Banner
Daily Sahafat Quetta
July 30, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
حلقے کے عوام کو مایوس نہیں کرینگے، نور محمد دمڑقومی مسائل کے حل کیلئے صالح قیادت ضروری ہے، عبدالرحمن رفیقبلوچستان پولیس کا کریک ڈاون، 107 ملزمان گرفتاربلوچستان کو سرمایہ کاری کیلئے پرکشش منزل بنائیں گے، بلال کاکڑکوئٹہ، 8 ماہ کی حاملہ خاتون وردہ داؤد قتل، لاش سسرال سے برآمدجھل مگسی: ہندو تاجر کے دکان پر ڈکیتی کی وارداتپوسٹل ورکرز فیڈریشن وفد کی پوسٹ ماسٹر جنرل سے اہم ملاقاتورچوئل یونیورسٹی آف پاکستان اور فاؤنڈیشن یونیورسٹی اسلام آباد کے درمیان تعلیمی تعاون کے فروغ کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخطورکرز کو عالمی معیار کی طبی سہولیات کی فراہمی اولین ترجیح ہے، چوہدری سالک حسینبلوچستان میں امن و امان کے لیے مؤثر اقدامات جاری ہیں،بابر یوسفزئیحلقے کے عوام کو مایوس نہیں کرینگے، نور محمد دمڑقومی مسائل کے حل کیلئے صالح قیادت ضروری ہے، عبدالرحمن رفیقبلوچستان پولیس کا کریک ڈاون، 107 ملزمان گرفتاربلوچستان کو سرمایہ کاری کیلئے پرکشش منزل بنائیں گے، بلال کاکڑکوئٹہ، 8 ماہ کی حاملہ خاتون وردہ داؤد قتل، لاش سسرال سے برآمدجھل مگسی: ہندو تاجر کے دکان پر ڈکیتی کی وارداتپوسٹل ورکرز فیڈریشن وفد کی پوسٹ ماسٹر جنرل سے اہم ملاقاتورچوئل یونیورسٹی آف پاکستان اور فاؤنڈیشن یونیورسٹی اسلام آباد کے درمیان تعلیمی تعاون کے فروغ کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخطورکرز کو عالمی معیار کی طبی سہولیات کی فراہمی اولین ترجیح ہے، چوہدری سالک حسینبلوچستان میں امن و امان کے لیے مؤثر اقدامات جاری ہیں،بابر یوسفزئی

ڈالر کا جادو

محمدنسیم رنزوریار

ڈالر کا جادو

قارئین کرام، دنیا کی تاریخ میں جنگیں تلواروں، تیروں، ٹینکوں اور بارود سے جیتی جاتی رہی ہیں، لیکن بیسویں صدی کے وسط میں ایک ایسا بے آواز اور بے رنگ ہتھیار ایجاد ہوا جس نے بغیر ایک بھی گولی چلائے سلطنتوں کو غلام بنا لیا، اور وہ ہتھیار ہے “امریکی ڈالر”۔ یہ صرف کاغذ کا ایک ٹکڑا نہیں بلکہ ایک سحر انگیز جادو ہے جس نے پوری دنیا کے حکمرانوں، جرنیلوں، تاجروں اور عوام کو اپنے ہی وطن کے خلاف صف آرا کر دیا۔ ڈالر کا یہ جادو اس وقت شروع ہوا جب ۱۹۴۴ء میں بریکٹن ووڈز معاہدے کے تحت ڈالر کو دنیا کی بنیادی ریزرو کرنسی تسلیم کر لیا گیا اور پھر ۱۹۷۰ء کی دہائی میں سعودی عرب کے ساتھ “پیٹرو ڈالر” کا معاہدہ کر کے دنیا کو مجبور کر دیا گیا کہ وہ تیل صرف اور صرف ڈالر میں خریدے۔ اس جادو کی سب سے ہولناک اور حیران کن حقیقت یہ ہے کہ اس نے کس طرح مختلف ممالک کے اندرونی نظام کو دیمک کی طرح چاٹ کر وہاں کے اپنے ہی لوگوں کو غدار اور آلہ کار بنا دیا۔اس کی پہلی اور سب سے سنسنی خیز مثال ۱۹۵۳ء کا ایران ہے۔ جہاں جمہوری طور پر منتخب وزیر اعظم محمد مصدق نے جب ملکی تیل کو قومیانے کا فیصلہ کیا، تو امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے نے “آپریشن ایجیکس” کے تحت کسی فضائی حملے یا فوجی چڑھائی کے بجائے صرف “ڈالر کے تھیلوں” کا استعمال کیا۔ سی آئی اے کے ایجنٹ کرمٹ روزویلٹ تہران میں لاکھوں ڈالرز کے بریف کیس لے کر پہنچے اور راتوں رات ایرانی صحافیوں، مذہبی رہنماؤں، غنڈوں اور فوجی افسران کو خرید لیا۔ وہ ایرانی عوام جو اپنے وزیر اعظم کے گیت گاتے تھے، چند ڈالروں کی چمک دیکھ کر اپنی ہی حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے، جلاؤ گھیراؤ کیا اور اپنے ہی ہاتھوں اپنے ملک کے جمہوری مستقبل کا گلا گھونٹ کر شاہ ایران کی آمریت کو دوبارہ مسلط کر دیا۔ یہ ڈالر کا وہ جادو تھا جس نے ہم وطنوں کو ہم وطنوں کا خون بہانے پر مجبور کر دیا۔اسی طرح کا ایک اور لرزہ خیز واقعہ ۱۹۷۳ء میں چلی میں پیش آیا۔ جب وہاں کے اشتراکی صدر سالواڈور آلیغدے نے غریبوں کے حقوق اور وسائل پر قبضے کے خلاف آواز اٹھائی، تو امریکی صدر رچرڈ نکسن نے حکم دیا کہ “چلی کی معیشت کو چیخنے پر مجبور کر دو”۔ اس مقصد کے لیے کروڑوں ڈالرز چلی کے ٹرک ڈرائیوروں کی تنظیموں، میڈیا ہاؤسز (خصوصاً ایل مرکوریو اخبار) اور اپوزیشن لیڈروں میں بانٹے گئے۔ اپنے ہی ملک کے تاجروں اور دکانداروں نے ڈالر کی رشوت لے کر ملک میں مصنوعی قحط پیدا کر دیا، خوراک چھپا دی اور ٹرانسپورٹ بند کر دی۔ چلی کے اپنے ہی جرنیل آگستو پنوشے نے ڈالروں کے عوض اپنی ہی فوج کو وطن کے خلاف کھڑا کیا، صدارتی محل پر بمباری کی اور صدر آلیغدے کو قتل کر کے سترہ سالہ ہولناک آمریت قائم کی جس میں ہزاروں معصوم چلی کے شہریوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ڈالر کا یہ جادو صرف سیاسی بساط الٹنے تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے معاشی قتل عام کا وہ بھیانک کھیل رچایا جسے جان پرکنز نے اپنی مشہور کتاب “ایک معاشی غارت گر کے اعترافات” میں بے نقاب کیا۔ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک جیسے اداروں کے ذریعے ترقی پذیر ممالک کے حکمرانوں کو ڈالر کے ایسے جال میں پھنسایا جاتا ہے جس سے نکلنا نامکن ہوتا ہے۔ جب یہ حکمران ڈالروں کے اس سحر میں گرفتار ہو کر قرضوں کے پہاڑ تلے دب جاتے ہیں، تو وہ اپنے ہی عوام پر ایسے ٹیکس نافذ کرتے ہیں جو غریبوں کے منہ سے نوالہ چھین لیتے ہیں۔ وہ اپنی قومی اثاثے، بجلی کے کارخانے، بندرگاہیں اور معدنیات کو کوڑیوں کے دام غیر ملکی کمپنیوں کو بیچ دیتے ہیں۔ یہ حکمران بظاہر اپنے ملک کے وفادار نظر آتے ہیں لیکن ان کی روحیں اور بینک اکاؤنٹس ڈالروں کے اسیر ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ اپنے ہی عوام کے خلاف معاشی جنگ چھیڑ دیتے ہیں۔اگر ہم گواٹے مالا (۱۹۵۴ء) کی مثال دیکھیں تو وہاں بھی یہی کہانی دہرائی گئی جہاں یونائیٹڈ فروٹ کمپنی کے مفادات کے تحفظ کے لیے ڈالر کے بل بوتے پر مقامی فوج کو اپنے ہی صدر جیکوبو آربینز کے خلاف باغی بنایا گیا۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی حکمران نے ڈالر کی اس تسلط پسند حاکمیت کو چیلنج کرنے کی کوشش کی، چاہے وہ لیبیا کے معمر قذافی ہوں جنہوں نے افریقی سونے کے دینار کی بنیاد پر تجارت شروع کرنی چاہی، یا عراق کے صدام حسین جنہوں نے تیل کی قیمت یورو میں وصول کرنے کا اعلان کیا، انہیں عبرت کا نشان بنا دیا گیا۔ ڈالر کا جادو صرف حکومتیں نہیں بدلتا، یہ معاشرے کے اخلاقی تانے بانے کو بھی تباہ کر دیتا ہے۔ یہ مقامی اشرافیہ کے ذہنوں پر اس طرح حاوی ہوتا ہے کہ وہ اپنے ملک کی کرنسی کو ردی کا ٹکڑا سمجھ کر اپنے اثاثے ڈالرز میں بیرون ملک منتقل کر دیتے ہیں، جس سے ان کا اپنا ملک کنگال ہو جاتا ہے لیکن ان کی ذاتی عیاشیاں برقرار رہتی ہیں۔ یہ ڈالر کا وہ جادوئی سراب ہے جس نے حب الوطنی کے تصور کو مادیت کی دلدل میں دفن کر دیا ہے، اور آج بھی دنیا کے کروڑوں انسان اپنے ہی وطن میں اس کاغذی جادوگر کے سحر کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *