Banner
Daily Sahafat Quetta
September 23, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
پی ٹی آئی مارچ سے پہلے بڑا فیصلہ، راولپنڈی اور اٹک میں انٹرنیٹ بند کرنے کی تیاریپشتون ثقافت ہماری خوبصورت روایات کا حصہ ہے، ظہور بلیدیبلوچستان کے ہنرمند نوجوانوں کیلئے جرمنی میں روزگار کے دروازے کھلنے کی امیدایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر ٹوپی ڈاکٹر یمین ثناء کی گندف مڈل سکول کا تفصیلی دورہجی ٹی اے آئینی لورالائی کے انتخابات مکمل، انور ناصر کی سربراہی میں کابینہ بلا مقابلہ منتخبلورالائی میں ترقیاتی منصوبوں پر سست روی برداشت نہ کرنے کا حکم27 ستمبر سے قبل مسافر کوچز کی بندش ظالمانہ اقدام ہے، ٹرانسپورٹرزعوام کو طبی سہولیات میں غفلت برداشت نہیں ہوگی، ڈپٹی کمشنر لورالائیلاڑکانہ میں کار پر مسلح افراد کی فائرنگ، 4 افراد قتلبلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 9 دہشتگرد ہلاکپی ٹی آئی مارچ سے پہلے بڑا فیصلہ، راولپنڈی اور اٹک میں انٹرنیٹ بند کرنے کی تیاریپشتون ثقافت ہماری خوبصورت روایات کا حصہ ہے، ظہور بلیدیبلوچستان کے ہنرمند نوجوانوں کیلئے جرمنی میں روزگار کے دروازے کھلنے کی امیدایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر ٹوپی ڈاکٹر یمین ثناء کی گندف مڈل سکول کا تفصیلی دورہجی ٹی اے آئینی لورالائی کے انتخابات مکمل، انور ناصر کی سربراہی میں کابینہ بلا مقابلہ منتخبلورالائی میں ترقیاتی منصوبوں پر سست روی برداشت نہ کرنے کا حکم27 ستمبر سے قبل مسافر کوچز کی بندش ظالمانہ اقدام ہے، ٹرانسپورٹرزعوام کو طبی سہولیات میں غفلت برداشت نہیں ہوگی، ڈپٹی کمشنر لورالائیلاڑکانہ میں کار پر مسلح افراد کی فائرنگ، 4 افراد قتلبلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 9 دہشتگرد ہلاک

گلگت بلتستان کے انتخابات اور پاکستان کا مستقبل

تحریر: امجد اقبال امجد

قومیں صرف سرحدوں سے نہیں بنتیں، بلکہ انصاف، اعتماد اور باہمی احترام سے مضبوط ہوتی ہیں۔ پہاڑ، دریا، سمندر اور میدان کسی ملک کا جغرافیہ تو تشکیل دے سکتے ہیں، مگر اس کی اصل طاقت اس کے عوام کے دلوں میں بسنے والی امید، محبت اور انصاف کے احساس سے جنم لیتی ہے۔ پاکستان بھی اسی اصول پر قائم ہے۔ جب تک اس کی وفاقی اکائیاں خود کو برابر، باوقار اور بااختیار محسوس کرتی رہیں گی، تب تک پاکستان کا پرچم سربلند رہے گا۔
آج گلگت بلتستان کے انتخابات کے تناظر میں ایک اہم سوال ہمارے سامنے کھڑا ہے۔ کیا ہم اپنے آئین، جمہوری اصولوں اور قومی وحدت کے تقاضوں کو پورا کر رہے ہیں؟ یا کہیں ایسا تو نہیں کہ سیاسی عمل میں عدم توازن، بعض جماعتوں کی راہ میں رکاوٹیں اور عوامی رائے کے اظہار پر قدغنیں مستقبل میں ایسے زخم چھوڑ جائیں جو قومی یکجہتی کو متاثر کریں؟
گلگت بلتستان صرف ایک خطہ نہیں، بلکہ پاکستان کا تاج ہے۔ دنیا کے بلند ترین پہاڑوں، عظیم ثقافتوں اور محب وطن عوام کی سرزمین۔ یہاں کے لوگوں نے ہمیشہ پاکستان کے لیے قربانیاں دی ہیں۔ ان کے دل پاکستان کے ساتھ دھڑکتے ہیں اور ان کی امیدیں بھی اسلام آباد سے وابستہ ہیں۔ ایسے میں اگر انہیں یہ احساس ہو کہ ان کی آواز پوری طرح سنی جا رہی ہے، ان کے ووٹ کا احترام ہو رہا ہے اور تمام سیاسی قوتوں کو مساوی مواقع حاصل ہیں تو یہ احساس پاکستان کو مزید مضبوط کرے گا۔
جمہوریت کی خوبصورتی یہی ہے کہ اس میں اختلاف کو دشمنی نہیں سمجھا جاتا۔ سیاسی جماعتیں ریاست کی مخالف نہیں ہوتیں بلکہ جمہوری نظام کا حصہ ہوتی ہیں۔ اگر کسی جماعت سے اختلاف ہے تو اس کا جواب بیلٹ بکس میں دیا جاتا ہے، پابندیوں اور رکاوٹوں سے نہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب سیاسی راستے بند کیے جاتے ہیں تو دلوں میں فاصلے بڑھنے لگتے ہیں، اور جب عوام کو اظہار کا حق ملتا ہے تو ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد مضبوط ہوتا ہے۔
آج دنیا کے مختلف تھنک ٹینکس وقتاً فوقتاً پاکستان کے بارے میں پیش گوئیاں کرتے رہتے ہیں۔ کبھی کوئی 2030 کا ذکر کرتا ہے، کبھی کوئی 2033 کا۔ ان تمام پیش گوئیوں کی حقیقت سے قطع نظر، ایک محب وطن پاکستانی کی حیثیت سے ہم یہی کہیں گے کہ ان سب کے منہ میں خاک۔ پاکستان ان شاء اللہ قائم بھی رہے گا، ترقی بھی کرے گا اور دنیا میں عزت بھی پائے گا۔ مگر یہ خواب صرف نعروں سے پورا نہیں ہوگا۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے گھر کو انصاف، مساوات اور آئین کی بالادستی سے مضبوط کریں۔
1973 کا آئین پاکستان کے تمام شہریوں کے درمیان ایک عمرانی معاہدہ ہے۔ یہی وہ دستاویز ہے جس نے مختلف زبانوں، ثقافتوں اور علاقوں کو ایک قومی دھارے میں پرویا۔ اگر اس آئین کو اس کی روح کے مطابق نافذ کیا جائے، اگر وفاق اور اکائیوں کے درمیان اعتماد کو فروغ دیا جائے، اگر عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے، تو پاکستان کی بنیادیں مزید مضبوط ہوں گی۔
ریاست کی طاقت صرف اداروں سے نہیں، بلکہ عوام کے اعتماد سے پیدا ہوتی ہے۔ جب عوام کو یقین ہو کہ ان کے ساتھ انصاف ہو رہا ہے تو محبت جنم لیتی ہے، اور جب محبت جنم لیتی ہے تو قربانیاں بھی دی جاتی ہیں۔ لیکن اگر محرومیوں کا احساس بڑھنے لگے تو نفرتیں جنم لیتی ہیں، اور نفرتیں کسی بھی معاشرے کے لیے زہر قاتل ثابت ہوتی ہیں۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم نفرتوں کی فصل نہیں بلکہ محبتوں کے بیج بوئیں۔ سیاسی اختلافات کو قومی دشمنی میں تبدیل نہ کریں۔ ایک دوسرے کے مؤقف کو سنیں، برداشت کو فروغ دیں اور جمہوریت کے دروازے سب کے لیے کھلے رکھیں۔ یہی قائداعظم محمد علی جناح کا پاکستان تھا، یہی علامہ اقبال کا خواب تھا اور یہی ہمارے شہداء کی قربانیوں کا تقاضا ہے۔
گلگت بلتستان کے انتخابات صرف ایک علاقے کا سیاسی عمل نہیں، بلکہ پاکستان کی جمہوری ساکھ کا امتحان بھی ہیں۔ اگر یہ انتخابات شفاف، منصفانہ اور سب کے لیے یکساں مواقع فراہم کرنے والے ہوں گے تو نہ صرف گلگت بلتستان کے عوام کا اعتماد بڑھے گا بلکہ پوری دنیا کو یہ پیغام جائے گا کہ پاکستان ایک بالغ، مضبوط اور جمہوری ریاست ہے۔
پاکستان کو کوئی بیرونی طاقت نقصان نہیں پہنچا سکتی اگر ہم خود انصاف، آئین اور جمہوریت کے راستے پر قائم رہیں۔ ہماری اصل قوت ہمارے عوام ہیں، ہماری اصل ڈھال قومی یکجہتی ہے، اور ہماری اصل منزل ایک ایسا پاکستان ہے جہاں ہر شہری خود کو برابر کا پاکستانی محسوس کرے۔
محبت، انصاف اور آئین — یہی پاکستان کے روشن مستقبل کی ضمانت ہیں۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *