Banner
Daily Sahafat Quetta
August 1, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
بلوچستان میں نائٹروجینیس کھادوں پر 15 روزہ پابندیبلوچستان پرائس کنٹرول اینڈ پیوینشن منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی ایکٹ تیارپیراڈائز اور روٹری کلب آف لاہور گیریژن کی جانب سے نمایاں طلباء کو لیپ ٹاپ کا عطیہبدمست زندگیسسٹم کی ناکامی کے اسباب اور ذمہ داروں کا تعین کیا جائے، آغا حسین مقدسیمعروف قبائلی و سماجی شخصیت ڈاکٹر عبدالرحیم رخشانی انتقال کر گئےقبو شاخ میں پانی کا سنگین بحران، زمینداروں کا خشک نہر میں احتجاج، ایریگیشن حکام کو 24 گھنٹے کا آخری الٹی میٹمگنداخہ میں ترقیاتی منصوبوں کا سفر جاری، ڈاکٹر جاوید جمالی کی کارکردگی کو عوامی خراجِ تحسیناقلیتی طلبہ کے 2 فیصد تعلیمی کوٹے پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کی جائے، منارٹی فورم کا مطالبہفاطمہ جناحؒ کی جدوجہد، دیانت اور قومی خدمات تاریخ کا روشن باب ہیں، فیصل خان جمالیبلوچستان میں نائٹروجینیس کھادوں پر 15 روزہ پابندیبلوچستان پرائس کنٹرول اینڈ پیوینشن منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی ایکٹ تیارپیراڈائز اور روٹری کلب آف لاہور گیریژن کی جانب سے نمایاں طلباء کو لیپ ٹاپ کا عطیہبدمست زندگیسسٹم کی ناکامی کے اسباب اور ذمہ داروں کا تعین کیا جائے، آغا حسین مقدسیمعروف قبائلی و سماجی شخصیت ڈاکٹر عبدالرحیم رخشانی انتقال کر گئےقبو شاخ میں پانی کا سنگین بحران، زمینداروں کا خشک نہر میں احتجاج، ایریگیشن حکام کو 24 گھنٹے کا آخری الٹی میٹمگنداخہ میں ترقیاتی منصوبوں کا سفر جاری، ڈاکٹر جاوید جمالی کی کارکردگی کو عوامی خراجِ تحسیناقلیتی طلبہ کے 2 فیصد تعلیمی کوٹے پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کی جائے، منارٹی فورم کا مطالبہفاطمہ جناحؒ کی جدوجہد، دیانت اور قومی خدمات تاریخ کا روشن باب ہیں، فیصل خان جمالی

اسکولوں اور یونیورسٹیوں میں بُلیئنگ: تعلیم کی راہ میں ایک خاموش رکاوٹ

تحریر، سمرینہ کاکڑ

تعلیم کا مقصد ایسا محفوظ اور باعزت ماحول فراہم کرنا ہے جہاں طلبہ اطمینان کے ساتھ علم حاصل کریں، اپنی صلاحیتوں کو نکھاریں اور اچھی شخصیت کے مالک بنیں۔ اسکول اور یونیورسٹیاں صرف تعلیم دینے کے لیے نہیں بلکہ کردار سازی، اعتماد پیدا کرنے اور معاشرے کے ذمہ دار شہری تیار کرنے کے لیے بھی قائم کی جاتی ہیں۔ لیکن بعض طلبہ کے لیے یہ ادارے بُلیئنگ کی وجہ سے خوف اور ذہنی دباؤ کا سبب بن جاتے ہیں، جس سے ان کی تعلیم اور روزمرہ زندگی متاثر ہو سکتی ہے۔
بُلیئنگ سے مراد کسی شخص کو جان بوجھ کر بار بار جسمانی، زبانی، سماجی یا نفسیاتی طور پر نقصان پہنچانا، ڈرانا، ذلیل کرنا یا ہراساں کرنا ہے۔ یہ مختلف شکلوں میں سامنے آ سکتی ہے، جیسے مار پیٹ، گالیاں دینا، مذاق اُڑانا، دوسروں سے الگ کرنا، دھمکیاں دینا، سوشل میڈیا یا موبائل فون کے ذریعے ہراساں کرنا (سائبر بُلیئنگ)، یا کسی کے ساتھ امتیازی سلوک کرنا۔ اسکولوں میں طلبہ کو ان کی شکل و صورت، جسمانی ساخت، تعلیمی کارکردگی، زبان، مذہب، معاشی حالات یا خاندانی پس منظر کی وجہ سے نشانہ بنایا جا سکتا ہے، جبکہ یونیورسٹیوں میں ریگنگ، آن لائن ہراسانی، امتیازی سلوک یا اختیارات کے غلط استعمال کی صورت میں بُلیئنگ ہو سکتی ہے۔بُلیئنگ کے منفی اثرات صرف متاثرہ طالب علم تک محدود نہیں رہتے۔ متاثرہ طلبہ خوف، بے چینی، ذہنی دباؤ، کم خود اعتمادی اور تنہائی محسوس کر سکتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں ان کی توجہ، حاضری اور تعلیمی کارکردگی متاثر ہو سکتی ہے۔ بعض شدید حالات میں طالب علم تعلیم چھوڑنے کا بھی فیصلہ کر سکتا ہے۔بُلیئنگ کرنے والے افراد بھی منفی رویوں کے عادی ہو سکتے ہیں، جبکہ ایسے طلبہ جو بُلیئنگ کو دیکھتے ہیں وہ بھی خود کو غیر محفوظ محسوس کر سکتے ہیں۔ اس طرح پورا تعلیمی ماحول متاثر ہوتا ہے اور سیکھنے کا عمل کم مؤثر ہو جاتا ہے۔انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے استعمال میں اضافے نے سائبر بُلیئنگ کو ایک اہم مسئلہ بنا دیا ہے۔ اس میں توہین آمیز پیغامات، جھوٹی افواہیں، دھمکیاں یا شرمندہ کرنے والی تصاویر اور ویڈیوز آن لائن شیئر کی جاتی ہیں۔ چونکہ یہ مواد تیزی سے پھیل سکتا ہے، اس لیے متاثرہ شخص کو زیادہ ذہنی تکلیف کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔بُلیئنگ کی روک تھام کے لیے اسکولوں، یونیورسٹیوں، والدین، اساتذہ اور طلبہ سب کو مل کر کام کرنا چاہیے۔ تعلیمی اداروں کو واضح اینٹی بُلیئنگ پالیسی بنانی چاہیے، شکایات کی خفیہ اور منصفانہ تحقیقات کرنی چاہئیں، اور متاثرہ طلبہ کو مناسب مدد فراہم کرنی چاہیے۔ اساتذہ کو بُلیئنگ کی علامات پہچاننے اور بروقت مداخلت کرنے کی تربیت دی جانی چاہیے۔ والدین کو اپنے بچوں سے کھل کر بات کرنی چاہیے تاکہ وہ کسی بھی مسئلے کی اطلاع بلا خوف دے سکیں۔ طلبہ کو بھی چاہیے کہ وہ بُلیئنگ کی حوصلہ شکنی کریں، متاثرہ ساتھیوں کی مدد کریں اور ایک دوسرے کے ساتھ احترام اور ہمدردی کا رویہ اختیار کریں یونیورسٹیوں میں مشاورتی مراکز (Counseling Services)، آگاہی پروگرام اور طلبہ کی معاونت کے نظام قائم کیے جانے چاہئیں تاکہ بُلیئنگ یا ہراسانی کا شکار طلبہ کو بروقت مدد مل سکے۔ بُلیئنگ کرنے والوں کے خلاف ضابطے کے مطابق کارروائی کی جانی چاہیے، ساتھ ہی انہیں بہتر رویے، برداشت اور دوسروں کے احترام کی تعلیم بھی دی جانی چاہیے۔آخر میں، بُلیئنگ ایک سنجیدہ سماجی اور تعلیمی مسئلہ ہے۔ یہ کسی بھی طالب علم کے محفوظ ماحول میں تعلیم حاصل کرنے کے حق کو متاثر کر سکتی ہے۔ اگر تعلیمی ادارے، والدین، اساتذہ اور طلبہ مل کر احترام، مساوات اور ذمہ داری کو فروغ دیں، تو ایسے ماحول کی تشکیل ممکن ہے جہاں ہر طالب علم بلا خوف اپنی تعلیم جاری رکھ سکے اور اپنی صلاحیتوں کو مکمل طور پر استعمال کر سکے۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *