Banner

بلوچستان میں پرنٹ میڈیا کا مستقبل — ڈیجیٹل پالیسی یا معاشی قتل؟

Share

Share This Post

or copy the link

بلوچستان میں پرنٹ میڈیا کا مستقبل ، ڈیجیٹل پالیسی یا معاشی قتل؟
تحریر: چوہدری شبیر احمد

بلوچستان حکومت کی جانب سے الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پالیسی متعارف کرانے کی خبریں صوبے کے صحافتی حلقوں میں تشویش کے ساتھ دیکھی جا رہی ہیں۔ جدید دور میں سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں، مگر اصل سوال یہ ہے کہ کیا ڈیجیٹلائزیشن کے نام پر پرنٹ میڈیا کو کمزور کرنا دانشمندانہ فیصلہ ہوگا؟ کیا ایک ایسے صوبے میں، جہاں پہلے ہی بے روزگاری اور معاشی مشکلات سنگین صورت اختیار کر چکی ہیں، وہاں ہزاروں لوگوں کے روزگار کو مزید خطرے میں ڈالنا درست حکمت عملی سمجھی جا سکتی ہے؟

یہ حقیقت ہے کہ دنیا تیزی سے ڈیجیٹل دور میں داخل ہو رہی ہے۔ معلومات کی ترسیل کے انداز بدل چکے ہیں اور سوشل میڈیا نے خبر رسانی کو فوری اور تیز تر بنا دیا ہے۔ لیکن دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کا ماڈل یہ نہیں کہ روایتی میڈیا کو ختم کر کے صرف ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر انحصار کیا جائے۔ آج بھی امریکہ، برطانیہ، یورپ اور خطے کے کئی ممالک میں اخبارات ریاست، عوام اور اداروں کے درمیان ایک سنجیدہ اور معتبر رابطے کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ وہاں پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا ایک دوسرے کے متبادل نہیں بلکہ ایک دوسرے کے معاون سمجھے جاتے ہیں۔
پاکستان کے دیگر صوبوں میں بھی یہی پالیسی اپنائی گئی ہے۔ پنجاب، سندھ اور خیبرپختونخوا میں حکومتیں پرنٹ میڈیا کے اشتہارات اور بجٹ برقرار رکھے ہوئے ہیں، بلکہ کئی مواقع پر ان میں اضافہ بھی کیا گیا تاکہ صحافتی ادارے معاشی طور پر مستحکم رہ سکیں۔ اگر دیگر صوبے دونوں نظاموں کو متوازن انداز میں چلا سکتے ہیں تو بلوچستان میں ایسا کیوں ممکن نہیں؟

اصل مسئلہ سوشل میڈیا یا الیکٹرانک میڈیا کی مخالفت نہیں۔ کوئی بھی سنجیدہ حلقہ جدید میڈیا کے خلاف نہیں ہو سکتا۔ نوجوان نسل کا رجحان ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی طرف بڑھ رہا ہے اور حکومت اگر اس شعبے میں سرمایہ کاری کرنا چاہتی ہے تو یہ خوش آئند اقدام ہے۔ لیکن مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب یہ تاثر سامنے آئے کہ پرنٹ میڈیا کو پس منظر میں دھکیل کر تمام وسائل صرف ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو منتقل کیے جائیں گے۔ ایسا فیصلہ نہ صرف صحافتی اداروں بلکہ ہزاروں خاندانوں کے لیے معاشی بحران پیدا کر سکتا ہے۔

بلوچستان میں پہلے ہی کئی اخبارات شدید مالی مشکلات کا شکار ہیں۔ نیوز پرنٹ کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ، پرنٹنگ اخراجات، بجلی کے بڑھتے ہوئے بل، ٹرانسپورٹ اور دیگر مالی دباؤ نے اخبارات چلانا مشکل بنا دیا ہے۔ ایسے حالات میں اگر حکومتی اشتہارات یا بجٹ میں کمی کی گئی تو چھوٹے اور درمیانے درجے کے اخبارات کے لیے اپنی بقا برقرار رکھنا تقریباً ناممکن ہو جائے گا۔ اس کا براہِ راست اثر رپورٹرز، سب ایڈیٹرز، کمپوزرز، ڈسٹری بیوٹرز، پریس ورکرز اور ان سے وابستہ ہزاروں خاندانوں پر پڑے گا۔

جمہوری حکومتوں کی ذمہ داری صرف نئی پالیسیاں بنانا نہیں بلکہ روزگار کے مواقع کو تحفظ دینا بھی ہوتی ہے۔ اگر حکومت واقعی جدید میڈیا کو فروغ دینا چاہتی ہے تو اس کے لیے الگ بجٹ مختص کیا جائے۔ سوشل میڈیا کے لیے علیحدہ پالیسی بنائی جائے، نوجوانوں کو ڈیجیٹل جرنلزم کی تربیت دی جائے اور نئے میڈیا پلیٹ فارمز کی حوصلہ افزائی کی جائے، لیکن اس سب کی قیمت پرنٹ میڈیا کے وجود کو کمزور کر کے ادا نہیں کی جانی چاہیے۔

بلوچستان جیسے وسیع اور پسماندہ صوبے میں آج بھی پرنٹ میڈیا کی اہمیت برقرار ہے۔ صوبے کے کئی دور دراز علاقوں میں انٹرنیٹ کی سہولیات محدود ہیں، جبکہ ہر شہری کے پاس اسمارٹ فون یا ڈیجیٹل رسائی موجود نہیں۔ ایسے میں اخبارات ہی عوام تک سرکاری پالیسیوں، ترقیاتی منصوبوں اور زمینی حقائق کو پہنچانے کا اہم ذریعہ بنتے ہیں۔ اگر پرنٹ میڈیا کمزور ہوگا تو اس کا نقصان صرف صحافیوں کو نہیں بلکہ پورے معاشرے کو ہوگا۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سوشل میڈیا کی رفتار جتنی تیز ہے، اتنے ہی خطرات بھی اس سے وابستہ ہیں۔ غیر مصدقہ اطلاعات، فیک نیوز اور پروپیگنڈا آج پوری دنیا کے لیے ایک چیلنج بن چکے ہیں۔ اس کے مقابلے میں پرنٹ میڈیا ادارتی پالیسی، صحافتی اصولوں اور قانونی ذمہ داری کے تحت کام کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سنجیدہ حلقے آج بھی اخبارات کو معتبر ذریعہ معلومات تصور کرتے ہیں۔

بلوچستان حکومت کو چاہیے کہ میڈیا پالیسی بناتے وقت تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے۔ اخبارات کے مالکان، سینئر صحافیوں، پریس کلبز اور میڈیا ورکرز سے مشاورت کی جائے تاکہ ایسی متوازن پالیسی سامنے آئے جو جدید تقاضوں کو بھی پورا کرے اور موجودہ صحافتی ڈھانچے کو بھی محفوظ رکھے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ بلوچستان میں پرنٹ میڈیا اور سوشل میڈیا دونوں کو ساتھ لے کر چلایا جائے۔ پرنٹ میڈیا کے حقوق، اشتہارات اور بجٹ کو تحفظ دیا جائے جبکہ ڈیجیٹل میڈیا کے لیے علیحدہ فنڈنگ اور فریم ورک تشکیل دیا جائے۔ یہی متوازن راستہ صحافت، روزگار اور جمہوری اقدار کے تحفظ کی ضمانت بن سکتا ہے۔ کیونکہ اگر اخبارات کمزور ہوئے تو صرف ادارے متاثر نہیں ہوں گے بلکہ ہزاروں گھروں کے چراغ بھی مدھم پڑ جائیں گے۔

بلوچستان میں پرنٹ میڈیا کا مستقبل — ڈیجیٹل پالیسی یا معاشی قتل؟

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us