Banner
Daily Sahafat Quetta
July 30, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
حلقے کے عوام کو مایوس نہیں کرینگے، نور محمد دمڑقومی مسائل کے حل کیلئے صالح قیادت ضروری ہے، عبدالرحمن رفیقبلوچستان پولیس کا کریک ڈاون، 107 ملزمان گرفتاربلوچستان کو سرمایہ کاری کیلئے پرکشش منزل بنائیں گے، بلال کاکڑکوئٹہ، 8 ماہ کی حاملہ خاتون وردہ داؤد قتل، لاش سسرال سے برآمدجھل مگسی: ہندو تاجر کے دکان پر ڈکیتی کی وارداتپوسٹل ورکرز فیڈریشن وفد کی پوسٹ ماسٹر جنرل سے اہم ملاقاتورچوئل یونیورسٹی آف پاکستان اور فاؤنڈیشن یونیورسٹی اسلام آباد کے درمیان تعلیمی تعاون کے فروغ کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخطورکرز کو عالمی معیار کی طبی سہولیات کی فراہمی اولین ترجیح ہے، چوہدری سالک حسینبلوچستان میں امن و امان کے لیے مؤثر اقدامات جاری ہیں،بابر یوسفزئیحلقے کے عوام کو مایوس نہیں کرینگے، نور محمد دمڑقومی مسائل کے حل کیلئے صالح قیادت ضروری ہے، عبدالرحمن رفیقبلوچستان پولیس کا کریک ڈاون، 107 ملزمان گرفتاربلوچستان کو سرمایہ کاری کیلئے پرکشش منزل بنائیں گے، بلال کاکڑکوئٹہ، 8 ماہ کی حاملہ خاتون وردہ داؤد قتل، لاش سسرال سے برآمدجھل مگسی: ہندو تاجر کے دکان پر ڈکیتی کی وارداتپوسٹل ورکرز فیڈریشن وفد کی پوسٹ ماسٹر جنرل سے اہم ملاقاتورچوئل یونیورسٹی آف پاکستان اور فاؤنڈیشن یونیورسٹی اسلام آباد کے درمیان تعلیمی تعاون کے فروغ کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخطورکرز کو عالمی معیار کی طبی سہولیات کی فراہمی اولین ترجیح ہے، چوہدری سالک حسینبلوچستان میں امن و امان کے لیے مؤثر اقدامات جاری ہیں،بابر یوسفزئی

مرحوم حاجی عبدالباقی خان بڑیچ ایک عہد ساز شخصیت

تحریر مفتی نور علی

مرحوم حاجی عبدالباقی بڑیچ کی پیدائش 5 جون 1968ء کو مرحوم امیر جان کے گھر ایک ایسے باوقار، شریف اور تعلیم دوست خاندان میں ہوئی جو بڑیچ قبیلے سے تعلق رکھتا ہے۔ بڑیچ قبیلہ پاکستان اور افغانستان دونوں ممالک میں اپنی تاریخی، سماجی اور قبائلی اہمیت کے باعث عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ حاجی عبدالباقی مرحوم کی پرورش ایسے ماحول میں ہوئی جہاں تعلیم، تربیت، اخلاق، دیانت اور خدمت خلق کو بنیادی اقدار کی حیثیت حاصل تھی۔ ان کے خاندان میں آج بھی تعلیم یافتہ نوجوانوں کی بڑی تعداد موجود ہے، جن میں کئی افراد مختلف نجی تعلیمی ادارے چلا رہے ہیں۔ ان ہی میں معروف ماہر تعلیم سر عبدالغنی کا نام نمایاں ہے، جو بلوچستان بھر میں اپنی علمی اور تعلیمی خدمات کی وجہ سے کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ اسی علمی و اخلاقی ماحول نے حاجی عبدالباقی مرحوم کی شخصیت کو سنوارا اور انہیں عوامی خدمت کا جذبہ عطا کیا۔ وہ نہایت سادہ، خوش اخلاق، دیندار، صوم و صلوٰۃ کے پابند، نرم گفتار اور غریب پرور انسان تھے۔ علاقے کے بزرگ اور نوجوان سبھی ان کا بے حد احترام کرتے تھے، اور ان کی باتوں کو رہنمائی اور تجربے کا نچوڑ سمجھتے تھے۔ انہوں نے اپنی عملی زندگی میں عوامی خدمت کو شعار بنایا اور کلی عالم خان سمیت پورے علاقے کی ترقی کے لیے گراں قدر خدمات انجام دیں۔ ان کی کاوشوں سے چار انچ قطر کی گیس پائپ لائن منظور ہوئی، جس سے اہلِ علاقہ کا ایک دیرینہ مسئلہ حل ہوا۔ اسی طرح کلی عالم خان کے پشتون درہ/لانگو آباد (عرف چرآباد) میں بجلی کے کھمبے اور سروس لائن منظور کرا کے برسوں سے بجلی سے محروم آبادی کو روشنی فراہم کی۔ انہوں نے گلیوں کو ٹف ٹائل سے آراستہ کرانے کے ساتھ مرکزی گلی میں سرکاری خرچ سے ایک خوبصورت داخلی گیٹ بھی تعمیر کرایا، جبکہ پانی کے مسئلے کے حل کے لیے بھی بھرپور عملی اقدامات کیے۔ تعلیم کے میدان میں ان کی سوچ نہایت دور اندیش تھی۔ وہ ہمیشہ باصلاحیت اساتذہ کی حوصلہ افزائی کرتے اور چاہتے تھے کہ کلی عالم خان کے سرکاری اسکولوں میں تعینات قابل اساتذہ کو بلا ضرورت دوسری جگہ منتقل نہ کیا جائے تاکہ علاقے کے بچوں کی تعلیم متاثر نہ ہو اور ان کا مستقبل روشن بن سکے۔ سماجی خدمت کے میدان میں بھی وہ ہمیشہ پیش پیش رہے۔ بلوچستان میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے دوران جب کلی عالم خان کے کئی خاندان، بالخصوص بعض ائمہ کرام کے مکانات متاثر ہوئے، تو جمعیت علماء اسلام کی ضلعی سطح پر جاری امدادی سرگرمیوں میں انہوں نے نہ صرف ائمہ کرام بلکہ دیگر متاثرہ خاندانوں کی بھی دل کھول کر مالی اور اخلاقی مدد کی۔ ان کی خدمات صرف اپنے محلے یا علاقے تک محدود نہیں تھیں بلکہ پورے کوئٹہ میں انہیں ایک مخلص، باکردار اور عوام دوست شخصیت کے طور پر جانا جاتا تھا۔ مرحوم حاجی عبدالباقی بڑیچ ایک باشعور سیاسی کارکن بھی تھے، جنہوں نے ہمیشہ نظریاتی سیاست، وفاداری اور جماعتی نظم و ضبط پر زور دیا۔ وہ فرمایا کرتے تھے کہ سیاست ہر کسی کا کام نہیں، بلکہ اسے سیکھنا پڑتا ہے، اور سیاست ہمیشہ بزرگوں اور تجربہ کار لوگوں سے سیکھنی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاست ایک پرخار میدان ہے جہاں جلد بازی نہیں بلکہ صبر، برداشت، مشاورت اور دور اندیشی کامیابی کی ضمانت ہیں۔ وہ نوجوانوں کو تلقین کرتے تھے کہ عارضی فائدے کے بجائے طویل المدتی قومی اور جماعتی مفاد کو مقدم رکھا جائے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ سیاست میں اصل مقام عہدے کا نہیں بلکہ وفاداری کا ہوتا ہے، اور ایک کارکن کو مرتے دم تک اپنی جماعت کے ساتھ اخلاص اور استقامت کے ساتھ وابستہ رہنا چاہیے۔ وہ اختلافات سے بالاتر ہو کر جماعتی مقصد کو آگے بڑھانے کے قائل تھے اور اتحاد و اتفاق کو کامیابی کی بنیاد قرار دیتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی وفات پر نہ صرف اہلِ علاقہ بلکہ پورے صوبے میں گہرے رنج و غم کا اظہار کیا گیا۔ ان کی نماز جنازہ اور فاتحہ خوانی میں ملک بھر سے ممتاز دینی، سیاسی اور سماجی شخصیات نے شرکت کی، جن میں جمعیت علماء اسلام کے فقہی مجلس کے سربراہ مولانا مفتی محمد روزی خان، مرکزی رہنما مولانا حافظ حمداللہ، حاجی بشیر احمد کاکڑ، مولانا حافظ مسعود، مولانا جمال الدین، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سردار ادریس بڑیچ، نصراللہ زیرے، پاکستان تحریک انصاف کے ہمایون جوگیزئی اور زین اللہ خلجی، محمد اصغر، محمد شیر محمد، سردار روح اللہ، سابق میئر کوئٹہ عبدالرحیم کاکڑ، مقبول لہڑی اور دیگر متعدد سیاسی، مذہبی اور سماجی شخصیات شامل تھیں، جنہوں نے مرحوم کے اہل خانہ سے تعزیت کرتے ہوئے ان کی عوامی، سماجی اور سیاسی خدمات کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا۔ مرحوم حاجی عبدالباقی بڑیچ کی زندگی اس حقیقت کی روشن مثال ہے کہ انسان کا اصل سرمایہ دولت یا منصب نہیں بلکہ کردار، خدمت، اخلاص، وفاداری اور عوام کے دلوں میں حاصل ہونے والی عزت ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کی کامل مغفرت فرمائے، ان کی قبر کو نور سے بھر دے، درجات بلند فرمائے اور ان کے اہل خانہ، دوستوں اور تمام متعلقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *