Banner

لفظوں کی روشنی میں تعمیرِ شعور

Share

Share This Post

or copy the link

لفظوں کی روشنی میں تعمیرِ شعور

منشاقاضی
حسبِ منشا

لاہور کی ایک علمی و ادبی فضا میں سجی اس باوقار تقریب نے محض ایک رسمی اجتماع کی حیثیت نہیں رکھی، بلکہ یہ ایک ایسا فکری سنگم بن گئی جہاں تجربہ، علم، اور احساسِ ذمہ داری ایک دوسرے سے ہم آغوش نظر آئے۔ یونیک گروپ آف انسٹی ٹیوشنز کے ہیڈ آفس میں منعقد ہونے والی یہ نشست دراصل اس بات کا مظہر تھی کہ جب اہلِ قلم، اساتذہ، اور شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے ماہرین ایک چھت تلے جمع ہوتے ہیں تو محض الفاظ کا تبادلہ نہیں ہوتا، بلکہ فکر کی نئی جہتیں جنم لیتی ہیں۔

تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، اور یہ سعادت قاری خالد محمود کے حصے میں آئی ۔ جو اس امر کی علامت ہے کہ ہر علم و آگہی کی بنیاد ایک روحانی سچائی سے جڑی ہوتی ہے۔ یہ وہ لمحہ تھا جہاں ظاہری گفتگو سے پہلے باطنی سکون کو اہمیت دی گئی، گویا علم کا سفر دل کی پاکیزگی سے ہو کر عقل کی وسعتوں تک پہنچتا ہے۔

صدرِ تقریب عمران ڈار کے خیالات میں ایک استاد کی شفقت، ایک منتظم کی بصیرت اور ایک ادیب کی گہرائی جھلکتی تھی۔ انہوں نے جس انداز میں مہمانوں کو خراجِ تحسین پیش کیا، وہ محض رسمی الفاظ نہ تھے بلکہ ایک ایسی سچائی کا اظہار تھے جس میں اعتراف، سیکھنے کی خواہش، اور اجتماعی ترقی کا خواب پوشیدہ تھا۔ ان کی گفتگو میں ماضی کی یادیں—خصوصاً حکیم سعید شہید کے بچوں کے ادب کا ذکر—اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ قوموں کی فکری بنیادیں بچپن کی تربیت سے جڑی ہوتی ہیں۔ جب ادب معیاری ہو تو کردار بھی مضبوط بنتے ہیں۔

یہاں ایک اہم نکتہ ابھرتا ہے کہ آج کے دور میں جہاں معلومات کی فراوانی ہے، وہاں معیاری رہنمائی کی کمی شدت سے محسوس ہوتی ہے۔ ایسے میں یہ تقریبات ایک پل کا کام دیتی ہیں—ماضی کی دانائی اور حال کی ضرورت کے درمیان۔ عمران ڈار کا یہ اعتراف کہ ادارہ محدود وسائل کے باوجود 66 ہزار طلبہ کی علمی و اخلاقی تربیت کا فریضہ انجام دے رہا ہے، دراصل اس عزم کا عکاس ہے کہ اصل سرمایہ وسائل نہیں بلکہ نیت اور محنت ہوتی ہے۔

مہمانِ خصوصی ڈاکٹر ندیم الحسن گیلانی کی گفتگو نے اس فکری نشست کو مزید وسعت دی۔ انہوں نے جس انداز میں تجربہ کار شخصیات کو “ایک مکمل ادارہ” قرار دیا، وہ ایک گہری حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ انسان خود بھی ایک زندہ کتاب ہوتا ہے—جس کے اوراق وقت کے ساتھ ساتھ کھلتے ہیں۔ ان کی یہ خواہش کہ نئے آنے والے پی آر اوز میں وہی جذبہ اور لگن پیدا ہو جو ماضی میں تھی، دراصل ایک فکری تنبیہ ہے۔ کیونکہ جب پیشہ محض ملازمت بن جائے اور مشن نہ رہے، تو تخلیقی صلاحیتیں ماند پڑ جاتی ہیں۔

یہ تقریب ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ تعلقاتِ عامہ محض معلومات کی ترسیل کا نام نہیں، بلکہ یہ دلوں کو جوڑنے کا فن ہے۔ یہ ایک ایسا ہنر ہے جس میں الفاظ کے ذریعے اعتماد پیدا کیا جاتا ہے، اور کردار کے ذریعے اسے قائم رکھا جاتا ہے۔ اگر اس شعبے میں اخلاص اور بصیرت شامل ہو جائے تو یہ معاشرتی ہم آہنگی کا سب سے مؤثر ذریعہ بن سکتا ہے۔

تقریب میں شریک دیگر ماہرینِ تعلقاتِ عامہ کی موجودگی اس بات کا ثبوت تھی کہ یہ اجتماع کسی ایک فرد یا ادارے کا نہیں بلکہ ایک اجتماعی شعور کا نمائندہ تھا۔ ہر نام، ہر چہرہ، اپنے ساتھ ایک کہانی، ایک تجربہ اور ایک پیغام لے کر آیا تھا—اور یہی تنوع کسی بھی فکری نشست کو زندہ اور بامعنی بناتا ہے۔

آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایسی تقریبات محض وقتی سرگرمیاں نہیں ہوتیں بلکہ یہ مستقبل کی فکری بنیادیں رکھتی ہیں۔ یہ وہ چراغ ہیں جو آنے والی نسلوں کے راستے روشن کرتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان محافل کو تسلسل دیا جائے، تاکہ علم و ادب کی یہ شمع کبھی مدھم نہ پڑے، اور لفظوں کی یہ روشنی ہمیشہ ذہنوں کو منور کرتی رہے۔ میں ڈاکٹر کمال مصطفی کا ممنون سانو جنہوں نے اس نئے ادارے میں متعارف کروایا اور شمس الحب گوہر جیسے گہرے نایاب سے مل کر بے پناہ قلبی اور روحانی مسرت محسوس ہوئی اور اپنے پرانے دوستوں سے مل کر بہت زیادہ خوشی ہوئی خاص طور پر اسلام اباد سے ہمارے ایسوسی ایشن کے صدر جناب اطہر حسن خان ، جناب افتخار رسول ، جناب سید علی بخاری ، مقصود چغتائی ، علی احمد ، ہاشمی صاحب ، سب ہمدمِ دیرینہ کی دیرینہ آرزوؤں کی آرزو سید ندیم الحسن نے پوری کر دی ۔ عجوبہ ء روزگار معالج ڈاکٹر وقار احمد نیاز کی طبابت کا روشن چہرہ بھی دیکھا گیا ۔ شمس الحق گوہر نے میری بات کی تائید کی اور مجھے روحانی مسرت محسوس ہوئی ۔ لذت عارضی ہوتی ہے مسرت دائمی اور میں مسرتوں سے سرفراز ہوا ہوں ۔ ڈاکٹر مصطفی کمال کا یہ کمال ہمیشہ باکمال رہے گا ۔

میرا کمال ، میرا ہنر پوچھتے ہیں لوگ

اک باکمال شخص میری دسترس میں ہے

لفظوں کی روشنی میں تعمیرِ شعور

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us