Banner
Daily Sahafat Quetta
September 14, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
دنیا میں بدامنی کے پیچھے امریکی پالیسیوں کا کردار ہے، مولانا عبدالرحمن رفیقبائیک، رکشا، 800 سی سی تک گاڑیوں کیلیے پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر ریلیف کا اعلانجماعت اسلامی سے پیٹرولیم لیوی پر مذاکرات، حکومت نے مزید مہلت مانگ لیزبیر خان کاکڑ پی ٹی آئی کوئٹہ ایسٹ کے صدر منتخب، پی ٹی آئی بلوچستان کی مبارکبادگڈانی کشتی حادثے میں 6 ماہی گیر ڈوب گئے، 3 کو بچا لیا گیاشاہرگ کی کوئلہ کان میں بڑا حادثہ، 6 کانکن تاحال اندر پھنسےکوئٹہ میں بلڈنگ کوڈ کی خلاف ورزی پر 11 عمارتیں اور پلازے سیلپاکستان تحریک انصاف میں اندرونی اختلافات شدت اختیار کر گئےبلوچستان کے عوام کی نئے صوبے کے قیام کی پُر زور حمایتبلوچستان کے سرکاری کالجز میں تقریبات اور تنظیمی سرگرمیوں پر پابندیدنیا میں بدامنی کے پیچھے امریکی پالیسیوں کا کردار ہے، مولانا عبدالرحمن رفیقبائیک، رکشا، 800 سی سی تک گاڑیوں کیلیے پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر ریلیف کا اعلانجماعت اسلامی سے پیٹرولیم لیوی پر مذاکرات، حکومت نے مزید مہلت مانگ لیزبیر خان کاکڑ پی ٹی آئی کوئٹہ ایسٹ کے صدر منتخب، پی ٹی آئی بلوچستان کی مبارکبادگڈانی کشتی حادثے میں 6 ماہی گیر ڈوب گئے، 3 کو بچا لیا گیاشاہرگ کی کوئلہ کان میں بڑا حادثہ، 6 کانکن تاحال اندر پھنسےکوئٹہ میں بلڈنگ کوڈ کی خلاف ورزی پر 11 عمارتیں اور پلازے سیلپاکستان تحریک انصاف میں اندرونی اختلافات شدت اختیار کر گئےبلوچستان کے عوام کی نئے صوبے کے قیام کی پُر زور حمایتبلوچستان کے سرکاری کالجز میں تقریبات اور تنظیمی سرگرمیوں پر پابندی

عازمین خود کشی کے لیے درد بھرا ہوا پیغام

عازمین خود کشی کے لیے درد بھرا ہوا پیغام

تحریر: مولوی عبد الوھاب شاکر

محترم قارئین!
آئیے روز سننے میں آرہا ہے کہ فلان بن فلان نے خود کشی کرکے خود کو موت کے گھاٹ اتار دیا ، چند ہی دنوں میں درہ چمن کے اس چھوٹے خطے میں دو، تین ، آدمیوں نے خود کشی کرلی ۔

چند سوالات :

اے نوجوان! کیا آپ دنیا کی زندگی سے تنگ آکر اپنی حیات شریفہ کو ختم کرتے ہو ؟
کیا آپ اپنے آپ کو رب عالیٰ کے دربار میں مجرم پیش ہونا چاہتے ہو ؟
کیا آپ کو مرنے کے بعد والی زندگی میں سکون نظر آرہے ہو ؟
کیا آپ اپنے رب کے دیئے ہوئے قیمتی تحفے ( زندگی) کا احساس نہیں ہے ؟
کیا آپ نے دنیا کی مبتلاء شدہ درد کو آخرت کے درد کے ساتھ آزما ہے ؟

نہیں نہیں ۔
آپ بتائیں آپ زہر پیتے ہوئے ، سولی پہ لٹکتے ہوئے ، اسلحہ کے مارنے سے خون میں رنگین ہوتے رب لم یزل کے دربار میں حاضری دے کر رب العالمین کو کیا جواب دے گا ؟
آپ بے روز گاری سے تنگ آکر ، معاشی بحران سے تنگ ہوکر ، جسمانی درد میں مبتلا ہو کر معمولی معمولی عہد شکنی سے اتنی گران قدر زندگی کو ختم کرتے ہو ، انا للّٰہ وانا الیہ راجعون ۔

اے نوجوان !
ہوش کے ناخن لیں سنبل جا ۔
آپ نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی ہیں ، آپ ذرا تاریخ اٹھا کر نبی کی زندگی کا مطالعہ کریں ، تین تین مہینوں تک خشک کھجوروں سے گزارہ کرتے تھے ، بھوک سے پیٹ مبارک پر دو دو پھتر باندھتے تھے ، اپنوں کے بے وفائی کا یہ عالَم تھا کہ پیچھے پیچھے بھاگ رہے تھے یہ نعرے لگا رہے تھے اے لوگوں ! میرا بھتیجا دیوانہ ہوچکا ہے ، اس کا کہنا نہ مانو اس کا دماغ فیل ہوچکا ہے ، بے روز گاری کا یہ عالَم تھا کہ شعب ابی طالب میں محصور تھے ، سارے کفر نے قتل کے سینکڑوں منصوبے بنائیں ، حتیٰ کہ کھانے میں زہر تک کھلائے گئے ، تاریخ کے اوراق رو رو کر خون ہی خون کی داستان سنا رہے ہیں ۔
اے امت کے نوجوانوں !
آپ جس درد میں مبتلا ہیں آپ کا درد نبی کے درد کے سامنے ہیچ ہے ۔

آپ خود کو موت کے پنجے میں نہ دے بلکہ موت خود آپ کو آ لے گا ۔

موت کی تلخی:
سنے:
ابن ابی الدنیا نے حضرت شداد بن اوس الصحابی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ فرمایا: کہ موت کی سختی مؤمن پر دنیا وآخرت کی ہر سختی سے بھاری ہے ، اور موت آروں کے چیرنے سے زیادہ تکلیف دہ ہے ، اور قینچیوں کے کاٹنے اور دیگوں کے جوش سے بھی زیادہ سخت ہے ، اگر میت کو بیان کرنے کی آزادی ملے اور موت کے درد کو بیان کرے تو دنیا والے آرام سے زندگی نہ گزار سکیں ۔
( شرح الصدور ، صفحہ 83 )

مروزی نے الجنائز میں حضرت میسرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے فرمایا کہ موت کے درد کا اگر ایک قطرہ اہل آسمان وزمین کے سامنے رکھ دیا جائے تو ایک دم سے سب کے سب موت کے گھاٹ پر اتر جائیں ، اور میدان قیامت میں ایک ساعت ایسی ہوگی جس کی شدت موت کی شدت سے “ستر” گناہ بڑھ کر ہوگی ۔
( شرح الصدور ، صفحہ 81 )

اللہ اکبر ! اب اندازہ لگائیں جو شخص خودکشی کرتے ہوئے اس کی سکرات کا کیا عالم ہوگا ، اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کو بچائے ۔

خود کشی کے بعد کیا باقی رہتا ہے

ماں کی گود خالی :
وہ ماں جو 9 مہینے پیٹ میں رکھتی ہے ، پوری زندگی روتی رہتی ہے ،اس کی زندگی درد دل میں چالنے لگی ۔
باپ کا سر جھک جاتا ہے:
وہ باپ جو دنیا سے لڑتا تھا اب وہ ہر شخص کے جواب میں سر جھک کر بزبان حال بولتے رہتے ہیں کوئی مشکل نہیں تھا ، کوئی مشکل نہیں تھا ،
دل خون کے آنسوں بہتے ہوئے یہ کہتا ہے ،بس ایک درد ناک حادثہ تھا جو پیش آیا ۔
بیوی اور بچے یتیم:
وہ زوجہ محترمہ جن کے لیے آپ پہاڑ تھے ، وہ بچے جن کو آپ خوشیاں بانٹتے تھے ، جن کی سواری آپ کا گود تھا ، ان کو ہمیشہ کے لیے بحرالدموع ( آنکھوں سے آنسوں بہتے ) ہوئے غم زدہ حزین القلوب چھوڑ دیئے ۔
قرض ومسائل ویسے ہی:
خود کشی قرض کو نہیں مٹاتی ، گھر کا کرایہ نہیں مٹتا
نام کے ساتھ داغ:
لوگ ہمیشہ یہ کہیں گے کہ فلان نے خود کشی کی ۔

آخری گزارش:
خود کشی مسئلہ ختم نہیں کرتی ، درد کو دوسروں میں بانٹتی ہے ، وہ درد جو ایک انسان سہاتا ، اب وہ سارے خاندان کئی سالوں تک سہتے ہیں ۔

اللهم إنا نعوذبك من فجأة الموت آمین ثم آمین

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *