Banner

عالمی بارڈر مینجمنٹ

Share

Share This Post

or copy the link

صحافت منظرنامہ
عالمی بارڈر مینجمنٹ

قارئین صحافت ۔ عالمی منظر نامے میں جغرافیائی سرحدیں محض دو ریاستوں کی تقسیم کا نشان نہیں بلکہ قومی معیشت، سماجی ہم آہنگی اور بین الاقوامی تعلقات کی شہ رگ ہوتی ہیں۔ جدید دنیا میں بارڈرز کو “بند دیوار” کے بجائے “اقتصادی گیٹ وے” کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جہاں قانونی آمدورفت اور تجارت سے ممالک اپنی جی ڈی پی میں اربوں ڈالر کا اضافہ کرتے ہیں۔ یورپی یونین کی مثال ہمارے سامنے ہے، جہاں شینگن معاہدے کے تحت سرحدیں مکمل طور پر کھلی ہیں، جس نے پورے خطے کو ایک واحد مارکیٹ میں بدل دیا ہے اور مال و دولت کی بلا تعطل ترسیل نے یورپ کو معاشی استحکام بخشا ہے۔ اسی طرح امریکہ اور کینیڈا کی سرحد دنیا کی طویل ترین غیر محفوظ (Unmilitarized) سرحد ہے، جس پر روزانہ کروڑوں ڈالر کی تجارت ہوتی ہے اور دونوں ممالک اس سے قانونی ٹیکسز اور محصولات کی صورت میں منافع حاصل کرتے ہیں۔ آسیان ممالک اور خلیجی تعاون کونسل (GCC) بھی اپنے سرحدی نظام کو ڈیجیٹلائزیشن اور نرم پالیسیوں کے ذریعے منافع بخش بنا رہے ہیں، جہاں اسمگلنگ کے بجائے قانونی تجارت کو فروغ دے کر ریاست کے خزانے بھرے جاتے ہیں۔ عالمی حالات کے مطابق ایک کامیاب سرحد وہ ہے جو سکیورٹی پر سمجھوتہ کیے بغیر تجارت کے لیے ہموار راستہ فراہم کرے، مگر بدقسمتی سے پاک افغان سرحد (ڈیورنڈ لائن) اس عالمی رجحان کے برعکس ایک مسلسل بحران کی تصویر پیش کرتی ہے۔پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد کی بار بار بندش دونوں ممالک کی معیشتوں کے لیے زہرِ قاتل ثابت ہو رہی ہے۔ جہاں دنیا کے دیگر ممالک اپنے بارڈرز سے قانونی منافع کماتے ہیں، وہاں پاک افغان سرحد پر سکیورٹی خدشات، دہشت گردی کے خطرات اور سیاسی عدم اعتماد نے تجارت کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ سال 2026 کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، سرحد کی بندش سے پاکستانی برآمدات میں 50 فیصد سے زائد کی کمی واقع ہوئی ہے اور چمن و تورخم جیسے اہم تجارتی مراکز پر ہزاروں کنٹینرز کی موجودگی سے یومیہ لاکھوں ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے۔ افغانستان کا ٹرانزٹ ٹریڈ جو کبھی پاکستان کے لیے زرمبادلہ کا بڑا ذریعہ تھا، اب سرحدوں کی غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے ایران اور وسطی ایشیا کی طرف منتقل ہو رہا ہے، جس سے پاکستان کو ملنے والے پورٹ ہینڈلنگ، ٹرانسپورٹیشن اور کسٹمز ڈیوٹی کے محصولات تیزی سے گر رہے ہیں۔ عالمی سطح پر بارڈرز کو منافع بخش بنانے کے لیے “انٹیگریٹڈ بارڈر مینجمنٹ” کا تصور رائج ہے، جس میں سمارٹ کارڈز، بائیومیٹرک اسکیننگ اور الیکٹرانک ڈیٹا کے ذریعے سکیورٹی اور تجارت کو الگ الگ ٹریکس پر چلایا جاتا ہے، تاکہ سکیورٹی آپریشنز کے دوران معاشی پہیہ جام نہ ہو۔پاک افغان سرحد پر مستقل استحکام کے لیے ضروری ہے کہ اسے محض سکیورٹی لائن کے بجائے ایک “اکنامک کوریڈور” کے طور پر منظم کیا جائے۔ جب تک سرحدوں پر قانونی تجارت کے راستے بند رہیں گے، غیر قانونی اسمگلنگ اور کالی معیشت کو فروغ ملتا رہے گا، جس کا نقصان بالآخر ریاست کو ہی ہوتا ہے۔ عالمی تجربات بتاتے ہیں کہ معاشی وابستگی ہی سیاسی تناؤ کو کم کرنے کا بہترین طریقہ ہے۔ اگر پاکستان اور افغانستان اپنے سرحدی انتظام کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس کریں اور تجارت کو سیاسی و عسکری اتار چڑھاؤ سے الگ رکھیں، تو یہ سرحد وسطی ایشیا تک رسائی کا وہ عظیم شاہراہ بن سکتی ہے جو پورے خطے کی تقدیر بدل دے گی۔ عالمی معیار کا تقاضا یہی ہے کہ ریاستیں سرحدوں پر دیواریں کھڑی کرنے کے بجائے ایسے پل تعمیر کریں جہاں سے قانون کی حکمرانی اور منافع بخش تجارت کا راستہ نکل سکے۔ سرحدوں کا کھلا ہونا کمزوری نہیں بلکہ معاشی طاقت کی علامت ہے، بشرطیکہ اسے ایک مربوط اور قانونی فریم ورک کے تحت چلایا جائے جیسا کہ آج کی ترقی یافتہ دنیا کر رہی ہے۔

عالمی بارڈر مینجمنٹ

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us