Banner

مزدور تاریخ کے بدترین معاشی بحران کا شکار ہیں، پیر محمد کاکڑ

featured
Share

Share This Post

or copy the link

۔۔۔ تفصیلی فل پیج انٹرویو ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مزدور تاریخ کے بدترین
معاشی بحران کا شکار
ہیں۔ پیر محمد کاکڑ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
واپڈا ملازمین کی محرومیاں
ختم کی جائیں، تنخواہیں
وفاقی اداروں کے برابر،
پروموشنز اور ایڈہاک ملازمین
کی مستقلی فوری کی جائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انٹرویو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔ قیوم بلوچ ۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بلوچستان کی مزدور تحریک کی تاریخ میں کچھ نام ایسے ہوتے ہیں جو صرف شخصیات نہیں بلکہ ایک مکمل جدوجہد، استقامت اور اصول پسندی کی علامت بن جاتے ہیں، انہی نمایاں ناموں میں پیر محمد کاکڑ کا شمار بھی کیا جاتا ہے جو اس وقت مرکزی صدر کیسکو لیبر یونین بلوچستان اور جنرل سیکرٹری پاکستان یونائیٹڈ ورکرز فیڈریشن بلوچستان کی حیثیت سے خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ گزشتہ تیس برسوں پر محیط ان کی جدوجہد نہ صرف ایک فرد کی داستان ہے بلکہ یہ بلوچستان کے محنت کش طبقے کی اجتماعی آواز بھی ہے جسے انہوں نے ہر فورم پر بھرپور انداز میں بلند کیا۔ ایک ایسے دور میں جب مزدوروں کے حقوق اکثر نظرانداز کیے جاتے رہے، پیر محمد کاکڑ نے نہ صرف اس ناانصافی کے خلاف آواز اٹھائی بلکہ اپنی عملی جدوجہد کے ذریعے ایک مثال قائم کی کہ اگر نیت صاف اور ارادے مضبوط ہوں تو مشکلات کی بڑی سے بڑی دیوار بھی عبور کی جاسکتی ہے۔ پیر محمد کاکڑ کا تعلق پشتون قوم کے معروف قبیلے کاکڑ سے ہے، اور انہوں نے اپنی قبائلی روایات کی پاسداری کرتے ہوئے ہمیشہ غیرت، ایمانداری اور اصولوں کو مقدم رکھا۔ انہوں نے ٹریڈ یونین کی سیاست میں قدم رکھا تو اس وقت حالات آج کے مقابلے میں کہیں زیادہ کٹھن تھے، مزدوروں کی آواز دبانے کی کوششیں عام تھیں اور حقوق کی بات کرنے والوں کو مختلف دباؤ، دھمکیوں اور حتیٰ کہ قید و بند کی صعوبتوں کا بھی سامنا کرنا پڑتا تھا۔ مگر ان تمام حالات کے باوجود پیر محمد کاکڑ نے کبھی پسپائی اختیار نہیں کی۔ انہوں نے بارہا مشکلات کا سامنا کیا، متعدد مقدمات کا سامنا کیا، اور قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کیں، لیکن اپنے اصولی موقف سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹے۔ یہی استقامت اور جرات انہیں دیگر رہنماؤں سے ممتاز کرتی ہے۔ ان کی شخصیت کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ وہ نہ صرف ایک مضبوط مزدور رہنما ہیں بلکہ ایک خوش مزاج، ملنسار اور انسان دوست شخصیت کے مالک بھی ہیں۔ وہ ہر طبقہ فکر کے لوگوں کے ساتھ خندہ پیشانی سے ملتے ہیں اور ان کی یہی خوبی انہیں عوام میں بے حد مقبول بناتی ہے۔ مزدوروں کے مسائل ہوں یا عام شہریوں کے دکھ درد، پیر محمد کاکڑ ہمیشہ پیش پیش نظر آتے ہیں۔ وہ صرف نعروں تک محدود نہیں بلکہ عملی طور پر لوگوں کے مسائل کے حل کیلئے کوشاں رہتے ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ انہیں ایک ہردلعزیز رہنما کی حیثیت حاصل ہے۔ کیسکو اور واپڈا جیسے اہم اداروں میں اعلیٰ سرکاری عہدے پر فائز ہونے کے باوجود انہوں نے کبھی اپنی ملازمت کو اپنی جدوجہد کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننے دیا۔ انہوں نے ہمیشہ مزدوروں کے مفادات کو ترجیح دی اور کسی قسم کے دباؤ یا ذاتی مفاد کو اپنی راہ میں حائل نہیں ہونے دیا۔ یہ بات اپنی جگہ ایک بڑی مثال ہے کہ سرکاری عہدے پر ہوتے ہوئے بھی ایک شخص کس طرح اصولوں پر قائم رہ سکتا ہے اور حق و سچ کی آواز بلند کرسکتا ہے۔ انہوں نے ثابت کیا کہ اصل قیادت وہی ہوتی ہے جو اپنے مفادات کو پس پشت ڈال کر عوام کے حقوق کیلئے کھڑی ہو۔ آل پاکستان سطح پر بھی پیر محمد کاکڑ نے بلوچستان کے محنت کشوں کی نمائندگی کا حق ادا کیا ہے۔ انہوں نے مختلف فورمز پر نہ صرف صوبے کے مزدوروں کے مسائل کو اجاگر کیا بلکہ ان کے حل کیلئے عملی اقدامات کی بھی کوشش کی۔ ان کی تقاریر، بیانات اور عملی سرگرمیاں اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ وہ ایک وسیع وژن رکھنے والے رہنما ہیں جو صرف اپنے ادارے یا علاقے تک محدود نہیں بلکہ پورے ملک کے مزدور طبقے کی بہتری کیلئے سوچتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ جب تک مزدور خوشحال نہیں ہوگا، ملک ترقی نہیں کرسکتا، اور یہی سوچ ان کی جدوجہد کا محور ہے۔ سماجی میدان میں بھی پیر محمد کاکڑ کا کردار انتہائی قابل تعریف ہے۔ وہ نوجوانوں کی تعلیم، کھیلوں اور دیگر مثبت سرگرمیوں میں بھرپور دلچسپی لیتے ہیں اور انہیں ہر ممکن تعاون فراہم کرتے ہیں۔ ان کا یقین ہے کہ نوجوان نسل کو اگر صحیح سمت دی جائے تو وہ نہ صرف اپنا بلکہ پورے معاشرے کا مستقبل روشن بنا سکتے ہیں۔ اسی سوچ کے تحت وہ مختلف تعلیمی اور اسپورٹس سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں اور نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ ان کی یہ کاوشیں معاشرے میں مثبت تبدیلی کا باعث بن رہی ہیں اور نوجوانوں کیلئے ایک روشن مثال قائم کررہی ہیں۔ پیر محمد کاکڑ کی زندگی اس بات کا عملی ثبوت ہے کہ اصولوں پر قائم رہ کر بھی کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کبھی کسی قسم کے تعصب کو اپنے قریب نہیں آنے دیا اور ہمیشہ میرٹ، انصاف اور برابری کی بات کی۔ ان کی جدوجہد صرف مزدوروں کے حقوق تک محدود نہیں بلکہ وہ ایک ایسے معاشرے کے خواہاں ہیں جہاں ہر فرد کو اس کا جائز حق ملے اور کوئی بھی ظلم و ناانصافی کا شکار نہ ہو۔ ان کی شخصیت میں قیادت، خلوص، جرات اور انسان دوستی کا حسین امتزاج پایا جاتا ہے جو انہیں ایک منفرد اور قابل احترام مقام عطا کرتا ہے۔ آج جب ہم پیر محمد کاکڑ کی خدمات کا جائزہ لیتے ہیں تو یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ وہ بلوچستان کی مزدور تحریک کا ایک قیمتی اثاثہ ہیں۔ ان کی جدوجہد آنے والی نسلوں کیلئے مشعل راہ ہے اور ان کا کردار اس بات کی یاد دہانی کراتا ہے کہ حقیقی قیادت وہی ہوتی ہے جو مشکل وقت میں بھی حق کا ساتھ نہ چھوڑے۔ ان کی زندگی کا ہر پہلو ایک سبق ہے، ایک پیغام ہے، اور ایک عزم ہے کہ جب تک مزدور کو اس کا حق نہیں ملتا، جدوجہد جاری رہے گی۔
ہم نے ” پیر محمد کاکڑ ” سے خصوصی تفصیلی نشست کا اہتمام کیا۔ جس کے دوران
بلوچستان کے ممتاز مزدور رہنما، مرکزی صدر کیسکو لیبر یونین بلوچستان اور جنرل سیکرٹری پاکستان یونائیٹڈ ورکرز فیڈریشن بلوچستان پیر محمد کاکڑ نے اپنے ایک طویل اور تفصیلی انٹرویو میں ملک کے محنت کش طبقے کی زبوں حالی، بڑھتی ہوئی مہنگائی، کم تنخواہوں، غیر یقینی مستقبل اور ادارہ جاتی ناانصافیوں پر نہایت مدلل اور دو ٹوک انداز میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج پاکستان کا مزدور سب سے زیادہ بے بس اور غیر محفوظ ہوچکا ہے، اور اگر اس کی حالت زار پر فوری توجہ نہ دی گئی تو یہ طبقہ مکمل طور پر تباہی کے دہانے پر پہنچ جائے گا۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ مزدور کسی بھی ملک کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں اسی ریڑھ کی ہڈی کو کمزور کیا جارہا ہے، جس کے باعث پورا نظام عدم توازن کا شکار ہوچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی نے عام آدمی کی زندگی کو اجیرن بنا دیا ہے، اشیائے خوردونوش، ادویات، تعلیمی اخراجات، کرایوں اور دیگر ضروریات زندگی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہوچکا ہے، جبکہ مزدور کی تنخواہ میں اس کے مطابق کوئی اضافہ نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک مزدور جس کی ماہانہ آمدن محدود ہوتی ہے، وہ کس طرح اپنے بچوں کو تعلیم دلائے، گھر کا کرایہ ادا کرے، علاج کروائے اور دیگر ضروریات پوری کرے، یہ ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر مہنگائی کے تناسب سے تنخواہوں میں نمایاں اضافہ کرے، بصورت دیگر مزدور طبقہ فاقہ کشی پر مجبور ہوجائے گا۔ ایک سوال کے جواب میں پیر محمد کاکڑ نے کہا کہ مزدور کا مستقبل اس وقت شدید خطرات سے دوچار ہے، کیونکہ نہ تو اسے روزگار کا تحفظ حاصل ہے اور نہ ہی ریٹائرمنٹ کے بعد کوئی خاطر خواہ سہارا موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ مزدوروں کیلئے ایک جامع پالیسی مرتب کرے جس میں ان کی ملازمت کا تحفظ، پنشن، سوشل سیکیورٹی اور دیگر مراعات شامل ہوں تاکہ وہ ایک باعزت زندگی گزار سکیں۔ انہوں نے کہا کہ جب تک مزدور کو تحفظ فراہم نہیں کیا جائے گا، وہ دلجمعی کے ساتھ کام نہیں کرسکے گا اور اس کا براہ راست اثر ملکی معیشت پر پڑے گا۔انہوں نے بنیادی سہولیات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایک مزدور جو دن رات محنت کرتا ہے، اسے کم از کم بنیادی سہولیات تو مفت فراہم کی جانی چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ بجلی، گیس، پانی اور ٹیلی فون جیسی سہولیات ہر مزدور کا حق ہیں اور حکومت کو چاہیے کہ وہ ان سہولیات کو مزدور طبقے کیلئے مفت یا انتہائی کم نرخوں پر فراہم کرے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک مزدور کو بنیادی سہولیات میسر نہیں ہوں گی، اس کی زندگی میں بہتری نہیں آسکتی۔ انہوں نے صحت کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ مزدور طبقہ مہنگے علاج کا بوجھ اٹھانے کے قابل نہیں، اور اکثر اوقات یہ دیکھنے میں آتا ہے کہ کوئی مزدور یا اس کا کوئی قریبی عزیز کسی مہلک بیماری میں مبتلا ہوجاتا ہے تو وہ صرف وسائل کی کمی کی وجہ سے بروقت علاج نہیں کرا پاتا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مزدوروں کیلئے سرکاری ہسپتالوں میں مکمل مفت علاج کی سہولت فراہم کی جائے، اور اگر کسی مریض کو بیرون ملک علاج کی ضرورت ہو تو اسے سرکاری خرچ پر علاج کیلئے بھیجا جائے۔ انہوں نے کہا کہ صحت ہر انسان کا بنیادی حق ہے اور ریاست کو اس کی فراہمی یقینی بنانی چاہیے۔ واپڈا اور کیسکو ملازمین کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں واپڈا ملازمین کو دیگر صوبوں کے مقابلے میں زیادہ مشکلات کا سامنا ہے، کیونکہ یہاں وسائل کی کمی، انفراسٹرکچر کی کمزوری اور دیگر مسائل موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ملازمین سخت ترین حالات میں اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہیں، لیکن انہیں اس کے مطابق سہولیات اور مراعات نہیں دی جاتیں۔ انہوں نے کہا کہ واپڈا ملازمین کی تنخواہیں دیگر وفاقی محکموں کے برابر کی جانی چاہئیں تاکہ ان کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کا خاتمہ ہوسکے۔ انہوں نےکہا کہ واپڈا ملازمین کو ریلوے میں مفت سفری سہولیات فراہم کی جائیں، جیسا کہ دیگر سرکاری اداروں کے ملازمین کو دی جاتی ہیں، تاکہ ان کے ساتھ برابری کا سلوک کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ہی ملک کے ملازمین کے درمیان اس طرح کا امتیاز کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ واپڈا میں پروموشنز کا عمل انتہائی سست روی کا شکار ہے، جس کی وجہ سے کئی اہل ملازمین برسوں سے ترقی کے منتظر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ صورتحال ملازمین میں مایوسی اور بے چینی کو جنم دے رہی ہے، اور حکومت کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر اس مسئلے کو حل کرے۔انہوں نے کہا کہ پروموشنز کا بروقت ہونا نہ صرف ملازمین کا حق ہے بلکہ ادارے کی کارکردگی کیلئے بھی ضروری ہے۔ ایڈہاک ملازمین کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یہ ملازمین کئی سالوں سے مستقل ہونے کے منتظر ہیں، لیکن ان کی شنوائی نہیں ہورہی۔ انہوں نے کہا کہ ایڈہاک ملازمین بھی اسی ادارے کیلئے کام کر رہے ہیں اور وہی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں، اس لئے انہیں مستقل کیا جانا چاہیے تاکہ ان کا مستقبل محفوظ ہوسکے اور وہ ذہنی سکون کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں ادا کرسکیں۔ واپڈا کی نجکاری کے حوالے سے انہوں نے شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ نجکاری ایک مزدور دشمن اقدام ہے جس سے نہ صرف ملازمین بے روزگار ہوں گے بلکہ اداروں کی کارکردگی بھی متاثر ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ہم کسی صورت واپڈا کی نجکاری کو قبول نہیں کریں گے اور اس کے خلاف ہر ممکن مزاحمت کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے نجکاری کی پالیسی کو زبردستی نافذ کرنے کی کوشش کی تو ملک بھر میں احتجاجی تحریک چلائی جائے گی۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ بلوچستان کے مزدوروں کو سب سے زیادہ ضرورت اتحاد کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک مزدور ایک پلیٹ فارم پر جمع نہیں ہوں گے، ان کے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ انہوں نے تمام مزدوروں، سرکاری ملازمین اور نجی شعبے کے کارکنوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے ذاتی اختلافات کو بھلا کر ایک مضبوط اتحاد قائم کریں اور اپنے حقوق کیلئے مشترکہ جدوجہد کریں۔انہوں نےکہا کہ ہماری جدوجہد صرف تنخواہوں کے اضافے تک محدود نہیں بلکہ ہم ایک ایسے نظام کے خواہاں ہیں جہاں مزدور کو عزت، تحفظ اور سہولیات میسر ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ مزدور کا بچہ بھی ڈاکٹر، انجینئر اور افسر بنے، اور اس کیلئے ضروری ہے کہ اسے تعلیم اور دیگر سہولیات فراہم کی جائیں۔ پیر محمد کاکڑ نے اپنے انٹرویو کے اختتام پر کہا کہ ہم نے ہمیشہ اصولوں کی سیاست کی ہے اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم کسی دباؤ میں آکر اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے اور مزدوروں کے حقوق کیلئے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں یقین ہے کہ اگر ہم متحد ہوکر جدوجہد کریں تو وہ دن دور نہیں جب مزدور خوشحال ہوگا، اس کے مسائل حل ہوں گے اور پاکستان ایک حقیقی فلاحی ریاست کے طور پر ابھرے گا جہاں ہر شہری کو اس کا حق ملے گا۔

مزدور تاریخ کے بدترین معاشی بحران کا شکار ہیں، پیر محمد کاکڑ

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us