Banner

کورنگی کی شاہراہوں کا سرعام سودا

Share

Share This Post

or copy the link

کورنگی کی شاہراہوں کا سرعام سودا
بااثر حلقوں کی سرپرستی اور انتظامیہ کی ملی بھگت سے تجاوزات کا ناسور پورے ضلع میں پھیل گیا عوام کا جینا محال

کراچی کورنگی رپورٹ
محمد عُبيــــدالله میرانی

ضلع کورنگی میں تجاوزات کا عذاب اب محض ایک انتظامی مسئلہ نہیں رہا بلکہ یہ ایک ایسے موذی ناسور کی شکل اختیار کر چکا ہے جسے دانستہ طور پر کرپشن کی بھینٹ چڑھا دیا گیا ہے ضلع کی ہر شاہراہ ہر گلی کوچہ اور ہر فٹ پاتھ مبینہ طور پر بااثر حلقوں کی سرپرستی میں نیلام ہو رہا ہے جس کے باعث عوام کا سانس لینا بھی دشوار ہو چکا ہے ضلع کے انتہائی متاثرہ علاقوں بشمول کورنگی ڈھائی نمبر 4 نمبر 12 ہزار روڈ باغِ کورنگی مہران ٹاؤن ناصر جمپ کورنگی کراسنگ لانڈھی 89 ایریا 37-D اور کورنگی ڈھائی چورنگی سے سنگر چورنگی تک کے علاقوں کا جائزہ لینے اور وہاں موجود محنت کشوں سے پوچھ گچھ کرنے پر ہوش رُبا انکشافات سامنے آئے ہیں سڑکوں پر ٹھیلے اور اسٹال لگانے والے مزدوروں نے بتایا کہ ہم اپنی خوشی سے سڑکوں پر نہیں بیٹھتے بلکہ ہمیں علاقے کے بااثر حلقوں اور انتظامیہ کے دفاتر سے گرین سگنل ملنے کے بعد ہی یہاں کام کرنے کی اجازت ملتی ہے ہمیں اپنے بچوں کی روزی روٹی کے لیے مجبوراً ان طاقتور حلقوں بشمول ایم این ایز ایم پی ایز ڈی سی کورنگی کا عملہ ٹی ایم سی عملہ کورنگی پولیس اور دیگر بااثر افراد کو روزانہ ہفتہ وار اور ماہانہ بنیادوں پر بھاری رشوت اور بھتہ دینا پڑتا ہے تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ جب بھی انتظامیہ تجاوزات کے خلاف آپریشن کا ڈرامہ رچاتی ہے تو بھتہ خور اہلکار قبضہ مافیا کو پہلے ہی اطلاع دے کر محفوظ کر دیتے ہیں جس کے باعث آپریشن محض ایک فوٹو سیشن تک محدود رہ جاتا ہے اس منظم ناسور کو کچھ نام نہاد صحافیوں کی بھی پشت پناہی حاصل ہے جو چند ٹکوں کے عوض حقائق پر پردہ ڈال کر قبضہ مافیا کی وکالت کرتے ہیں پریشان حال عوام کا کہنا ہے کہ تجاوزات کی وجہ سے سڑکیں اتنی تنگ ہو چکی ہیں کہ ایمبولینسیں مریضوں کو لے کر راستوں میں پھنس جاتی ہیں جس کی وجہ سے کئی قیمتی انسانی جانیں ضائع ہو چکی ہیں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب عوامی شکایات اعلیٰ حکام تک پہنچتی ہیں تو پھر وہ کون ہے جو انتظامیہ کے ہاتھ باندھے بیٹھا ہے آخر وہ کون سی طاقت ہے جو اس ناسور کے خاتمے میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے کورنگی کی عوام اب مزید ذلت اور اذیت برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں اس رپورٹ کے ذریعے کمشنر کراچی سے پُرزور مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وہ اپنے دفتر سے باہر نکلیں اور ان بااثر حلقوں و رشوت خور افسران کے خلاف فی الفور سخت کارروائی کریں جو شہر کی شاہراہوں کو نیلام کر رہے ہیں اگر اب بھی کوئی ٹھوس قدم نہ اٹھایا گیا تو یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ یہ ضلع صرف بااثر افراد کی ذاتی جاگیر بن کر رہ گیا ہے

کورنگی کی شاہراہوں کا سرعام سودا

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us