Banner

کھیلوں کے فروغ میں کھیل و ثقافت ڈسٹرکٹ کوئٹہ کا مثالی کردار

Share

Share This Post

or copy the link


کھیلوں کے فروغ میں کھیل و ثقافت ڈسٹرکٹ کوئٹہ کا مثالی کردار
تحریر/ قیوم بلوچ

بلوچستان کی سرزمین ہمیشہ سے باصلاحیت، باوقار، محنتی اور باکردار شخصیات کی امین رہی ہے۔ یہ دھرتی نہ صرف قدرتی وسائل اور ثقافتی تنوع کے حوالے سے منفرد اہمیت رکھتی ہے بلکہ یہاں کے نوجوانوں میں بے پناہ صلاحیتیں بھی موجود ہیں۔ بدقسمتی سے ماضی میں وسائل کی کمی، حکومتی عدم توجہی، کھیلوں کے محدود مواقع، بے روزگاری، غربت اور دیگر سماجی مسائل کے باعث بلوچستان کے بے شمار نوجوان اپنی صلاحیتوں کے اظہار سے محروم رہے۔ ایسے حالات میں کھیلوں کے میدان ویران ہوتے گئے اور نوجوان نسل آہستہ آہستہ منفی سرگرمیوں کی طرف مائل ہونے لگی۔ تاہم وقت کے ساتھ ساتھ کچھ ایسی مخلص، باصلاحیت اور عوام دوست شخصیات سامنے آئیں جنہوں نے کھیلوں کے شعبے کو دوبارہ زندہ کرنے، نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب کرنے اور کھیلوں کے میدانوں کو آباد کرنے کیلئے عملی اقدامات شروع کیے۔ انہی قابل اور متحرک شخصیات میں ڈسٹرکٹ اسپورٹس آفیسر کوئٹہ محمد ارسلان کا نام نمایاں حیثیت رکھتا ہے جنہوں نے اپنی انتھک محنت، خلوص، انتظامی صلاحیتوں اور عوامی خدمت کے جذبے سے بلوچستان خصوصاً کوئٹہ میں کھیلوں کے شعبے میں نئی روح پھونک دی ہے۔ محمد ارسلان ان شخصیات میں شامل ہیں جو اپنے عہدے کو محض ایک سرکاری ذمہ داری نہیں بلکہ عوامی خدمت، نوجوانوں کی تربیت اور معاشرتی اصلاح کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ ان کی شخصیت میں عاجزی، شائستگی، نرم خوئی، ملنساری اور انسان دوستی نمایاں طور پر دکھائی دیتی ہے۔ وہ ایک انتہائی خوش گفتار اور بااخلاق شخصیت کے مالک ہیں۔ ان سے ملنے والا ہر فرد ان کے رویے، گفتگو کے انداز اور خلوص سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتا۔ یہی وجہ ہے کہ نوجوان کھلاڑی، اسپورٹس آرگنائزرز، کوچز، اساتذہ، صحافی، سماجی شخصیات اور عام شہری ان کا بے حد احترام کرتے ہیں۔ محمد ارسلان کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ ہر شخص کی بات تحمل اور توجہ کے ساتھ سنتے ہیں اور حتیٰ المقدور مسائل کے حل کیلئے فوری اقدامات کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ محمد ارسلان ان افسران میں شامل نہیں جو صرف دفاتر تک محدود رہتے ہیں بلکہ وہ عملی میدان میں رہ کر کام کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔ وہ اکثر ایوب اسٹیڈیم کے مختلف حصوں میں نوجوان کھلاڑیوں کے درمیان موجود دکھائی دیتے ہیں۔ کبھی وہ فٹبال گراو¿نڈ میں نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کررہے ہوتے ہیں، کبھی کرکٹ اکیڈمی میں کوچز سے مشاورت کرتے نظر آتے ہیں، کبھی باکسنگ اور جوڈو کراٹے کے کھلاڑیوں کی تربیت کا جائزہ لیتے ہیں تو کبھی خواتین کھلاڑیوں کیلئے بہتر سہولیات کی فراہمی کیلئے سرگرم عمل ہوتے ہیں۔ یہی عملی انداز ان کی شخصیت کو مزید منفرد اور نمایاں بناتا ہے۔ انہیں ان کی اعلیٰ صلاحیتوں، بہترین انتظامی قابلیت، محنت اور خلوص کی بنیاد پر ڈسٹرکٹ اسپورٹس آفیسر کوئٹہ جیسے اہم عہدے پر تعینات کیا گیا اور انہوں نے اس اعتماد کو نہ صرف برقرار رکھا بلکہ اپنی شاندار کارکردگی سے اس میں مزید اضافہ کیا۔ کوئٹہ کا تاریخی ایوب اسٹیڈیم جو بلوچستان میں کھیلوں کا سب سے بڑا اور اہم مرکز سمجھا جاتا ہے، آج جس بہترین نظم و ضبط، صفائی، فعالیت، محفوظ ماحول اور کھیلوں کی سرگرمیوں سے بھرپور فضا کا حامل ہے، اس کے پیچھے محمد ارسلان کی شب و روز محنت شامل ہے۔ انہوں نے ایوب اسٹیڈیم کو صرف ایک اسٹیڈیم نہیں رہنے دیا بلکہ اسے نوجوان نسل کی امیدوں، خوابوں، صلاحیتوں اور روشن مستقبل کا مرکز بنا دیا ہے۔ ایوب اسٹیڈیم میں آج روزانہ سینکڑوں نوجوان مختلف کھیلوں میں حصہ لیتے دکھائی دیتے ہیں۔ صبح سویرے جاگنگ کرنے والوں سے لے کر شام کے وقت مختلف کھیلوں کی پریکٹس کرنے والے نوجوانوں تک، ہر طرف ایک مثبت، متحرک اور صحت مند ماحول نظر آتا ہے۔ اسٹیڈیم میں قائم نظم و ضبط، صفائی، سکیورٹی اور کھیل دوست ماحول نے نوجوانوں کو بے حد متاثر کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کوئٹہ کے مختلف علاقوں سے نوجوان بڑی تعداد میں ایوب اسٹیڈیم کا رخ کررہے ہیں۔ محمد ارسلان کی قیادت میں کوئٹہ میں کھیلوں کے بے شمار کامیاب ایونٹس اور ٹورنامنٹس منعقد ہوئے۔ فٹبال، کرکٹ، باسکٹ بال، والی بال، باکسنگ، جوڈو کراٹے، ٹیبل ٹینس، بیڈمنٹن، ایتھلیٹکس، میراتھن ریس اور دیگر کھیلوں کے درجنوں مقابلوں نے نہ صرف نوجوان کھلاڑیوں کو اظہار کا موقع فراہم کیا بلکہ بلوچستان میں کھیلوں کے فروغ کیلئے ایک نئی تحریک بھی پیدا کی۔ ان مقابلوں میں بلوچستان کے مختلف اضلاع سے نوجوان کھلاڑیوں نے حصہ لیا اور اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا۔ کئی نوجوان ایسے بھی سامنے آئے جنہوں نے بعد ازاں قومی سطح کے مقابلوں میں حصہ لے کر بلوچستان کا نام روشن کیا۔ محمد ارسلان نوجوانوں کی نفسیات اور معاشرتی مسائل کو بہت گہرائی سے سمجھتے ہیں۔ وہ اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں کہ اگر نوجوانوں کو مثبت سرگرمیاں میسر نہ ہوں تو وہ مایوسی، بے راہ روی، جرائم اور منشیات کی طرف مائل ہوسکتے ہیں۔ اسی سوچ کے تحت انہوں نے نوجوانوں کو کھیلوں کے میدانوں کی طرف راغب کرنے کیلئے مسلسل جدوجہد کی۔ ان کا ماننا ہے کہ کھیل صرف جسمانی سرگرمی نہیں بلکہ نوجوان نسل کی ذہنی، اخلاقی اور سماجی تربیت کا بہترین ذریعہ ہیں۔ وہ اکثر اس بات کا اظہار کرتے ہیں کہ اگر نوجوانوں کو کھیلوں کے میدانوں میں مصروف رکھا جائے تو ہسپتال ویران اور منشیات فروش ناکام ہوجائیں گے۔ ان کی یہی مثبت سوچ آج عملی شکل اختیار کرتی نظر آرہی ہے۔ کوئٹہ کے بے شمار نوجوان ایسے ہیں جنہیں محمد ارسلان نے ہوٹلوں، تھڑوں، چوراہوں اور غیر ضروری محفلوں سے نکال کر کھیلوں کے میدانوں تک پہنچایا۔ وہ نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں، انہیں مشورے دیتے ہیں، ان کے مسائل سنتے ہیں اور انہیں یہ احساس دلاتے ہیں کہ وہ معاشرے کا اہم سرمایہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نوجوان نسل محمد ارسلان کو صرف ایک افسر نہیں بلکہ ایک رہنما، استاد اور سرپرست کے طور پر دیکھتی ہے۔ محمد ارسلان کی غریب پروری اور انسان دوستی بھی ان کی شخصیت کا نمایاں پہلو ہے۔ وہ غریب اور مستحق کھلاڑیوں کی ہر ممکن مدد کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کئی نوجوان کھلاڑی ایسے ہیں جنہیں انہوں نے ذاتی جیب سے کھیلوں کا سامان، یونیفارم، سفری اخراجات اور دیگر سہولیات فراہم کیں۔ وہ وسائل کی کمی کو کسی نوجوان کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننے دیتے۔ ان کا ماننا ہے کہ اگر نوجوانوں کو مناسب مواقع اور سہولیات میسر آئیں تو بلوچستان کے کھلاڑی دنیا بھر میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منواسکتے ہیں۔ مقامی اسپورٹس کلبز کی سرپرستی اور حوصلہ افزائی میں بھی محمد ارسلان کا کردار نہایت اہم ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ مقامی سطح پر قائم اسپورٹس کلبز ہی دراصل ٹیلنٹ پیدا کرنے کے اصل مراکز ہیں۔ اسی لیے وہ چھوٹے بڑے تمام اسپورٹس کلبز کو یکساں اہمیت دیتے ہیں اور ان کی ضروریات پوری کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کھیلوں کے مختلف مقابلوں میں ان کی شرکت اور تعاون نوجوان کھلاڑیوں کیلئے حوصلے اور اعتماد کا باعث بنتا ہے۔خواتین کھیلوں کے فروغ میں محمد ارسلان کی خدمات خصوصی طور پر قابل تحسین ہیں۔ بلوچستان جیسے روایتی معاشرے میں خواتین کیلئے کھیلوں کے میدان میں آگے بڑھنا ہمیشہ ایک چیلنج رہا ہے، مگر محمد ارسلان نے ایوب اسٹیڈیم میں ایسا بہترین اخلاقی، دوستانہ، محفوظ اور باوقار ماحول قائم کیا جہاں خواتین کھلاڑیوں نے خود کو محفوظ محسوس کیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج خواتین کی بڑی تعداد مختلف کھیلوں میں حصہ لے رہی ہے۔ والدین بھی اطمینان کے ساتھ اپنی بیٹیوں کو کھیلوں کے میدانوں میں بھیج رہے ہیں کیونکہ انہیں یقین ہے کہ ایوب اسٹیڈیم میں ان کیلئے بہترین ماحول موجود ہے۔ محمد ارسلان صرف سرکاری سطح پر ہی نہیں بلکہ ذاتی حیثیت میں بھی کھیلوں اور صحت مند سرگرمیوں کے فروغ کیلئے عملی اقدامات کررہے ہیں۔ انہوں نے ایک جدید جیم قائم کر رکھا ہے جہاں نوجوانوں سمیت ہر عمر کے مرد و خواتین کو تربیت فراہم کی جاتی ہے۔ اس جیم کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ غریب اور مستحق افراد کیلئے تربیت اور داخلہ مفت رکھا گیا ہے۔ محمد ارسلان خود اس جیم کی نگرانی کرتے ہیں اور نوجوانوں کی جسمانی تربیت، فٹنس اور رہنمائی میں خصوصی دلچسپی لیتے ہیں۔ ایسے دور میں جب لوگ ذاتی مفادات کو ترجیح دیتے ہیں وہاں محمد ارسلان کا یہ جذبہ یقیناً قابل تعریف اور لائق تقلید ہے۔ بلوچستان بھر سے قومی اور بین الاقوامی سطح پر کھیلوں کے مقابلوں میں حصہ لینے والے کھلاڑیوں کی معاونت بھی محمد ارسلان کی نمایاں خدمات میں شامل ہے۔ وہ کھلاڑیوں کے سفری مسائل، تربیت، رہائش اور دیگر ضروری معاملات میں بھرپور تعاون کرتے ہیں۔ کئی نوجوان کھلاڑی ان کی حوصلہ افزائی اور تعاون کو اپنی کامیابی کی بنیاد قرار دیتے ہیں۔ محمد ارسلان ہمیشہ نوجوانوں کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ وہ محنت، لگن اور مستقل مزاجی کے ذریعے دنیا بھر میں بلوچستان اور پاکستان کا نام روشن کرسکتے ہیں۔ یہ بات بھی حقیقت ہے کہ محکمہ کھیل و ثقافت بلوچستان میں مثبت تبدیلی، فعالیت اور نوجوان دوست پالیسیوں کے پیچھے سیکرٹری کھیل و ثقافت بلوچستان درا بلوچ کا وڑن نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ درا بلوچ ایک قابل، متحرک، وڑنری اور نوجوان دوست بیوروکریٹ کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ انہوں نے کھیلوں کے فروغ، نوجوانوں کی حوصلہ افزائی اور کھیلوں کے میدانوں کی بحالی کیلئے اہم اقدامات کیے۔ ان کی قیادت میں محکمہ کھیل و ثقافت بلوچستان نے نئی سمت اختیار کی ہے۔ ایسے افسران کی حوصلہ افزائی کی گئی جو عملی میدان میں رہ کر نوجوانوں کیلئے کام کررہے ہیں۔ محمد ارسلان جیسے افسران دراصل درا بلوچ کے اسی وڑن کی عملی تصویر ہیں۔ اسی طرح صوبائی مشیر کھیل و ثقافت بلوچستان محترمہ مینا مجید بلوچ بھی کھیلوں اور ثقافتی سرگرمیوں کے فروغ کیلئے نمایاں کردار ادا کررہی ہیں۔ محترمہ مینا مجید بلوچ نوجوانوں خصوصاً خواتین کو کھیلوں کی طرف راغب کرنے کیلئے سنجیدہ اقدامات کررہی ہیں۔ ان کا وڑن واضح ہے کہ بلوچستان کے نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کی طرف لاکر ایک صحت مند، تعلیم یافتہ اور ترقی یافتہ معاشرہ تشکیل دیا جائے۔ خواتین کھیلوں کے فروغ کیلئے ان کی خصوصی دلچسپی اور اقدامات قابل تحسین ہیں۔ محمد ارسلان جیسے افسران ان کے وڑن کو عملی کامیابی میں تبدیل کرنے کیلئے دن رات محنت کررہے ہیں۔آج بلوچستان کے نوجوان جس اعتماد، جوش، جذبے اور امید کے ساتھ کھیلوں کے میدانوں کی طرف آرہے ہیں اس میں محمد ارسلان کی شب و روز محنت، خلوص، عوام دوست سوچ اور عملی اقدامات کا بڑا کردار شامل ہے۔ وہ صرف
ایک سرکاری افسر نہیں بلکہ نوجوان نسل کیلئے امید، حوصلے، خدمت، محبت اور مثبت تبدیلی کی علامت بن چکے ہیں۔ ان کی شخصیت اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر نیت خالص، سوچ مثبت اور جذبہ سچا ہو تو محدود وسائل کے باوجود بھی معاشرے میں بڑی تبدیلی لائی جاسکتی ہے۔ بلوچستان کے نوجوان آج جس طرح کھیلوں کے میدانوں میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کررہے ہیں، اس میں محمد ارسلان جیسے مخلص اور باصلاحیت افراد کی محنت اور قربانیاں شامل ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسے دیانتدار، قابل، محنتی اور نوجوان دوست افسران کی حوصلہ افزائی کی جائے تاکہ بلوچستان میں کھیلوں کا فروغ مزید تیزی سے جاری رہے، نوجوان نسل منفی سرگرمیوں سے دور ہو، کھیلوں کے میدان آباد ہوں اور صوبہ ترقی، امن، خوشحالی اور مثبت سرگرمیوں کی نئی منزلوں کی طرف گامزن ہوسکے

کھیلوں کے فروغ میں کھیل و ثقافت ڈسٹرکٹ کوئٹہ کا مثالی کردار

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us