Banner
Daily Sahafat Quetta
September 14, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
شاہد ۔ پردۂ سیمیں کا روشن چراغتم کوئی کام کیوں نہیں کرتے؟ہائی جیکنگ سازش کا سیاہ داستان قسط4لاش ایک مذمت سوپٹرول ریلیف عوام دوست حکومتی پالیسی کا روشن باباخبارات کا بے دریغ استعمال اور بے حرمتیبلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کے کامیاب آپریشنز، کمانڈر سمیت 9 دہشتگرد ہلاکپی ٹی آئی ممکنہ لانگ مارچ کیخلاف کیس؛ اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلہ محفوظ کرلیاسوراب میں مسلح افراد کی ناکہ بندی، بس اور مزدا ڈرائیور سمیت لے گئےوزیراعظم ریلیف اسکیم، سستے پیٹرول کیلئے ڈیجیٹل نظام فعالشاہد ۔ پردۂ سیمیں کا روشن چراغتم کوئی کام کیوں نہیں کرتے؟ہائی جیکنگ سازش کا سیاہ داستان قسط4لاش ایک مذمت سوپٹرول ریلیف عوام دوست حکومتی پالیسی کا روشن باباخبارات کا بے دریغ استعمال اور بے حرمتیبلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کے کامیاب آپریشنز، کمانڈر سمیت 9 دہشتگرد ہلاکپی ٹی آئی ممکنہ لانگ مارچ کیخلاف کیس؛ اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلہ محفوظ کرلیاسوراب میں مسلح افراد کی ناکہ بندی، بس اور مزدا ڈرائیور سمیت لے گئےوزیراعظم ریلیف اسکیم، سستے پیٹرول کیلئے ڈیجیٹل نظام فعال

محسن نقوی کی زیر صدارت اجلاس: سرکاری اداروں میں کرپشن کے خلاف بھرپور کریک ڈاؤن کا حکم

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ وزیراعظم کے وژن کے مطابق سرکاری اداروں میں کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے گی۔

محسن نقوی نے ایف آئی اے ہیڈ کوارٹر کا دورہ کیا جہاں انہوں نے جاری انفراسٹرکچر بہتری منصوبوں کا معائنہ کیا اور پیش رفت کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر انہوں نے تعمیراتی کام جلد مکمل کرنے کی ہدایت بھی دی۔

ان کی زیر صدارت اجلاس میں سرکاری اداروں میں کرپشن کے خلاف بھرپور کریک ڈاؤن کا فیصلہ کیا گیا۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ ایف آئی اے میں جاری اصلاحات کا عمل رواں سال دسمبر تک مکمل کر لیا جائے گا۔

ڈی جی ایف آئی اے ڈاکٹر عثمان انور نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ انسانی اسمگلنگ میں ملوث افراد اور سہولت کاروں کا جامع ڈیٹا تیار کیا جا رہا ہے، جبکہ بیرون ملک ملازمت کے اشتہارات کی آن لائن نگرانی بھی کی جا رہی ہے تاکہ عوام کو دھوکہ دہی سے بچایا جا سکے۔

محسن نقوی نے ہدایت کی کہ ایف آئی اے کو منظم جرائم کے خلاف ہراول دستہ بنایا جائے اور ادارے کو ہر سطح پر مکمل تعاون فراہم کیا جائے گا۔

بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ احتساب کے لیے شفاف نظام متعارف کرایا گیا ہے، جبکہ دیگر اداروں کے ساتھ رابطہ بہتر بنانے کے لیے ورکنگ گروپس اور کوآرڈینیشن کمیٹیاں قائم کی جا رہی ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے امیگریشن، انسانی اسمگلنگ اور منی لانڈرنگ کے خلاف کارروائیاں بھی مؤثر بنائی جا رہی ہیں۔

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *