Banner

اچکزئی قوم کے ذیلی شاخ متکزئی قوم چار صدیوں پر محیط شجاعت، مصلحت اور عوامی جدوجہد کا تسُلسُل

Share

Share This Post

or copy the link


تحقیق و تحریر محمدنسیم رنزوریار

قارئین کرام ۔ پشتون معاشرے کی بنیادیں جن مضبوط ستونوں پر کھڑی ہیں، ان میں “خانی” یا قبائلی سربراہی ایک ایسا معتبر ادارہ ہے جو نسل در نسل حِکمت، تدبُر اور بہادری کے ذریعے منتقل ہوتا آیا ہے۔ ضلع چمن، کوئٹہ اور توبہ اچکزئی کے وسیع وعریض علاقوں میں آباد قوم متکزئی (ذیلی شاخ نصرت زئی، اچکزئی) قوم کی قومی اور معتبر اشخاص کی قیادت کا داستان چار صدیوں کے طویل اور پروقار سفر پر محیط ہے، جہاں ہر دور کے سربراہ نے اپنی قوم کی بقاء اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دیں۔ اس تاریخی سلسلے کے ایک نمایاں باب حاجی نیکو خان متکزئی اچکزئی تھے، جو 1850 میں پیدا ہوئے اور انیسویں صدی کے اواخر تک اپنی قوم کے سربراہ کے طور پر قبائلی نظام کو استحکام بخشتے رہے۔ حاجی نیکو خان کی وفات کے بعد انیسویں صدی کے اوائل میں ان کے فرزند حاجی کجیر خان متکزئی جسکے (پیدائش1905) نے قیادت کی مشعل تھامی۔ انہوں نے 1930 سے لے کر 1985 تک طویل عرصے تک قوم کی رہبری کی اور اپنے دور میں شجاعت اور قبائلی روایات کی پاسداری کی اعلیٰ مثالیں قائم کیں۔ وہ نہ صرف ایک بہترین معتبر پہلوان کے طور پر اپنی جسمانی جرات کے لیے معروف تھے، بلکہ ایک زیرک مدبر کے طور پر قبائلی گتھیوں کو سلجھانے میں بھی اپنی مثال آپ تھے۔ ان کے دور میں قبائلی نظام ایک ایسی ڈھال تھا جو قوم کو داخلی خلفشار اور بیرونی مداخلت سے محفوظ رکھتا تھا۔1985 میں حاجی کجیر خان کی وفات کے بعد قیادت کا ہماء ان کے فرزندحاجی امیر خان متکزئی کے سر بیٹھا۔ ان کا دورِ قیادت مصلحت پسندی اور بین القبیلہ تعلقات کی بہتری کا عہد تھا۔ انہوں نے کوئٹہ سے لے کر توبہ اچکزئی تک بکھری ہوئی قوم کو اتحاد کی لڑی میں پروئے رکھا اور یکم جنوری 2021 کو اپنی وفات تک قبائلی وقار کو بلند رکھا۔ حاجی امیر خان کی رحلت کے بعد، قبائلی روایات اور اچکزئی مشران کی مشاورت سے ان کے فرزند ارجمند حاجی عبدالباقی خان متکزئی کی دستار بندی کی گئی۔ چمن میں پیدا ہونے والے حاجی عبدالباقی خان نے گورنمنٹ ماڈل ہائی اسکول سے ابتدائی تعلیم حاصل کی، جس نے ان کی شخصیت میں جدید سیاسی بصیرت پیدا کی۔ ان کی قیادت کا خاصہ موروثی اثر و رسوخ کے ساتھ نظریاتی سیاست کا حسین امتزاج ہے۔ پشتون قبائلی نظام محض ایک حکمرانی کا ڈھانچہ نہیں بلکہ یہ ایک مکمل سماجی ضابطہ اخلاق ہے جو عدل، مساوات اور خودداری پر مبنی ہے، جہاں جرگہ سسٹم کے ذریعے بڑے سے بڑے تنازعات کو افہام و تفہیم سے حل کیا جاتا ہے۔ موجودہ دور کے بدلتے ہوئے حالات میں جہاں ریاست کے انتظامی ڈھانچے کئی مقامات پر عوامی مسائل کے حل میں ناکام نظر آتے ہیں، وہاں حاجی عبدالباقی خان جیسے مشران کا کردار دوچند ہو جاتا ہے۔پشتون قوم کو درپیش مسائل، بالخصوص سرحد پار تجارت میں رکاوٹیں، تعلیم کی کمی اور معاشی بدحالی نے پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ چمن جو کبھی ایک پھلتا پھولتا تجارتی مرکز تھا، آج “بابِ دوستی” کی بندش اور پاسپورٹ کی لازمی شرط جیسے پیچیدہ قوانین کی وجہ سے معاشی مسائل کا شکار ہے۔ حاجی عبدالباقی خان نے ان سنگین مسائل کو محض ایک قبائلی مشر کے طور پر نہیں بلکہ ایک مخلص عوامی نمائندے کے طور پر محسوس کیا۔ انہوں نے چمن کے تاریخی پرلت (احتجاج) میں 12 ماہ کا طویل عرصہ گزار کر یہ ثابت کیا کہ وہ ایوانوں کی سیاست کے بجائے میدانوں کی جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں۔ ان کا یہ احتجاج ان ہزاروں لغڑی محنت کشوں کے لیے تھا جن کے گھر کے چولہے سرحد کی بندش کی وجہ سے ٹھنڈے پڑ چکے ہیں۔ انہوں نے حکومتِ وقت کو بارہا یہ باور کرایا کہ چمن کی معیشت کا دارومدار مقامی تجارت پر ہے اور اسے سکیورٹی کے نام پر بند کرنا لاکھوں انسانوں کو فاقہ کشی پر مجبور کرنے کے مترادف ہے۔حاجی عبدالباقی خان متکزئی کی خدمات محض احتجاج تک محدود نہیں، بلکہ وہ قبائلی نظام میں تعصب اور فرقہ واریت کے خلاف ایک مضبوط دیوار بنے ہوئے ہیں۔ انہوں نے متکزئی قوم کے اندرونی اختلافات کو ختم کر کے انہیں یکجاء کیا اور دیگر قبائل کے ساتھ دوستانہ روابط استوار کیے۔ ان کا ماننا ہے کہ جب تک پشتون معاشرہ داخلی طور پر متحد نہیں ہوگا، بیرونی سیاسی و معاشی دباؤ کا مقابلہ کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ تعلیمی میدان میں ان کی کاوشیں اس بات کی عکاس ہیں کہ وہ اپنی قوم کے نوجوانوں کے ہاتھوں میں بندوق کے بجائے قلم دیکھنا چاہتے ہیں۔ وہ اسکولوں اور کالجوں کی بہتری کے لیے مسلسل کوشاں رہتے ہیں تاکہ چمن کا مستقبل روشن ہو۔ ان کی سیاسی وابستگی پشتونخوا ملی عوامی پارٹی سے ہے، اور وہ اپنے اس سیاسی پلیٹ فارم کو عوامی حقوق کے حصول کے لیے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ حاجی عبدالباقی خان نے ثابت کیا ہے کہ ایک حقیقی مشر وہی ہے جو مصلحت کے نام پر اپنے اصولوں کا سودا نہ کرے بلکہ کٹھن حالات میں اپنی قوم کی ڈھال بنے۔ ان کی قیادت میں امن، اخوت اور معاشی خودکفالتی کا یہ سفر ان کے خاندان کی چار صدیوں کی تاریخ کا وہ جدید تسُلسُل ہے جو اپنے اسلاف سے طاقت لیتا ہے اور جدید دنیا کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہے۔ ان کی شخصیت میں سماجی اصلاحات، سیاسی شعور اور قبائلی غیرت کا جو سنگم پایا جاتا ہے، وہ آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔

اچکزئی قوم کے ذیلی شاخ متکزئی قوم چار صدیوں پر محیط شجاعت، مصلحت اور عوامی جدوجہد کا تسُلسُل

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us