Banner
Daily Sahafat Quetta
July 30, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
حلقے کے عوام کو مایوس نہیں کرینگے، نور محمد دمڑقومی مسائل کے حل کیلئے صالح قیادت ضروری ہے، عبدالرحمن رفیقبلوچستان پولیس کا کریک ڈاون، 107 ملزمان گرفتاربلوچستان کو سرمایہ کاری کیلئے پرکشش منزل بنائیں گے، بلال کاکڑکوئٹہ، 8 ماہ کی حاملہ خاتون وردہ داؤد قتل، لاش سسرال سے برآمدجھل مگسی: ہندو تاجر کے دکان پر ڈکیتی کی وارداتپوسٹل ورکرز فیڈریشن وفد کی پوسٹ ماسٹر جنرل سے اہم ملاقاتورچوئل یونیورسٹی آف پاکستان اور فاؤنڈیشن یونیورسٹی اسلام آباد کے درمیان تعلیمی تعاون کے فروغ کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخطورکرز کو عالمی معیار کی طبی سہولیات کی فراہمی اولین ترجیح ہے، چوہدری سالک حسینبلوچستان میں امن و امان کے لیے مؤثر اقدامات جاری ہیں،بابر یوسفزئیحلقے کے عوام کو مایوس نہیں کرینگے، نور محمد دمڑقومی مسائل کے حل کیلئے صالح قیادت ضروری ہے، عبدالرحمن رفیقبلوچستان پولیس کا کریک ڈاون، 107 ملزمان گرفتاربلوچستان کو سرمایہ کاری کیلئے پرکشش منزل بنائیں گے، بلال کاکڑکوئٹہ، 8 ماہ کی حاملہ خاتون وردہ داؤد قتل، لاش سسرال سے برآمدجھل مگسی: ہندو تاجر کے دکان پر ڈکیتی کی وارداتپوسٹل ورکرز فیڈریشن وفد کی پوسٹ ماسٹر جنرل سے اہم ملاقاتورچوئل یونیورسٹی آف پاکستان اور فاؤنڈیشن یونیورسٹی اسلام آباد کے درمیان تعلیمی تعاون کے فروغ کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخطورکرز کو عالمی معیار کی طبی سہولیات کی فراہمی اولین ترجیح ہے، چوہدری سالک حسینبلوچستان میں امن و امان کے لیے مؤثر اقدامات جاری ہیں،بابر یوسفزئی

مشرقِ وسطیٰ کے خفیہ تانے بانے اور بدلتے اسٹریٹجک مفادات

محترم قارئین، شام و مشرقِ وسطیٰ کے تاریک اور پر اسرار انٹیلی جنس کوریڈورز میں عرب ریاستوں اور اسرائیل کے مابین پردے کے پیچھے قائم ہونے والے خفیہ تانے بانے نے بیسویں صدی کے وسطی روایتی نظریاتی خصومات کو یکسر تبدیل کر کے رکھ دیا ہے جہاں ایک جانب جہاں بظاہر عوامی سطح پر فلسطینی کاز کی تائید اور تل ابیب کی ریاستی حیثیت کو رد کرنے کے بیانیے مسلسل گونجتے رہے وہیں دوسری جانب انٹیلی جنس ایجنسیوں کے خفیہ دفاتر میں مفادات کے اشتراک نے تاریخ کے انوکھے ترین سٹریٹجک اتحادوں کو جنم دیا ہے جن کی بنیاد کسی جذبے یا اصول پر نہیں بلکہ خطے میں ابھرنے والے مشترکہ حریفوں اور بالخصوص تہران کے بڑھتے ہوئے عسکری و جوہری اثر و رسوخ کو لگام دینے کے ناگزیر تقاضوں پر رکھی گئی ہے جہاں موساد اور عرب دنیا کی مقتدر سکیورٹی ایجنسیوں نے محض روایتی معلومات کے تبادلے پر اکتفا کرنے کے بجائے مشترکہ ہدف کے حصول کے لیے تکنیکی، لاجسٹک اور آپریشنل سطح پر گہرے تال میل کا انوکھا باب رقم کیا ہے اور اس پس منظر میں جہاں مراکش اور اسرائیل کے مابین انٹیلی جنس تعاون کی جڑیں ساٹھ کی دہائی کے اواخر تک پیوست نظر آتی ہیں وہیں خلیجی ریاستوں بالخصوص متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کی جانب سے تہران کے جوہری پروگرام اور یوتھی بحران کے تناظر میں تل ابیب کے ساتھ انٹیلی جنس ہاٹ لائنز کا قیام اس حقیقت کا غماز ہے کہ مڈل ایسٹ کے پاور پولیٹکس میں روایتی قومی مفاد ہمیشہ نظریاتی نعروں پر سبقت لے جاتا ہے اور ابراہام اکارڈز جیسے سفارتی ضمیمے دراصل اسی طویل مدتی زیرِ زمین خفیہ اشتراک کو محض قانونی اور سفارتی لبادہ پہنانے کی ایک ناگزیر توثیق تھے جس کے نتیجے میں دبئی اور تل ابیب کے درمیان سکیورٹی راہداریوں نے انٹیلی جنس نیٹ ورکس کو باضابطہ تجارتی اور تکنیکی شراکت داری میں بدل دیا جہاں پیگاسس جیسے جدید ترین جاسوسی سافٹ ویئر اور آئرن ڈوم طرز کے میزائل ڈیفنس سسٹمز کے سودے اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ خلیجی حکمرانوں کے نزدیک اب خطے کی بقا کا انحصار اسرائیل کی جدید سائنس اور امریکی انٹیلی جنس چھتری کے بغیر ناممکن ہو چکا ہے اور اس پورے اسٹریٹجک منظر نامے میں فلسطین کی آزادی کا دیرینہ نعرہ پس منظر میں چلا گیا ہے جہاں اب عرب دارالحکومتوں میں پالیسی سازوں کا واضح مؤقف یہ بن چکا ہے کہ فلسطینی مسئلے کا حل تب تک مؤخر کیا جا سکتا ہے جب تک ایران کی عسکری و سیاسی پیش قدمی کو مؤثر طریقے سے نہ روکا جائے اور اس تمام پس منظر کے پیشِ نظر جب نگاہیں خطے سے باہر کی طرف اٹھتی ہیں تو یہ سوال انتہائی معنی خیز اور سنسنی خیز بن جاتا ہے کہ کیا جنوبی ایشیا کے اسٹریٹجک مرکز میں پاکستان کی انٹر سروسز انٹیلی جنس یعنی آئی ایس آئی اور اسرائیل کی موساد کے مابین بھی کبھی کوئی ایسا خفیہ چینل یا بیک ڈور ڈپلومیسی کی کوئی خاموش سرگرمی رہی ہے یا پھر دونوںممالک کے نظریاتی بنیادوں اور خطے کی جغرافیائی مجبوریوں نے اس نوعیت کے کسی بھی سکیورٹی رابطے کی راہ ہمیشہ کے لیے مسدود رکھی ہے کیونکہ تاریخ کے اس تاریک آئینے میں یہ حقیقت بالکل عیاں ہو جاتی ہے کہ انٹیلی جنس کی دنیا میں دوست اور دشمن کے روایتی تصورات وقت کے تقاضوں اور جغرافیائی سیاسی ضرورتوں کے تحت پل جھپک میں بدل جاتے ہیں اور ریاستیں اپنے بقاء کی جنگ لڑنے کے لیے ہر اس قوت کے ساتھ ہاتھ ملانے سے دریغ نہیں کرتی جسے وہ کل تک اپنا سب سے بڑا جانی دشمن سمجھتی تھیں اور یہی مشرقِ وسطیٰ کی انٹیلی جنس سیاست کا سب سے بڑا، کڑوا اور ناقابلِ تردید سچ ہے جہاں سفارت کاری کے چمکتے ہوئے شیش محل کے پیچھے خنجروں اور سگنلز کی ایک ایسی دنیا آباد ہے جو عام انسان کی فہم و فراست اور روایتی سیاسی شعور کی تمام حدود سے پرے کارفرما رہتی ہے اور جس کے حقیقی نقوش آنے والے کئی عشروں تک عالمی طاقت کے توازن کو طے کرتے رہیں گے۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *