Banner

تاریخی تسلسل میں مسلمانوں کیخلاف انسانیت سوز اقدامات

Share

Share This Post

or copy the link

صحافت منظر نامہ

تاریخی تسلسل میں مسلمانوں کیخلاف انسانیت سوز اقدامات

قارئینِ صحافت ۔تاریخ انسانی کے اوراق ایسے دردناک اور افسوسناک واقعات سے بھرے پڑے ہیں جہاں مسلمانوں کو محض ان کی مذہبی اور تہذیبی شناخت کی بنیاد پر ظلم و ستم کا نشانہ بنایا گیا اور طاقت کے نشے میں چور عالمی قوتوں نے ان مظالم پر خاموشی اختیار کی۔ اگر آج کے دور میں غزہ کی نسل کشی کا جائزہ لیا جائے تو یہ کسی ایک دن کا واقعہ نہیں، بلکہ یہ اس طویل تاریخی تسلسل کی ایک کڑی ہے جو صدیوں سے مسلمانوں کے خلاف جاری ہے۔ اس تاریخی منظر نامے کا آغاز اسپین میں سقوطِ غرناطہ سے ہوتا ہے، جب اندلس میں مسلمانوں کی آٹھ سو سالہ تہذیب کو مٹا کر انہیں جبری تبدیلی مذہب یا جلاوطنی کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کے گھروں کو جلایا گیا اور ایک شاندار علمی و ثقافتی ورثے کو راکھ کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا گیا، جس پر آج بھی تاریخ آنسو بہاتی ہے۔اس کے بعد بیسویں صدی کے آغاز میں بلقان کی جنگوں اور سلطنتِ عثمانیہ کے زوال کے وقت مسلمانوں کی نسل کشی کا ایک اور ہولناک باب رقم ہوا۔ لاکھوں مسلمانوں کو ان کے آبائی علاقوں سے بے دخل کیا گیا اور بے دریغ قتل عام کیا گیا۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد بوسنیا اور کوسوو کے المیے نے اس بات کو ثابت کر دیا کہ یورپی سرزمین پرمسلمانوں کا وجود عالمی ضمیر کے لیے ہمیشہ سے ایک ناگوار حقیقت رہا ہے۔ بوسنیا کی جنگ میں سرب افواج کی جانب سے مسلمانوں کا منظم قتل عام اور سربرینیتسا کا سانحہ اس بات کی جیتی جاگتی مثال ہے کہ کس طرح عالمی برادری نے ہاتھ پر ہاتھ دھرے رکھا اور ہزاروں معصوم انسانوں کو موت کے منہ میں دھکیل دیا گیا۔ اس دوران عالمی اداروں کی خاموشی نے مظلوموں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کا کام کیا۔مشرق وسطیٰ میں فلسطین کا مسئلہ پچھلی سات دہائیوں سے مسلسل جاری ایک ایسے المیے کی تصویر پیش کرتا ہے جہاں عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔ غزہ کی موجودہ نسل کشی اسی طویل استحصال اور ظلم کا جدید ترین اور بدترین روپ ہے۔ آج کے جدید دور میں جب انسانی حقوق کے تحفظ کے دعوے کیے جاتے ہیں، غزہ کی پٹی پر جدید ترین ہتھیاروں کی بارش کر کے ہزاروں معصوم بچوں، خواتین اور بزرگوں کو شہید کیا جا رہا ہے، ہسپتالوں اور پناہ گزین کیمپوں کو تباہ کیا جا رہا ہے، اور بنیادی ضروریات زندگی یعنی خوراک اور پانی تک کی فراہمی روک دی گئی ہے۔ یہ سب کچھ عالمی طاقتوں کی کھلی آشیرباد اور خاموش تماشائی بننے کی روش کے تحت ہو رہا ہے۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں کی بے بسی نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ عالمی انصاف کے پیمانے ہر خطے اور ہر مذہب کے لیے یکساں نہیں ہیں۔اسی طرح میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف ہونے والے مظالم اور چین کے صوبے سنکیانگ میں مسلمانوں کی ثقافتی اور مذہبی شناخت کو مٹانے کی کوششیں اسی تاریخی تسلسل کا حصہ ہیں۔ روہنگیا مسلمانوں کو ان کے گھروں سے نکال کر سمندروں میں دھکیل دیا گیا اور ان پر بدترین تشدد کیا گیا، لیکن عالمی دنیا نے معاشی اور سیاسی مفادات کی خاطر ان کے دکھ درد کو نظر انداز کر دیا۔ تاریخی طور پر جب بھی مسلمانوں کیخلاف ایسے اقدامات کیے گئے ہیں، اس کے پیچھے ہمیشہ زمین پر قبضے، وسائل کی لوٹ مار اور تہذیبی برتری کی خواہش کارفرما رہی ہے۔ آج کے عالمی منظر نامے میں اگر انسانیت کو بچانا ہے اور غزہ جیسے واقعات کو دہرانے سے روکنا ہے، تو دنیا کو دوہرے معیارات ترک کر کے تمام انسانوں کے بنیادی حقوق کے لیے یکساں اور غیر جانبدارانہ موقف اختیار کرنا ہوگا۔ بصورتِ دیگر، تاریخ کا یہ افسوسناک تسلسل اسی طرح انسانیت کے دامن کو داغدار کرتا رہے گا اور عالمی امن کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکے گا۔

تاریخی تسلسل میں مسلمانوں کیخلاف انسانیت سوز اقدامات

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us