریاست کا بنیادی فرض یہ تھا کہ وہ اپنے شہریوں کے حقوق کا تحفظ کرے۔آج بھی قائداعظم کے اس تصور کی معنویت بہت زیادہ ہے۔ پاکستان کی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ شہریوں میں باہمی احترام پیدا ہو، مذہبی و لسانی تنوع کو برداشت کیا جائے اور قانون سب کے لیے یکساں ہو۔قومی یکجہتی کا مطلب یہ نہیں کہ تمام لوگ ایک جیسا سوچیں، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اختلاف کے باوجود سب ملک کے بنیادی مفادات پر متحد رہیں۔پاکستان کی تہذیب مختلف ثقافتوں، زبانوں اور روایات کا حسین امتزاج ہے۔ پنجابی، سندھی، پشتو، بلوچی، سرائیکی، کشمیری اور دیگر زبانیں پاکستان کے تہذیبی حسن میں اضافہ کرتی ہیں۔ہماری علاقائی ثقافتیں پاکستان کی قومی شناخت کو کمزور نہیں کرتیں بلکہ اسے مزید متنوع اور خوب صورت بناتی ہیں۔ قومی یکجہتی کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اپنی علاقائی شناختوں کا احترام کرتے ہوئے ایک مشترکہ پاکستانی شناخت کو بھی مضبوط کریں۔
آزادی کی حفاظت کے لیے تعلیم بنیادی ضرورت ہے۔ ایک باشعور قوم ہی اپنے حقوق اور فرائض کو سمجھ سکتی ہے۔تحریکِ پاکستان کے رہنماؤں نے مسلمانوں کی تعلیمی ترقی پر زور دیا تھا۔ آج پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ تعلیم کو محض روزگار کے حصول کا ذریعہ نہ سمجھا جائے بلکہ اسے کردار سازی، تحقیق، تخلیقی صلاحیت اور قومی شعور کی بنیاد بنایا جائے۔اسکول، کالج اور جامعات ایسے مراکز بننے چاہییں جہاں نوجوانوں کو علم کے ساتھ تنقیدی سوچ، برداشت، اخلاق اور تحقیق کی تربیت بھی ملے۔اکیسویں صدی میں قومی ترقی کا ایک بنیادی پیمانہ سائنسی اور تکنیکی پیش رفت ہے۔ آج دنیا مصنوعی ذہانت، خلائی تحقیق، بایوٹیکنالوجی، ڈیجیٹل معیشت اور جدید مواصلاتی نظام کے میدان میں تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔پاکستان کے نوجوانوں میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔ اگر انہیں معیاری تعلیم، تحقیق کے مواقع اور مناسب ماحول فراہم کیا جائے تو وہ دنیا کے علمی و سائنسی میدان میں ملک کا نام روشن کر سکتے ہیں۔اس لیے آج کا یومِ آزادی ہمیں یہ عہد کرنے کی دعوت دیتا ہے کہ ہم پاکستان کو علم اور تحقیق کی قوت سے مضبوط بنائیں گے۔پاکستان کا سب سے بڑا سرمایہ اس کے عوام ہیں۔ قوم اس وقت مضبوط ہوتی ہے جب اس کے افراد ایک دوسرے کے دکھ درد کو اپنا سمجھتے ہیں۔لسانی، علاقائی، سیاسی اور سماجی اختلافات کسی بھی معاشرے کا حصہ ہو سکتے ہیں، لیکن اختلاف کو دشمنی میں تبدیل کرنا قومی یکجہتی کے لیے نقصان دہ ہے۔ہمیں اختلافِ رائے کو جمہوری حسن سمجھنا چاہیے اور ایک دوسرے کے مؤقف کا احترام کرنا چاہیے۔ یہی رویہ پاکستان کو ایک مضبوط اور متوازن معاشرے میں تبدیل کر سکتا ہے۔حب الوطنی صرف قومی پرچم لہرانے، ملی نغمے سننے یا یومِ آزادی کی تقریبات میں شرکت کرنے کا نام نہیں۔حقیقی حب الوطنی روزمرہ کے کردار میں ظاہر ہوتی ہے۔جب ایک استاد اپنے شاگرد کو خلوص سے تعلیم دیتا ہے، ایک طالب علم ایمانداری سے محنت کرتا ہے، ایک ڈاکٹر مریض کی خدمت کرتا ہے، ایک مزدور دیانت سے کام کرتا ہے، ایک افسر اپنے فرائض انصاف سے انجام دیتا ہے اور ایک شہری قانون کی پابندی کرتا ہے تو یہ سب حب الوطنی کی عملی صورتیں ہیں۔
وطن سے محبت کا سب سے خوب صورت اظہار یہ ہے کہ انسان اپنی صلاحیت کو قومی فائدے کے لیے استعمال کرے۔14 اگست ہمیں ماضی کے دریچوں میں جھانکنے کے ساتھ مستقبل کی طرف دیکھنے کا موقع بھی دیتا ہے۔ ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ آنے والی نسلوں کے لیے ہم کیسا پاکستان چھوڑنا چاہتے ہیں۔ہم ایسا پاکستان چاہتے ہیں جہاں علم کو عزت حاصل ہو، نوجوانوں کو مواقع میسر ہوں، خواتین کو آگے بڑھنے کے مواقع ملیں، اقلیتیں محفوظ ہوں، قانون کی حکمرانی ہو، ادارے مضبوط ہوں اور معاشرے میں انصاف و رواداری کا فروغ ہو۔
یہ خواب صرف تقریروں سے پورا نہیں ہوگا۔ اس کے لیے اجتماعی کردار، مسلسل محنت اور قومی ترجیحات کا درست تعین ضروری ہے۔
14 اگست ہمیں تین بنیادی پیغامات دیتاہے پہلا پیغام تجدید عہد کا دن۔دوسرا پیغام: اپنے بزرگوں کی قربانیوں کی قدرکرو۔
تیسرا،پیغام،مستقبل کی تعمیر کے لیے اپنا کردار ادا کر و۔اگر ہم ان تینوں پیغامات کو سمجھ لیں تو یومِ آزادی ایک رسمی دن نہیں رہے گا بلکہ ہماری قومی زندگی میں فکری تبدیلی کا ذریعہ بن جائے گا۔پاکستان ایک طویل خواب، مسلسل جدوجہد اور بے شمار قربانیوں کے بعد حاصل ہوا۔ اس کی بنیاد میں دانش وروں کی فکر، شاعروں کا قلم، صحافیوں کی آواز، سیاست دانوں کی جدوجہد، علماء کی رہنمائی، خواتین کی شرکت، نوجوانوں کا جوش اور عام لوگوں کی قربانیاں شامل ہیں۔
14 اگست 1947ء اس اجتماعی جدوجہد کی کامیابی کا دن تھا، لیکن پاکستان کی تعمیر کا سفر اسی دن سے ایک نئے مرحلے میں داخل ہوا۔آج ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے بزرگوں کی قربانیوں کو صرف یاد نہ کریں بلکہ ان کے جذبۂ تعمیرِ وطن کو اپنے عمل کا حصہ بنائیں۔ہمیں پاکستان کو ایسا ملک بنانے کی کوشش کرنی چاہیے جہاں اختلاف کے باوجود اتحاد ہو، ترقی کے ساتھ انصاف ہو، آزادی کے ساتھ ذمہ داری ہو، علم کے ساتھ کردار ہو اور قومی تشخص کے ساتھ انسانیت کا احترام بھی موجود ہو۔آئیے اس یومِ آزادی پر عہد کریں کہ ہم پاکستان کو صرف ایک آزاد ملک نہیں بلکہ ایک مضبوط، مہذب، تعلیم یافتہ، انصاف پسند اور ترقی یافتہ معاشرہ بنانے کے لیے اپنی اپنی جگہ کردار ادا کریں گے۔یہی ان لوگوں کو بہترین خراجِ عقیدت ہوگا جنہوں نے پاکستان کے لیے اپنا آج قربان کیا تاکہ آنے والی نسلیں آزادی کے سائے میں اپنا کل تعمیر کر سکیں۔
پاکستان ہماری تاریخ بھی ہے، ہماری شناخت بھی، ہماری ذمہ داری بھی اور ہماری امید بھی۔پاکستان زندہ باد!

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *