Banner

بحرانوں میں گھری دنیا

Share

Share This Post

or copy the link

صحافت منظر نامہ
بحرانوں میں گھری دنیا

قارئین صحافت۔موجودہ عالمی منظر نامہ ایک ایسے پیچیدہ موڑ پر ہے جہاں انسانی تاریخ کی سب سے بڑی تکنیکی ترقی اور بدترین جغرافیائی و سیاسی بحران ایک ساتھ نمو پا رہے ہیں، جس کے نتیجے میں کرہ ارض کے تمام ممالک کسی نہ کسی سطح پر غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں۔ سیاسی اعتبار سے دنیا ایک کثیر القطبی نظام کی طرف تیزی سے ہجرت کر رہی ہے جہاں امریکہ کی یک قطبی بالادستی کو چین کی معاشی قوت اور روس کی عسکری مزاحمت سے براہِ راست چیلنج مل رہا ہے، اس رسہ کشی نے عالمی سیاست کو بلاک بندیوں میں تقسیم کر دیا ہے جس کے اثرات ایشیاء بحرالکاہل سے لے کر لاطینی امریکہ کے دور افتادہ ممالک تک محسوس کیے جا رہے ہیں۔ یوکرین اور روس کے درمیان طویل ہوتی جنگ نے یورپی سلامتی کے تصور کو ملیامیٹ کر دیا ہے تو دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں غزہ اور لبنان کی صورتحال نے عالمی ضمیر اور بین الاقوامی قوانین کی ساکھ پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے، ان جنگوں نے نہ صرف انسانی جانوں کا زیاں کیا بلکہ عالمی سطح پر خوراک اور توانائی کی قیمتوں میں ایسا تلاطم پیدا کیا جس نے غریب ممالک کی معیشتوں کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ معاشی میدان میں دنیا اس وقت ۔ ڈی گلوبلائزیشن یا عالمگیریت کے خاتمے کے عمل سے گزر رہی ہے جہاں ممالک اب آزاد تجارت کے بجائے تحفظ پسندانہ پالیسیوں کو ترجیح دے رہے ہیں اور سپلائی چین کے تحفظ کے لیے اپنے قریبی اتحادیوں کے ساتھ تجارتی معاہدوں کو ترجیح دی جا رہی ہے، جس نے عالمی تجارتی تنظیم (WTO) جیسے اداروں کو بے اثر کر دیا ہے۔ ڈالر کی عالمی اجارہ داری کو کم کرنے کے لیے برکس (BRICS) پلس جیسے اتحاد مقامی کرنسیوں میں تجارت کو فروغ دے رہے ہیں جو کہ مستقبل کے ایک نئے مالیاتی ڈھانچے کی بنیاد بن سکتا ہے، مگر اس عبوری دور میں افراطِ زر اور بلند شرحِ سود نے ترقی پذیر ممالک کے لیے قرضوں کی واپسی کو ناممکن بنا دیا ہے جس سے افریقہ اور جنوبی ایشیاء کے کئی ممالک دیوالیہ ہونے کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔ تعلیمی شعبے میں دنیا ایک ڈیجیٹل تقسیم کا شکار ہے جہاں ایک طرف ترقی یافتہ ممالک مصنوعی ذہانت (AI) اور کوانٹم کمپیوٹنگ کو نصاب کا حصہ بنا کر انسانی ترقی کی نئی منزلیں طے کر رہے ہیں تو دوسری طرف تیسری دنیا کے کروڑوں بچے اب بھی بنیادی تعلیم اور انٹرنیٹ کی سہولت سے محروم ہیں، یہ تعلیمی خلیج مستقبل میں عالمی عدم مساوات کو مزید گہرا کر دے گی۔ جدید ٹیکنالوجی جہاں زندگیوں میں سہولت لا رہی ہے وہیں خودکار ہتھیاروں اور سائبر جنگوں نے ریاستوں کے دفاع کو غیر محفوظ بنا دیا ہے، اب جنگیں صرف سرحدوں پر نہیں بلکہ کمپیوٹر اسکرینوں اور معاشی پابندیوں کے ذریعے لڑی جا رہی ہیں جس نے ہائبرڈ وارفیئر کو جدید دور کا سب سے بڑا ہتھیار بنا دیا ہے۔ انسانی ترقی کے اشاریے بتاتے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلیاں اب کوئی نظریاتی بحث نہیں بلکہ ایک تلخ حقیقت بن چکی ہیں جس کی وجہ سے آنے والے برسوں میں کلائمیٹ مائیگریشن یا موسمیاتی ہجرت ایک بڑا عالمی مسئلہ بن کر ابھرے گی کیونکہ گلیشیئرز پگھلنے اور سمندروں کی سطح بلند ہونے سے کئی ساحلی ممالک کا وجود خطرے میں ہے۔ افریقہ کے ساحلی خطوں سے لے کر وسطی ایشیا تک پانی اور وسائل پر قبضے کی جنگیں داخلی خانہ جنگیوں کو ہوا دے رہی ہیں جس سے پناہ گزینوں کا ایک نیا سیلاب یورپ اور دیگر مستحکم خطوں کی طرف بڑھ رہا ہے، جو وہاں کی داخلی سیاست میں دائیں بازو کی انتہا پسندی اور قوم پرستی کو جنم دے رہا ہے۔ عالمی اداروں کی ناکامی نے طاقتور ممالک کو کھلی چھوٹ دے دی ہے کہ وہ اپنے مفادات کے لیے بین الاقوامی اصولوں کو پامال کریں، جس سے جنگل کا قانون دوبارہ لوٹتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ غرض یہ کہ آج کا عالمی منظر نامہ ایک طرف سائنسی معجزات اور مریخ پر بستیاں بسانے کے خوابوں سے سجا ہے تو دوسری طرف غربت، جہالت، بھوک اور ایٹمی جنگ کے سائے اس خوبصورت سیارے کے مستقبل کو دھندلا رہے ہیں، جس سے بچنے کا واحد راستہ صرف اور صرف منصفانہ عالمی نظام اور بلا امتیاز انسانی تعاون ہی ہو سکتا ہے۔ یہ صورتحال تقاضا کرتی ہے کہ عالمی قیادتیں اپنے محدود قومی مفادات سے بالاتر ہو کر ایک ایسے مشترکہ لائحہ عمل پر متفق ہوں جہاں ترقی کا ثمر محض چند ملکوں تک محدود نہ رہے بلکہ پوری انسانیت اس سے فیضیاب ہو سکے، ورنہ تاریخ گواہ ہے کہ جب معاشی اور سماجی تفاوت حد سے بڑھ جاتا ہے تو وہ عظیم تہذیبوں کے زوال کا پیش خیمہ ثابت ہوتا ہے۔ اس وقت پوری دنیا ایک آتش فشاں پر بیٹھی ہے جہاں ایک چھوٹی سی غلط فہمی یا تزویراتی غلطی پوری نسلِ انسانی کو ایسے اندھیروں میں دھکیل سکتی ہے جہاں سے واپسی ناممکن ہو جائے گی، لہٰذا تعلیم، معیشت اور ٹیکنالوجی کو تخریب کے بجائے تعمیر کے لیے استعمال کرنا ہی بقا کی واحد ضمانت ہے۔

بحرانوں میں گھری دنیا

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us