Banner
Daily Sahafat Quetta
September 29, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
گلو شہر روڈ پر فائرنگ، پشتونخوا میپ سبی کے ضلعی صدر ڈاکٹر سید نور احمد شاہ خجک زخمیکوئٹہ بلوچستان کا چہرہ، خوبصورتی اور شہری سہولیات کی بہتری حکومت کی ذمہ داری ہے، میر سرفراز بگٹینصیرآباد میں عوامی فلاح و ترقیاتی سرگرمیوں کا سلسلہ جاری ہے، دادن خان کانگھیہکوئٹہ: سٹی سب ڈویژن میں گرانفروشی کے خلاف کارروائی، 11 افراد گرفتارہنگامی حالات میں ریسکیو 1122 کی خدمات قابلِ تحسین ہیں، کمشنر سائرہ عطاءبلوچستان میں عالمی یومِ سیاحت 2026 کی تقریب، سیاحتی امکانات، ثقافت اور علاقائی تعاون پر زورڈاکٹر راجح بن طامی البقمی پاکستان کیلئے سعودی سفیر مقرر ہونے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں،اکرام الدینمطالبات تسلیم نہ ہوئے تو سخت احتجاج پر مجبور ہوں گے، آل پارٹیز مسلم باغپرائس کنٹرول اور ترقیاتی اسکیموں کی بروقت تکمیل یقینی بنائی جائے، مہراللہ بادینیسرکاری ملازمتوں کی مبینہ خرید و فروخت کی تحقیقات کیلئے کمیٹی ایک ماہ بعد بھی غیر فعالگلو شہر روڈ پر فائرنگ، پشتونخوا میپ سبی کے ضلعی صدر ڈاکٹر سید نور احمد شاہ خجک زخمیکوئٹہ بلوچستان کا چہرہ، خوبصورتی اور شہری سہولیات کی بہتری حکومت کی ذمہ داری ہے، میر سرفراز بگٹینصیرآباد میں عوامی فلاح و ترقیاتی سرگرمیوں کا سلسلہ جاری ہے، دادن خان کانگھیہکوئٹہ: سٹی سب ڈویژن میں گرانفروشی کے خلاف کارروائی، 11 افراد گرفتارہنگامی حالات میں ریسکیو 1122 کی خدمات قابلِ تحسین ہیں، کمشنر سائرہ عطاءبلوچستان میں عالمی یومِ سیاحت 2026 کی تقریب، سیاحتی امکانات، ثقافت اور علاقائی تعاون پر زورڈاکٹر راجح بن طامی البقمی پاکستان کیلئے سعودی سفیر مقرر ہونے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں،اکرام الدینمطالبات تسلیم نہ ہوئے تو سخت احتجاج پر مجبور ہوں گے، آل پارٹیز مسلم باغپرائس کنٹرول اور ترقیاتی اسکیموں کی بروقت تکمیل یقینی بنائی جائے، مہراللہ بادینیسرکاری ملازمتوں کی مبینہ خرید و فروخت کی تحقیقات کیلئے کمیٹی ایک ماہ بعد بھی غیر فعال

بروقت شادی کی اہمیت اور معاشرتی حقیقت

تحریر
شاھین اختر حسین

ہمارے معاشرے میں ایک بہت بڑا المیہ یہ بن چکا ہے کہ والدین اپنی بیٹیوں کے لیے “بہترین” رشتے کی تلاش میں ان کی عمر گزار دیتے ہیں۔ کبھی دولت دیکھی جاتی ہے، کبھی خاندان، کبھی بیرونِ ملک کا خواب، کبھی معیارِ زندگی۔ اسی تلاش میں وہ عمر گزر جاتی ہے جو قدرت نے عورت اور مرد دونوں کے لیے شادی، جذباتی سکون اور خاندان بنانے کے لیے مقرر کی ہوتی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کے جسم کو ایک خاص نظام کے تحت بنایا ہے۔ جب لڑکا اور لڑکی بلوغت کی عمر میں داخل ہوتے ہیں تو ان کے جسم میں ہارمونز پیدا ہونا شروع ہوتے ہیں۔ یہی ہارمونز انسان کے جذبات، سوچ، جسمانی ضرورت اور ذہنی کیفیت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ یہ فطری عمل ہے جسے نہ روکا جا سکتا ہے اور نہ نظر انداز کیا جا سکتا ہے۔
شادی صرف ایک رسم یا سماجی معاہدہ نہیں بلکہ انسان کی جسمانی، ذہنی اور جذباتی ضرورت ہے۔ قدرت نے مرد اور عورت کے اندر ایک دوسرے کی کشش، محبت، سکون اور قربت کی خواہش رکھی ہے۔ اگر ان فطری جذبات کو صحیح وقت پر جائز راستہ نہ ملے تو انسان کے اندر بے چینی، چڑچڑاپن، ذہنی دباؤ، ڈپریشن اور غیر متوازن رویے پیدا ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔
اکثر ہمارے معاشرے میں جب کوئی لڑکی یا لڑکا غیر معمولی ذہنی دباؤ، بے چینی یا غیر متوازن رویے کا شکار ہوتا ہے تو لوگ فوراً اسے جادو، بندش یا اثرات کا نام دے دیتے ہیں، حالانکہ بہت سی صورتوں میں اصل مسئلہ ذہنی اور ہارمونل عدم توازن ہوتا ہے۔ دماغ انسان کے پورے جسم کو کنٹرول کرتا ہے، اور جب جسمانی و جذباتی ضروریات مسلسل دبائی جائیں تو دماغ کی کارکردگی متاثر ہونے لگتی ہے۔
اسلام نے اسی لیے نکاح کو آسان بنانے اور جلد شادی کی تلقین کی ہے۔ کیونکہ اسلام انسان کی فطرت کو سمجھتا ہے۔ قرآن اور احادیث میں بار بار پاکیزگی، نکاح اور حلال رشتے کی اہمیت بیان کی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو جس نظام کے تحت پیدا کیا، اسی کے مطابق زندگی گزارنے کی ہدایت بھی دی۔
اہم نکات
بلوغت کے بعد جسم میں ہارمونز متحرک ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔
شادی انسان کی فطری، جذباتی اور جسمانی ضرورت ہے۔
بروقت شادی ذہنی سکون اور شخصیت کے توازن میں مدد دیتی ہے۔
جذبات کو مسلسل دبانے سے ذہنی دباؤ اور نفسیاتی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
ہر مسئلے کو جادو یا بندش سمجھ لینا درست نہیں، بعض اوقات اصل وجہ نفسیاتی اور ہارمونل ہوتی ہے۔
اسلام نے نکاح کو آسان اور جلد کرنے کی تلقین کی ہے۔
عورت کی جوانی اور ماں بننے کی ایک فطری عمر ہوتی ہے۔
بہت زیادہ تاخیر بعض اوقات جذباتی سرد مہری اور طبی مسائل پیدا کر دیتی ہے۔
اچھی زندگی صرف دولت یا اسٹیٹس سے نہیں بلکہ ذہنی سکون، محبت اور سمجھداری سے بنتی ہے۔
والدین کو “پرفیکٹ” رشتے کے انتظار میں بیٹیوں کی عمر ضائع نہیں کرنی چاہیے۔
نکاح انسان کے جذبات کو سکون، تحفظ اور مکمل ہونے کا احساس دیتا ہے۔
مضبوط خاندان ہی مضبوط معاشرے کی بنیاد ہوتے ہیں۔
اسلام آسانی، توازن اور فطرت کا دین ہے۔ اگر ہم فطری اصولوں کے خلاف چلیں گے تو اس کے اثرات فرد، خاندان اور پورے معاشرے پر ظاہر ہوں گے۔ اس لیے والدین کو چاہیے کہ وہ اپنی اولاد کی بروقت اور مناسب شادی کو ترجیح دیں، تاکہ ان کی زندگی سکون، عزت اور ذہنی توازن کے ساتھ گزر سکے۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *