Banner
Daily Sahafat Quetta
September 28, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
جی او سی گوادر کا گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول گواتری کا دورہ، طلبہ میں نئے جوتے اور نمایاں کارکردگی پر انعامات تقسیمپی این ایس ہنگور کی کامیاب فائرنگ ملکی دفاعی صلاحیت کی عکاس ہے، میر سرفراز بگٹیبلوچستان پاکستان کی معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے، جعفر مندوخیلسیاحت کے فروغ سے معیشت مضبوط ہوگی، فیصل جمالیرحمٰن فاؤنڈیشن ڈائیلاسز سینٹر میں مریضوں کی نگہداشت کا جائزہ، زاہدہ بٹ کا دورہگورنمنٹ کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن حقیقی نصیرآباد کی نئی کابینہ کا اعلان کردیا گیاڈسٹرکٹ آفیسر ایجوکیشن اوستہ محمد،محمد جمن پہنور کا گورنمنٹ مڈل سکول بھاگیہ خان بلیدی کا تفصیلی دورہمانچسٹر میں ڈاکٹر ممتاز حسین کی رہائش گاہ پر علمی و ادبی نشست، فریحہ کمال کی خصوصی شرکتبشپ ڈاکٹر ایم ایم وقاص سے پروفیسر ڈاکٹر پرویز جیفرری اور بشپ ایڈون مل کی ملاقاتموجودہ حالات میں نئے صوبوں کا قیام غیر آئینی اور قوم پر جبر ہوگا، مولانا عبدالقادر لونیجی او سی گوادر کا گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول گواتری کا دورہ، طلبہ میں نئے جوتے اور نمایاں کارکردگی پر انعامات تقسیمپی این ایس ہنگور کی کامیاب فائرنگ ملکی دفاعی صلاحیت کی عکاس ہے، میر سرفراز بگٹیبلوچستان پاکستان کی معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے، جعفر مندوخیلسیاحت کے فروغ سے معیشت مضبوط ہوگی، فیصل جمالیرحمٰن فاؤنڈیشن ڈائیلاسز سینٹر میں مریضوں کی نگہداشت کا جائزہ، زاہدہ بٹ کا دورہگورنمنٹ کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن حقیقی نصیرآباد کی نئی کابینہ کا اعلان کردیا گیاڈسٹرکٹ آفیسر ایجوکیشن اوستہ محمد،محمد جمن پہنور کا گورنمنٹ مڈل سکول بھاگیہ خان بلیدی کا تفصیلی دورہمانچسٹر میں ڈاکٹر ممتاز حسین کی رہائش گاہ پر علمی و ادبی نشست، فریحہ کمال کی خصوصی شرکتبشپ ڈاکٹر ایم ایم وقاص سے پروفیسر ڈاکٹر پرویز جیفرری اور بشپ ایڈون مل کی ملاقاتموجودہ حالات میں نئے صوبوں کا قیام غیر آئینی اور قوم پر جبر ہوگا، مولانا عبدالقادر لونی

سندھ کا دل کراچی جہاں نیندیں نیلام اور پیاس مقدر بن چکی ہے

سندھ کا دل کراچی جہاں نیندیں نیلام اور پیاس مقدر بن چکی ہے

تحریر: محمد عبیدالله میرانی

روز کے معمول کی طرح رات کے چار بج رہے ہیں اور پورے محلے پر ایک بوجھل خاموشی طاری ہے مگر یہ سکون کی خاموشی نہیں بلکہ اس حبس زدہ گرمی کی گھٹن ہے جس نے ہر گھر کو تندور بنا دیا ہے میں اپنے بستر پر کروٹیں بدل رہا ہوں ماتھے سے پسینہ ٹپک کر تکیے کو بھگو رہا ہے اور ہاتھ میں پکڑا دستی پنکھا اب کلائیوں میں درد کا سبب بن رہا ہے اچانک دور کہیں سے شور اٹھتا ہے کہ بجلی آ گئی مگر یہ نعرہ اب کسی خوشخبری جیسا نہیں بلکہ ایک طنز جیسا لگتا ہے کیونکہ اب گھڑی کی سوئیاں چار بجا رہی ہیں یہ میرے کورنگی کی وہ کہانی ہے جو ہر رات دہرائی جاتی ہے جہاں ہمیں اپنی تھکی ہاری آنکھوں کے ساتھ رزق کی تلاش میں نکلنا پڑتا ہے لیکن جب میں اپنے علاقے سے باہر نکل کر دیکھتا ہوں تو احساس ہوتا ہے کہ یہ صرف میرا یا کورنگی کا دکھ نہیں بلکہ سندھ کا دارالخلافہ کراچی مجموعی طور پر مصلحتوں کی سولی پر چڑھا ہوا ہے ضلع غربی اور کیماڑی میں پیاس کی شدت دیواروں سے ٹپکتی ہے جہاں اورنگی اور مچھر کالونی کے مکین اپنی دہاڑی ٹینکر مافیا کی نذر کر دیتے ہیں لیاری اور وسطی کراچی میں بجلی کے طویل بریک ڈاؤن نے زندگی کو جہنم بنا دیا ہے اس اندھیرے کا سب سے بھیانک چہرہ وہ بیماریاں ہیں جنہوں نے ہمارے گھروں میں ڈیرے ڈال لیے ہیں جب بجلی رات کے چار بجے آئے گی تو گھر کے بزرگ جنہیں آرام کی سخت ضرورت ہوتی ہے وہ ساری رات کرب میں گزارتے ہیں چھوٹے بچے گرمی اور مچھروں کی وجہ سے بلبلاتے رہتے ہیں اور خواتین رات بھر انہیں پنکھا جھلتے تھک جاتی ہیں اس بے خوابی نے پورے شہر کو نفسیاتی مریض ہائی بلڈ پریشر اور چڑچڑے پن کا شکار کر دیا ہے پانی کا حال اس سے بھی بدتر ہے میرے گھر میں ہفتہ ہفتہ لائنیوں میں پانی نہیں آتا مجھے باہر سے جو کولر بھروا کر لانا پڑتا ہے اس کی عجیب بدبو پیاس بجھانے کے بجائے متلی کا احساس دلاتی ہے یہی گندا پانی پینے سے بچے ٹائیفائیڈ اور ہیپاٹائٹس جیسے امراض میں مبتلا ہو رہے ہیں سندھ کے دارالخلافہ کے باسی صاف پانی کی قیمت اپنے بچوں کی صحت دے کر چکا رہے ہیں ارباب اختیار سے چند تیکھے سوال ہیں کہ کے الیکٹرک کی اجارہ داری کا خاتمہ کب ہوگا اور جب ہم بل اور ٹیکس ایمانداری سے بھرتے ہیں تو ہمارے بزرگوں اور بچوں کو رات بھر اذیت میں کیوں رکھا جاتا ہے اگر سرکاری لائنیں خشک ہیں تو ٹینکر مافیا کے پاس وافر پانی کہاں سے آ رہا ہے کیا یہ منظم ڈکیتی حکمرانوں کی ناک کے نیچے نہیں ہو رہی اور حکومت سندھ کے بلند و بانگ دعوے برسوں سے صرف کاغذوں کی زینت کیوں ہیں کراچی کو صرف ٹیکس وصولی کی مشین سمجھنے والے حکمران یاد رکھیں کہ اب مصلحتوں کا وقت گزر چکا جب پیاس اندھیرا اور بیماری حد سے بڑھتی ہے تو پھر عوام کا غصہ ایوانوں کا رخ کرے گا ہمیں وعدے نہیں ہمیں وہ نیند چاہیے جو بجلی کے انتظار میں نیلام نہ ہو اور وہ صاف پانی چاہیے جو ہمارے بچوں کو بیمار نہ کرے ہمیں جینے کا حق چاہیے۔

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *