Banner
Daily Sahafat Quetta
September 24, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
وفاق اگر پولیس کو سیاسی انتقام کیلئے استعمال کریگا تو صوبائی حکومت اقدامات تو کرے گی، وزیراعلیٰ کے پیمکہ، جدہ اور دیگر سعودی شہروں کیلیے خطرے کا الرٹ جاری27 ستمبر کا احتجاج مسئلے کا حل نہیں، حکومت اور پی ٹی آئی مذاکرات کریں، زمرک اچکزئیکاشف حیدری کا سینئر صحافی سید عابد بخاری کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہارمنشیات فروش تو نظر نہیں آتے، عام شہری ہر گلی میں روک لیے جاتے ہیں، عبدالرحمن رفیقبلوچستان میں سرمایہ کاری کا فروغ پائیدار ترقی کیلئے ضروری ہے، ظہور بلیدیشہریوں کو مشکلات سے نجات دلانا ترجیح ہے، ایس ڈی پی او اکبر علیمرحوم خوشحال خان کی دسویں برسیالحمد اسلامک یونیورسٹی میں نیب بلوچستان کا آگاہی سیمینارپاکستان اور مالدیپ کے تعلقات باہمی اعتماد، احترام اور مشترکہ مفادات پر مبنی ہیں،سیدال خان ناصروفاق اگر پولیس کو سیاسی انتقام کیلئے استعمال کریگا تو صوبائی حکومت اقدامات تو کرے گی، وزیراعلیٰ کے پیمکہ، جدہ اور دیگر سعودی شہروں کیلیے خطرے کا الرٹ جاری27 ستمبر کا احتجاج مسئلے کا حل نہیں، حکومت اور پی ٹی آئی مذاکرات کریں، زمرک اچکزئیکاشف حیدری کا سینئر صحافی سید عابد بخاری کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہارمنشیات فروش تو نظر نہیں آتے، عام شہری ہر گلی میں روک لیے جاتے ہیں، عبدالرحمن رفیقبلوچستان میں سرمایہ کاری کا فروغ پائیدار ترقی کیلئے ضروری ہے، ظہور بلیدیشہریوں کو مشکلات سے نجات دلانا ترجیح ہے، ایس ڈی پی او اکبر علیمرحوم خوشحال خان کی دسویں برسیالحمد اسلامک یونیورسٹی میں نیب بلوچستان کا آگاہی سیمینارپاکستان اور مالدیپ کے تعلقات باہمی اعتماد، احترام اور مشترکہ مفادات پر مبنی ہیں،سیدال خان ناصر

نیشنل موبلائزیشن فرنٹ نے افغان طالبان رجیم کیخلاف محاذ کا اعلان کردیا

نیشنل موبلائزیشن فرنٹ نے افغان طالبان کے خلاف باقاعدہ محاذ قائم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے اپنی جدوجہد کو “جہاد” قرار دے دیا ہے۔

افغانستان کے شمالی اور مشرقی علاقوں سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کی جانب سے قائم اس فرنٹ کے مطابق تنظیم کا قیام طالبان کی انتہا پسند پالیسیوں، جابرانہ طرزِ حکمرانی اور مبینہ دہشت گردی کی سرپرستی کے ردعمل میں عمل میں لایا گیا ہے۔

فرنٹ کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں افغان عوام کے پاس طالبان کے خلاف کھڑے ہونے کے سوا کوئی راستہ نہیں رہا، کیونکہ ملک کی بڑی آبادی سیاسی، معاشی، سماجی اور ثقافتی مسائل کا شکار ہے۔

نیشنل موبلائزیشن فرنٹ نے دعویٰ کیا کہ جس طرح ماضی میں سوویت یونین کے خلاف جہاد کو ضروری سمجھا گیا تھا، اسی طرح اب طالبان کے خلاف مزاحمت اس سے بھی زیادہ ناگزیر ہو چکی ہے۔ ان کے مطابق طالبان عوامی نمائندے نہیں بلکہ طاقت کے زور پر مسلط حکمران ہیں۔

تنظیم نے کہا کہ افغان عوام، خصوصاً نوجوان، اپنے ملک کو اس گروہ سے نجات دلانے کے لیے تیار ہیں، جبکہ طالبان پر الزام عائد کیا گیا کہ وہ مکالمے پر یقین نہیں رکھتے اور سخت گیر پالیسیوں پر قائم ہیں۔

دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ نیشنل موبلائزیشن فرنٹ کا یہ مؤقف طالبان حکومت پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، خصوصاً خواتین، اقلیتوں اور تعلیم کے حوالے سے پابندیوں کے ردعمل کے طور پر سامنے آیا ہے، جو اب ایک مضبوط عوامی بیانیہ بنتا جا رہا ہے۔

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *