Banner
Daily Sahafat Quetta
July 31, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
جمہوریہ بیلاروس کے اعلیٰ سطحی دفاعی وفد کی سربراہ پاک فضائیہ سے ملاقاتجھل مگسی میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ ایک شخص قتلدفاتر میں تاخیر، عوام کی تذلیل اور گرتا ہوا نظامِ حکمرانیبلوچستان میں امن کیسے قائم ہوگا؟مولانا عزیز الرحمن جالندھری کے انتقال پر حافظ حسین احمد کا اظہارِ تعزیتانسانی اسمگلنگ ایک سنگین اور منظم جرم ہے،سعادت خانصوبائی وزیر صحت خیبرپختونخوا خلیق الرحمن سے مسلم لیگ ق کے سینئر رہنما صفدر خان باغی کی ملاقاتایم پی اے میر طارق مگسی کی بنگلزئی ہاؤس آمد، اظہارِ تعزیتسورینج کول مائن میں گیس دھماکہ، 25 سے زائد کان کن پھنس گئےذہنی و فکری معذوری کے حامل بچوں کے لیے ڈے کیئر اور علاج و بحالی کے مراکز بنائے جائیں،سلمی سعید ہاشمیجمہوریہ بیلاروس کے اعلیٰ سطحی دفاعی وفد کی سربراہ پاک فضائیہ سے ملاقاتجھل مگسی میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ ایک شخص قتلدفاتر میں تاخیر، عوام کی تذلیل اور گرتا ہوا نظامِ حکمرانیبلوچستان میں امن کیسے قائم ہوگا؟مولانا عزیز الرحمن جالندھری کے انتقال پر حافظ حسین احمد کا اظہارِ تعزیتانسانی اسمگلنگ ایک سنگین اور منظم جرم ہے،سعادت خانصوبائی وزیر صحت خیبرپختونخوا خلیق الرحمن سے مسلم لیگ ق کے سینئر رہنما صفدر خان باغی کی ملاقاتایم پی اے میر طارق مگسی کی بنگلزئی ہاؤس آمد، اظہارِ تعزیتسورینج کول مائن میں گیس دھماکہ، 25 سے زائد کان کن پھنس گئےذہنی و فکری معذوری کے حامل بچوں کے لیے ڈے کیئر اور علاج و بحالی کے مراکز بنائے جائیں،سلمی سعید ہاشمی

حضرت محمد ﷺ: انسانی جذبات اور دلوں کے معالج

تحریر :ماھر نفسیات نبیلہ شاھد
انسانی تاریخ میں بہت سی عظیم شخصیات گزری ہیں جنہوں نے اپنے علم، کردار اور خدمات کے ذریعے دنیا پر گہرے اثرات مرتب کیے، لیکن حضرت محمد ﷺ کی ذاتِ اقدس ایک ایسی منفرد اور بے مثال ہستی ہے جنہوں نے نہ صرف معاشرتی، اخلاقی اور روحانی انقلاب برپا کیا بلکہ انسانوں کے دلوں کی اصلاح اور ان کی نفسیاتی و روحانی بیماریوں کے علاج کا بھی ایسا عملی نمونہ پیش کیا جس کی مثال تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔ اسی لیے آپ ﷺ کو بجا طور پر “دلوں کے معالج” کہا جا سکتا ہے۔
رسولِ اکرم ﷺ ایسے معاشرے میں مبعوث ہوئے جہاں جہالت، تعصب، ظلم، انتقام، نفرت اور اخلاقی انحطاط عام تھا۔ لوگوں کے دل حسد، تکبر اور نفرت سے بھرے ہوئے تھے۔ آپ ﷺ نے تلوار سے پہلے اخلاق، محبت، حکمت اور رحم دلی کے ذریعے ان دلوں کا علاج کیا۔ آپ ﷺ کی دعوت کا مرکز انسان کا دل تھا، کیونکہ دل ہی انسان کے اعمال، خیالات اور کردار کا سرچشمہ ہے۔
حضرت محمد ﷺ کی شخصیت کا سب سے نمایاں پہلو رحمت اور شفقت تھا۔ قرآنِ مجید نے آپ ﷺ کو “رحمت للعالمین” قرار دیا۔ آپ ﷺ نے ہر طبقے کے انسان کے ساتھ محبت، ہمدردی اور احترام کا برتاؤ کیا۔ غریب، یتیم، بیوہ، غلام، بیمار اور کمزور افراد آپ ﷺ کی خصوصی توجہ کا مرکز ہوتے تھے۔ آپ ﷺ کے حسنِ سلوک نے ایسے لوگوں کے دل جیت لیے جو ابتدا میں آپ کے سخت مخالف تھے۔
فتح مکہ کا واقعہ انسانی دلوں کے علاج کی ایک عظیم مثال ہے۔ جن لوگوں نے آپ ﷺ اور آپ کے ساتھیوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے، انہیں مکہ کی فتح کے موقع پر سزا دینے کی پوری طاقت رکھنے کے باوجود آپ ﷺ نے فرمایا: “آج تم پر کوئی گرفت نہیں، جاؤ تم سب آزاد ہو۔” اس غیر معمولی عفو و درگزر نے دشمنوں کے دل بدل دیے اور بہت سے لوگ اسلام کے دامن میں داخل ہوگئے۔ یہ محض سیاسی کامیابی نہیں بلکہ دلوں کی فتح تھی۔
رسول اللہ ﷺ انسانی نفسیات سے گہری واقفیت رکھتے تھے۔ آپ ﷺ ہر شخص کے مزاج، حالات اور ضرورت کے مطابق گفتگو فرماتے۔ کسی غمزدہ شخص کو امید دلاتے، کسی پریشان حال کو تسلی دیتے اور کسی خطاکار کو مایوسی کے بجائے اصلاح کا راستہ دکھاتے۔ آپ ﷺ نے کبھی لوگوں کی کمزوریوں کو ان کی تذلیل کا ذریعہ نہیں بنایا بلکہ ان کی اصلاح اور حوصلہ افزائی فرمائی۔
آپ ﷺ نے غصے، حسد، تکبر اور نفرت جیسی باطنی بیماریوں سے بچنے کی تعلیم دی۔ غصے کے علاج کے لیے خاموشی، وضو اور صبر کی تلقین فرمائی۔ حسد کے بجائے خیر خواہی اور محبت کو فروغ دیا۔ تکبر کے مقابلے میں عاجزی اور انکساری کی تعلیم دی۔ یوں آپ ﷺ نے انسان کی باطنی دنیا کو سنوارنے کا جامع نظام پیش کیا۔
بچوں کے ساتھ آپ ﷺ کا طرزِ عمل بھی دلوں کے علاج کی بہترین مثال ہے۔ آپ ﷺ بچوں سے محبت کرتے، ان کے ساتھ کھیلتے، ان کی بات سنتے اور انہیں عزت دیتے۔ اس رویے نے بچوں میں اعتماد، محبت اور جذباتی تحفظ کا احساس پیدا کیا۔ جدید نفسیات بھی اس حقیقت کو تسلیم کرتی ہے کہ محبت اور احترام بچے کی شخصیت کی نشوونما کے لیے بنیادی عناصر ہیں۔
خواتین کے ساتھ حسنِ سلوک، خاندان کے افراد کے حقوق کا احترام اور معاشرتی تعلقات میں نرمی بھی آپ ﷺ کی تعلیمات کا اہم حصہ ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ بہترین شخص وہ ہے جو اپنے اہلِ خانہ کے لیے بہترین ہو۔ اس تعلیم نے گھریلو زندگی میں محبت، سکون اور باہمی احترام کی بنیاد فراہم کی۔
آج کا انسان اگرچہ سائنسی اور مادی ترقی کی بلندیاں چھو رہا ہے، لیکن ذہنی دباؤ، بے چینی، تنہائی، نفسیاتی الجھنوں اور روحانی خلا کا شکار ہے۔ ایسے دور میں سیرتِ نبوی ﷺ انسانیت کے لیے امید، سکون اور توازن کا پیغام رکھتی ہے۔ آپ ﷺ کی تعلیمات ہمیں بتاتی ہیں کہ حقیقی سکون دولت، شہرت یا طاقت میں نہیں بلکہ پاکیزہ دل، اچھے اخلاق، اللہ پر بھروسے اور انسانوں کے ساتھ حسنِ سلوک میں ہے۔
حضرت محمد ﷺ کی زندگی انسانیت کے لیے ایک مکمل نمونہ ہے۔ آپ ﷺ نے ٹوٹے ہوئے دلوں کو جوڑا، مایوس لوگوں کو امید دی، دشمنوں کو دوست بنایا اور نفرتوں کو محبت میں بدل دیا۔ یہی وجہ ہے کہ آپ ﷺ صرف ایک مذہبی پیشوا ہی نہیں بلکہ دلوں کے حقیقی معالج اور انسانیت کے عظیم محسن بھی ہیں۔ آج اگر ہم اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں آپ ﷺ کی تعلیمات کو اپنالیں تو بہت سی نفسیاتی، اخلاقی اور معاشرتی مشکلات کا حل حاصل کر سکتے ہیں۔
بلاشبہ حضرت محمد ﷺ کی سیرت محبت، رحمت، حکمت اور دلوں کے علاج کا ایسا سرچشمہ ہے جو قیامت تک انسانیت کی رہنمائی کرتا رہے گا۔
انسانی زندگی جذبات کے بغیر ادھوری ہے۔ خوشی، غم، محبت، خوف، امید، مایوسی، غصہ اور ہمدردی جیسے جذبات نہ صرف ہمارے رویّوں کو متاثر کرتے ہیں بلکہ ہماری شخصیت، تعلقات اور فیصلوں کی تشکیل میں بھی بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ عام زبان میں لوگ جذبات کا تعلق “دل” سے جوڑتے ہیں، جبکہ نفسیات اور جدید سائنس کے مطابق جذبات کی تخلیق اور تنظیم کا مرکز بنیادی طور پر دماغ ہے۔ تاہم “دل” انسانی احساسات، محبت اور باطنی کیفیت کی علامت کے طور پر آج بھی اہم مقام رکھتا ہے۔
نفسیات کے مطابق جذبات (Emotions) ایسے نفسیاتی اور جسمانی ردِعمل ہیں جو کسی واقعے، خیال یا تجربے کے نتیجے میں پیدا ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر جب انسان کسی خطرے کو محسوس کرتا ہے تو خوف کا جذبہ پیدا ہوتا ہے، جبکہ کامیابی یا خوش خبری خوشی اور مسرت کا سبب بنتی ہے۔ یہ جذبات دماغ کے مختلف حصوں، خصوصاً لیمبک سسٹم (Limbic System) اور امیگڈالا (Amygdala) سے وابستہ ہوتے ہیں، جو جذباتی ردِعمل کو منظم کرتے ہیں۔
اگرچہ سائنسی اعتبار سے جذبات دماغ میں پیدا ہوتے ہیں، لیکن جذبات کا اثر دل پر بھی نمایاں طور پر پڑتا ہے۔ خوف یا اضطراب کی حالت میں دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے، جبکہ سکون اور اطمینان کی کیفیت میں دل کی رفتار متوازن رہتی ہے۔ اسی لیے قدیم زمانے سے مختلف تہذیبوں اور مذاہب میں دل کو احساسات اور جذبات کا مرکز تصور کیا جاتا رہا ہے۔
نفسیات جذبات کو انسانی بقا کے لیے ضروری قرار دیتی ہے۔ خوف انسان کو خطرات سے بچاتا ہے، محبت سماجی تعلقات کو مضبوط کرتی ہے، ہمدردی دوسروں کی مدد پر آمادہ کرتی ہے، جبکہ غصہ بعض اوقات ناانصافی کے خلاف ردِعمل کا ذریعہ بنتا ہے۔ مسئلہ جذبات کے وجود میں نہیں بلکہ ان کے غلط یا غیر متوازن استعمال میں پیدا ہوتا ہے۔
جدید ماہرینِ نفسیات “جذباتی ذہانت” (Emotional Intelligence) کو کامیاب زندگی کا ایک اہم عنصر قرار دیتے ہیں۔ جذباتی ذہانت سے مراد اپنے جذبات کو پہچاننا، سمجھنا اور مناسب انداز میں ان کا اظہار کرنا ہے۔ جو لوگ اپنے جذبات کو مؤثر طریقے سے منظم کرتے ہیں، وہ بہتر فیصلے کرتے ہیں، مضبوط تعلقات قائم کرتے ہیں اور ذہنی دباؤ کا زیادہ کامیابی سے مقابلہ کرتے ہیں۔
منفی جذبات جیسے حسد، نفرت، شدید غصہ اور مسلسل مایوسی نہ صرف ذہنی صحت بلکہ جسمانی صحت کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ طویل عرصے تک ذہنی دباؤ اور منفی جذبات دل کی بیماریوں، بلند فشارِ خون اور دیگر جسمانی مسائل کے خطرے میں اضافہ کر سکتے ہیں۔ اس کے برعکس امید، شکر گزاری، محبت اور مثبت سوچ انسان کی ذہنی اور جسمانی صحت کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔
نفسیات یہ بھی بتاتی ہے کہ جذبات کو دبانا ہمیشہ مفید نہیں ہوتا۔ صحت مند طریقہ یہ ہے کہ انسان اپنے جذبات کو سمجھے، قبول کرے اور مناسب انداز میں ان کا اظہار کرے۔ گفتگو، تحریر، دعا، مراقبہ، ورزش اور مثبت سماجی تعلقات جذباتی توازن برقرار رکھنے کے مؤثر ذرائع ہیں۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ انسانی جذبات انسان کی شخصیت کا بنیادی حصہ ہیں۔ اگرچہ جذبات کی حیاتیاتی بنیاد دماغ میں موجود ہے، لیکن دل اب بھی انسانی احساسات، محبت اور روحانی کیفیت کی ایک طاقتور علامت ہے۔ نفسیات ہمیں سکھاتی ہے کہ جذبات کو دبانے کے بجائے انہیں سمجھنا اور متوازن انداز میں استعمال کرنا ذہنی سکون، بہتر تعلقات اور کامیاب زندگی کی کنجی ہے۔ انسانی ترقی کا راز صرف عقل میں نہیں بلکہ عقل اور جذبات کے درمیان توازن قائم کرنے میں پوشیدہ ہے۔
قرآنِ مجید کی روشنی میں
قرآنِ کریم دل کی اہمیت کو بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے:
“آگاہ رہو! اللہ کے ذکر ہی سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے۔”
(سورۃ الرعد، آیت 28)
یہ آیت اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ انسان کے اندر سکون، اطمینان اور جذباتی توازن کا ایک اہم ذریعہ اللہ تعالیٰ کی یاد ہے۔ جدید نفسیات بھی اس بات کی تائید کرتی ہے کہ روحانی وابستگی، مثبت سوچ اور مقصدِ حیات کا احساس ذہنی سکون میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
حدیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میں
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“خبردار! جسم میں ایک گوشت کا ٹکڑا ہے، جب وہ درست ہو جائے تو سارا جسم درست ہو جاتا ہے، اور جب وہ خراب ہو جائے تو سارا جسم خراب ہو جاتا ہے۔ سن لو! وہ دل ہے۔”
(صحیح بخاری، صحیح مسلم)
یہ حدیث انسانی شخصیت میں دل کے مرکزی کردار کو واضح کرتی ہے۔ اسلامی نقطۂ نظر میں دل صرف جسمانی عضو نہیں بلکہ انسان کے اخلاق، نیت، احساسات اور روحانی کیفیت کا مرکز بھی ہے۔
نفسیاتی نقطۂ نظر
نفسیات کے مطابق جذبات انسان کی بقا، تعلقات اور شخصیت کی تشکیل کے لیے ضروری ہیں۔ محبت تعلقات کو مضبوط کرتی ہے، ہمدردی معاشرتی ہم آہنگی پیدا کرتی ہے، جبکہ خوف انسان کو خطرات سے بچاتا ہے۔ تاہم جب غصہ، حسد، نفرت یا مایوسی حد سے بڑھ جائیں تو یہ ذہنی اور جسمانی صحت کے لیے نقصان دہ بن سکتے ہیں۔
اسی لیے جذباتی توازن، خود آگاہی اور مثبت طرزِ فکر کو نفسیات میں بڑی اہمیت دی جاتی ہے۔ اسلام بھی صبر، شکر، عفو و درگزر اور حسنِ اخلاق کی تعلیم دے کر انسان کے جذبات کو مثبت سمت میں لے جانے کی رہنمائی کرتا ہے۔
قرآن و سنت اور جدید نفسیات دونوں اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ انسانی جذبات زندگی کا لازمی حصہ ہیں۔ کامیاب انسان وہ ہے جو اپنے جذبات کو سمجھ کر ان کا مثبت استعمال کرے۔ اللہ تعالیٰ کی یاد، اچھے اخلاق، مثبت سوچ اور متوازن رویہ انسان کو ذہنی سکون، مضبوط شخصیت اور بہتر معاشرتی تعلقات عطا کرتے ہیں۔ دل کی اصلاح دراصل پوری شخصیت کی اصلاح ہے، اور یہی انسان کی حقیقی کامیابی کا راستہ ہے۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *