Banner

وصیتِ پدری ۔ محبت، صبر اور مکافاتِ عمل کا آئینہ

Share

Share This Post

or copy the link

احمدخان اچکزئی

وصیتِ پدری ۔ محبت، صبر اور مکافاتِ عمل کا آئینہ

محترم قارئین ۔ ایک باپ کی اپنے بیٹے کے نام یہ وصیت محض الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ جذباتی کائنات کا وہ نچوڑ ہے جو انسانی وجود کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس تحریر کا مطالعہ ہر نوجوان کے لیے ناگزیر ہے تاکہ وہ والدین کے ساتھ اپنے رویے کی حساسیت کو سمجھ سکے۔ باپ مخاطب ہو کر کہتا ہے کہ میرے پیارے بیٹے! ایک دن تم مجھے بوڑھا دیکھو گے اور میرا رویہ تمہیں غیر منطقی معلوم ہوگا، تب براہ مہربانی مجھے تمہارا وقت اور صبر چاہیے ہوگا تاکہ تم مجھے سمجھ سکو۔ جب میرے ہاتھ کانپیں اور میرا کھانا میرے سینے پر گر پڑے، اور جب میں اپنے کپڑے پہننے سے قاصر ہو جاؤں، تب تم ان گزرے ہوئے سالوں کو یاد کرنا جب میں تمہیں وہ سب کچھ صبر سے سکھاتا تھا جو میں آج خود کرنے کی ہمت نہیں رکھتا۔ اگر میں تم سے ایک ہی بات بار بار کروں یا تمہیں باربار یاد دہانی کرواؤں تو مجھ پر غصہ اور ملامت مت کرنا، کیونکہ میں نے تمہارے بچپن میں تمہیں خوش کرنے کے لیے بے شمار کہانیاں اور باتیں سینکڑوں بار دہرائی تھیں اور تم نے بھی ہمیشہ باربار مجھ سے وہی سوالات پوچھے تھے، لہٰذا اب میری باتوں میں رکاوٹ نہ ڈالنا۔ اگر بڑھاپے کی وجہ سے میں اب ویسا خوبصورت نہیں رہا یا مجھ سے تمہیں مہک نہیں آتی تو مجھ پر الزام مت عائد کرنا، بلکہ یاد رکھنا کہ جب میں جوان تھا تو میں نے تمہیں خوبصورت اور خوشبودار بنانے کے لیے اپنی زندگی کی بہترین کوششیں صرف کر دی تھیں۔میری اس ضعیفی کی حالت میں میری لاعلمی یا کم فہمی پر کبھی مت ہنسنا، بلکہ اس وقت تم میری آنکھیں اور میرا دماغ بن جانا تاکہ زندگی کی جو چیزیں مجھ سے پیچھے رہ گئی ہیں، میں تمہارے سہارے انہیں پا سکوں۔ بیٹا! میں وہی ہوں جس نے تمہیں انگلی پکڑ کر چلنا سکھایا اور تمہیں زندگی کے طوفانوں کا سامنا کرنا سکھایا، تو آج تم مجھے یہ کیسے سکھا سکتے ہو کہ مجھے کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں؟ گفتگو کے دوران میری کمزور یادداشت اور میری سوچ کی سستی سے اکتا نہ جانا، کیونکہ میری کل خوشی اب صرف تمہارے ساتھ رہنے اور تمہیں دیکھنے میں پوشیدہ ہے۔ بس مجھے ان ضروریات کو پورا کرنے میں مدد دینا جن کی مجھے طلب ہے، کیونکہ میں اب بھی جانتا ہوں کہ میں کیا چاہتا ہوں۔ جب میرے پاؤں میرا بوجھ اٹھانے سے انکار کر دیں اور مجھے وہاں نہ لے جا سکیں جہاں میں جانا چاہتا ہوں، تو مجھ پر احسان کرنا اور یاد رکھنا کہ کبھی میں نے تمہارا ہاتھ تھام کر تمہیں چلنا سکھایا تھا۔ آج میرا ہاتھ پکڑتے ہوئے کبھی شرمانا مت، کیونکہ کل تم بھی کسی کا ہاتھ پکڑو گے۔ میں جانتا ہوں کہ اس عمر میں، میں زندگی کی طرف نہیں بلکہ موت کی طرف بڑھ رہا ہوں، اس سفر میں میرا ساتھ دینا اور میرا مخالف مت بننا۔ جب تمہیں میری کچھ غلطیاں یاد آئیں تو یہ جان لینا کہ میں نے ہمیشہ تمہارے بہترین مفاد کے علاوہ کچھ نہیں چاہا تھا۔ اب تم میرے لیے جو سب سے اچھا کام کر سکتے ہو وہ یہ ہے کہ میری لغزشوں کو معاف کر دو اور میری خطاؤں پر پردہ ڈال دو، تاکہ خدا تمہیں معاف کرے۔ تمہاری ہنسی اور مسکراہٹ مجھے آج بھی ویسے ہی خوشی دیتی ہے جیسے میری جوانی میں دیتی تھی، اس لیے مجھے اپنی صحبت سے محروم نہ کرنا۔ بیٹا! یاد رکھو کہ جب تم اس دنیا میں پیدا ہوئے تھے تو میں تمہارے ساتھ تھا، اب جب میں اس دنیا سے رخصت ہونے لگوں تو تم میرے پاس رہنا۔یہ وصیت ہمیں احساس دلاتی ہے کہ والدین کی خدمت محض ایک فریضہ نہیں بلکہ اس قرض کی ادائیگی ہے جو ہم کبھی پوری طرح چکا نہیں سکتے۔ ایک باپ اپنی تمام تر زندگی کی محنت اور شفقت کے بدلے صرف تھوڑی سی توجہ، نرم گفتگو اور وقار کا طالب ہوتا ہے۔ نوجوان نسل کو یہ سمجھنا ہوگا کہ بڑھاپا بچپن کا دوسرا روپ ہوتا ہے جہاں انسان جسمانی طور پر کمزور اور جذباتی طور پر حساس ہو جاتا ہے۔ جس طرح والدین نے بچپن کی بے ڈھنگی باتوں اور حرکتوں کو مسکراہٹ کے ساتھ برداشت کیا، اسی طرح اولاد پر فرض ہے کہ وہ ان کے بڑھاپے کی کمزوریوں کو اپنی ڈھال بنا لیں۔ یہ تحریر ہمیں دعوتِ فکر دیتا ہے کہ ہم اپنے والدین کے ساتھ اپنے رویوں پر نظرِ ثانی کریں، اس سے پہلے کہ وقت ہاتھ سے نکل جائے اور صرف پچھتاوا باقی رہ جائے۔ محبت اور احترام کا یہ رشتہ باہمی صبر اور قربانی پر قائم ہے، اور اس وصیت کا ہر لفظ اس سچائی کی گواہی دیتا ہے کہ جو بویا جائے گا وہی کاٹا جائے گا۔ اگر آج ہم اپنے بزرگوں کے لیے سایہ بنیں گے تو کل ہماری اولاد ہمارے لیے راحت کا باعث بنے گی۔

وصیتِ پدری ۔ محبت، صبر اور مکافاتِ عمل کا آئینہ

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us