Banner
Daily Sahafat Quetta
August 4, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
سونا عالمی و مقامی مارکیٹوں میں سستا ہوگیا، چاندی کی قیمت میں اضافہسوات خود کش حملے کی تحقیقات جاری، حملہ آور کا تعلق دیر سے نکلاپاکستان کو بجلی کی پیداوار نہیں، مؤثراستعمال اور اسٹوریج کا چیلنج درپیش ہے، وزیر توانائیموجودہ نظام بہترین ہے، مسائل کی وجہ آئین پر عمل نہ کرنا ہے، رانا ثنا اللہایران کے پاس آخری موقع ہے، معاہدہ کرلے ورنہ پچھتائے گا؛ ٹرمپ کی دھمکیپاکستان کی چین کو ایک ارب30 کروڑ ڈالر کی ری فنانسنگ کیلئے باضابطہ درخواستلکی مروت: انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیاں، خوارج کے ٹھکانے تباہ، متعدد دہشتگرد ہلاکحکومت بلوچستان نے گزشتہ مالی سال کے دوران ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کا مقررہ ہدف کامیابی سے حاصل کر لیاکوئٹہ،سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمن کی سابق اپوزیشن لیڈر ملک سکندر خان ایڈوکیٹ کے گھر آمدگنداواہ: چہلم حضرت امام حسینؑ کا مرکزی ماتمی جلوس سخت سیکیورٹی میں برآمدسونا عالمی و مقامی مارکیٹوں میں سستا ہوگیا، چاندی کی قیمت میں اضافہسوات خود کش حملے کی تحقیقات جاری، حملہ آور کا تعلق دیر سے نکلاپاکستان کو بجلی کی پیداوار نہیں، مؤثراستعمال اور اسٹوریج کا چیلنج درپیش ہے، وزیر توانائیموجودہ نظام بہترین ہے، مسائل کی وجہ آئین پر عمل نہ کرنا ہے، رانا ثنا اللہایران کے پاس آخری موقع ہے، معاہدہ کرلے ورنہ پچھتائے گا؛ ٹرمپ کی دھمکیپاکستان کی چین کو ایک ارب30 کروڑ ڈالر کی ری فنانسنگ کیلئے باضابطہ درخواستلکی مروت: انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیاں، خوارج کے ٹھکانے تباہ، متعدد دہشتگرد ہلاکحکومت بلوچستان نے گزشتہ مالی سال کے دوران ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کا مقررہ ہدف کامیابی سے حاصل کر لیاکوئٹہ،سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمن کی سابق اپوزیشن لیڈر ملک سکندر خان ایڈوکیٹ کے گھر آمدگنداواہ: چہلم حضرت امام حسینؑ کا مرکزی ماتمی جلوس سخت سیکیورٹی میں برآمد

پاکستان کو بجلی کی پیداوار نہیں، مؤثراستعمال اور اسٹوریج کا چیلنج درپیش ہے، وزیر توانائی

وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے کہا ہے کہ پاکستان کو بجلی کی پیداوار کے بجائے بجلی کے مؤثر استعمال اور ذخیرہ کرنے کے نظام کا چیلنج درپیش ہے۔

اسلام آباد میں سولر، اسٹوریج اینڈ فلیکسیبلٹی 2026 کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان توانائی کے شعبے میں اہم تبدیلی کے مرحلے سے گزر رہا ہے اور ملک میں سولر پاور کی استعداد تقریباً 38 ہزار میگاواٹ تک پہنچ چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ دن کے اوقات میں بجلی کی اضافی پیداوار ہوتی ہے جبکہ شام کے وقت طلب میں اضافہ ہو جاتا ہے، جس کے لیے بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹمز کا استعمال ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق اسٹوریج نظام گرڈ کے استحکام اور بجلی کی بہتر ترسیل میں اہم کردار ادا کرے گا۔

اویس لغاری نے کہا کہ درآمدی ایندھن پر انحصار ملکی معیشت اور توانائی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔ قطر سے آر ایل این جی سپلائی متاثر ہونے کے باعث رات کے اوقات میں لوڈشیڈنگ کا سامنا کرنا پڑا، تاہم دن میں سولر بجلی دستیاب ہونے سے صورتحال بہتر رہی۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ پاکستان کی بجلی پیداوار میں صاف توانائی کا حصہ 55 فیصد تک پہنچ چکا ہے جبکہ حکومت کا ہدف ہے کہ 2035 تک کلین انرجی کا حصہ 90 فیصد تک بڑھایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ صرف سولر اور ونڈ انرجی سے یہ ہدف حاصل نہیں کیا جا سکتا، اس کے لیے بیٹری اسٹوریج سسٹمز ضروری ہیں۔ حکومت بیٹریوں کی مقامی تیاری، انجینئرنگ اور بیٹری مینجمنٹ سافٹ ویئر کے فروغ پر کام کر رہی ہے۔

وفاقی وزیر کے مطابق بیٹری انرجی اسٹوریج کے لیے قومی اسٹیئرنگ کمیٹی اور تکنیکی و ریگولیٹری ورکنگ گروپس قائم کیے گئے ہیں، جبکہ ڈسکوز میں پائلٹ منصوبوں کی منظوری بھی دی جا چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت سرمایہ کاروں کو واضح اور طویل المدتی پالیسی فریم ورک فراہم کرے گی، جبکہ پاکستان کا توانائی مستقبل مقامی وسائل، انجینئرز اور جدید بیٹری اسٹوریج ٹیکنالوجی سے وابستہ ہے۔

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *