Banner

عالمی سطح پر کرپشن کی سیاں کاریاں اور معاشی تباہی

Share

Share This Post

or copy the link


صحافت قارئین ۔عالمی سطح پر کرپشن ایک ایسا بین الاقوامی بحران بن چکا ہے جس نے ترقی یافتہ اور ترقی پذیر دونوں طرح کے معاشروں کی جڑوں کو کھوکھلا کر دیا ہے اور موجودہ دور میں یہ صرف چند روپوں کے لین دین کا نام نہیں رہا بلکہ ایک منظم نیٹ ورک کی شکل اختیار کر چکا ہے جس میں طاقتور سیاسی اشرافیہ اور کارپوریٹ ادارے شامل ہیں جو عوامی اعتماد اور انصاف کے نظام کو شدید نقصان پہنچا رہے ہیں جبکہ بین الاقوامی شفافیت کے اشاریوں کے مطابق جہاں احتساب کمزور ہے وہاں کرپشن نے زہریلے ناسور کی طرح پورے ریاستی ڈھانچے کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے جس کے نتیجے میں غریب مزید پستی میں گر رہا ہے اور امیر طبقہ غیر قانونی طور پر دولت کے انبار لگا کر معاشی عدم توازن پیدا کر رہا ہے۔کرپشن کے نقصانات اتنے ہمہ گیر ہیں کہ یہ براہ راست انسانی زندگیوں اور ملکی معیشت پر اثر انداز ہوتے ہیں کیونکہ یہ غیر ملکی سرمایہ کاری کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے اور سرمایہ کار ایسے ممالک سے کتراتے ہیں جہاں رشوت ستانی عام ہو جبکہ اس سے سرکاری وسائل کا بے دردی سے زیاں ہوتا ہے اور وہ پیسہ جو تعلیم و صحت پر خرچ ہونا چاہیے تھا وہ چند بااثر افراد کی جیبوں میں چلا جاتا ہے جس سے سماجی سطح پر مایوسی پھیلتی ہے اور میرٹ کی پامالی سے قابل نوجوانوں کا مستقبل تاریک ہو جاتا ہے جو آخر کار معاشرے میں جرم و تشدد کی شرح میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔تاریخی طور پر پاناما اور پیراڈائز پیپرز جیسے سکینڈلز نے ثابت کیا ہے کہ کرپشن کی جڑیں ٹیکس چوری کے محفوظ مراکز تک پھیلی ہوئی ہیں اور ماضی کی عظیم سلطنتوں کے زوال کی بڑی وجہ بھی حکمران طبقے کی یہی مالی بدعنوانیاں تھیں لہذا جب تک عالمی طاقتیں اور مالیاتی ادارے لوٹی ہوئی دولت کی واپسی کے لیے متحد نہیں ہوں گے تب تک اس ناسور کا خاتمہ ممکن نہیں ہے اور قومی سطح پر بھی سیاسی مداخلت سے پاک احتسابی اداروں کا قیام ناگزیر ہے تاکہ قانون کی حکمرانی کو یقینی بنایا جا سکے۔آج کے ڈیجیٹل دور میں کرپشن نے اپنی شکلیں بدل کر آف شور کمپنیوں اور خفیہ مالیاتی ذرائع کا سہارا لے لیا ہے جس کے خلاف عالمی برادری کو ایک پیج پر آنا ہوگا ورنہ عالمی معیشت بڑے بحرانوں کا شکار ہو سکتی ہے کیونکہ کرپشن کینسر کی وہ قسم ہے جو خاموشی سے ریاست کی رگوں میں خون کے بجائے زہر بھر دیتی ہے جس سے ادارے مفلوج ہو جاتے ہیں لہذا اس کے خاتمے کے لیے کڑے احتساب اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے ساتھ اخلاقی تربیت کی بھی ضرورت ہے تاکہ آنے والی نسلیں ایک شفاف اور منصفانہ دنیا میں سانس لے سکیں کیونکہ کرپشن سے پاک معاشرہ ہی کسی قوم کی اصل ترقی اور خوشحالی کی واحد ضمانت ہے۔

عالمی سطح پر کرپشن کی سیاں کاریاں اور معاشی تباہی

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us