Banner

عالمی یوم صحافت، اور بلوچستان کے اخبارات کو تختہ دار پر چڑھانے کی

Share

Share This Post

or copy the link

عالمی یوم صحافت،
اور بلوچستان کے اخبارات
کو تختہ دار پر چڑھانے کی
تیاریاں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر/ قیوم بلوچ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عالمی یومِ صحافت اس عہد کی یاد دہانی ہے جس میں قلم کو ضمیر کی آواز سمجھا جاتا ہے، خبر کو امانت اور سچ کو عبادت کا درجہ دیا جاتا ہے، یہ وہ دن ہے جب دنیا بھر میں صحافیوں کی قربانیوں، ان کی جدوجہد، ان کے عزم اور ان کی استقامت کو خراجِ تحسین پیش کیا جاتا ہے، مگر بلوچستان کے تناظر میں یہ دن ایک تلخ حقیقت کا آئینہ دار بھی بن چکا ہے، جہاں صحافت کو مضبوط کرنے کے بجائے اسے کمزور کرنے، محدود کرنے اور بتدریج ختم کرنے کی سمت میں اقدامات کیے جا رہے ہیں، اور اس پورے عمل کو ایک متنازعہ ڈیجیٹل میڈیا پالیسی کے ذریعے جواز فراہم کیا جا رہا ہے، بظاہر اس پالیسی کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ قرار دیا جا رہا ہے، مگر اس کے پسِ پردہ جو حقائق چھپے ہوئے ہیں وہ نہایت تشویشناک ہیں، کیونکہ یہ پالیسی دراصل پرنٹ میڈیا کو معاشی طور پر مفلوج کرنے، اسے اشتہارات سے محروم کرنے اور بالآخر اسے ختم کرنے کی راہ ہموار کرتی دکھائی دیتی ہے۔ بلوچستان میں پرنٹ میڈیا کی حیثیت کسی ایک شعبے یا ادارے تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک مکمل نظام، ایک صنعت اور ایک فکری تحریک کی صورت میں موجود ہے، ایک اخبار کی اشاعت کے پیچھے صرف ایک صحافی یا ایک ایڈیٹر نہیں بلکہ درجنوں نہیں بلکہ سینکڑوں افراد کی محنت شامل ہوتی ہے، رپورٹرز جو دن رات میدان میں رہ کر خبریں جمع کرتے ہیں، سب ایڈیٹرز جو ان خبروں کو ترتیب دیتے ہیں، ایڈیٹرز جو ادارتی پالیسی طے کرتے ہیں، کمپوزرز اور ڈیزائنرز جو اسے اشاعتی شکل دیتے ہیں، پرنٹنگ پریس کے مزدور جو اسے کاغذ پر منتقل کرتے ہیں، سرکولیشن اسٹاف اور ڈسٹری بیوٹرز جو اسے دور دراز علاقوں تک پہنچاتے ہیں، اور وہ اخبار فروش جو صبح سویرے گلیوں، بازاروں اور چوراہوں پر کھڑے ہو کر عوام تک یہ خبریں پہنچاتے ہیں، یہ سب مل کر ایک ایسا نظام تشکیل دیتے ہیں جو معاشرے کی فکری رہنمائی کرتا ہے، مگر آج اسی نظام کو ایک ایسی پالیسی کے ذریعے تباہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جس کے نتائج نہایت سنگین ہو سکتے ہیں۔ متنازعہ ڈیجیٹل میڈیا پالیسی کے نفاذ کے بعد جب سرکاری اشتہارات کو محدود کر کے مخصوص ڈیجیٹل پلیٹ فارمز تک رکھا جائے گا تو اس کا سب سے بڑا نقصان مقامی اخبارات کو ہوگا، کیونکہ بلوچستان میں زیادہ تر اخبارات کی مالی بنیاد سرکاری اشتہارات پر قائم ہے، جب یہ بنیاد کمزور ہوگی تو اخبارات اپنے اخراجات پورے کرنے کے قابل نہیں رہیں گے، نتیجتاً وہ بند ہو جائیں گے، ان کے دفاتر ویران ہو جائیں گے، پرنٹنگ پریس خاموش ہو جائیں گے، اخبار فروشوں کے ہاتھوں سے روزگار چھن جائے گا، اور سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں خاندان معاشی بدحالی کا شکار ہو جائیں گے، یہ صرف ایک پیشے کا خاتمہ نہیں ہوگا بلکہ ایک پورے معاشرتی اور فکری نظام کا انہدام ہوگا، ایک ایسا نظام جو دہائیوں کی محنت، قربانیوں اور جدوجہد کے بعد قائم ہوا تھا۔ یہ بھی ایک نہایت افسوسناک پہلو ہے کہ انہی مقامی اخبارات سے جنہوں نے کئی نسلوں کے صحافیوں کو تربیت دی، انہیں پہچان دی، انہیں سچ لکھنے کا حوصلہ دیا، انہی اداروں کے بطن سے نکلنے والے بعض افراد آج انہی کے خلاف صف آراء ہیں، یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنے صحافتی سفر کا آغاز انہی چھوٹے اخبارات سے کیا، جنہوں نے اپنی پہلی خبر انہی کے صفحات پر شائع کروائی، جنہوں نے اپنی شناخت انہی اداروں سے بنائی، مگر آج وہی لوگ ڈیجیٹل میڈیا کے نام پر انہی اداروں کے خاتمے کی حمایت کر رہے ہیں، یہ رویہ نہ صرف اخلاقی طور پر ناقابلِ قبول ہے بلکہ یہ اس نظام کے ساتھ کھلی ناانصافی بھی ہے جس نے انہیں مقام دیا۔بلوچستان کے وہ اخبارات جو تیس سے چالیس سالوں سے مسلسل خدمات انجام دے رہے ہیں، وہ اس صوبے کی تاریخ، اس کی ثقافت اور اس کی شناخت کا حصہ ہیں، روزنامہ صحافت کوئٹہ، روزنامہ بلوچستان نیوز، روزنامہ شال، روزنامہ گروگ، روزنامہ قدرت، روزنامہ انتخاب، روزنامہ باخبر، روزنامہ کوژک، روزنامہ مسائل نیوز، روزنامہ حال، روزنامہ استمان، روزنامہ طالب، روزنامہ وقت، روزنامہ اہم خبر، روزنامہ ایگل، روزنامہ صداقت انٹرنیشنل، روزنامہ اعلان، روزنامہ عسکر، روزنامہ نوائے وطن، روزنامہ زیبائے پاکستان، روزنامہ نوئے ژوند، روزنامہ بازیاب، روزنامہ اولس، روزنامہ ہمت، روزنامہ عکس بولان، روزنامہ آفان، روزنامہ گوادر بزنس اور دیگر درجنوں اخبارات نے نہ صرف خبروں کی ترسیل کی بلکہ انہوں نے اس صوبے کے عوام کے مسائل کو اجاگر کیا، ان کی آواز کو ایوانوں تک پہنچایا، اسی طرح ہفت روزہ اور ماہنامہ میگزینز جیسے اسٹار وژن، آزاد آواز، خوشبو، دستک، گدروشیا، بلوچی دنیا اور دیگر نے ادبی، ثقافتی اور فکری شعور کو فروغ دیا، یہ سب ادارے اس صوبے کی فکری بنیاد ہیں، ان کا خاتمہ دراصل ایک پوری تاریخ کو مٹانے کے مترادف ہوگا۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے یہ سوال کرنا ضروری ہے کہ جب وہ ایک طالب علم رہنما تھے، جب وہ سیاست کے ابتدائی مراحل میں تھے، تب کون سے پلیٹ فارمز تھے جنہوں نے انہیں جگہ دی؟ کون سے اخبارات تھے جنہوں نے ان کے بیانات کو شائع کیا، ان کی سرگرمیوں کو عوام تک پہنچایا؟ یہی مقامی اخبارات تھے، یہی وہ ادارے تھے جنہوں نے ان کی آواز کو تقویت دی، جبکہ آج جن چند مخصوص پلیٹ فارمز کی تعریف کی جا رہی ہے، وہ اس وقت شاید ان کی خبروں کو اہمیت بھی نہیں دیتے تھے، بلکہ کئی مواقع پر انہیں نظرانداز کیا جاتا تھا، آج اگر انہی پرانے اور مخلص اخبارات کو ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تو یہ نہ صرف ناانصافی ہے بلکہ ایک طرح کی تاریخی بے حسی بھی ہے۔ ڈیجیٹل میڈیا کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں، یہ وقت کی ضرورت ہے، اس نے معلومات کی ترسیل کو تیز کیا ہے، عوام کو فوری رسائی دی ہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ اس کے نقصانات بھی واضح ہیں، سوشل میڈیا پر جھوٹی خبریں، افواہیں، سنسنی خیزی اور غیر مصدقہ معلومات عام ہیں، وہاں کوئی مؤثر ادارتی نظام نہیں، کوئی جوابدہی نہیں، جبکہ پرنٹ میڈیا میں خبر کی تصدیق کی جاتی ہے، اس کی ذمہ داری لی جاتی ہے، اور اسے ایک ذمہ دارانہ انداز میں پیش کیا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ پرنٹ میڈیا کو ہمیشہ معتبر اور سنجیدہ صحافت کی علامت سمجھا جاتا ہے، اس کی اس حیثیت کو ختم کرنا معاشرے کو غیر یقینی اور انتشار کی طرف دھکیلنے کے مترادف ہے۔
بلوچستان میں اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبے جاری ہیں، مگر ان میں سے کئی صرف کاغذوں تک محدود ہیں، بعض منصوبے ایسے ہیں جن کا زمین پر کوئی وجود نہیں مگر فنڈز جاری ہو رہے ہیں، ایسے میں اگر حکومت کو پرنٹ میڈیا کے لیے سالانہ صرف پچاس کروڑ روپے کا فنڈ بوجھ محسوس ہوتا ہے تو یہ ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے، کیونکہ یہی میڈیا حکومتی کارکردگی کو عوام تک پہنچاتا ہے، یہی احتساب کا عمل ممکن بناتا ہے، دیگر صوبوں میں پرنٹ میڈیا کے لیے اربوں روپے مختص کیے جاتے ہیں، اسے فروغ دیا جاتا ہے، اسے مضبوط کیا جاتا ہے، کیونکہ وہاں یہ سمجھا جاتا ہے کہ مضبوط میڈیا کے بغیر جمہوریت مضبوط نہیں ہو سکتی، مگر بلوچستان میں اس کے برعکس ایک ایسا ماحول بنایا جا رہا ہے جہاں پرنٹ میڈیا کو کمزور کیا جا رہا ہے، اسے دیوار سے لگایا جا رہا ہے، اور اسے ختم کرنے کی راہ ہموار کی جا رہی ہے۔
یہ صورتحال نہ صرف صحافت کے لیے خطرناک ہے بلکہ پورے معاشرے کے لیے بھی نقصان دہ ہے، کیونکہ جب آزاد اور متنوع میڈیا ختم ہو جاتا ہے تو یکطرفہ بیانیہ غالب آ جاتا ہے، عوام کو مکمل سچ نہیں ملتا، اختلاف رائے ختم ہو جاتا ہے، اور معاشرہ فکری جمود کا شکار ہو جاتا ہے، بلوچستان جیسے حساس صوبے میں جہاں پہلے ہی مسائل کی بھرمار ہے، وہاں میڈیا کو کمزور کرنا مزید مسائل کو جنم دے سکتا ہے، یہ ایک ایسا قدم ہے جس کے اثرات آنے والی نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ آج عالمی یومِ صحافت کے موقع پر یہ وقت کا تقاضا ہے کہ حکومت بلوچستان اپنی پالیسیوں پر سنجیدگی سے نظرثانی کرے، متنازعہ ڈیجیٹل میڈیا پالیسی کو واپس لے یا اس میں ایسی بنیادی تبدیلیاں کرے جو پرنٹ میڈیا کے تحفظ، اس کے استحکام اور اس کے فروغ کو یقینی بنائیں، مقامی اخبارات کو بند کرنے کے بجائے انہیں مضبوط کیا جائے، ان کے مسائل حل کیے جائیں، ان کے ساتھ مشاورت کی جائے۔کیونکہ یہی ادارے اس صوبے کی اصل آواز ہیں، یہی عوام کی نمائندگی کرتے ہیں، یہی تاریخ رقم کرتے ہیں، اگر آج انہیں ختم کر دیا گیا تو کل تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی، اور یہ حقیقت ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ جب قلم کو دبایا جاتا ہے تو سچ ختم نہیں ہوتا بلکہ مزید طاقت کے ساتھ سامنے آتا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ صحافت کو آزادی دی جائے، اسے تقویت دی جائے اور اسے اس کا جائز مقام دیا جائے تاکہ ایک باشعور، باخبر اور متوازن معاشرہ تشکیل پا سکے جہاں سچ بولنے کی روایت زندہ رہے، جہاں عوام کو ان کا حق ملے، اور جہاں صحافت واقعی ریاست کا چوتھا ستون بن کر اپنا کردار ادا کر سکے، کیونکہ اگر یہ ستون کمزور پڑ گیا تو پوری عمارت ہل کر رہ جائے گی اور اس کے ملبے تلے سب کچھ دب جائے گا۔

عالمی یوم صحافت، اور بلوچستان کے اخبارات کو تختہ دار پر چڑھانے کی

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us