Banner

بلوچستان میں فارم 47 کے ذریعے سیاسی عمل مسخ کیا گیا، وسائل کی لوٹ مار کا نظام بنایا گیا، نوابزادہ لشکری رئیسانی

Share

Share This Post

or copy the link


بدامنی، لاشیں اور عدم تحفظ ریاستی ناکامی کا نتیجہ ہیں،بلوچستان بحران کا حل لشکر کشی نہیں، سیاسی و سماجی عمل میں ہے، عوام کا اعتماد نظام سے اٹھ چکا ہے، نوابزادہ لشکری رئیسانی کا سیاسی و سماجی جرگہ تشکیل دینے کا اعلان

پشین(نامہ نگار)سینئر سیاستدان اور سابق سینیٹر نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے کہا ہے کہ بلوچستان آج ایک شدید بحرانی کیفیت سے گزر رہا ہے، عوام کا اعتماد موجودہ نظام سے اٹھ چکا ہے، فارم 47 کے ذریعے سیاسی عمل کو مسخ کیا گیا، مائنز اینڈ منرلز ایکٹ کے ذریعے صوبے کے وسائل کی لوٹ مار کا راستہ ہموار کیا گیا، جبکہ بلوچستان کے مسائل کا حل لشکر کشی نہیں بلکہ سیاسی، سماجی اور پُرامن عمل میں ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشین میں صوبائی صدر استحکام پاکستان پارٹی بلوچستان اور معروف قبائلی و سیاسی شخصیت ملک سعد اللہ جان ترین کی رہائش گاہ پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا انہوں نے کہا کہ فارم 47 کا راستہ انہیں بھی دکھایا گیا تھا، مگر انہوں نے انتخابات کے دوسرے روز ہی اسے مسترد کر دیا کیونکہ یہ سیاسی عمل نہیں تھا۔ فارم 47 کی پیداوار اسمبلی نے جعلی قانون سازی کی اور مائنز اینڈ منرلز ایکٹ کے ذریعے بلوچستان کے وسائل کی لوٹ مار کے لیے قانونی راستہ بنایا گیا، جس کے خلاف وہ سیاسی اور قانونی سطح پر جدوجہد کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عمومی طور پر پورے پاکستان میں اٹھارویں آئینی ترمیم سیاسی عمل کی پیداوار تھی، جس کے ذریعے وفاق اور صوبوں کے درمیان عمرانی معاہدہ طے پایا۔ ہم ایک قومی اکائی ہیں، محض ایک انتظامی صوبہ نہیں۔ مگر اس کے بعد چھبیسویں ترمیم، جنرل باجوہ کی ایکسٹینشن اور دیگر اقدامات سیاسی عمل نہیں بلکہ مفاد پرستی کی مثالیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ جو لوگ اسٹیبلشمنٹ کے سائے میں زندگی گزارتے ہیں اور فارم 47 کے ذریعے اسمبلیوں میں آتے ہیں، وہ میرے سیاسی حریف نہیں ہیں۔ میرا حریف صرف وہ شخص ہو سکتا ہے جو سیاسی عمل، نظریے، منشور اور عوامی جدوجہد کا نمائندہ ہو۔انہوں نے کہا کہ جب الیکشن کے نام پر ڈھونگ رچایا جاتا ہے تو سہولت کاروں کا ایک بہت بڑا ٹولہ سرینہ ہوٹل میں اپنا سیاسی کشکول گھما کر اپنا فیصلہ لیتا ہے۔ ساتھ ساتھ بلوچستان کو لاوارثوں کی طرح بندربانٹ کا شکار کر دیا گیا ہے۔ پاکستان کے طول و عرض سے سیاسی یتیموں کو لا کر یہاں سیٹیں دی جاتی ہیں اور سیٹوں سے نوازا جاتا ہے۔ غیر پاکستانیوں کو بھی، چاہے ایران سے ہوں یا افغانستان سے، ایسے لوگ جن کا جرائم سے تعلق ہو، ان کو بھی لا کر بلوچستان کی اسمبلی پر مسلط کیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں روزانہ لاشیں گر رہی ہیں، سڑکیں بند ہیں، جرائم پیشہ افراد دندناتے پھر رہے ہیں اور عوام عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ عوام کا اعتماد موجودہ نظام سے اٹھ چکا ہے اور جہاں عوام میں اعتماد ختم ہو جائے وہاں بغاوت کی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان ایک روایتی قبائلی پُرامن سماج ہوا کرتا تھا مگر آج اس کے تمام راستے بند ہیں۔ لوگ سڑکوں پر سفر کرتے ہوئے بھی عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ اگر آپ غور کریں تو یہاں ہمارے اس قومی وطن پر قبضہ بھی ہے اور ظلم کی ایک بہت بڑی داستان بھی ہے۔انہوں نے کہا کہ آج سنجیدگی کی بات یہ ہے کہ جس لوٹ مار کا شکار بلوچستان ہے، اس میں پولیٹیکل پارٹیاں اور بڑے بڑے نام نہاد لیڈر بھی شریک ہیں۔ اب لمحۂ فکریہ یہ ہے کہ بلوچستان کے سیاسی، سماجی اور قبائلی لوگ اس بات پر سوچیں کہ بلوچستان جس بدامنی اور بے چینی سے گزر رہا ہے، اس کے لیے ہم کوئی راستہ تلاش کریں اور اپنے مادرِ وطن کو اس افراتفری اور بدنظمی سے بچانے میں اپنا کردار ادا کریں۔انہوں نے کہا کہ لگ یہ رہا ہے، بلکہ مجھے یقین ہے کہ جس افراتفری اور بدنظمی سے آج ہم گزر رہے ہیں، یہ ریاستی پالیسی کا بھی ایک حصہ ہے۔ مگر ایسی پولیٹیکل پارٹیز بھی ہیں جو اسی بحران میں لشکر کشی کی بات کر رہی ہیں، جس سے ہمیں بچنا چاہیے۔ ہمیں اس صورتحال سے نکلنے کے لیے اپنا سیاسی، سماجی اور تاریخی کردار ادا کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ہم اس پر کام کر رہے ہیں اور ہماری کوشش ہے کہ ایک بڑا سیاسی اور سماجی جرگہ منعقد ہو جو اتحاد، اتفاق اور قومی نظم کا پیغام پورے بلوچستان کو دے۔انہوں نے کہا کہ میڈیا ہاؤس پشین کے توسط سے میں یہ بھی پیغام دینا چاہتا ہوں کہ ہم اپنے روایتی بھائی چارے، ہمسایوں سے محبت اور راستوں کی حفاظت کے لیے ہر علاقے میں معتبرین اپنے ہمسایوں کا خیال رکھیں، مسافروں کا خیال رکھیں تاکہ جس بحرانی کیفیت اور افراتفری سے ہم گزر رہے ہیں، اس سے نکلنے میں اپنا کردار ادا کریں۔انہوں نے کہا کہ سماج کو مرتب کرنا، سماج کو منظم کرنا اور سماج کو پُرامن رکھنا سماجی، سیاسی اور قبائلی لوگوں کی ذمہ داری ہے، مگر یہاں سیاسی عمل کو روک کر لوگوں کو مسلط کیا گیا اور ان میں ایک بڑی تعداد بیرونِ صوبہ مفادات رکھنے والوں کی ہے، جو اپنے چھوٹے چھوٹے مفادات کے لیے صوبے کے وسائل بھی بیچ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ساتھ ساتھ ریاستی سرپرستی میں جرائم پیشہ افراد کو بھی سڑکوں پر چھوڑ دیا گیا ہے اور جرائم پیشہ افراد باقاعدہ طور پر مزید افراتفری پھیلا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یقیناً ہمیں مل کر اس تمام بحران سے نکلنے کا کوئی راستہ تلاش کرنا ہوگا اور اپنے سماج کو پُرامن بنانا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ سیاست یہ نہیں ہے کہ لوگ پہلے الیکشن میں کروڑوں روپے خرچ کریں اور بعد میں پی ایس ڈی پی کی لوٹ مار کے ذریعے اس رقم کو دوگنا اور تین گنا کریں۔ سیاسی عمل کا مقصد امن قائم کرنا، سیاسی عمل کو آگے لے جانا اور اپنے لوگوں کے مستقبل کا دفاع کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ آج سوال یہ ہے کہ موجودہ سیاسی پارٹیاں اپنے منشور اور نظریات کی پابند ہیں یا صرف اقتدار کے حصول کے لیے سیاست کر رہی ہیں۔ بلوچستان کے مسائل اس قدر بحرانی شکل اختیار کر چکے ہیں کہ لوگوں میں بغاوت کی کیفیت پیدا ہو چکی ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ اس کی ایک بڑی وجہ سیاسی عمل سے لوگوں کی مایوسی ہے۔انہوں نے کہا کہ میں سیاسی عمل کی پیداوار ہوں اور اپنی حیثیت اور استعداد کے مطابق سیاسی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہوں۔ ابھی تک ہم نے کسی سیاسی پارٹی کے قیام کا اعلان نہیں کیا، مگر نوجوانوں، سیاسی کارکنوں، قبائلی عمائدین اور خواتین کی ایک بڑی تعداد اس جدوجہد میں ہمارے ساتھ ہے۔انہوں نے کہا کہ جن سیاسی پارٹیوں کو آپ پارٹیاں سمجھتے ہیں، وہ سودا بازی اور ٹھیکیداری کر رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ عمومی طور پر پورے پاکستان میں اٹھارویں آئینی ترمیم سیاسی عمل کی پیداوار تھی، جس کے ذریعے وفاق اور صوبوں کے درمیان عمرانی معاہدہ طے پایا۔ ہم ایک قومی اکائی ہیں، محض ایک انتظامی صوبہ نہیں۔ مگر اس کے بعد چھبیسویں ترمیم، جنرل باجوہ کی ایکسٹینشن اور دیگر اقدامات سیاسی عمل نہیں بلکہ مفاد پرستی کی مثالیں ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ آج سیاسی جماعتیں عوام کا اعتماد کھو چکی ہیں۔ شاید ان کا تنظیمی ڈھانچہ موجود ہو، مگر وہ اپنی عوامی حمایت کھو بیٹھی ہیں۔

بلوچستان میں فارم 47 کے ذریعے سیاسی عمل مسخ کیا گیا، وسائل کی لوٹ مار کا نظام بنایا گیا، نوابزادہ لشکری رئیسانی

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us