Banner
Daily Sahafat Quetta
November 5, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
کوئٹہ میں 70 لاکھ روپے کی وارداتیں کرنے والا پانچ رکنی گینگ گرفتار، پولیس اہلکار اور خواتین بھی گروہ میں شامل تھے،عمران شوکتگوادر کے اسکولوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں، مولانا ہدایت الرحمان بلوچایم ٹی آئی صوابی کے وفد کی مشیرِ گورنر برائے صحت لیفٹیننٹ جنرل (ر) نگار جوہر سے ملاقاتنثار احمد لغاری ڈسٹرکٹ مٹیاری کو نیا ایکسپریس میڈیا گروپ کی جانب سے اعزازی شیلڈ پیشساہیوال کے رانا عرفان اے ایس آئی کے عہدے پر ترقی پا گئے، اہلِ علاقہ کی مبارکبادایس ایچ او تخت محل نعمان اقبال کے خوش اخلاق رویے اور عوامی خدمت کو شہریوں کی جانب سے سراہا جانے لگاگورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان کا ایچی سن کالج میں بلوچستان کے طلباء کا اسکالرشپ کوٹہ بڑھانے کا اعلانشانگلہ: مسز تاج آفریدی کی خاندان اور ساتھیوں سمیت پیپلز پارٹی میں شمولیتڈی پی او دیر بالا اسلم نواز کی زیر صدارت کھلی کچہری کا انعقادمدارس کو رجسٹریشن کے نام پر نوٹسز دینا آئین کی خلاف ورزی ہے، مولانا عبدالواسعکوئٹہ میں 70 لاکھ روپے کی وارداتیں کرنے والا پانچ رکنی گینگ گرفتار، پولیس اہلکار اور خواتین بھی گروہ میں شامل تھے،عمران شوکتگوادر کے اسکولوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں، مولانا ہدایت الرحمان بلوچایم ٹی آئی صوابی کے وفد کی مشیرِ گورنر برائے صحت لیفٹیننٹ جنرل (ر) نگار جوہر سے ملاقاتنثار احمد لغاری ڈسٹرکٹ مٹیاری کو نیا ایکسپریس میڈیا گروپ کی جانب سے اعزازی شیلڈ پیشساہیوال کے رانا عرفان اے ایس آئی کے عہدے پر ترقی پا گئے، اہلِ علاقہ کی مبارکبادایس ایچ او تخت محل نعمان اقبال کے خوش اخلاق رویے اور عوامی خدمت کو شہریوں کی جانب سے سراہا جانے لگاگورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان کا ایچی سن کالج میں بلوچستان کے طلباء کا اسکالرشپ کوٹہ بڑھانے کا اعلانشانگلہ: مسز تاج آفریدی کی خاندان اور ساتھیوں سمیت پیپلز پارٹی میں شمولیتڈی پی او دیر بالا اسلم نواز کی زیر صدارت کھلی کچہری کا انعقادمدارس کو رجسٹریشن کے نام پر نوٹسز دینا آئین کی خلاف ورزی ہے، مولانا عبدالواسع

میں کون ہوں؟اپنی قوم کے نام ایک مخلصانہ پکار!!!

میں کون ہوں؟اپنی قوم کے نام ایک مخلصانہ پکار!!!
احمــــــــدخان اچکــــــــزئی

​میرے عزیز ہم وطنو، بھائیو اور غیور پشتون نوجوانو! اکثر آپ کے ذہنوں میں یہ سوال اُبھرتا ہوگا کہ یہ شخص جو دن رات تعلیم، اصلاح اور شعور کی باتیں کرتا ہے، جو اپنی جمع پونجی اور توانائیاں اس مٹی کے لیے وقف کر رہا ہے، آخر یہ چاہتا کیا ہے؟ میں کون ہوں اور میرا اصل مقصد کیا ہے؟ آج میں کسی القاب یا منصب کے پیچھے چھپے بغیر، ایک پشتون بھائی کی حیثیت سے آپ کے سامنے اپنا دل کھول کر رکھنا چاہتا ہوں تاکہ میرے اور آپ کے درمیان افواہوں اور شکوک و شبہات کی ہر دیوار گر جائے۔ میں احمد خان اچکزئی ہوں، لیکن میری پہچان میرا نام نہیں، بلکہ وہ درد ہے جو میں اس پشتون بیلٹ کی پسماندگی، جہالت اور ناانصافی کو دیکھ کر اپنے سینے میں محسوس کرتا ہوں۔ میرا وجود ان پرانی رنجشوں اور قبائلی عصبیتوں کے خلاف ایک احتجاج ہے جنہوں نے ہماری نسلوں کو تقسیم در تقسیم کر کے ہمیں ترقی کی دوڑ میں پیچھے دھکیل دیا ہے۔ میں آپ کے درمیان سے وہ تمام خاردار تاریں ہٹانا چاہتا ہوں جو دُشمنی اور رنجش کی صورت میں ہمارے اتحاد کی راہ میں حائل ہیں۔
​میرا مِشن بہت واضح اور سادہ ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ ہمارا نوجوان کسی کا سیاسی ایندھن بننے کے بجائے علم و ہنر سے لیس ہو کر عالمی اسٹیج پر کھڑا ہو۔ میں نے اپنی زندگی اس مقصد کے لیے وقف کر دی ہے کہ ہمارے علاقوں میں تعلیم کی وہ شمع روشن ہو جو بلا تفریقِ رنگ، نسل اور زبان ہر غریب اور مستحق بچے کے گھر کو منور کرے۔ اسی لیے میں نے اپنی حسبِ توفیق کے مطابق مفت تعلیم، سکالرشپس اور جدید تعلیمی سہولیات کی فراہمی کو ترجیح دی ہے تاکہ ہمارا ٹیلنٹ وسائل کی کمی کی وجہ سے ضائع نہ ہو۔ میں مصنوعی اور مفادات کی سیاست سے بیزار ہوں اور آپ کو بھی یہی نصیحت کرتا ہوں کہ ان قبائلی جکڑ بندیوں سے باہر نکلیں جو آپ کی صلاحیتوں کو صرف ذاتی فائدے کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ ہمیں اجتماعی فائدے کا سوچنا ہوگا، کیونکہ جب قوم ترقی کرتی ہے تو فرد خود بخود معتبر ہو جاتا ہے۔​حق اور سچ کی اس راہ میں، میں نے اپنے لیے کڑے معیار مقرر کیے ہیں۔ میرا موقف یہ ہے کہ ظلم اور جبر چاہے کوئی بھی کرے، میں اس کے خلاف سینہ سپر رہوں گا۔ یہاں تک کہ میں نے یہ عہد کیا ہے کہ اگر میرا اپنا بیٹا بھی کسی معاشرتی برائی یا ظلم میں مبتلا پایا گیا، تو میں اس سے مکمل براءت کا اعلان کروں گا۔ عدل و انصاف، اتحاد و اتفاق اور میرٹ کی پاسداری میرے ایمان کا حصہ ہیں۔ میں منشیات کی فروخت اور اس کے استعمال کے خلاف ایک ایسی جنگ لڑ رہا ہوں جو ہماری نسلوں کو بچانے کی جنگ ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ ہمارا نوجوان منشیات کی دیمک سے بچ کر علم کی روشنی سے اپنی پہچان بنائے۔ وقت کی قدر کریں، کیونکہ ضائع شدہ وقت کبھی لوٹ کر نہیں آتا، اور میں آپ کی صلاحیتوں کو وقت کے ضیاع سے بچا کر ایک تعمیری رخ دینا چاہتا ہوں۔​میرے عزیزوں! دنیا بدل رہی ہے اور عالمی سطح پر ایک نئی پلان بچھائی جا رہی ہے۔ میری تصنیف دی گریٹ گیم کا خاتمہ اور میرے روزانہ کے اردو، پشتو اور انگریزی مقالات کا مقصد صرف تحریر نگاری نہیں، بلکہ آپ کو ان پوشیدہ عالمی سازشوں اور حالات سے باخبر رکھنا ہے جو ہمارے مستقبل پر اثر انداز ہو رہی ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ اتنے بیدار ہوں کہ کوئی آپ کو اندھیرے میں نہ رکھ سکے۔ یہ مقالہ، یہ کتابیں اور یہ تمام اقدامات صرف اس لیے ہیں کہ جب میں اس دنیا سے جاؤں، تو میرے پیچھے ایک ایسی قوم ہو جو پسماندگی کی زنجیریں توڑ چکی ہو، جو تعلیم یافتہ ہو اور جس کے دل میں ایک دوسرے کے لیے نفرت نہیں بلکہ محبت اور ہمدردی ہو۔ میں آپ کا خیر خواہ ہوں، اور میرا ہر قدم صرف اور صرف آپ کی فلاح اور ایک روشن مستقبل کے لیے ہے۔

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *