Banner

عالمی نظام ۔ سیاست، جنگ اور ٹیکنالوجی کے زیرِ سایہ دنیا

Share

Share This Post

or copy the link

صحافت منظرنامہ

عالمی نظام ۔ سیاست، جنگ اور ٹیکنالوجی کے زیرِ سایہ دنیا

صحافت قارئین ۔ اکیسویں صدی کی تیسری دہائی کا وسط یعنی سال 2026 عالمی تاریخ میں ایک ایسے فیصلہ کن موڑ کے طور پر ابھرا ہے جہاں پرانی طاقتوں کے مروجہ ڈھانچے تیزی سے بکھر رہے ہیں اور ایک نئے کثیر القطبی عالمی نظام کی بنیادیں رکھی جا رہی ہیں حالیہ دنوں میں عالمی سیاست کا سب سے بڑا مرکزہ “طاقت کی منتقلی” اور “بلاکس کی سیاست” بن چکا ہے جہاں امریکہ اور چین کے درمیان تزویراتی مقابلہ اب محض تجارتی توازن تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ مصنوعی ذہانت (AI) سیمی کنڈکٹرز کی تیاری اور خلائی تسخیر کے میدانوں میں ایک نئی اور پیچیدہ سرد جنگ کی شکل اختیار کر چکا ہے بحرِ اوقیانوس سے لے کر بحیرہ جنوبی چین تک پھیلا ہوا یہ تنازع عالمی سیاسی بساط پر نئی صف بندیوں کا سبب بن رہا ہے جس میں بھارت، روس اور یورپی یونین اپنے اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے توازن پیدا کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں یورپ کے قلب میں جاری یوکرین کا طویل تنازع اور مشرقِ وسطیٰ میں غزہ و لبنان کی سنگین صورتحال نے عالمی امن کو دہائیوں کے بدترین خطرات سے دوچار کر رکھا ہے ان جنگوں نے نہ صرف انسانی بحران پیدا کیے ہیں بلکہ عالمی دفاعی صنعت کو ایک نئی زندگی دے دی ہے جس کی وجہ سے دنیا بھر کے ممالک اپنے مجموعی قومی پیداوار (GDP) کا بڑا حصہ ہتھیاروں کی خریداری اور جدید دفاعی نظاموں پر خرچ کرنے پر مجبور ہیں جس سے “ہتھیاروں کی دوڑ” کا وہ دور واپس آ گیا ہے جو کسی دور میں سوویت یونین کے خاتمے کے ساتھ ختم ہوتا محسوس ہوا تھا عالمی معیشت اس وقت ایک “نازک توازن” کے مرحلے سے گزر رہی ہے جہاں آئی ایم ایف اور عالمی بینک کی حالیہ رپورٹس یہ بتاتی ہیں کہ اگرچہ عالمی شرحِ نمو میں استحکام کے آثار موجود ہیں لیکن مہنگائی کے مسلسل دباؤ اور عالمی سپلائی چین کے ٹوٹنے کے خطرات نے ترقی پذیر اور کم آمدنی والے ممالک کے لیے معاشی بقاء کا ایک سنگین مسئلہ پیدا کر دیا ہے توانائی کا عالمی بحران اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ نے بین الاقوامی منڈیوں میں غیر یقینی کی ایک ایسی لہر پیدا کی ہے جس سے نمٹنے کے لیے اب گلوبل ساؤتھ کے ممالک “ڈی-ڈالرائزیشن” یعنی امریکی ڈالر پر اپنا انحصار کم کرنے اور مقامی کرنسیوں میں تجارت کو فروغ دینے کے عملی اقدامات کر رہے ہیں برکس (BRICS) جیسے اتحادوں کی توسیع اس بات کا ثبوت ہے کہ دنیا اب یک قطبی تسلط سے نکل کر معاشی آزادی کی طرف بڑھنا چاہتی ہے جہاں کسی ایک کرنسی یا طاقت کا حکم نہ چلے تعلیم اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں 2026 کو “انسانی تاریخ کا ڈیجیٹل موڑ” قرار دیا جا رہا ہے جہاں مصنوعی ذہانت کے انقلاب نے روایتی نوکریوں اور نظامِ تعلیم کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے اب دنیا بھر میں تعلیمی نصاب محض کتابی علم تک محدود نہیں رہا بلکہ “پرسنلائزڈ لرننگ” اور “ڈیجیٹل اسکلز” کو بنیادی اہمیت حاصل ہو گئی ہے بڑی عالمی کمپنیاں اب ڈگریوں کے بجائے عملی مہارتوں کو ترجیح دے رہی ہیں اور بلاک چین ٹیکنالوجی کے ذریعے تعلیمی اسناد کی عالمی سطح پر تصدیق کا عمل ایک معیار بنتا جا رہا ہے ترقی کے حوالے سے گرین انرجی اور پائیدار ترقی کے اہداف اب محض بین الاقوامی کانفرنسوں کے نعرے نہیں رہے بلکہ موسمیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں آنے والی قدرتی آفات نے دنیا کو یہ باور کرا دیا ہے کہ اگر اب ماحول دوست توانائی کے ذرائع جیسے شمسی توانائی اور ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں پر سرمایہ کاری نہ کی گئی تو معاشی ترقی کا سارا ڈھانچہ تاش کے پتوں کی طرح بکھر سکتا ہے یہی وجہ ہے کہ عالمی سرمایہ کاری کا بڑا رخ اب پیٹرو کیمیکل سے ہٹ کر ری نیو ایبل انرجی کی طرف ہو گیا ہے بین الاقوامی امن کے حوالے سے اقوامِ متحدہ جیسے اداروں کی افادیت پر سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں کیونکہ ویٹو پاور کے حامل ممالک کے مفادات نے عالمی ادارے کو مفلوج کر دیا ہے جس کی وجہ سے اب دنیا کے مسائل حل کرنے کے لیے علاقائی تنظیمیں جیسے شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) اور آسیان (ASEAN) زیادہ متحرک نظر آتی ہیں عالمی انسانی حقوق کے علمبردار اب دوہرے معیار کی زد میں ہیں جس کی وجہ سے عالمی اخلاقی نظام میں ایک بڑا خلا پیدا ہو چکا ہے خلاصہ یہ ہے کہ موجودہ عالمی منظرنامہ ایک طرف ٹیکنالوجی کے سحر انگیز عروج اور انسانی ترقی کے لامتناہی امکانات سے بھرا ہوا ہے تو دوسری طرف جنگ کے مہیب سائے، معاشی عدم استحکام اور ماحولیاتی تباہی کے خوفناک خطرات بھی ساتھ ساتھ چل رہے ہیں اس بدلتی ہوئی دنیا میں صرف وہی قومیں اپنا وجود برقرار رکھ سکیں گی جو جدید ترین سائنسی تعلیم، معاشی خود انحصاری اور بدلتے ہوئے جغرافیائی و سیاسی حالات کے مطابق خود کو تیزی سے ڈھالنے کی صلاحیت رکھتی ہوں گی بصورتِ دیگر عالمی سیاست کی یہ بے رحم لہریں غیر مستحکم ریاستوں کو اپنے ساتھ بہا کر لے جائیں گی۔

عالمی نظام ۔ سیاست، جنگ اور ٹیکنالوجی کے زیرِ سایہ دنیا

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us