Banner

ایران کی علاقائی سیاست۔ مسلم ممالک عالمی طاقتیں اور تعلقات

featured
Share

Share This Post

or copy the link

محمدنسیم رنزوریار

ایران کی علاقائی سیاست۔ مسلم ممالک عالمی طاقتیں اور تعلقات

قارئین کرام! ایران کی خارجہ پالیسی اور علاقائی مداخلت کا معاملہ عالم اسلام بالخصوص سنی اکثریتی ممالک کے لیے ہمیشہ سے ایک حساس اور بحث طلب موضوع رہا ہے۔ 1979 کے انقلاب کے بعد ایران نے “برآمدِ انقلاب” کے نظریے کے تحت اپنی سرحدوں سے باہر قدم جمانا شروع کیے، جسے کئی عرب ریاستیں اپنی سلامتی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لیے خطرہ تصور کرتی ہیں۔ عراق ایران جنگ سے لے کر موجودہ دور کے “ہلالِ تشیع” (Shia Crescent) کے تصور تک، ایران پر یہ الزام عائد کیا جاتا رہا ہے کہ اس نے سنی ممالک میں عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے پراکسی گروہ تیار کیے۔ شام کی خانہ جنگی میں بشار الاسد کی حکومت کو بچانے کے لیے ایرانی مداخلت اور حزب اللہ کی شمولیت نے لاکھوں سنی مسلمانوں کی ہجرت اور جانی نقصان میں اہم کردار ادا کیا۔ اسی طرح یمن میں حوثی باغیوں کی پشت پناہی نے سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کے ساتھ ایران کے تعلقات کو ایک ایسی نہج پر پہنچا دیا ہے جہاں سفارتی مذاکرات کی گنجائش کم سے کم ہوتی چلی گئی۔ بحرین، لبنان اور کویت جیسے ممالک میں بھی ایران پر فرقہ وارانہ بنیادوں پر مداخلت اور مقامی شیعہ آبادی کو ریاست کے خلاف ابھارنے کے الزامات تسلسل کے ساتھ لگتے رہے ہیں، جس سے اسلامی دنیا کے اندرونی اتحاد کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔دوسری جانب، ایران کے عالمی طاقتوں خصوصاً امریکہ، اسرائیل اور بھارت کے ساتھ تعلقات کا جائزہ لیا جائے تو یہاں ایک عجیب و غریب تضاد نظر آتا ہے۔ اگرچہ تہران کی سرکاری زبان ہمیشہ “مرگ بر امریکہ” اور اسرائیل دشمنی پر مبنی رہی ہے، لیکن تاریخ کے کئی موڑ ایسے ہیں جہاں ایرانی مفادات نے ان قوتوں کو بالواسطہ یا بلاواسطہ فائدہ پہنچایا۔ 2001 میں افغانستان پر امریکی حملے اور پھر 2003 میں عراق پر امریکی چڑھائی کے وقت ایران کا کردار انتہائی کلیدی رہا۔ تہران نے طالبان حکومت کے خاتمے اور پھر صدام حسین کی سرنگونی کے لیے امریکہ کو انٹیلی جنس معلومات اور لاجسٹک مدد فراہم کی تاکہ اپنے دو بڑے دشمنوں سے نجات حاصل کر سکے۔ عراق میں امریکی قبضے کے بعد ایرانی اثر و رسوخ رکھنے والی جماعتوں نے اقتدار سنبھالا، جس نے خطے میں ایران کی گرفت مضبوط کی لیکن ساتھ ہی ساتھ عراق کو دائمی فرقہ وارانہ جنگ کی بھٹی میں جھونک دیا۔ جہاں تک اسرائیل کا تعلق ہے، ایران ۔کونٹرا سکینڈل (Iran-Contra Affair) ایک تاریخی حقیقت ہے جس میں ایران نے پسِ پردہ اسرائیل کے ذریعے امریکی ہتھیار حاصل کیے، جو اس کے ظاہری بیانیے کے بالکل برعکس تھا۔بھارت کے ساتھ ایران کے تعلقات بھی اسی سٹرٹیجک مفاد پرستی کا عکس پیش کرتے ہیں۔ چابہار بندرگاہ کی تعمیر اور بھارت کے ساتھ تجارتی معاہدے اس وقت بھی جاری رہے جب کشمیر میں بھارتی مظالم انتہاء پر تھے۔ ایران نے کبھی بھی کشمیر کے معاملے پر وہ سخت موقف اختیار نہیں کیا جو ایک نظریاتی اسلامی ریاست سے متوقع تھا، بلکہ اس نے ہمیشہ نئی دہلی کے ساتھ اپنے اقتصادی اور دفاعی روابط کو مقدم رکھا تاکہ پاکستان کے اثر و رسوخ کو کم کیا جا سکے اور وسطی ایشیاء تک رسائی حاصل کی جا سکے۔ ایران کی یہ پالیسی واضح کرتی ہے کہ اس کے لیے مذہبی یا اسلامی اخوت سے زیادہ “ایرانی قوم پرستی” اور “جیو پولیٹیکل تسلط” اہمیت رکھتا ہے۔ جب بھی ایران کو اپنے مفادات اور مسلم امہ کے حقوق میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑا، اس نے ہمیشہ اپنی بقاء اور عالمی بساط پر اپنی چالوں کو ترجیح دی۔ یہی وجہ ہے کہ آج عالم اسلام ایران کو ایک مخلص دوست کے بجائے ایک ایسے کھلاڑی کے طور پر دیکھتا ہے جو اپنے مقاصد کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے، چاہے اس کے لیے اسے اپنے پڑوسی مسلم ممالک کی قیمت ہی کیوں نہ چکانی پڑے۔ ان حقائق کی روشنی میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ایران کی سیاست محض نظریاتی نہیں بلکہ سراسر مفاداتی ہے، جس نے اکثر اوقات عالمی استعمار کے ایجنڈوں کو تقویت فراہم کی۔

ایران کی علاقائی سیاست۔ مسلم ممالک عالمی طاقتیں اور تعلقات

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us