تحریر۔شمس خیال
کائنات عجائبات کا خزانہ ہے۔ جہاں دیکھو وہاں نظروں کے سامنے رنگا رنگ مناظر و تماشا برپا ہے۔ اسکے مشاہدات کی یہی محسرکن پہلو ہے کہ انسان نے شروع شروع میں عقل جیسی نعمت کے ہوتے ہوئے اسی کے اجزاء کو خدا مان لیا تھا۔ سورج، چاند، ستارے اور آگ وغیرہ سب عظیم قدرت رکھنے کے باعث انسانوں کی نظر میں خدائی مقام پر فائز ہو چکے تھے۔ انسانی علم کو یہاں کلیت نہیں۔ انسان سمجھتا ہے کہ کائنات کے ایک پہلو کے بارے میں اس نے حتمیت کے ساتھ علم حاصل کر لیا مگر وہ اس شے و پہلو کے حقیقت تک پہنچنا تودرکنار ابتدائی مراحل بھی طے نہیں کرپاتا۔ اس وجہ سے کائنات و انسانی دنیا کو دوام ہے۔ زندگی میں چہل پہل ہے۔ یہاں جمود نہیں بلکہ ارتقاء ہے۔ اگر ٹھہراو ہوتا اور شے و پہلو کے معنی قطعیت کے ساتھ دسترس میں آتی تو یہاں ہر آن انجماد برپا ہوتا۔ پھر زندگی کو موت گلے لگاتا۔
اسی طرح کے عجائبات کا نظارہ ہے جو اللہ نے قسماقسم رنگوں سے نظروں کے سامنے بچھا رکھا ہے اور جس پہلو تک انسان کی نظریں نہیں پہنچتی اس کےلیے انبیاء و برگزیدہ بندے مبعوث کیے ہیں۔ اور بزرگی و ولایت کا یہ سلسلہ تادم آخر قائم رہےگا۔ شبلی نعمانی اپنی شاہکار تصنیف الکلام علم الکلام میں لکھتے ہیں کہ ایسے برگزیدہ بندوں و خصوصاً نبیوں سے کچھ مناظر ایسے بھی سرزد ہوتے ہیں جنھیں معجزہ کہا جاتا ہے یعنی جسے سمجھنا عام عقل کی بات نہیں اور اسی باعث اس خرق عادت بھی بتایا جاتا ہے۔ جبکہ اللہ نے خود قرآن میں فرمایا ہے کہ اللہ اپنے وضع کردہ اصولوں کی خود بھی پابندی کرتا ہے اور اللہ کی سنتوں میں کوئی تبدیلی نہیں۔ لہذا وہ لکھتے ہیں کہ کائنات میں کوئی ایسا واقعہ نہیں جو خرق عادت ہو بلکہ کائنات کی ہر سرگرمی علت و معلول (کاز اینڈ ایفیکٹ) کے کلیے کی پابند ہے۔ معجزہ کو سائنسی طریق پر سمجھا بھی جاسکتا ہے اور انھیں اصول پر کاربند ہو کر ادا بھی ہوسکتا ہے۔ لیکن اس کےلیے حد درجے کی ذہانت و دماغی سرگرمی درکار ہوگی۔ جو ممکن ہے موجود و جدید انسان کی رسائی میں نہ ہو۔
خرق عادت کو سائنسی طریق پر سمجھنے کےلیے ہم صالح علیہ السلام کی پتھر سے اونٹنی کا بچہ پیدا کرنے کے معجزے پر غور کرینگے۔ یہ معجزہ صریح احکاما نہیں ہوا ہے بلکہ جیسا کہ اللہ کے ہر کام میں شائستگی و انتظام ہے۔ کائنات اصولوں پر کاربند ہے۔ اور قرآن کی آیت ہے کہ اللہ کے طور طریق، و اصولوں(سنتوں) میں کوئی تبدیلی نہیں ہے۔ لہذا معجزات بھی اصولوں پر کار بند ہی ہوتے ہیں۔ ذکر کردہ معجزے میں تین چیزیں ہیں، ایک پتھر یعنی بےجان شے، دوئم اسے بنا زیادہ وقت لگے جاندار اونٹنی کی پیداوار تیسری چیز زندگی یعنی بےجان کا جاندار میں تبدیلی۔ ایک ایک کو کھولینگے اور عقلی طریق پر سمجھنے کی کوشش کرینگے
اول پتھر سے جاندار چیز کی پیدائش، انسان کو خلاف عقل و معمول معلوم ہوتا ہے۔ کیونکہ یہاں واقعہ یہی ہے کہ بےجان تا روز آخر ٹس سے مس نہیں ہوتا اگر کوئی جاندار اس پر کام نہ رکھیں دوئم زندگی جاندار سے جاندار میں منتقل ہوتی ہے۔ لیکن اگر ہم جستجو و تحقیق کریں تو سائنسی شواہد کی بنا پر ایسا نہیں ہے۔ عظیم صوفی شاعر اور دنیائے جدید میں مانی گئی ہستی مولانا روم ابن مسکویہ کے بعد سب سے اول شخصیت تھے جنھوں نے ارتقاء کا نظریہ خوب سے خوبتر انداز میں پیش کیا۔ نفس ارتقاء کے ضمن میں مولانا روم کی جانب رجوع کریں تو اوّلًا مثنوی کے دفتر سوم میں آنجناب فرماتے ہیں:
از جمادیٰ مُردم و نامی شدم
وز نما مُردم بحیواں سرزدم
مُردم از حیوانی و آدم شدم
پس چہ ترسم کہ زمُردن کم شوم!
یعنی “(میں اوّلًا عالمِ جمادات میں تھا – پھر) اس جماداتی عالم میں میری موت واقع ہوئی تو میں عالمِ نباتات میں پیدا ہو گیا. پھر عالمِ نباتات میں موت واقع ہوئی تو میں عالمِ حیوانات میں وارد ہو گیا. پھر عالمِ حیوانات میں موت واقع ہوئی تو میں آدم بن گیا. پس مجھے کیا خوف لاحق ہو سکتا ہے کہ اب کوئی اور موت واقع ہونے سے میرے وجود یا میری حیثیت میں کوئی کمی واقع ہو جائے گی!” مولانا روم کا نظریہ ڈارون کے نظرئے کی بنیاد نہیں بلکہ انکی ارتقاء پر نظر ڈارون سے افضل ہے جو موضوع بحث نہیں۔ جمادات سے آدم تک کا سفر ہر آن عقلی و سائنسی ہے۔ کہ انسانی ساخت و اس میں منرلز و ایٹمز اور ایلمنٹ کی بناوٹ کے اساس پر سائنس تسلیم کرچکی ہے کہ آدم مٹی سے بنا ہے، خاک کی پیداوار ہے۔ جس پر ارتقاء کا مرحلہ گزرا اور کہی بلین سال کے ارتقاء کے بعد موجود پڑاو انسانیت تک پہنچا ہے۔ اسی نظرئے کی تائید قرآن بھی تخلیق آدم والے واقعے میں نہایت علمی و خوش اسلوبی سے کرتا ہے۔ لہذا یہ ثابت ہوا کہ پتھر، خاک یا بےجان سے زندہ چیز کی پیداوار کوئی غیر عقلی نہیں۔ لیکن سوال یہ اٹھتا ہے کہ بےجان سے جاندار کی پیداوار کےلیے جس ارتقاء کی ضرورت ہے اسکے لیے کہی ارب سال کی ضرورت ہے لیکن یہاں پلک جھپکتے ہی معاملہ تمام ہوا ہے؟ یہ کونسا ماجرا ہے!؟ یعنی وقت و زمانے کا سوال پیدا ہوتا ہے۔
وقتی و زمانی پہلو کو سمجھنے کےلیے یہ جاننا ضروری ہے کہ وقت کے بارے وقت (Time) کے علماء و سائنسدان کیا نظر رکھتے ہیں اسے دیکھنا ضروری ہے۔ وقت کے بارے میں جو سب سے معقول رائے اس وقت دنیا مانتی ہے مسلمانوں میں اعشاریوں اور جدید دنیا میں آئن سٹائن کا نظریہ ہے۔ دونوں کے مطابق وقت یکساں نہیں بلکہ مختلف مقامات و حالات میں مختلف ہے۔ اور آئن سٹائن کا اس حوالے سے مشہور تھیوری زبان زد عام ہے کہ “Time is relative” جبکہ انھوں نے نیوٹن کا مطلق وقت کا نظریہ رد کیا جوکہ یہ تھا کہ Time is absolute اللہ کا وقت و مخلوق کا وقت یکساں نہیں۔ مخلوق جوکام بلین سالوں میں نہ کر پائے رب کریم وہ وقت کے دوسرے پہلو کو کارآمد لاکر گویا پانچ سیکنڈ میں معاملہ تمام کردیتا ہے۔ یا یوں کہہ لے کہ اعشاریوں کے مطابق انسان، دنیا اور تمام کائنات بشمول اس کے تمام اجزاء لحظہ بہ لحظہ حالت تغیر میں ہے۔ یہاں ہر سیکنڈ کے ذرے حصے میں نئی کائنات تخلیق پاتی ہے پرانی ختم ہو جاتی ہے۔ یہ راز اگر انسان پالے اور اسے صحیح سمجھے پھر کارآمد لائے تو سو سال کی زندگی ہزار سال کے برابر جی سکتا ہے اور وہ وہ کارنامے اپنی محدود زندگی میں کرسکتا ہے کہ جو کوئی اور ہزاروں سال میں بھی نہ کرے۔ یہی طاقت تعقل ہے جو رب نے بندے میں رکھی ہے۔ اور رب جو اس سب کا خالق ہے ایک لحظے سے کامل استفادے کے بعد دوسرے لحظہ نیا کچھ کرنے کا کام اسکے سنتوں کے ہر گز منافی نہیں ہے بلکہ عین منشاء فطرت ہے۔
لہذا بےجان سے جاندار کی پیدائش ہو یا اس میں ہوئی ارتقاء کے وقت کا سوال ہو، ہر دو بہ اصول تعقل ہیں۔ اس میں انسانی ذہن و جذب اور عمل کےلیے بہت کچھ سامان پڑا ہوا ہے۔ دیر ہے تو ایسے ذہن کی جو خاموشیوں کو سن سکے اور جس میں سر دھننے کی لیاقت ہو۔ اس ایک معجزہ میں وقت کی حقیقت بتانے کا اور ارتقاء کا تمام تر قیصہ بہ کمال و تمام موجود ہے۔ اسکے علاوہ اعشاریہ طرز فکر کا ماخذ یہاں پیوست ہے۔ جس پر گویا قران داعی ہے کہ انسان بھی نائب اللہ ہوتے ہوئے اسی قدر زیرکی و اعلی تخلیق اور تیز گام عمل کا پیروں ہوا جائے۔ قرآن پر حد درجہ غور نہ ہو تو کامیابی کی توقع خواب محض ہے۔ اسکی مثال انھیں اقوام کی ہوگی جسکی مثالیں اسی قرآن میں درجنوں ہیں جنھوں نے مادی کامیابی کو اصلیت جانا مگر اسی چیز نے انھیں ہلاکت سے دوچار کیا۔ جبکہ محمد صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے اولا عربوں اور پھر بالعموم تمام انسانیت کو قرآنی راہ دکھائی تو تمام عالم اسلام رہتی دنیا تک بطور ایک تہذیب و روش اور بطور راہ عمل کے نمودار ہوا۔ رب ہمیں قرآن فہمی اور قرآن تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کی توفیق نصیب کرے۔
شمس خیال



