Banner
Daily Sahafat Quetta
July 30, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
ذہنی و فکری معذوری کے حامل بچوں کے لیے ڈے کیئر اور علاج و بحالی کے مراکز بنائے جائیں،سلمی سعید ہاشمیبلوچستان فوڈ اتھارٹی میں سالٹ فورٹیفیکیشن پر ایک روزہ ریفریشر ٹریننگ، فوڈ سیفٹی افسران اور سالٹ پروسیسرز کی استعدادِ کار بڑھانے پر زورنادرا نے ڈیجیٹل شعبے میں شاندار کامیابیوں پر تین ایوارڈ حاصل کر لئےجمعیت علماء اسلام شہداء کی جماعت ہے، مولانا عبدالرحمن رفیقبی آئی ایس پی کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہ کیا جائے، بے بنیاد الزامات پر قانونی کارروائی ہوگی: ترجمانایف ایف سی نے 30 جون 2026 کو ختم ہونے والی دوسری سہ ماہی کے نتائج کا اعلان کر دیاروٹری کلب آف لاہور گیریژن کی جانب سے کرنل نواب علی اور کرنل محمد اسد کو لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے نوازا گیادریائے سندھ میں پانی کی سطح میں تیزی سے اضافہ، گڈو پر درمیانے اور سکھر پر نچلے درجے کا سیلاب برقرارسکھر: موٹر وے پر مشترکہ کارروائی، بھاری مقدار میں جدید اسلحہ برآمد، دو مبینہ اسمگلر گرفتارسردار امیر بخش بھٹو سے انتقال پر چوتھے روز بھی تعزیت کا سلسلہ جاریذہنی و فکری معذوری کے حامل بچوں کے لیے ڈے کیئر اور علاج و بحالی کے مراکز بنائے جائیں،سلمی سعید ہاشمیبلوچستان فوڈ اتھارٹی میں سالٹ فورٹیفیکیشن پر ایک روزہ ریفریشر ٹریننگ، فوڈ سیفٹی افسران اور سالٹ پروسیسرز کی استعدادِ کار بڑھانے پر زورنادرا نے ڈیجیٹل شعبے میں شاندار کامیابیوں پر تین ایوارڈ حاصل کر لئےجمعیت علماء اسلام شہداء کی جماعت ہے، مولانا عبدالرحمن رفیقبی آئی ایس پی کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہ کیا جائے، بے بنیاد الزامات پر قانونی کارروائی ہوگی: ترجمانایف ایف سی نے 30 جون 2026 کو ختم ہونے والی دوسری سہ ماہی کے نتائج کا اعلان کر دیاروٹری کلب آف لاہور گیریژن کی جانب سے کرنل نواب علی اور کرنل محمد اسد کو لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے نوازا گیادریائے سندھ میں پانی کی سطح میں تیزی سے اضافہ، گڈو پر درمیانے اور سکھر پر نچلے درجے کا سیلاب برقرارسکھر: موٹر وے پر مشترکہ کارروائی، بھاری مقدار میں جدید اسلحہ برآمد، دو مبینہ اسمگلر گرفتارسردار امیر بخش بھٹو سے انتقال پر چوتھے روز بھی تعزیت کا سلسلہ جاری

شہید عثمان لالا ، ایک عہد ، ایک نظریہ کا نام

خصوصی مضمون برائے 21
جون، برسی شہید عثمان کاکڑ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شہید عثمان لالا ،
ایک عہد ، ایک
نظریہ کا نام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ملی شہید ، عظیم رہبر،
انسانیت کے علمبردار کی
پانچویں برسی،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: انجینئر ذین کاسی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
21 جون محض ایک تاریخ نہیں، بلکہ پشتون قومی تحریک، بلوچستان کی سیاسی تاریخ، جمہوریت پسند قوتوں اور مظلوم انسانوں کے دلوں پر ثبت ایک ایسا زخم ہے جو وقت گزرنے کے باوجود تازہ ہے۔ یہ وہ دن ہے جب ایک عظیم رہنما، ایک بے باک آواز، ایک مدبر سیاست دان، ایک دانشور، ایک عوامی قائد اور لاکھوں دلوں کی دھڑکن شہید عثمان خان کاکڑ المعروف عثمان لالا ہم سے جدا ہوگئے۔ آج ان کی شہادت کو پانچ برس بیت چکے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ بعض شخصیات جسمانی طور پر دنیا سے رخصت ہوجاتی ہیں مگر ان کے افکار، نظریات، کردار اور جدوجہد آنے والی نسلوں کے لیے زندہ رہتے ہیں۔ عثمان لالا بھی انہی نابغہ روزگار شخصیات میں شامل ہیں جنہیں وقت مٹا نہیں سکا اور نہ ہی آنے والا وقت انہیں فراموش کرسکے گا۔ پشتون قومی تحریک کی تاریخ جب بھی لکھی جائے گی، عثمان لالا کا نام سنہری حروف میں درج ہوگا۔ وہ محض ایک سیاسی رہنما نہیں تھے بلکہ ایک عہد تھے۔ ایک ایسا عہد جس میں جدوجہد تھی، شعور تھا، مزاحمت تھی، محبت تھی، برداشت تھی، اصول پسندی تھی اور سب سے بڑھ کر انسان دوستی تھی۔ وہ ان لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے سیاست کو کاروبار نہیں بنایا بلکہ اسے عبادت سمجھا۔ انہوں نے اقتدار کو مقصد نہیں بلکہ عوامی خدمت کو اپنی منزل بنایا۔ ان کی پوری زندگی اس بات کی گواہ ہے کہ انہوں نے ہر موقع پر ذاتی مفادات کے بجائے قومی مفادات کو ترجیح دی۔ زمانۂ طالب علمی ہی میں وہ پشتون قومی تحریک سے وابستہ ہوگئے تھے۔ نوجوانی کے ابتدائی دنوں میں ہی ان کی شخصیت میں وہ فکری پختگی، سیاسی بصیرت اور قومی شعور موجود تھا جو بڑے بڑے رہنماؤں میں بھی کم نظر آتا ہے۔ مطالعہ، مشاہدہ اور سیاسی جدوجہد نے انہیں جلد ہی تحریک کے صف اول کے رہنماؤں میں شامل کردیا۔ ان کی گفتگو میں دلیل ہوتی تھی، ان کے مؤقف میں وزن ہوتا تھا اور ان کے کردار میں اخلاص جھلکتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ وہ نہ صرف اپنی جماعت بلکہ پورے سیاسی منظرنامے میں ایک منفرد مقام رکھتے تھے۔ عثمان لالا پشتون قوم کے حقوق کے سب سے مضبوط ترجمانوں میں شمار ہوتے تھے، لیکن ان کی سیاست کسی ایک قوم تک محدود نہیں تھی۔ وہ تمام مظلوم اقوام، محروم طبقات اور کمزور انسانوں کی آواز تھے۔ ان کے دل میں پشتونوں کے ساتھ ساتھ بلوچ، سندھی، سرائیکی، کشمیری اور ملک کے ہر مظلوم طبقے کے لیے درد موجود تھا۔ وہ یقین رکھتے تھے کہ انسانیت سب سے بڑی شناخت ہے اور انصاف سب سے بڑی سیاست۔ یہی وجہ تھی کہ ان کی مقبولیت قومی، لسانی اور جغرافیائی حدود سے بہت آگے جاچکی تھی۔ پشتون بلوچ اتحاد کے لیے ان کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔ وہ ہمیشہ کہتے تھے کہ بلوچستان کی ترقی، خوشحالی اور امن مختلف اقوام کے درمیان محبت، بھائی چارے اور باہمی احترام میں پوشیدہ ہے۔ انہوں نے اپنی پوری سیاسی زندگی میں پشتون اور بلوچ عوام کے درمیان اتحاد، ہم آہنگی اور مشترکہ جدوجہد کا پیغام دیا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شہادت کے بعد بلوچ علاقوں میں جس انداز سے ان کی میت کا استقبال کیا گیا، وہ تاریخ کا ایک ناقابلِ فراموش باب بن چکا ہے۔ عثمان لالا کی سب سے بڑی کامیابی نوجوان نسل میں سیاسی شعور پیدا کرنا تھی۔ اگر آج پشتون نوجوان اپنے حقوق، آئین، جمہوریت، تعلیم اور قومی مسائل کے حوالے سے آگاہی رکھتے ہیں تو اس میں عثمان لالا کا کردار بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے نوجوانوں کو بندوق نہیں بلکہ کتاب دی، نفرت نہیں بلکہ شعور دیا، مایوسی نہیں بلکہ امید دی۔ انہوں نے نوجوانوں کو بتایا کہ قوموں کی تقدیر میدان جنگ سے زیادہ تعلیمی اداروں، لائبریریوں اور فکری مراکز میں لکھی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں نوجوان آج بھی انہیں اپنا آئیڈیل مانتے ہیں۔
ایوان بالا میں ان کی موجودگی جمہوریت پسند قوتوں کے لیے حوصلے کا باعث تھی۔ سینیٹ میں ان کی تقاریر سیاسی بصیرت، آئینی شعور اور عوامی ترجمانی کی بہترین مثال سمجھی جاتی ہیں۔ وہ جب بولتے تھے تو صرف ایک جماعت یا ایک قوم کی نہیں بلکہ پورے ملک کے محروم طبقات کی آواز بن جاتے تھے۔ان کی گفتگو میں دلیل کی طاقت، حق گوئی کی جرات اور عوامی مسائل کا درد نمایاں ہوتا تھا۔ انہوں نے ہر فورم پر جمہوریت، آئین کی بالادستی، انسانی حقوق، صوبائی خودمختاری اور عوامی مسائل کے حل کے لیے آواز بلند کی۔ پانچ سال قبل جب ان پر ان کے گھر میں قاتلانہ حملہ ہوا تو پورا ملک سکتے میں آگیا۔ عوام کو یقین نہیں آرہا تھا کہ ایک ایسا رہنما جو ہمیشہ امن، جمہوریت اور عوامی حقوق کی بات کرتا تھا، اس طرح نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔ ان کی شہادت کی خبر نے بلوچستان سے اسلام آباد اور کراچی سے خیبر تک ہر دل کو غمزدہ کردیا۔ لاکھوں آنکھیں اشکبار تھیں اور لاکھوں دل اس سانحے پر سوگوار تھے۔ جب ان کی میت کراچی سے کوئٹہ کے لیے روانہ ہوئی تو بلوچستان کی تاریخ نے ایک منفرد منظر دیکھا۔ راستے بھر عوام سڑکوں کے کنارے جمع تھے۔ لوگ اپنے محبوب قائد کی آخری جھلک دیکھنے کے لیے گھنٹوں انتظار کرتے رہے۔ بلوچ علاقوں میں جس محبت، عقیدت اور احترام کے ساتھ ان کی میت کا استقبال کیا گیا، اس کی مثال کم ہی ملتی ہے۔ پھول نچھاور کیے گئے، دعائیں مانگی گئیں اور آنسوؤں کے ساتھ اپنے محبوب قائد کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ اس سفر نے ثابت کردیا کہ عثمان لالا صرف پشتونوں کے رہنما نہیں تھے بلکہ پورے بلوچستان کے دلوں کی دھڑکن تھے۔ مسلم باغ، جسے ماضی میں ہندو باغ کہا جاتا تھا، میں ان کے جنازے کا منظر تاریخ کے صفحات میں ہمیشہ محفوظ رہے گا۔ لاکھوں افراد کی موجودگی نے ثابت کردیا کہ حقیقی رہنما وہی ہوتا ہے جو لوگوں کے دلوں میں گھر کرلے۔ دور دراز علاقوں سے قافلے آئے، لوگوں نے میلوں کا سفر طے کیا اور اپنے محبوب قائد کو آخری سلام پیش کیا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ پورا خطہ سوگ میں ڈوبا ہوا ہے۔ آج ان کے مزار پر ایک عظیم الشان مقبرہ تعمیر ہورہا ہے۔ یہ صرف ایک مقبرہ نہیں بلکہ ایک فکری اور سیاسی مرکز ہوگا۔ یہاں جدید لائبریری قائم ہوگی، تحقیقی سرگرمیوں کے لیے اکیڈمی ہوگی اور نوجوان نسل کے لیے ایک ایسی درسگاہ ہوگی جہاں انہیں شعور، علم، تحقیق اور قومی خدمت کا سبق ملے گا۔ آنے والی نسلیں یہاں آکر جان سکیں گی کہ قوموں کی تعمیر کس طرح قربانی، جدوجہد اور اصول پسندی سے کی جاتی ہے۔ شہید عثمان لالا کے بعد ان کے فرزند خوشحال خان کاکڑ نے ایک بھاری ذمہ داری سنبھالی۔ وہ عمر جس میں انسان اپنی تعلیم، پیشہ ورانہ زندگی اور ذاتی خوابوں کے بارے میں سوچتا ہے، اس عمر میں انہوں نے لاکھوں لوگوں کی امیدوں اور توقعات کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھایا۔ عوام کے اصرار اور محبت نے انہیں والد کے مشن کو آگے بڑھانے پر آمادہ کیا۔ آج وہ پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے مرکزی چیئرمین اور رکن قومی اسمبلی کی حیثیت سے سیاسی میدان میں سرگرم ہیں۔ بہت سے لوگ خوشحال خان کاکڑ میں عثمان لالا کی جھلک دیکھتے ہیں۔ ان کی شخصیت، سادگی، عوام سے قربت، شائستگی، سیاسی انداز اور قومی مسائل کے حوالے سے حساسیت میں لوگ اپنے محبوب رہنما کی یاد محسوس کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نوجوان نسل ان سے بڑی توقعات وابستہ کیے ہوئے ہے۔ افسوس کا مقام یہ ہے کہ پانچ سال گزرنے کے باوجود آج بھی قوم ایک بنیادی سوال کا جواب تلاش کررہی ہے۔ آخر وہ کون لوگ تھے جنہوں نے عثمان لالا جیسے عظیم رہنما کو ہم سے چھین لیا؟ ان کے قتل کے اصل محرکات کیا تھے؟ وہ عناصر کون تھے جو ایک قومی آواز کو خاموش کرنا چاہتے تھے؟ وقت گزر گیا، حکومتیں بدل گئیں، حالات بدل گئے لیکن یہ سوال آج بھی زندہ ہے۔ لاکھوں دل آج بھی انصاف کے منتظر ہیں اور یہ امید رکھتے ہیں کہ ایک دن سچ ضرور سامنے آئے گا۔ 21 جون 2026 کو ان کی پانچویں برسی کے موقع پر قلعہ عبداللہ میں عظیم الشان جلسوں، سیمینارز، فکری نشستوں اور یادگاری تقریبات کا انعقاد کیا جارہا ہے۔ پاکستان کے مختلف حصوں کے علاوہ دنیا بھر سے سیاسی رہنما، دانشور، صحافی، کارکن اور عقیدت مند اس موقع پر شریک ہوں گے۔ یہ تقریبات صرف ایک رہنما کی یاد منانے کے لیے نہیں بلکہ اس نظریے کی تجدید کے لیے ہوں گی جس کے لیے عثمان لالا نے اپنی پوری زندگی وقف کردی۔
تاریخ میں کچھ لوگ عہدوں کی وجہ سے مشہور ہوتے ہیں اور کچھ کردار کی وجہ سے امر ہوجاتے ہیں۔ عثمان لالا ان لوگوں میں شامل تھے جو کردار کی وجہ سے امر ہوگئے۔ ان کی زندگی جدوجہد کا استعارہ تھی، ان کی سیاست اصول پسندی کی مثال تھی، ان کی شخصیت محبت اور برداشت کی علامت تھی اور ان کی شہادت ایک ایسا سانحہ تھی جس نے لاکھوں دلوں کو زخمی کردیا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ شہید کبھی مرتے نہیں۔ وہ اپنے نظریات، اپنی جدوجہد، اپنے کردار اور اپنے عوام کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ آج پانچ سال بعد بھی جب عثمان لالا کا نام لیا جاتا ہے تو احترام سے سر جھک جاتے ہیں، آنکھیں نم ہوجاتی ہیں اور دل عقیدت سے بھر جاتے ہیں۔ بلوچستان کے پہاڑ، پشتونخوا کی وادیاں، سیاسی کارکنوں کے قافلے، نوجوانوں کے خواب اور عوام کی دعائیں آج بھی ایک ہی گواہی دیتی ہیں کہ عثمان لالا صرف ایک فرد نہیں تھے، وہ ایک تحریک تھے، ایک نظریہ تھے، ایک تاریخ تھے، اور ایسی تاریخ کو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ شہید عثمان لالا کی سیاسی زندگی کا ایک اور نمایاں پہلو ان کی بے مثال جرات اور اصول پسندی تھی۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایسے رہنما بہت کم پیدا ہوئے ہیں جو ہر دور میں ایک ہی مؤقف پر قائم رہے ہوں، جو اقتدار کے قریب پہنچ کر بھی اپنے نظریات کا سودا نہ کریں اور جو مشکل ترین حالات میں بھی حق گوئی کا دامن نہ چھوڑیں۔ عثمان لالا انہی نادر شخصیات میں سے ایک تھے۔ انہوں نے کبھی وقتی مفادات، سیاسی مصلحتوں یا ذاتی فوائد کو اپنے نظریات پر حاوی نہیں ہونے دیا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے دوست بھی ان کا احترام کرتے تھے اور مخالفین بھی ان کی جرات، دیانت اور سیاسی بصیرت کے معترف تھے۔ وہ بلوچستان کے ان چند رہنماؤں میں شامل تھے جو عوام کے درمیان رہتے تھے، عوام کے دکھ درد کو محسوس کرتے تھے اور عوامی مسائل کو اپنی ذاتی ذمہ داری سمجھتے تھے۔ وہ جب کسی گاؤں، قصبے یا دور افتادہ علاقے کا دورہ کرتے تو لوگ انہیں اپنے گھر کے فرد کی طرح خوش آمدید کہتے۔ ان کے لیے سیاست عوام پر حکمرانی کا نام نہیں بلکہ عوام کی خدمت کا دوسرا نام تھی۔ وہ اقتدار کے ایوانوں سے زیادہ عوامی اجتماعات، تعلیمی اداروں، سیاسی نشستوں اور فکری مباحثوں میں نظر آتے تھے۔
عثمان لالا علم دوست رہنما تھے۔ وہ اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ کسی بھی قوم کی ترقی کا راستہ تعلیم، تحقیق اور شعور سے ہو کر گزرتا ہے۔ وہ نوجوانوں کو ہمیشہ مطالعہ کرنے، تاریخ سے سیکھنے اور دنیا کے بدلتے ہوئے حالات کو سمجھنے کی تلقین کرتے تھے۔ ان کی محفلوں میں صرف سیاست کی بات نہیں ہوتی تھی بلکہ ادب، تاریخ، فلسفہ، عالمی سیاست، انسانی حقوق اور سماجی مسائل پر بھی گفتگو ہوتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ وہ صرف سیاسی کارکنوں ہی نہیں بلکہ دانشوروں، اساتذہ، طلبہ اور اہل قلم میں بھی بے حد مقبول تھے۔ پشتون قومی تحریک کی تاریخ میں ان کا کردار ایک مضبوط ستون کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے نہ صرف تحریک کو منظم کرنے میں اہم کردار ادا کیا بلکہ اس کے فکری اور نظریاتی پہلوؤں کو بھی مضبوط بنایا۔ وہ سمجھتے تھے کہ تحریکیں صرف نعروں سے نہیں بلکہ نظریات، تنظیم اور عوامی اعتماد سے مضبوط ہوتی ہیں۔انہوں نے اپنی پوری زندگی اسی مقصد کے لیے صرف کردی۔ ان کی شخصیت کا ایک قابل ذکر پہلو ان کی سادگی تھی۔ سینیٹر ہونے کے باوجود ان کی زندگی میں کوئی تصنع، کوئی نمود و نمائش اور کوئی مصنوعی پن نہیں تھا۔ وہ عام لوگوں کی طرح زندگی گزارتے تھے۔ عوام کے درمیان بیٹھتے، ان کے مسائل سنتے اور ان کے دکھ درد میں شریک ہوتے تھے…

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *