Banner

میرا پختہ یقین ہے کہ حقیقی کامیابی انفرادی نہیں اجتماعی ہوتی ہے،حفصہ ممتاز

Share

Share This Post

or copy the link

میرا پختہ یقین ہے کہ حقیقی کامیابی انفرادی نہیں اجتماعی ہوتی ہے،حفصہ ممتاز

یوتھ کو درپیش مسائل و مشکلات حل کرنے میں حکومت وقت اہم کردار ادا کریں۔میڈیا سے گفتگو

اسلام آباد(نمائندہ خصوصی)گلوبل ٹائمز میڈیا یورپ کے مطابق حفظہ ممتاز، 15 سالہ فرسٹ ایئر کی طالبہ ہے، اور ایک نوجوان ایکٹیوسٹ کے طور پر بچوں کے حقوق، نوجوانوں کی بااختیاری اور ماحولیاتی تبدیلی (کلائمٹ ایکشن) کے شعبوں میں کام کر رہی ہے۔ ایک چائلڈ، یوتھ، کلائمٹ ایڈووکیٹ اور ایمبیسیڈر ہے، اور ساتھ ہی ایک سوشل ورکر بھی ہے۔ تعلق پاکستان سے ہے اور ایک ایسے سادہ مگر پُرعزم پس منظر سے ہے جہاں وسائل محدود تھے، لیکن خواب، وژن اور حوصلہ بےحد مضبوط تھے انہوں نے اپنی سماجی خدمات کا آغاز صرف 10 سال کی عمر میں کیا، اس گہرے عزم کے ساتھ کہ میں ان بچوں کی آواز بن سکوں گی جنہیں اکثر سنا نہیں جاتا، اور اپنے معاشرے میں ایک مثبت، دیرپا تبدیلی کی بنیاد رکھ سکوں گی۔وسائل کی کمی کی وجہ سے انہوں نے گورنمنٹ سکول میں تعلیم حاصل کی لیکن محنت، مستقل مزاجی اور لگن نے کبھی رکنے نہیں دیا۔ اسی عزم کے ساتھ انہوں نے میٹرک کے امتحان میں تحصیل کی سطح پر گورنمنٹ گرلز سکولز میں اول پوزیشن حاصل کی، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ حالات انسان کی صلاحیتوں کا تعین نہیں کر سکتے۔تعلیم کے ساتھ ساتھ انہوں نے اپنی قائدانہ صلاحیتوں کو بھی مسلسل نکھارا اور اس وقت کئی نمایاں اداروں سے وابستہ ہے۔اس وقت وہ یونیسف, نیشنل کمیشن آن رائٹس آف چائلڈ, پاکستان نیشنل یوتھ پارلیمنٹ میں یوتھ MPA, یوتھ جنرل اسمبلی کی ممبر, اور Kinder Not Hifle اور Group Development Pakistan کے ساتھ منسلک ہے۔اس وقت 23 لوکل، نیشنل اور انٹرنیشنل آرگنائزیشنز کے ساتھ کام کر رہی ہے۔انہوں نے کلائمٹ ایکشن کے شعبے میں بھی بامعنی کردار ادا کیا ہے۔انہوں نے مختلف اداروں سے کلائمٹ چینج سے متعلق کورسز مکمل کیے، اور ایک کلائمٹ چینج ڈاکومنٹری تیار کرکے ضلعی سطح پر پیش کی جس میں میں نے اول پوزیشن حاصل کی۔اسی طرح انہوں نے اپنے علاقے میں چائلڈ پروٹیکشن سے متعلق ایک آن لائن سروے کیا اور اس پر دوسری ڈاکومنٹری تیار کر کے ضلعی سطح پر پیش کی جس میں انہوں نے تھرڈ پوزیشن حاصل کی۔پچھلے 14 مہینوں میں انہوں نے اپنی کمیونٹی، تحصیل، ڈسٹرکٹ اور نیشنل سطح پر 70 سے زائد عملی سرگرمیاں مکمل کی ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے مختلف نیشنل اور انٹرنیشنل دنوں پر اپنی اور بچوں کی 50 ویڈیوز ریکارڈ کرکے سوشل میڈیا پر بھی شیئر کیں، تاکہ آگاہی اور مثبت تبدیلی کو فروغ دیا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ میرا کام صرف عملی سرگرمیوں تک محدود نہیں بلکہ میں آن لائن سیشنز بھی کنڈکٹ کرتی ہوں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے ایک گروپ بنایا ہے جس کا نام “خواب سے حقیقت تک” ہے، جس میں میری اپنی کمیونٹی اور دیگر کمیونٹیز کی خواتین اور لڑکیاں شامل ہیں۔ میں اس پلیٹ فارم پر آن لائن سیشنز کے ذریعے ان کی رہنمائی، حوصلہ افزائی اور شخصیت سازی کرتی ہوں۔انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے بہاف پہ ایک سول آرگنائزیشن قائم کی ہوئی ہے جس کا نام “راہِ انسانیت” ہے۔ اسی کے تحت میں نے ایک گھر کو فری آف کاسٹ چائلڈ رائٹس اور سوشل ایکٹیویٹیز سینٹر کے طور پر وقف کیا ہوا ہے۔اس گھر کے تمام اخراجات میں خود برداشت کرتی ہوں۔یہاں میں اپنی مختلف این جی اوز کے ساتھ مل کر لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے عملی کورسز کرواتی ہوں جن میں بیوٹیشن، سلائی کڑھائی، بیوٹی پارلر، کمپیوٹر کورسز، اور پلمبرنگ جیسے ہنر شامل ہیں، تا کہ نوجوان صرف خواب نہ دیکھیں بلکہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہو سکیں۔ اس کے علاوہ میں بچوں کو بکس، بیگ، یونیفارم اور بہت سی بنیادی چیزوں کے ساتھ ساتھ ان کی مالی معاونت بھی فراہم کرتی ہوں۔انہوں نے کہا کہ میں ایک ڈیبیٹر، پریزنٹر اور لیکچرار ہوں، متعدد مقابلہ جات جیت چکی ہوں اور قومی سطح پر اپنی شناخت قائم کر چکی ہوں، جہاں میں نے نہ صرف اپنی صلاحیتوں کا اظہار کیا بلکہ اپنے اداروں کی آواز کو ایک مضبوط، باوقار اور مؤثر انداز میں پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے میڈیا کے ذریعے آواز بلند کی، اہم میٹنگز میں فعال کردار ادا کیا، اور بچوں کے حقوق، تعلیم، ماحولیاتی آگاہی اور نوجوانوں کی بااختیاری کے لیے مسلسل کام کیا۔2025 خیبرپختونخوا کے فلڈ کے دوران میں نے فنڈ ریزنگ مہمات چلائیں اور امداد متاثرہ لوگوں تک پہنچائی۔ میں نے اپنے علاقے کے یتیم خانوں میں جا کر بچوں کی مدد اور حوصلہ افزائی بھی کی۔میں نے اپنے سکول کو اپنی لیڈرشپ کے ذریعے ڈسٹرکٹ لیول تک پہنچایا، اور میں Special Olympics Pakistan Hockey (Second Category) میں نیشنل لیول پر سلیکٹ بھی ہوئی ہوں۔میں نے اپنے سفر میں ان گنت سرٹیفکیٹس بھی حاصل کیے ہیں جو میری محنت، استقامت اور مسلسل سیکھنے کے جذبے کی گہری عکاسی کرتے ہیں۔
میرا پختہ یقین ہے کہ حقیقی کامیابی انفرادی نہیں بلکہ اجتماعی ہوتی ہے۔ ایک پسماندہ علاقے سے تعلق رکھنے کے باوجود مجھے فخر ہے کہ میری رہنمائی میں دو بچیاں آج نیشنل لیول پر اپنی پہچان بنا رہی ہیں۔میرا خواب ہے کہ میں اس سفر کو بین الاقوامی سطح تک لے کر جاؤں اور پاکستان کی نمائندگی کروں، اور ایک ایسے مستقبل کے لیے کام کروں جہاں ہر بچہ اور نوجوان—خصوصاً پسماندہ طبقے سے تعلق رکھنے والے—برابر مواقع کے ساتھ آگے بڑھ سکیں، قیادت کر سکیں اور کامیاب ہو سکیں۔

میرا پختہ یقین ہے کہ حقیقی کامیابی انفرادی نہیں اجتماعی ہوتی ہے،حفصہ ممتاز

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us