Banner

ٹوٹتے گھر، تنہا لوگ

Share

Share This Post

or copy the link

عنوان: ٹوٹتے گھر، تنہا لوگ
تحریر: بنتِ حوا شاہین اختر حسین
فیملی اینڈ ریلیشن شپ کنسلٹنٹ

آج کا معاشرہ ایک خاموش تبدیلی سے گزر رہا ہے، مگر اس کے اثرات نہایت گہرے اور دور رس ہیں۔ وہ گھر جو کبھی محبت، برداشت اور سکون کا مرکز ہوا کرتے تھے، آج آہستہ آہستہ ٹوٹتے جا رہے ہیں۔ طلاق اور خلع کے بڑھتے ہوئے رجحانات نے نہ صرف میاں بیوی کے تعلق کو متاثر کیا ہے بلکہ پورے خاندانی نظام کو کمزور کر دیا ہے۔

بطور فیملی اینڈ ریلیشن شپ کنسلٹنٹ میرا روزانہ کا تجربہ اس حقیقت کی تصدیق کرتا ہے کہ زیادہ تر مسائل بڑے نہیں ہوتے، بلکہ انہیں سنبھالنے کا طریقہ غلط ہوتا ہے۔ میرے پاس آنے والے جوڑوں میں اکثر مسئلہ محبت کی کمی نہیں بلکہ سمجھ، برداشت اور کمیونیکیشن کی کمی ہوتی ہے۔

میرے تجربے کے مطابق سب سے بڑی وجہ غلط توقعات ہیں۔ لوگ شادی کو ایک مثالی اور فلمی رشتہ سمجھ کر داخل ہوتے ہیں، جبکہ حقیقت میں ہر رشتہ محنت، صبر اور ایڈجسٹمنٹ مانگتا ہے۔ جب توقعات پوری نہیں ہوتیں تو مایوسی جنم لیتی ہے، اور یہی مایوسی آہستہ آہستہ فاصلے پیدا کر دیتی ہے۔

دوسری اہم وجہ انا ہے۔ آج کے تعلقات میں “میں” بہت مضبوط ہو گیا ہے اور “ہم” کمزور پڑ گیا ہے۔ معاف کرنا، جھکنا اور دوسرے کو سمجھنا کمزوری سمجھا جانے لگا ہے، حالانکہ یہی چیزیں رشتوں کو مضبوط بناتی ہیں۔

معاشی دباؤ اور مصروف طرزِ زندگی بھی اس مسئلے کو بڑھا رہے ہیں۔ میرے پاس آنے والے کئی کیسز میں میاں بیوی ایک ہی گھر میں رہتے ہوئے بھی ایک دوسرے سے جذباتی طور پر دور ہوتے ہیں۔ وقت نہ دینا، بات نہ کرنا، اور جذبات کو دبانا تعلق کو اندر سے ختم کر دیتا ہے۔

ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا نے بھی تعلقات کو غیر محسوس طریقے سے متاثر کیا ہے۔ موازنہ، شک، اور غیر ضروری روابط اعتماد کو کمزور کرتے ہیں۔ بہت سے کیسز میں مسئلہ حقیقت سے زیادہ perception کا ہوتا ہے۔

ان تمام حالات کا سب سے زیادہ اثر بچوں پر پڑتا ہے۔ بطور کاؤنسلر میں نے ایسے بچوں کو دیکھا ہے جو بظاہر ٹھیک لگتے ہیں مگر اندر سے شدید تنہائی اور عدم تحفظ کا شکار ہوتے ہیں۔ سنگل پیرنٹنگ میں پرورش پانے والے بچوں میں اکثر اعتماد کی کمی، غصہ، یا تعلقات سے خوف پیدا ہو جاتا ہے۔

اگر ہم سائنسی نقطہ نظر سے دیکھیں تو ہر کامیاب رشتہ compatibility پر کھڑا ہوتا ہے۔ Compatibility صرف پسند یا محبت کا نام نہیں بلکہ مزاج، سوچ، جذباتی ضروریات اور زندگی کے مقاصد کی ہم آہنگی کا نام ہے۔

حل موجود ہے، مگر اس کے لیے سنجیدہ رویہ درکار ہے۔ سب سے پہلے ہمیں یہ سیکھنا ہوگا کہ رشتہ ایک ذمہ داری ہے، صرف احساس نہیں۔ شادی سے پہلے pre-marital counseling کو عام کرنا چاہیے تاکہ لوگ خود کو اور اپنے پارٹنر کو بہتر سمجھ سکیں۔

اسی طرح، شادی کے بعد بھی کاؤنسلنگ کو مسئلہ نہیں بلکہ سہارا سمجھنا چاہیے۔ جیسے ہم جسمانی بیماری کے لیے ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں، ویسے ہی تعلقات کے لیے بھی رہنمائی لینا ایک مثبت قدم ہے۔

خاندان کے بزرگوں کو بھی اپنا کردار بدلنا ہوگا۔ انہیں فیصلے سنانے کے بجائے سمجھنے اور جوڑنے والا کردار ادا کرنا ہوگا۔ جبکہ میاں بیوی کو ایک دوسرے کے لیے وقت نکالنا، سننا، اور چھوٹی باتوں کو نظر انداز کرنا سیکھنا ہوگا۔

آخر میں، یہ بات بہت واضح ہے کہ مضبوط خاندان خود بخود نہیں بنتے، انہیں بنایا جاتا ہے۔ اگر ہم نے آج اپنے رشتوں پر کام نہ کیا تو کل ہمیں ایک ایسا معاشرہ ملے گا جہاں لوگ ساتھ ہوں گے مگر پھر بھی تنہا ہوں گے۔

ٹوٹتے گھر، تنہا لوگ

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us