Banner
Daily Sahafat Quetta
November 2, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
قاسم سوری کی صحافیوں کے گھروں اور دفتر پر چھاپوں کی مذمت، آزادیِ صحافت پر تشویش کا اظہارکوئٹہ میں صحافی آغا عبید کے گھر این سی سی آئی اے کا چھاپہ، 40 سے زائد گاڑیاں پہنچ گئیں، اہلِ خانہ کو پریشانی کا سامنادہشت گردی کے سہولت کاروں میں خیبرپختونخوا کی نااہل اور لاتعلق حکومت بھی تھی، ڈی جی آئی ایس پی آرروہڑی میں منشیات کے مبینہ کاروبار میں اضافہ، نوجوان نسل کا مستقبل خطرے میں پڑنے کا خدشہایس ایس جی سی کوئٹہ کے سینئر افسر حاجی نصیر لہڑی کی تھیفٹ کلیم انچارج محمد زبیر سے ملاقاتعزیز اللہ ماما کاکڑ کی سیاسی جدوجہد اور خدمات ناقابلِ فراموش ہیں، سردار منظور احمد خان کاکڑمکہ معاہدہ اور پاکستان کا مستقبل: سفارتی امکانات، علاقائی تقاضے اور عالمی منظرنامہٹرائی نیشن سیریز: پاکستان پر فائنل میں سلو اوور ریٹ پر جرمانہ عائدپاکستان کی معیشت 3 دہائیوں سے جمود کا شکار قراربانی سے ملاقات کی ہر طریقے سے کوشش کی، بیرسٹر سیف کے دعوے جھوٹے ہیں: چیئرمین پی ٹی آئیقاسم سوری کی صحافیوں کے گھروں اور دفتر پر چھاپوں کی مذمت، آزادیِ صحافت پر تشویش کا اظہارکوئٹہ میں صحافی آغا عبید کے گھر این سی سی آئی اے کا چھاپہ، 40 سے زائد گاڑیاں پہنچ گئیں، اہلِ خانہ کو پریشانی کا سامنادہشت گردی کے سہولت کاروں میں خیبرپختونخوا کی نااہل اور لاتعلق حکومت بھی تھی، ڈی جی آئی ایس پی آرروہڑی میں منشیات کے مبینہ کاروبار میں اضافہ، نوجوان نسل کا مستقبل خطرے میں پڑنے کا خدشہایس ایس جی سی کوئٹہ کے سینئر افسر حاجی نصیر لہڑی کی تھیفٹ کلیم انچارج محمد زبیر سے ملاقاتعزیز اللہ ماما کاکڑ کی سیاسی جدوجہد اور خدمات ناقابلِ فراموش ہیں، سردار منظور احمد خان کاکڑمکہ معاہدہ اور پاکستان کا مستقبل: سفارتی امکانات، علاقائی تقاضے اور عالمی منظرنامہٹرائی نیشن سیریز: پاکستان پر فائنل میں سلو اوور ریٹ پر جرمانہ عائدپاکستان کی معیشت 3 دہائیوں سے جمود کا شکار قراربانی سے ملاقات کی ہر طریقے سے کوشش کی، بیرسٹر سیف کے دعوے جھوٹے ہیں: چیئرمین پی ٹی آئی

کرپشن کا ناسور۔جڑیں۔سرپرست اور ریاست کی بقاء

محمدنسیم رنزوریار

کرپشن کا ناسور۔جڑیں۔سرپرست اور ریاست کی بقاء

قارئین کرام ۔پاکستان میں کرپشن محض ایک اخلاقی برائی نہیں بلکہ ایک منظم “ادارہ جاتی ضرورت” بن چکی ہے جس نے اعلیٰ ایوانوں سے لے کر ادنیٰ سرکاری دفاتر تک ریاست کے پورے ڈھانچے کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے، اس نظامِ بد کی جڑیں برطانوی استعمار کے چھوڑے ہوئے اس بیوروکریٹک ڈھانچے میں پیوست ہیں جسے عوامی خدمت کے بجائے “اشرافیہ کے تحفظ” کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا، پاکستان میں کرپشن کی بنیادی وجہ “احتساب کا فقدان” اور “طاقت کا عدم توازن” ہے جہاں قانون صرف کمزور کے لیے حرکت میں آتا ہے جبکہ طاقتور طبقہ این آر او (NRO) اور مخصوص قانونی ترامیم کے ذریعے اپنے کالے دھن کو سفید کرنے کے راستے نکال لیتا ہے، اس بدعنوانی کو تین بڑے ستون سپورٹ کرتے ہیں: پہلا ستون سیاسی اشرافیہ ہے جو انتخابات جیتنے کے لیے اربوں روپے خرچ کرتی ہے اور اقتدار میں آکر اس رقم کو سود سمیت عوامی منصوبوں سے کمیشن کی صورت میں وصول کرتی ہے، دوسرا ستون وہ بیوروکریسی ہے جو فائل ورک اور قانونی موشگافیوں کے ذریعے مالی بے ضابطگیوں کو تحفظ فراہم کرتی ہے، اور تیسرا ستون وہ طاقتور غیر مرئی قوتیں اور مافیاز (شوگر، آٹا، لینڈ مافیا) ہیں جو پالیسی سازی پر اثر انداز ہو کر اپنے مفادات کے مطابق قوانین بنواتے ہیں، تاریخی طور پر پاکستان میں کرپشن کے بڑے منصوبوں اور میگا اسکینڈلز کی بنیاد مختلف سیاسی و غیر سیاسی ادوار میں رکھی گئی، 90 کی دہائی میں شروع ہونے والے کک بیکس اور فرضی کمپنیوں (Shell Companies) کے کلچر نے ملک کو معاشی طور پر کھوکھلا کیا جبکہ حالیہ دہائیوں میں “ترقیاتی منصوبوں” کے نام پر لیے گئے غیر ملکی قرضوں کا ایک بڑا حصہ آف شور اکاؤنٹس کی نذر ہو گیا، ہر دورِ حکومت میں کرپشن کے طریقے بدلتے رہے؛ کہیں براہ راست نقد رقم کی وصولی ہوئی تو کہیں “پالیسی کرپشن” کے ذریعے مخصوص خاندانوں اور جماعتوں کو مالی فائدہ پہنچایا گیا، اس ناسور نے پاکستان کو عالمی سطح پر ایک “ناقابلِ اعتبار” ملک بنا دیا ہے جس کی وجہ سے براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (FDI) ختم ہو چکی ہے اور ملک آئی ایم ایف (IMF) کے قرضوں کے لامتناہی شکنجے میں پھنس گیا ہے، کرپشن کی وجہ سے میرٹ کا قتل عام ہوا جس نے نوجوان نسل کو مایوس کر کے “برین ڈرین” یعنی ملک چھوڑنے پر مجبور کر دیا ہے، سرکاری ہسپتالوں میں ادویات کی چوری سے لے کر تعلیمی اداروں میں ڈگریوں کی فروخت تک ہر جگہ عام آدمی متاثر ہو رہا ہے، اس زہر کا واحد حل “بے لاگ اور بلاامتیاز احتساب” میں پوشیدہ ہے جس کے لیے ایک آزاد اور خودمختار جوڈیشل کمیشن کی ضرورت ہے جو سیاسی اثر و رسوخ سے پاک ہو، ڈیجیٹل گورننس اور ای۔کورٹ سسٹم کا نفاذ انسانی مداخلت کو کم کر کے کرپشن کے مواقع ختم کر سکتا ہے، جب تک بڑے مگرمچھوں کو سرِ عام عبرت کا نشانہ نہیں بنایا جائے گا اور ان کی اندرون و بیرونِ ملک جائیدادیں ضبط نہیں ہوں گی، تب تک پاکستان اس دلدل سے نہیں نکل سکتا، کرپشن کے خاتمے کے لیے نظامِ تعلیم میں اخلاقی تربیت اور سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں معقول اضافے کے ساتھ ساتھ “سنگین غداری” جیسے سخت قوانین کو مالی بدعنوانی پر لاگو کرنا وقت کی اہم ترین پکار ہے تاکہ ریاست کو ایک “فیلڈ سٹیٹ” بننے سے بچایا جا سکے۔

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *