Banner

عالمی سیاست، خفیہ ایجنسیاں اور تاریک حقائق

Share

Share This Post

or copy the link

محمدنسیم رنزوریار

عالمی سیاست، خفیہ ایجنسیاں اور تاریک حقائق

قارئین کرام ۔جیفری ایپسٹین کا اسکینڈل بیسویں اور اکیسویں صدی کی تاریخ کا وہ ہلا دینے والا باب ہے جس نے عالمی سیاست، میڈیاء اور اشرافیہ کے پردے چاک کر دیے۔ امریکہ میں سنہ ۲۰۰۵ سے ۲۰۱۹ کے درمیان عدلیہ اور تفتیشی اداروں کی میزوں پر رہنے والی اس فائل کو کئی طاقتور وکلا اور بااثر شخصیات کی مداخلت کے باوجود ہمیشہ دبا کر رکھا گیا۔ تاہم، عوامی دباؤ کے بعد لاکھوں کی تعداد میں تصاویر، ویڈیوز اور ای میلز منظر عام پر آئیں، جنہوں نے دنیا کو ان گہری سازشوں اور منظم جرائم سے روشناس کرایا جو پردے کے پیچھے چلائے جا رہے تھے۔جیفری ایپسٹین ایک انتہائی دولت مند اور اثر و رسوخ رکھنے والا شخص تھا جس نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر ایک نجی جزیرے کا انتخاب کیا۔ اس جزیرے پر دنیا کی بڑی بڑی سیاسی، سماجی اور کاروباری شخصیات کو مدعو کیا جاتا تھا۔ اگرچہ بعض مغربی ممالک میں کچھ حد تک آزادی موجود ہے، لیکن اس کیس نے سنگین جرم کی شکل اس لیے اختیار کی کیونکہ اس میں کمسن بچیوں کا استحصال، غیر قانونی سمگلنگ، جبری مشقت اور انہیں دھوکے سے اس نیٹ ورک کا حصہ بنانا شامل تھا۔ بیشتر متاثرہ لڑکیاں کمزور معاشی پس منظر والے ممالک، بشمول مشرقی یورپ اور ایشیاء سے لائی جاتی تھیں۔منظر عام پر آنے والے ریکارڈز میں دنیا کے کئی صدور، وزرائے اعظم اور شاہی خاندانوں کے افراد کے نام شامل ہیں۔ امریکی صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ، سابق صدر بل کلنٹن، برطانوی شہزادہ اینڈریو، اسرائیلی رہنماء ایہود باراک اور فرانسیسی کاروباری شخصیات اس فہرست کا حصہ ہیں۔ اس کے علاوہ، دنیا کے نمایاں ترین ارب پتی، جیسے بل گیٹس اور ایلون مسک کے نام بھی ان دستاویزات میں دیکھے گئے، جس نے اس معاملے کی عالمی سطح پر سنگینی کو مزید بڑھا دیا۔جب سنہ ۲۰۱۹ میں جیفری ایپسٹین کو حراست میں لیا گیا، تو کچھ ہی عرصے بعد اس کی جیل میں پراسرار موت واقع ہو گئی، جسے حکام نے خودکشی کا نام دیا۔ تاہم، اس کے اہل خانہ اور مبصرین کا ماننا ہے کہ یہ ایک منظم قتل تھا تاکہ وہ دنیا کی طاقتور شخصیات کے راز افشا نہ کر سکے۔عوامی سطح پر یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ کیا اتنی بڑی سطح پر یہ نیٹ ورک کسی بڑی خفیہ ایجنسی کی پشت پناہی کے بغیر چلنا ممکن تھا؟ اس حوالے سے زیادہ تر تجزیہ کاروں کی انگلیاں اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد کی جانب اٹھتی ہیں۔ یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اس طرح کے نیٹ ورکس کے ذریعے بااثر شخصیات کی نجی زندگی کی خفیہ ویڈیوز اور تصاویر بنائی جاتی ہیں، تاکہ انہیں بلیک میل کر کے عالمی سطح پر اپنے سیاسی اور اقتصادی مقاصد حاصل کیے جا سکیں اور اسرائیل مخالف آوازوں کو خاموش رکھا جائے۔
دستاویزات کے کچھ حصوں میں غیر معمولی اور پُراسرار رسومات، جیسے کہ شیطانی علامات اور توہم پرستانہ عقائد کا ذکر بھی ملتا ہے، جس سے یہ شبہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ گروہ شیطانی عقائد کی پیروی کرنے والے افراد پر مشتمل تھا۔ ان ای میلز میں عالمی سیاست کے حوالے سے بھی تفصیلی بحث موجود ہے۔ مثال کے طور پر، ترکی کے صدر رجب طیب اردوان کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا گیا ہے کہ وہ ترکی کو اس نیٹ ورک کے دائرہ کار سے نکالنا چاہتے ہیں، جو اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ یہ محض ایک جنسی اسکینڈل نہیں، بلکہ ایک وسیع عالمی سیاسی ایجنڈا ہے۔ایسی حکمتِ عملی تاریخ میں نئی نہیں ہے۔ ماضی میں بھی یہ الزامات لگتے رہے ہیں کہ مختلف ممالک کے مذہبی، سیاسی اور سماجی رہنماؤں کو اس طرح کے جال میں پھنسا کر ان کے نظریات کو بدلا گیا یا انہیں خاموش کر دیا گیا۔ یہ اسکینڈل اس تلخ حقیقت کو بھی ظاہر کرتا ہے کہ آج کی عالمی اشرافیہ کس حد تک اخلاقی زوال کا شکار ہے اور جو لوگ ان کے مفادات کے خلاف جاتے ہیں، انہیں مختلف الزامات کے ذریعے راستے سے ہٹا دیا جاتا ہے۔یہ دستاویزات اگرچہ منظر عام پر آ چکی ہیں، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ اس نازک موڑ پر انہیں کیوں جاری کیا گیا اور اس کے پیچھے کون سا پوشیدہ ایجنڈا کارف ہے۔

عالمی سیاست، خفیہ ایجنسیاں اور تاریک حقائق

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us