Banner

بروقت شادی کی اہمیت اور معاشرتی حقیقت

Share

Share This Post

or copy the link

تحریر
شاھین اختر حسین

ہمارے معاشرے میں ایک بہت بڑا المیہ یہ بن چکا ہے کہ والدین اپنی بیٹیوں کے لیے “بہترین” رشتے کی تلاش میں ان کی عمر گزار دیتے ہیں۔ کبھی دولت دیکھی جاتی ہے، کبھی خاندان، کبھی بیرونِ ملک کا خواب، کبھی معیارِ زندگی۔ اسی تلاش میں وہ عمر گزر جاتی ہے جو قدرت نے عورت اور مرد دونوں کے لیے شادی، جذباتی سکون اور خاندان بنانے کے لیے مقرر کی ہوتی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کے جسم کو ایک خاص نظام کے تحت بنایا ہے۔ جب لڑکا اور لڑکی بلوغت کی عمر میں داخل ہوتے ہیں تو ان کے جسم میں ہارمونز پیدا ہونا شروع ہوتے ہیں۔ یہی ہارمونز انسان کے جذبات، سوچ، جسمانی ضرورت اور ذہنی کیفیت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ یہ فطری عمل ہے جسے نہ روکا جا سکتا ہے اور نہ نظر انداز کیا جا سکتا ہے۔
شادی صرف ایک رسم یا سماجی معاہدہ نہیں بلکہ انسان کی جسمانی، ذہنی اور جذباتی ضرورت ہے۔ قدرت نے مرد اور عورت کے اندر ایک دوسرے کی کشش، محبت، سکون اور قربت کی خواہش رکھی ہے۔ اگر ان فطری جذبات کو صحیح وقت پر جائز راستہ نہ ملے تو انسان کے اندر بے چینی، چڑچڑاپن، ذہنی دباؤ، ڈپریشن اور غیر متوازن رویے پیدا ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔
اکثر ہمارے معاشرے میں جب کوئی لڑکی یا لڑکا غیر معمولی ذہنی دباؤ، بے چینی یا غیر متوازن رویے کا شکار ہوتا ہے تو لوگ فوراً اسے جادو، بندش یا اثرات کا نام دے دیتے ہیں، حالانکہ بہت سی صورتوں میں اصل مسئلہ ذہنی اور ہارمونل عدم توازن ہوتا ہے۔ دماغ انسان کے پورے جسم کو کنٹرول کرتا ہے، اور جب جسمانی و جذباتی ضروریات مسلسل دبائی جائیں تو دماغ کی کارکردگی متاثر ہونے لگتی ہے۔
اسلام نے اسی لیے نکاح کو آسان بنانے اور جلد شادی کی تلقین کی ہے۔ کیونکہ اسلام انسان کی فطرت کو سمجھتا ہے۔ قرآن اور احادیث میں بار بار پاکیزگی، نکاح اور حلال رشتے کی اہمیت بیان کی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو جس نظام کے تحت پیدا کیا، اسی کے مطابق زندگی گزارنے کی ہدایت بھی دی۔
اہم نکات
بلوغت کے بعد جسم میں ہارمونز متحرک ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔
شادی انسان کی فطری، جذباتی اور جسمانی ضرورت ہے۔
بروقت شادی ذہنی سکون اور شخصیت کے توازن میں مدد دیتی ہے۔
جذبات کو مسلسل دبانے سے ذہنی دباؤ اور نفسیاتی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
ہر مسئلے کو جادو یا بندش سمجھ لینا درست نہیں، بعض اوقات اصل وجہ نفسیاتی اور ہارمونل ہوتی ہے۔
اسلام نے نکاح کو آسان اور جلد کرنے کی تلقین کی ہے۔
عورت کی جوانی اور ماں بننے کی ایک فطری عمر ہوتی ہے۔
بہت زیادہ تاخیر بعض اوقات جذباتی سرد مہری اور طبی مسائل پیدا کر دیتی ہے۔
اچھی زندگی صرف دولت یا اسٹیٹس سے نہیں بلکہ ذہنی سکون، محبت اور سمجھداری سے بنتی ہے۔
والدین کو “پرفیکٹ” رشتے کے انتظار میں بیٹیوں کی عمر ضائع نہیں کرنی چاہیے۔
نکاح انسان کے جذبات کو سکون، تحفظ اور مکمل ہونے کا احساس دیتا ہے۔
مضبوط خاندان ہی مضبوط معاشرے کی بنیاد ہوتے ہیں۔
اسلام آسانی، توازن اور فطرت کا دین ہے۔ اگر ہم فطری اصولوں کے خلاف چلیں گے تو اس کے اثرات فرد، خاندان اور پورے معاشرے پر ظاہر ہوں گے۔ اس لیے والدین کو چاہیے کہ وہ اپنی اولاد کی بروقت اور مناسب شادی کو ترجیح دیں، تاکہ ان کی زندگی سکون، عزت اور ذہنی توازن کے ساتھ گزر سکے۔

بروقت شادی کی اہمیت اور معاشرتی حقیقت

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us