Banner
Daily Sahafat Quetta
July 30, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
ذہنی و فکری معذوری کے حامل بچوں کے لیے ڈے کیئر اور علاج و بحالی کے مراکز بنائے جائیں،سلمی سعید ہاشمیبلوچستان فوڈ اتھارٹی میں سالٹ فورٹیفیکیشن پر ایک روزہ ریفریشر ٹریننگ، فوڈ سیفٹی افسران اور سالٹ پروسیسرز کی استعدادِ کار بڑھانے پر زورنادرا نے ڈیجیٹل شعبے میں شاندار کامیابیوں پر تین ایوارڈ حاصل کر لئےجمعیت علماء اسلام شہداء کی جماعت ہے، مولانا عبدالرحمن رفیقبی آئی ایس پی کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہ کیا جائے، بے بنیاد الزامات پر قانونی کارروائی ہوگی: ترجمانایف ایف سی نے 30 جون 2026 کو ختم ہونے والی دوسری سہ ماہی کے نتائج کا اعلان کر دیاروٹری کلب آف لاہور گیریژن کی جانب سے کرنل نواب علی اور کرنل محمد اسد کو لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے نوازا گیادریائے سندھ میں پانی کی سطح میں تیزی سے اضافہ، گڈو پر درمیانے اور سکھر پر نچلے درجے کا سیلاب برقرارسکھر: موٹر وے پر مشترکہ کارروائی، بھاری مقدار میں جدید اسلحہ برآمد، دو مبینہ اسمگلر گرفتارسردار امیر بخش بھٹو سے انتقال پر چوتھے روز بھی تعزیت کا سلسلہ جاریذہنی و فکری معذوری کے حامل بچوں کے لیے ڈے کیئر اور علاج و بحالی کے مراکز بنائے جائیں،سلمی سعید ہاشمیبلوچستان فوڈ اتھارٹی میں سالٹ فورٹیفیکیشن پر ایک روزہ ریفریشر ٹریننگ، فوڈ سیفٹی افسران اور سالٹ پروسیسرز کی استعدادِ کار بڑھانے پر زورنادرا نے ڈیجیٹل شعبے میں شاندار کامیابیوں پر تین ایوارڈ حاصل کر لئےجمعیت علماء اسلام شہداء کی جماعت ہے، مولانا عبدالرحمن رفیقبی آئی ایس پی کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہ کیا جائے، بے بنیاد الزامات پر قانونی کارروائی ہوگی: ترجمانایف ایف سی نے 30 جون 2026 کو ختم ہونے والی دوسری سہ ماہی کے نتائج کا اعلان کر دیاروٹری کلب آف لاہور گیریژن کی جانب سے کرنل نواب علی اور کرنل محمد اسد کو لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے نوازا گیادریائے سندھ میں پانی کی سطح میں تیزی سے اضافہ، گڈو پر درمیانے اور سکھر پر نچلے درجے کا سیلاب برقرارسکھر: موٹر وے پر مشترکہ کارروائی، بھاری مقدار میں جدید اسلحہ برآمد، دو مبینہ اسمگلر گرفتارسردار امیر بخش بھٹو سے انتقال پر چوتھے روز بھی تعزیت کا سلسلہ جاری

ایک مشکل ، اہم اور عظیم ناول “یولیسس”

 

تحریر:
ڈاکٹر فضلیت بانو
Ulysses
جولیس جدید انگریزی
ادب کا ایک نہایت اہم اور پیچیدہ ناول ہے جسے James Joyce نے 1922ء میں شائع کیا۔ یہ ناول جدیدیت (Modernism) کی ایک شاہکار مثال سمجھا جاتا ہے۔ اس کا عنوان قدیم یونانی رزمیہ داستان Odyssey کے ہیرو اوڈیسیئس (Ulysses) سے ماخوذ ہے۔
“یولیسس” یا “اودیسئس”
(یہ نام یونانی دیومالا کے کردار اوڈیسیئس کی لاطینی شکل ہے۔)
ناول کا بنیادی واقعہ 16 جون 1904ء کے ایک دن پر مشتمل ہے اور اس کا تمام مرکزی عمل آئرلینڈ کے شہر ڈبلن میں پیش آتا ہے۔ بظاہر یہ ایک عام دن کی روداد ہے، مگر جیمز جوائس نے اس ایک دن کے ذریعے انسانی ذہن، جذبات، یادوں، خواہشات اور زندگی کی پیچیدگیوں کو پیش کیا ہے۔ناول کے تین اہم کردار ہیں1۔ لیوپولڈ بلوم (Leopold Bloom)
ایک یہودی اشتہاری نمائندہ ہے جو ڈبلن کی گلیوں میں گھومتا ہے۔ اس کے خیالات، مشاہدات اور اندرونی احساسات کے ذریعے عام انسان کی تنہائی، محبت اور زندگی کے مسائل سامنے آتے ہیں۔
2۔ اسٹیفن ڈیڈلس (Stephen Dedalus)
ایک نوجوان دانش ور اور شاعر مزاج کردار ہے جو اپنی شناخت، فن اور زندگی کے مقصد کی تلاش میں ہے۔ یہ کردار جوائس کے پہلے ناول
(A Portrait of the Artist as a Young Man )
سے بھی جڑا ہوا ہے
3۔ مولی بلوم
(Molly Bloom)
لیوپولڈ بلوم کی بیوی ہے۔ ناول کے آخری حصے میں اس کے ذہنی خیالات کا طویل سلسلہ انسانی جذبات، محبت اور عورت کے تجربے کو نمایاں کرتا ہے۔”یولیسس” میں جیمز جوائس نے دکھایا ہے کہ ایک عام انسان کی روزمرہ زندگی بھی اپنے اندر ایک مکمل رزمیہ داستان رکھتی ہے۔ انسان کے ذہنی انتشار، ماضی کی یادوں، معاشرتی پابندیوں، محبت، تنہائی اور شناخت کے مسائل کو نہایت گہرائی سے پیش کیا گیا ہے۔جوائس نے کرداروں کے اندرونی خیالات کو براہِ راست پیش کرنے کی تکنیک استعمال کی۔
قدیم یونانی داستان “اوڈیسی” کے واقعات کو جدید ڈبلن کی زندگی سے جوڑا گیا ہے۔ناول میں مختلف اسالیب، طنز، علامتیں اور زبان کے نئے تجربات ملتے ہیں۔
یہ ناول بیسویں صدی کے انسان کی بے یقینی، تنہائی اور ذہنی کشمکش کا آئینہ ہے۔اس ناول کی
ادبی اہمیت کئی جہات کی حامل ہے۔
“یولیسس” کو دنیا کے عظیم ترین ناولوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اگرچہ اس کی زبان اور اسلوب مشکل ہے، لیکن یہ جدید ناول کی تکنیک، فکر اور اظہار کے امکانات کو وسیع کرنے والی اہم تصنیف ہے۔ Ulysses
جولیس کے پہلے تین ابواب کو عموماً “ٹیلیماکیا”
(Telemachia)
کہا جاتا ہے، کیونکہ ان میں نوجوان Stephen Dedalus کی زندگی، ذہنی کشمکش اور تلاشِ ذات کو پیش کیا گیا ہے۔ یہ حصے قدیم یونانی رزمیہ Odyssey کے ابتدائی حصوں سے علامتی مناسبت رکھتے ہیں۔پہلا باب ٹیلیماکس (Telemachus)
ناول کا آغاز ڈبلن کے قریب ایک پرانے قلعہ نما مینار سے ہوتا ہے جہاں اسٹیفن ڈیڈلس اپنے دو ساتھیوں، بک ملیگن اور ہینس، کے ساتھ رہتا ہے۔
اسٹیفن ایک حساس، ذہین اور فلسفیانہ نوجوان ہے۔ وہ اپنی والدہ کی وفات کے بعد شدید ذہنی اضطراب میں مبتلا ہے۔ اسے اپنی والدہ کی آخری خواہش یاد آتی ہے اور اس کے اندر احساسِ جرم پیدا ہوتا ہے۔بک ملیگن ایک خوش مزاج مگر خود پسند نوجوان ہے جو اسٹیفن کے جذبات کو سنجیدگی سے نہیں لیتا۔ اسٹیفن کو محسوس ہوتا ہے کہ وہ اپنے ماحول میں اجنبی ہے۔ اس باب میں اس کی تنہائی، فن کارانہ مزاج اور روحانی بے۔ چینی نمایاں ہوتی ہے۔ ناول کے اس حصے میں
فن کار کی تنہائی، ماضی کا بوجھ اور اپنی شناخت کی تلاش۔ کو نمایاں طور پر دکھایا گیا ہے۔ دوسرے باب ، نیستور (Nestor)
اس باب میں اسٹیفن ایک اسکول میں تاریخ پڑھاتا ہے۔ وہ ایک استاد کی حیثیت سے خود کو کمزور محسوس کرتا ہے اور طلبہ کے ساتھ اس کا تعلق رسمی سا رہتا ہے۔
اسکول کے سربراہ مسٹر ڈیزی قدامت پسند خیالات رکھنے والے شخص ہیں۔ وہ اسٹیفن سے سیاست، آئرلینڈ اور یہودیوں کے بارے میں گفتگو کرتے ہیں۔ اس گفتگو میں معاشرتی تعصبات اور آئرلینڈ کے سیاسی مسائل سامنے آتے ہیں۔اسٹیفن کو اپنی ذہانت کے باوجود مالی مشکلات کا سامنا ہے۔ وہ محسوس کرتا ہے کہ علم اور ذہانت معاشرے میں ہمیشہ قدر نہیں پاتے۔ ناول کے اس حصے میں
تعلیم، سیاست، معاشرتی تعصبات اور دانش ور کی بے بسی کو ایک اہم معاشرتی عنصر کے طور پر سامنے لایا گیا تیسرے باب -پروٹیوس (Proteus)
یہ باب اسٹیفن کی ساحلِ سمندر پر تنہا چہل قدمی اور اس کے خیالات پر مشتمل ہے۔وہ سمندر، فطرت، ماضی کی یادوں اور فلسفیانہ سوالات پر غور کرتا ہے۔ اس کے خیالات مسلسل ایک موضوع سے دوسرے موضوع کی طرف منتقل ہوتے ہیں۔ یہی انداز شعور کی رو (Stream of Consciousness) کی اہم مثال ہے۔
اسٹیفن حقیقت، وقت، وجود اور فن کے بارے میں سوچتا ہے۔ باہر کی دنیا اور اس کے اندر کی دنیا ایک دوسرے میں مدغم ہو جاتی ہیں۔
انسانی ذہن کی پیچیدگی، وجودی سوالات اور تخلیقی شعور۔اسے بے چین رکھتا ہے ۔ابتدائی ابواب میں جیمز جوائس نے اسٹیفن ڈیڈلس کو ایک ایسے نوجوان فن کار کے طور پر پیش کیا ہے جو ماضی، مذہب، خاندان اور معاشرتی دباؤ سے نبرد آزما ہے۔ وہ اپنی الگ شناخت اور تخلیقی آزادی کی تلاش میں ہے۔ یہ حصے پورے ناول کے فکری پس منظر کو قائم کرتے ہیں۔ابتدائی تین ابواب کے بعد ناول کا مرکزی کردار لیوپولڈ بلوم سامنے آتا ہے۔ یہاں ایک عام انسان کی روزمرہ زندگی، اس کے خیالات، احساسات اور اندرونی دنیا کو پیش کیا گیا ہے۔ چوتھے باب کیلیپسو (Calypso)
میں پہلی مرتبہ لیوپولڈ بلوم کا تعارف ہوتا ہے۔ وہ ڈبلن میں رہنے والا ایک اشتہاری نمائندہ ہے۔
صبح کے وقت بلوم اپنے گھر میں ناشتے کی تیاری کرتا ہے۔ وہ اپنی بیوی مولی بلوم کے لیے ناشتے کا انتظام کرتا ہے اور اپنی روزمرہ زندگی کے معمولات ادا کرتا ہے۔ اس کی شخصیت میں نرمی، محبت اور خیال رکھنے کا جذبہ نمایاں ہے۔بلوم کے خیالات عام زندگی کی چھوٹی چھوٹی چیزوں سے جڑے ہوئے ہیں۔ وہ کھانے، اخبار، جانوروں اور انسانی عادات پر غور کرتا ہے۔ اسی دوران قاری کو معلوم ہوتا ہے کہ اس کی ازدواجی زندگی میں فاصلے پیدا ہو چکے ہیں۔
ناول کے اس حصے میں عام انسان کی زندگی کے معمولات، تنہائی، محبت اور ازدواجی رشتوں کی پیچیدگی نمایاں طور پر پیش کی گئی ہے ۔
پانچواں باب – لوسٹریا (Lotus Eaters)
اس باب میں بلوم ڈبلن کی گلیوں میں گھومتا ہے۔ وہ مختلف لوگوں سے ملتا ہے اور اپنے خیالات میں گم رہتا ہے۔
وہ ایک چرچ میں جاتا ہے جہاں مذہبی رسومات کو دیکھتا ہے، مگر اس کا ذہن مختلف سوالات اور مشاہدات میں مصروف رہتا ہے۔ اس باب میں مذہب، انسانی خواہشات اور فرار کی نفسیات کو علامتی انداز میں پیش کیا گیا ہے۔
عنوان “لوسٹریا” یونانی داستان کے اس واقعے کی طرف اشارہ کرتا ہے جہاں لوگ بھول جانے والی غذا کھا کر اپنی اصل منزل بھول جاتے ہیں۔ جوائس نے اسے جدید انسان کی بے خبری اور معمولات میں گم ہو جانے کی علامت بنایا ہے۔انسان کی خواہشات، بھولنے کا عمل، مذہب اور روزمرہ زندگی کی بے معنویت کھل کر بیان کی گئی ہے ۔
چھٹا باب – ہیڈیز (Hades)
اس باب میں بلوم ایک جنازے میں شرکت کے لیے جاتا ہے۔ وہ اپنے جاننے والے پیڈی ڈگنم کی تدفین میں شریک ہوتا ہے۔
جنازے کے سفر کے دوران بلوم موت، زندگی اور انسانی وجود کے بارے میں سوچتا ہے۔ وہ اپنے والد اور اپنے بیٹے روڈی کی موت کی یادوں میں کھو جاتا ہے۔ اس کے اندر ایک گہری اداسی اور محرومی کا احساس پیدا ہوتا ہے۔اس باب میں قبرستان اور جنازے کے مناظر کے ذریعے انسانی زندگی کی ناپائیداری کو اجاگر کیا گیا ہے اور موت، یادداشت، نقصان اور انسان کی تنہائی کے احساس کو اجاگر کیا گیا ہے ۔ناول میں جیمز جوائس نے لیوپولڈ بلوم کو ایک ایسے عام مگر گہرے احساس رکھنے والے انسان کے طور پر پیش کیا ہے جو بظاہر معمولی زندگی گزارتا ہے، مگر اس کے اندر خیالات، یادوں اور جذبات کی ایک وسیع دنیا آباد ہے۔
یہاں اسٹیفن ڈیڈلس کی فکری اور فلسفیانہ دنیا کے مقابلے میں بلوم کی عملی، انسانی اور جذباتی دنیا سامنے آتی ہے۔
(Aeolus، Lestrygonians، Scylla and Charybdis)
میں ڈبلن کی شہری زندگی، صحافت، زبان، ادب اور اسٹیفن و بلوم کے فکری راستوں کی مزید وضاحت ہوتی ہے۔
ناول کے اس حصے میں Leopold Bloom اور Stephen Dedalus کی زندگیاں الگ الگ راستوں پر چلتے ہوئے بھی ایک دوسرے کے قریب آتی محسوس ہوتی ہیں۔ جیمز جوائس نے یہاں صحافت، زبان، ادب اور فکری مباحث کو موضوع بنایا ہے۔ ساتواں باب ،ایولس (Aeolus) میں ڈبلن کے ایک اخبار کے دفتر کی مصروفیات کے بارے میں تحریر کیا گیا ہے۔ بلوم اخبار کے لیے اشتہار کے سلسلے میں دفتر جاتا ہے۔اس باب کی خاص بات اس کا منفرد اسلوب ہے۔ جوائس نے اخبار کی سرخیوں اور صحافتی زبان کو استعمال کرتے ہوئے واقعات پیش کیے ہیں۔ گفتگو میں سیاست، تقریر، صحافت اور عوامی زندگی کے موضوعات نمایاں ہیں۔
اسٹیفن ڈیڈلس بھی یہاں موجود ہوتا ہے اور اپنی ذہانت و ادبی صلاحیت کا اظہار کرتا ہے۔ تاہم دونوں کردار ابھی ایک دوسرے سے گہری واقفیت حاصل نہیں کرتے۔زبان کی طاقت، صحافت کا کردار اور الفاظ کے ذریعے حقیقت کی تشکیل نمایاں نظر آتی ہے ۔ آٹھواں باب، لیسٹریگونیئنز (Lestrygonians)
اس باب میں بلوم دوپہر کے وقت ڈبلن کی گلیوں میں گھومتا ہے اور کھانے کی تلاش میں مختلف جگہوں سے گزرتا ہے۔
کھانا اس باب کا مرکزی استعارہ بن جاتا ہے۔ بلوم انسانی بھوک، جسمانی ضروریات اور زندگی کے مادی پہلوؤں پر غور کرتا ہے۔وہ لوگوں کے رویوں کو دیکھتا ہے اور اپنے اندر کے احساسات کا جائزہ لیتا ہے۔ اس کی حساس طبیعت اسے عام لوگوں سے مختلف بناتی ہے۔اس باب کا عنوان قدیم یونانی داستان کے ان دیوقامت کرداروں کی طرف اشارہ کرتا ہے جو مسافروں کو کھا جاتے تھے۔ جوائس نے اسے جدید معاشرے کی خود غرضی اور مادی دوڑ کی علامت بنایا ہے۔انسانی خواہشات، جسم اور روح کا تعلق، اور معاشرتی خود غرضی کو عمدہ اسلوب میں بیان کیا گیا ہے ۔نواں باب ، سکیلا اور چیریبڈس (Scylla and Charybdis)
یہ باب نیشنل لائبریری میں ادبی گفتگو کے گرد گھومتا ہے۔ اسٹیفن ڈیڈلس یہاں ادب، شیکسپیئر اور فن کے بارے میں اپنے خیالات پیش کرتا ہے۔اسٹیفن کا کہنا ہے کہ عظیم فن کار اپنی تخلیقات میں اپنی ذات، تجربات اور زندگی کے راز شامل کرتا ہے۔ وہ شیکسپیئر کے ڈراموں کی تشریح کرتے ہوئے اپنی فکری صلاحیت ظاہر کرتا ہے۔اس باب میں ادب کے نظری مباحث، فن کار کی شخصیت اور تخلیقی عمل پر گفتگو کی گئی ہے۔اس باب کا عنوان یونانی داستان کے دو خطرناک راستوں کی علامت ہے، جن کے درمیان سے سفر کرنا مشکل ہوتا ہے۔ اسی طرح فن کار کو بھی مختلف فکری انتہاؤں کے درمیان راستہ تلاش کرنا پڑتا ہے۔فن، تخلیق، ادبی نظریات اور فن کار کی شناخت کی بھر پور وضاحت کی گئی ہے ۔یہاں بلوم کو ایک مشاہدہ کرنے والے، حساس اور ہمدرد انسان کے طور پر دکھایا گیا ہے۔
اسٹیفن کو ایک نوجوان مفکر اور فن کار کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ زبان، ادب، صحافت اور انسانی تجربے کے تعلق پر کھل کرغور کیا گیا ہے۔جیمز جوائس یہاں یہ دکھاتے ہیں کہ انسان کی ظاہری روزمرہ زندگی کے پیچھے خیالات، یادیں اور فلسفیانہ سوالات کی ایک پوری دنیا موجود ہوتی ہے۔اسی طرح اگلے ابواب دس تا بارہ (Wandering Rocks، Sirens، Cyclops) میں ڈبلن شہر کی مختلف زندگی، موسیقی، قوم پرستی، طنز اور معاشرتی رویوں کو پیش کیا گیا ہے۔
ان ابواب میں جیمز جوائس نے ڈبلن شہر کی اجتماعی زندگی، موسیقی، قوم پرستی، تعصب اور انسانی رویوں کو مختلف فنی تجربات کے ذریعے پیش کیا ہے۔ بلوم اور اسٹیفن کی زندگیاں بتدریج ایک دوسرے کے قریب آتی ہیں۔ دسواں باب ، آوارہ چٹانیں (Wandering Rocks) یہ باب ڈبلن شہر کے مختلف حصوں میں بیک وقت ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے۔
جوائس نے شہر کے مختلف کرداروں کی زندگیوں کی جھلکیاں دکھائی ہیں۔ سرکاری افسران، عام شہری، مذہبی شخصیات اور دوسرے لوگ اپنی اپنی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔اس باب میں کوئی ایک مرکزی واقعہ نہیں بلکہ پورا شہر ایک کردار کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ مختلف راستوں اور لوگوں کی نقل و حرکت کے ذریعے ڈبلن کی سماجی تصویر بنتی ہے۔
شہر کی زندگی، انسانی تعلقات کا جال اور بظاہر الگ الگ نظر آنے والے واقعات کا باہمی ربط رواں اسلوب میں بیان کیا گیا ہے ۔ گیارہواں باب۔ سائرن (Sirens) یہ باب ایک ہوٹل کے بار میں پیش آتا ہے جہاں موسیقی اور آوازوں کا ماحول ہے۔
جوائس نے اس باب میں موسیقی کی تکنیک کو زبان میں منتقل کرنے کی کوشش کی ہے۔ جملوں کی ساخت، الفاظ کی تکرار اور آوازوں کی ترتیب موسیقی جیسا اثر پیدا کرتی ہے۔ بلوم یہاں بھی اپنے خیالات میں مصروف ہے۔ وہ لوگوں کے رویوں، محبت اور انسانی کمزوریوں کو محسوس کرتا ہے۔ اس باب کا عنوان “سائرن” یونانی داستان کی ان مخلوقات کی طرف اشارہ ہے جو اپنی آواز سے مسافروں کو اپنی طرف متوجہ کرتی تھیں۔ جوائس نے اسے انسانی کشش اور خواہشات کی علامت بنایا ہے۔موسیقی، آواز، انسانی کشش اور خواہشات کی طاقت یہاں نمایاں نظر آتی ہے ۔ بارھواں باب ،سائکلوپس (Cyclops)
یہ باب ایک شراب خانے کے ماحول میں پیش آتا ہے جہاں بلوم کی ملاقات مختلف لوگوں سے ہوتی ہے۔اس باب میں آئرش قوم پرستی، سیاسی تعصب اور تنگ نظری کو طنزیہ انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ ایک کردار “شہری” (Citizen) اپنی شدت پسند قوم پرستانہ سوچ کی وجہ سے نمایاں ہے۔بلوم ایک متوازن اور انسانی نقطۂ نظر پیش کرتا ہے، مگر اس کی باتوں کو سب قبول نہیں کرتے۔ یہاں مختلف نظریات کا تصادم سامنے آتا ہے۔اس باب کا عنوان “سائکلوپس” یونانی داستان کے ایک آنکھ والے دیو کی طرف اشارہ ہے۔ جوائس نے اسے محدود نظر اور صرف ایک زاویے سے دنیا کو دیکھنے کی علامت بنایا ہے۔تعصب، قوم پرستی، برداشت اور انسانی ہمدردی کا رویہ واضح کیا گیا ہے ۔ ناول کے اس حصے میں ڈبلن شہر ایک زندہ کردار کی طرح سامنے آتا ہے۔ یہاں
موسیقی اور زبان کے نئے تجربات کیے گئے ہیں۔
بلوم کی انسان دوستی اور اسٹیفن کی فکری دنیا مزید واضح ہوتی ہے۔
معاشرتی تعصبات اور محدود سوچ پر تنقید کی گئی ہے۔یہ حصے ناول کے اس مرحلے کو ظاہر کرتے ہیں جہاں روزمرہ زندگی کے واقعات گہرے سماجی اور فلسفیانہ معنی اختیار کر لیتے ہیں (Nausicaa، Oxen of the Sun، Circe) ناول کے نہایت اہم اور پیچیدہ حصے ہیں، جہاں بلوم اور اسٹیفن کی ملاقات اور کرداروں کی داخلی دنیا مزید نمایاں ہوتی ہے۔
تیرھواں ،چودھواں اور پندرھواں تینوں ابواب ناول کے نہایت اہم حصے ہیں۔ یہاں Leopold Bloom اور Stephen Dedalus کی کہانیاں ایک دوسرے کے قریب آتی ہیں۔ جوائس نے انسانی نفسیات، جسم و روح، زندگی اور تخلیقی عمل کو مختلف اسالیب میں پیش کیا ہے۔باب تیرہ ناؤسیکا (Nausicaa) یہ باب سمندر کے کنارے شام کے وقت پیش آتا ہے۔ بلوم ساحل پر موجود ہے جہاں اس کی نظر ایک نوجوان لڑکی گرٹی میک ڈاؤل پر پڑتی ہے۔اس باب میں جوائس نے رومانوی تصورات، انسانی خواہشات، ظاہری خوبصورتی اور اندرونی خیالات کے فرق کو پیش کیا ہے۔ گرٹی اپنے آپ کو ایک مثالی اور دلکش شخصیت کے طور پر دیکھتی ہے، جبکہ بلوم اپنی یادوں اور جذبات میں گم ہے۔اس باب کا عنوان “ناؤسیکا” یونانی داستان کے اس کردار کی طرف اشارہ ہے جو اوڈیسیئس سے وابستہ ہے۔ جوائس نے اس قدیم تصور کو جدید انسانی جذبات کے ساتھ جوڑا ہے۔
اورانسانی خواہشات، تصور اور حقیقت کا فرق، اور جذبات کی پیچیدگی کی مجموعی کیفیت کو بیان کیا ہے ۔ چودھویں باب، سورج کے بیل (Oxen of the Sun)۔یہ باب ڈبلن کے ایک ہسپتال میں پیش آتا ہے جہاں بلوم ایک حاملہ عورت کی عیادت کے لیے جاتا ہے۔اس باب کی سب سے بڑی خصوصیت اسلوب کا تجربہ ہے۔ جوائس نے انگریزی زبان کے ارتقا کو مختلف ادوار کے ادبی اسالیب کے ذریعے دکھایا ہے۔ ابتدا قدیم انداز سے ہوتی ہے اور پھر زبان جدید شکل اختیار کرتی جاتی ہے۔ یہاں زندگی کے آغاز، پیدائش، انسانی نسل اور تخلیقی قوت کو موضوع بنایا گیا ہے۔ اس باب کا عنوان “سورج کے بیل” یونانی داستان کے ایک واقعے سے ماخوذ ہے جہاں اوڈیسیئس کے ساتھی سورج دیوتا کے مقدس بیلوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔زندگی کی تخلیق، زبان کا ارتقا اور انسانی وجود کا سفر جیسی صفات کو واضح کیا گیا ہے ۔ پندرھواں ۔ سرسے (Circe)۔یہ ناول کا سب سے طویل اور ڈرامائی باب ہے۔ یہ ڈبلن کے رات کے علاقے میں پیش آتا ہے۔اس باب میں حقیقت اور خواب، شعور اور لاشعور آپس میں مل جاتے ہیں۔ بلوم اور اسٹیفن ایسے تجربات سے گزرتے ہیں جہاں ان کے خوف، خواہشات، یادیں اور اندرونی کشمکش منظر کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔
یہ باب ڈرامائی مکالموں کی صورت میں لکھا گیا ہے۔ اس میں دونوں کرداروں کی نفسیاتی گہرائی نمایاں ہوتی ہے۔
بالآخر بلوم اور اسٹیفن کی ملاقات ہوتی ہے۔ بلوم اسٹیفن کے ساتھ ہمدردی اور سرپرستانہ رویہ اختیار کرتا ہے، جبکہ اسٹیفن ایک فکری ساتھی کی تلاش میں دکھائی دیتا ہے۔یہاں مصنف نے انسان کا اندرونی جہان، خوف، خواہشات، شناخت اور دو نسلوں کا باہمی تعلق واضح طور پر پیش کیا ہے ۔ان ابواب میں بلوم اور اسٹیفن کی کہانیاں پہلی بار باقاعدہ طور پر ملتی ہیں۔جوائس نے انسانی نفسیات کی گہرائیوں کو پوری طرح ظاہر کیا ہے اور قدیم یونانی اساطیر کو جدید زندگی کے مسائل سے جوڑا گیا ہے۔یہاں زبان، اسلوب اور بیان کے نئے تجربات سامنے آتے ہیں۔
یہ حصہ ناول کا فکری اور فنی نقطۂ عروج سمجھا جاتا ہے۔اگلے اور آخری ابواب سولہ سے اٹھارہ تک (Eumaeus، Ithaca، Penelope) میں بلوم اور اسٹیفن کے تعلق، گھر واپسی اور مولی بلوم کے مشہور داخلی خودکلامیے کے ذریعے ناول کا اختتام ہوتا ہے۔ آخری تین ابواب ناول کے اختتام تک پہنچاتے ہیں۔ ان میں Leopold Bloom اور Stephen Dedalus کے تعلق، گھر واپسی، انسانی رشتوں اور زندگی کے تسلسل کو پیش کیا گیا ہے۔ سولھواں باب، ایومیس (Eumaeus)اس باب کا آغاز رات کے وقت ہوتا ہے۔ بلوم اور اسٹیفن تھکن اورپریشانی کے عالم میں ایک پناہ گاہ نما جگہ پر جاتے ہیں جہاں وہ کچھ دیر آرام کرتے ہیں۔دونوں کردار گفتگو کرتے ہیں۔ بلوم اپنی زندگی کے تجربات، خیالات اور مشاہدات بیان کرتا ہے، جبکہ اسٹیفن اپنی فکری اور ادبی دنیا میں مصروف رہتا ہے۔اس باب میں دونوں کے درمیان ایک عارضی رفاقت پیدا ہوتی ہے۔ بلوم اسٹیفن میں اپنے کھوئے ہوئے بیٹے کی سی شفقت محسوس کرتا ہے، جبکہ اسٹیفن کو بلوم میں ایک ہمدرد اور سمجھنے والا انسان نظر آتا ہے۔یہاں انسانی رفاقت، تنہائی کا خاتمہ اور مختلف نسلوں کے درمیان تعلق کی اہمیت کو واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔
سترھواں باب ایتھاکا (Ithaca)۔ یہ باب سوال و جواب کے انداز میں لکھا گیا ہے۔ بلوم اور اسٹیفن رات کے وقت بلوم کے گھر پہنچتے ہیں۔
بلوم اسٹیفن کو اپنے گھر آنے کی دعوت دیتا ہے۔ دونوں چائے پیتے ہیں اور مختلف موضوعات پر گفتگو کرتے ہیں۔ ان کی گفتگو میں علم، کائنات، زندگی اور انسانی وجود جیسے موضوعات شامل ہیں۔بعد میں اسٹیفن رخصت ہو جاتا ہے اور بلوم اپنے گھر کے معمولات کی طرف لوٹ آتا ہے۔عنوان “ایتھاکا” اوڈیسی کی اس منزل کی طرف اشارہ ہے جہاں ہیرو گھر واپس پہنچتا ہے۔ یہاں بلوم کی گھر واپسی کو علامتی معنویت دی گئی ہے۔ناول کے اس حصے میں گھر، شناخت، علم، انسانی تعلق اور زندگی کے سفر کا اختتام زیادہ اہمیت رکھتے ہیں ۔
اٹھارھواں باب، پینیلوپی (Penelope)۔یہ ناول کا آخری باب ہے اور مکمل طور پر مولی بلوم کے خیالات پر مشتمل ہے۔
مولی بلوم اپنے بستر پر لیٹی ہوئی ماضی، محبت، شادی، یادوں اور زندگی کے تجربات کے بارے میں سوچتی ہے۔ اس کے خیالات آزادانہ انداز میں ایک کے بعد دوسرے خیال سے جڑتے چلے جاتے ہیں۔
یہ باب شعور کی رو (Stream of Consciousness) کی بہترین مثال ہے۔ مولی کی آواز کے ذریعے عورت کے احساسات، خواہشات، یادداشت اور زندگی کے تجربے کو پیش کیا گیا ہے۔باب کے آخر میں مولی کا مشہور مثبت اقرار “ہاں” (Yes) زندگی، قبولیت اور تسلسل کی علامت بن جاتا ہے۔ بالآخر
زندگی کی قبولیت، محبت، نسائی شعور اور انسانی وجود کا تسلسل ناول کے اختتام کا باعث بنتا ہے اور ناول کےاختتام پر بلوم ایک عام انسان سے بڑھ کر ہمدردی اور انسانیت کی علامت بن جاتا ہے۔اسٹیفن اپنی فکری تنہائی سے نکل کر ایک نئے انسانی رشتے کا تجربہ کرتا ہے۔مولی بلوم زندگی، محبت اور انسانی جذبات کی آخری آواز بن کر سامنے آتی ہے۔ اس طرح Ulysses کا اختتام کسی بڑے واقعے پر نہیں بلکہ انسانی شعور، یادداشت اور زندگی کے مسلسل بہاؤ پر ہوتا ہے۔ یہی اس ناول کی بنیادی فکری جہت ہے کہ ایک عام دن اور عام انسان کی زندگی بھی اپنے اندر ایک مکمل رزمیہ داستان رکھتی ہے۔
جدید عالمی ادب میں Ulysses کو ایک سنگِ میل کی حیثیت حاصل ہے۔ یہ ناول بیسویں صدی کے ادبی رجحانات، خصوصاً جدیدیت (Modernism) کا نمائندہ شاہکار ہے۔ جیمز جوائس نے اس ناول کے ذریعے انسانی شعور، روزمرہ زندگی، نفسیاتی پیچیدگیوں اور زبان کے نئے امکانات کو دریافت کیا۔ناول کا زمانی دائرہ صرف ایک دن یعنی 16 جون 1904ء پر محیط ہے، مگر اس مختصر وقت میں مصنف نے انسانی زندگی کے وسیع تجربات، تاریخ، اساطیر، فلسفے اور نفسیات کو سمو دیا ہے۔
موضوعاتی جہات میں
عام زندگی کی عظمت ہییولیسس کا بنیادی تصور ہے ۔ عام انسان کی روزمرہ زندگی بھی اپنی جگہ ایک عظیم داستان رکھتی ہے۔ جیمز جوائس نے کسی بادشاہ یا فاتح کے بجائے ایک عام اشتہاری نمائندے لیوپولڈ بلوم کو مرکزی کردار بنایا اور ثابت کیا کہ انسانی تجربہ اپنی ذات میں غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔
ناول میں اسٹیفن ڈیڈلس اور لیوپولڈ بلوم دونوں اپنی اپنی شناخت کی تلاش میں ہیں۔اسٹیفن فن کار، دانش ور اور تخلیق کار کی شناخت تلاش کرتا ہے، جبکہ بلوم معاشرے، خاندان اور ذاتی زندگی کے درمیان اپنی جگہ تلاش کرتا ہے۔
جوائس کے کردار بظاہر لوگوں کے درمیان رہتے ہیں، مگر اندر سے تنہائی کا شکار ہیں۔ بلوم کی شخصیت میں محبت، ہمدردی اور تعلق کی خواہش نمایاں ہے۔
اسٹیفن اور بلوم کی ملاقات دو مختلف نسلوں اور دو مختلف ذہنی دنیاؤں کے درمیان ایک پل کا کام کرتی ہے۔بلوم ناول کا سب سے اہم کردار ہے۔ وہ کوئی غیر معمولی ہیرو نہیں بلکہ ایک عام انسان ہے، مگر اس کی سوچ، مشاہدہ اور احساسات اسے منفرد بناتے ہیں۔اس میں برداشت،ہمدردی،تجسس
،انسانی محبت جیسے اوصاف نمایاں ہیں اسٹیفن ڈیڈلس،اسٹیفن نوجوان فن کار اور مفکر ہے۔ وہ مذہب، خاندان اور معاشرتی پابندیوں سے سوال کرتا ہے۔ اس کے ذریعے جوائس نے فن کار کی ذہنی کشمکش کو پیش کیا ہے۔مولی بلوم ناول کے آخری باب میں اپنی مکمل شخصیت کے ساتھ سامنے آتی ہے۔ اس کے خیالات کے ذریعے عورت کے احساسات، یادداشت اور زندگی کے تجربات کو بیان کیا گیا
یولیسس کی سب سے نمایاں فنی خصوصیت شعور کی رو ہے۔ جوائس نے کرداروں کے ذہنی خیالات کو بغیر کسی روایتی ترتیب کے پیش کیا، جس سے قاری انسانی ذہن کی پیچیدگیوں تک پہنچتا ہے
ناول میں ہر باب کا انداز الگ ہے۔ کہیں صحافتی زبان، کہیں ڈرامائی اسلوب، کہیں طنز اور کہیں فلسفیانہ انداز اختیار کیا گیا ہے۔جوائس نے یونانی داستان اوڈیسی کو جدید ڈبلن کی زندگی سے مربوط کیا۔ قدیم ہیرواوڈیسیئس کی طرح بلوم بھی ایک سفر کرتا ہے، مگر یہ سفر بیرونی دنیا سے زیادہ اندرونی دنیا کا سفر ہے۔
یولیسس زبان کے تجربات کے اعتبار سے منفرد ناول ہے۔ جوائس نے نئے الفاظ تخلیق کیے،مختلف اسالیب کو یکجا کیا،
زبان کو انسانی شعور کے اظہار کا وسیلہ بنایا۔یہی وجہ ہے کہ یہ ناول بیک وقت مشکل بھی ہے اور ادبی اعتبار سے بے حد اہم بھی۔یولیسس نے ناول کی روایتی تعریف کو بدل دیا اس کے بعد ناول صرف واقعات کی کہانی نہیں رہا بلکہ انسانی ذہن، احساسات اور داخلی تجربات کا آئینہ بن گیا۔
اس ناول نے بعد کے بہت سے ناول نگاروں کو متاثر کیا اور جدید فکشن کی سمت متعین کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔Ulysses ایک ایساادبی شاہکار ہے جس میں ایک دن کی معمولی زندگی کو انسانی وجود کی مکمل داستان بنا دیا گیا ہےجیمز جوائس نے اس ناول میں دکھایا کہ انسان کے خیالات، یادیں، خواب اور احساسات بھی اتنے ہی اہم ہیں جتنے بڑےتاریخی واقعات۔یہ ناول جدید انسان کی تنہائی، تلاشِ ذات اور زندگی کی پیچیدگیوں کا فنی اور فکری مرقع ہے۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *