Banner

دور جدید کے خوبصورتی کے طریقے

Share

Share This Post

or copy the link

دور جدید کے خوبصورتی کے طریقے
حمیراعلیم
ہر زمانے میں خواتین کو سجنے سنورنے اپنی خوبصورتی بڑھانے کا شوق رہا ہے۔لہذا وہ اپنے دور کے مطابق بیوٹی پراڈکٹس بناتیں، خریدتیں اور استعمال کرتی تھیں۔لیکن دور جدید میں یہ شوق ایک جنوں کی شکل اختیار کر چکا ہے۔خواتین جوان اور حسین نظر آنے کے لیے کوئی بھی قیمت ادا کرنے اور کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہیں۔ پہلے کاسمیٹکس اور پلاسٹک سرجری، امپلانٹس کے ذریعے خوبصورتی میں اضافہ کیا گیا اور اب عجیب و غریب اجزاء استعمال کیے جا رہے ہیں جو درحقیقت غلاظت اور ناپاکی کا باعث ہیں ۔جیسے کہ پلیسینٹا ، پرندوں کی بیٹ اور یہاں تک کہ پیریڈز کا خون تک استعمال کیا جا رہا ہے۔ ان اشیاء کو نامیاتی اور قدرتی اسٹیم سیل تھراپی کے نام پر مہنگے داموں بیچا جا رہا ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا غلاظت کو چہرے پر لگانا واقعی کوئی عقلمندی کا سودا ہے یا یہ محض مارکیٹنگ کا ایک جال ہے۔
​ سب سے زیادہ چرچا پلیسینٹا Placenta کا ہے۔ پلیسینٹا دراصل وہ حیاتیاتی عضو ہے جو دورانِ حمل ماں کے رحم میں بچے کو خوراک اور آکسیجن فراہم کرنے کا ذریعہ بنتا ہے۔یہ عموماً بھیڑ یا انسانوں کی نال سے حاصل کیا جاتا ہے، زیادہ تر انسانی پلیسینٹا استعمال کیا جاتاہے۔ اسے سیرم اور کریموں میں اس دعوے کے ساتھ شامل کیا جاتا ہے کہ اس میں موجود گروتھ فیکٹرز جلد کو بوڑھا ہونے سے روکتے ہیں اور ایک چمک لاتے ہیں ۔ ان پراڈکٹس کی قیمت 200 سے 500 ڈالرز تک ہو سکتی ہے۔ پلیسینٹا کے ذریعے جلد کی شادابی اور چمک کا علاج پلیسینٹا فیشل یا انجکشنز کی صورت میں لیا جاتا ہے۔ اس کی مقدار اور اثرات ہر انسان کی جلد کی قسم کے مطابق مختلف ہوتے ہیں۔
کوئٹہ کی ڈرماٹولوجسٹ ڈاکٹر فائزہ گل کے مطابق ” فیشل کے دوران سیرم کی صورت میں 2 سے 5 ملی لیٹر تک پلینسیٹا ایکسٹریکٹ استعمال کیا جاتا ہے۔ اسے مائیکرو نیڈلنگ کے سے لگایا جاتا ہے تاکہ یہ جلد کے اندر جذب ہو سکے۔ اگر یہ انٹرا مسکولر انجکشن کے ذریعے لیا جائے تو عام طور پر 2 ملی لیٹر کا ایک ایمپیول ہفتے میں ایک یا دو بار تجویز کیا جاتا ہے۔ اس کے استعمال کے 2 سے 3 دن بعد جلد پر واضح چمک اور نرمی محسوس ہونے لگتی ہے۔
ایک عام سیشن کی چمک 3 سے 4 ہفتوں تک برقرار رہتی ہے۔ اگر مکمل کورس 6 سے 10 سیشنز کیا جائے تو اس کے نتائج 6 ماہ سے ایک سال تک رہ سکتے ہیں۔ جلد کی تازگی برقرار رکھنے کے لیے عام طور پر ہر ایک ماہ بعد ایک مینٹیننس سیشن لینے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ایک سیشن کی قیمت عموماً 15,000 سے 40,000 روپے کے درمیان ہو سکتی ہے اورانجکشنز یا امپورٹڈ سیرمز کی قیمت اس سے الگ ہوتی ہے۔”
دوسرا طریقہ برڈ ڈراپنگ فیشل ہے۔ جسے جاپانی روایت کے مطابق گیشا فیشل کہا جاتا ہے جو صدیوں سے جاپانی خواتین استعمال کر رہی ہیں ۔ اس میں بلبل کی بیٹ کو جراثیم سے پاک کر کے استعمال کیا جاتا ہے۔ ایک سیشن کی قیمت 30 ہزار سے 50 ہزار روپے تک ہے۔اس فیشل میں موجود قدرتی انزائمز گونین جلد کی مردہ تہہ کو ہٹاتے ہیں اور رنگت کو فوری طور پر نکھارتے ہیں۔ یہ خاص طور پر ان لوگوں کے لیے ہے جو قدرتی اشیاء سے جلد کی صفائی کرنا چاہتے ہیں۔پاکستان میں بہت سے لوگ جاپانی برانڈز کے پاؤڈر (Uguisu no Fun) آن لائن منگوا کر بھی استعمال کرتے ہیں۔ اس پاؤڈر کی ایک چھوٹی ڈبی کی قیمت بین الاقوامی مارکیٹ میں تقریباً 20 سے 50 ڈالرز (تقریباً 6,000 سے 15,000 روپے) کے درمیان ہوتی ہے جسے کئی بار استعمال کیا جا سکتا ہے۔
تیسرا اور سب سے خطرناک ٹرینڈ پیریڈز بلڈ کا ہے۔جسے سوشل میڈیا پر خواتین بغیر کسی طبی مشورے کے گھر پر استعمال کر رہی ہیں اس وہم میں کہ یہ جلد کو نئی زندگی دے گا۔​طبی ماہرین ان طریقوں کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔ ڈرماٹولوجسٹس کا کہنا ہے کہ غیر تصدیق شدہ حیاتیاتی فضلہ جلد پر لگانے سے ہیپاٹائٹس اور شدید بیکٹیریل انفیکشن کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ ایک نفسیاتی جنون تو ہو سکتا ہے مگر سائنسی علاج نہیں۔ اسی طرح پرندوں کی بیٹ میں موجود تیزابیت جلد کی قدرتی حفاظتی تہہ کو مستقل نقصان پہنچاتی ہے۔ جس کے اثرات وقتی چمک سے کہیں زیادہ مہنگے ثابت ہوتے ہیں۔ لاہور کی ماہرِ امراضِ جلد بعض ڈاکٹرز اسے مارکیٹنگ کا دھوکہ قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ اسٹیم سیلز کو کریم کی بوتل میں بند کر کے محفوظ رکھنا فی الحال سائنس کے لیے بھی ایک چیلنج ہے۔
کاسمیٹولوجسٹس اپنے کلینک میں ان اجزاء کو خام حالت میں استعمال کرنے کے بجائے ان سے لیبارٹری میں کشید کردہ اسٹیم سیلز اور گروتھ فیکٹرز استعمال کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اجزاء پراسیس ہونے کے بعد کچھ فوائد دے سکتے ہیں، لیکن گھر پر پیریڈز بلڈ یا برڈ ڈراپنگ لگانا سیپٹک کر سکتا ہے۔ ان کے نزدیک عقلمندی یہ ہے کہ اجزاء کی کیمسٹری کو سمجھا جائے۔ کیونکہ انسانی جلد کسی بھی قسم کی غلاظت کو جذب کرنے کے بجائے اسے رد کر دیتی ہے جس سے الرجی اور دانے نکل آتے ہیں۔
​اگر ان تمام پراڈکٹس کے اثرات کا جائزہ لیا جائے تو یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ان کے مبینہ فوائد سے زیادہ ان کے نقصانات ہیں۔ خون کے خلیات اتنے بڑے ہوتے ہیں کہ وہ جلد کے مساموں میں داخل ہی نہیں ہو سکتے۔ لہذا ان کا اثر محض سطح تک محدود رہتا ہے۔ سائنسی طور پر ثابت شدہ متبادل جیسے ریٹینول، وٹامن سی اور پی آر پی تھراپی، جس میں انسان کا اپنا صاف شدہ خون کا پلازما استعمال ہوتا ہے،ان غلیظ طریقوں سے کہیں زیادہ موثر، پاکیزہ اور محفوظ ہیں۔ محض لگژری کے احساس کے لیے نجاست کو چہرے پر سجانا نہ صرف صحت کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ یہ انسانی وقار کے بھی منافی ہے۔ اور بحیثیت مسلمان ہمیں حلال حرام کا بھی خیال رکھنا چاہیے۔
خواتین کو چاہیے کہ وہ انوکھے پن کے پیچھے بھاگنے کے بجائے مستند طبی مشوروں اور سائنسی طور پر ثابت شدہ طریقہ علاج کو ترجیح دیں۔اگر گھر میں موجود اشیائے خوردونوش کا استعمال بطور خوراک اور اسکن کیئر پراڈکٹس کیا جائے تو بھی جلد کو نکھارا جا سکتا ہے۔اس کے لیے مہنگے پراڈکٹس اور ٹریٹمنٹ لے کر اپنے لیے بیماریاں مول لینے کی ضرورت نہیں ہے۔اور اکثر ان ٹریٹمنٹس کو لینے والے شکل اور جسمانی ساخت کے بگاڑ کا بھی شکار ہو جاتے ہیں۔اس لیے اللہ تعالٰی کی بنائی شکل پر قناعت کرنی چاہیے اور بڑھتی عمر کو ایک نیچرل پراسس سمجھ کر قبول کرنا چاہیے نہ کہ اسے قیمتی اور نقصان دہ طریقوں سے روکنے کی فضول کوشش کرنی چاہیے۔

دور جدید کے خوبصورتی کے طریقے

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us