شیخ حسینہ کے بعد کا بنگلہ دیش

featured
Share

Share This Post

or copy the link

تحریر وتجزیہ ۔کلیم اللہ خان

جنوبی ایشیا کی سیاست میں بنگلہ دیش ایک بار پھر ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے جہاں نئی حکومت کی تشکیل صرف اقتدار کی تبدیلی نہیں بلکہ پالیسی سفارت کاری اور داخلی توازن کی نئی سمتوں کا تعین بھی کرے گی حالیہ انتخابات کے بعد بننے والی حکومت کو بیک وقت عوامی توقعات معاشی دباو¿ اور علاقائی سیاست کے پیچیدہ تقاضوں کا سامنا ہے اس بار منظرنامہ اس لیے بھی غیر معمولی ہے کہ بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی بڑی جماعت بن کر سامنے آئی ہے جبکہ طویل عرصہ اقتدار میں رہنے والی حکومت اور اس کے اتحادی سیاسی میدان میں اپنی سابقہ قوت برقرار نہ رکھ سکے انتخابی نتائج نے ایک واضح پیغام دیا ہے کہ عوام معاشی استحکام اور سیاسی توازن چاہتے ہیں گزشتہ چند برسوں میں مہنگائی زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی اور برآمدی دباو¿ نے بنگلہ دیش کی معیشت کو شدید مشکلات سے دوچار رکھا نئی حکومت کے لیے سب سے پہلا امتحان یہی ہوگا کہ وہ فوری معاشی ریلیف فراہم کرے برآمدات میں اضافہ کرے اور بیرونی سرمایہ کاری کے لیے اعتماد بحال کرے اگر بی این پی قیادت میں حکومت بنتی ہے تو اس کی بنیادی ترجیح سیاسی استحکام اور معاشی بحالی ہی ہوگی، کیونکہ عوامی حمایت کو برقرار رکھنے کا واحد راستہ معاشی کارکردگی ہے….۔ یہ سیاسی تبدیلی دراصل اس طویل دور کا اختتام بھی ہے جو شیخ حسینہ واجد کی قیادت میں قائم رہا ان کی حکومت کے خاتمے نے سیاسی طاقت کے توازن کو یکسر بدل دیا ان کی جماعت اور اتحادی قوتیں جو ایک زمانے میں ریاستی ڈھانچے پر مضبوط گرفت رکھتی تھیں انتخابی میدان میں اس بار وہ رفتار برقرار نہ رکھ سکیں اس کی بڑی وجہ عوامی سطح پر معاشی بے چینی سیاسی محاذ آرائی کی طویل تاریخ اور ادارہ جاتی کشیدگی رہی جس نے حکمران اتحاد کی مقبولیت کو متاثر کیا۔…. دوسری طرف جماعت اسلامی بنگلہ دیش بھی اس انتخابی عمل میں اپنی توقعات کے مطابق کارکردگی نہ دکھا سکی جماعت نے الیکشن کمیشن پر جانبداری کے الزامات عائد کیے اور سخت احتجاج کی دھمکیاں بھی دیں جو کہ اس کا روایتی کام ہے۔ مگر عملی طور پر وہ انتخابی نتائج تبدیل کرانے یا عوامی سطح پر بڑی تحریک کھڑی کرنے میں کامیاب نہ ہو سکی اس ناکامی کی ایک وجہ اس کی انتخابی حکمت عملی اور اتحاد سازی میں تاخیر بھی رہی جماعت اسلامی خود کو ایک مکمل متبادل کے طور پر پیش کرنے کے بجائے اکثر ردعمل کی سیاست میں مصروف رہی جبکہ نوجوان ووٹر جو روزگار ٹیکنالوجی اور سماجی آزادی جیسے سوالات پر واضح پروگرام چاہتے تھے ان تک مو¿ثر رسائی نہ ہو سکی۔۔۔ شہری متوسط طبقے کے ساتھ براہ راست مکالمہ بھی جماعت اسلامی کے لیے ایک ضائع شدہ موقع ثابت ہوا اس نے روایتی ووٹ بینک پر زیادہ انحصار کیا جبکہ شہری علاقوں میں سیاسی خلا موجود تھا اگر وہ پہلے سے ایک وسیع اپوزیشن اتحاد تشکیل دیتی جدید معاشی پروگرام پیش کرتی اور نوجوان قیادت کو سامنے لاتی تو نتائج مختلف ہو سکتے تھے الیکشن کمیشن کے خلاف الزامات اور احتجاجی بیانات نے وقتی سیاسی توجہ تو حاصل کی، مگر عوامی سطح پر کوئی بڑی تبدیلی نہ لا سکے۔۔۔ نئی حکومت کے لیے حزب اختلاف کے ساتھ تعلقات ایک حساس معاملہ ہوں گے بنگلہ دیش کی سیاست میں عدم اعتماد اور محاذ آرائی کی تاریخ طویل ہے اگر نئی حکومت نے
مفاہمت اور پارلیمانی فعالیت کو ترجیح دی تو سیاسی درجہ حرارت کم ہو سکتا ہے لیکن اگر انتقامی سیاست یا قانونی دباو¿ کا راستہ اختیار کیا گیا تو سڑکوں پر احتجاج اور عدم استحکام کا خطرہ برقرار رہے گا یہی وہ مرحلہ ہوگا جہاں حکومت کی سیاسی پختگی کا اصل امتحان سامنے آئے گا۔۔ خارجہ پالیسی کے میدان میں توازن سب سے بڑی آزمائش ہوگی بھارت بنگلہ دیش کا سب سے بڑا پڑوسی اور اہم معاشی و تزویراتی شراکت دار ہے تجارت سرحدی انتظام اور توانائی کے منصوبوں میں دونوں ممالک کا تعاون سخت ناگزیر ہے دوسری جانب پاکستان کے ساتھ تاریخی فاصلے کے باوجود حالیہ برسوں میں محتاط سفارتی قربت دیکھی گئی ہے بی این پی کی قیادت میں بننے والی حکومت بھارت کے ساتھ تعلقات کو مکمل نظر انداز نہیں کرے گی مگر خارجہ پالیسی میں زیادہ خود مختاری دکھانے کی کوشش کرے گی تاکہ اسے صرف نئی دہلی کے قریب سمجھی جانے والی حکومت نہ کہا جائے یہی وجہ ہے کہ نئی حکومت واضح طور پر پاکستان نواز یا بھارت نواز ہونے کے بجائے مفاد پر مبنی توازن کی پالیسی اختیار کرنے کی کوشش کرے گی۔۔۔ اگر انتخابی منظرنامہ مختلف ہوتا اور جماعت اسلامی غیر متوقع طور پر کامیاب ہو جاتی تو نظریاتی سطح پر کچھ تبدیلیاں ضرور دیکھنے میں آتیں مگر معاشی اور خارجہ پالیسی کے میدان
میں انقلابی تبدیلیاں ممکن نہ تھیں عالمی مالیاتی اداروں برآمدی صنعت اور علاقائی جغرافیہ کی مجبوریوں کے باعث اسے بھی وہی حقیقت پسندانہ راستہ اختیار کرنا پڑتا جو دیگر بڑی جماعتیں اختیار کرتی ہیں البتہ داخلی سطح پر مذہبی شناخت اور سماجی پالیسیوں میں اسلامی تشخص کو زیادہ نمایاں کرنے کی کوشش کی جاتی مجموعی طور پر بنگلہ دیش کی نئی سیاسی ترتیب ایک نازک مگر اہم مرحلے میں داخل ہو چکی ہے چاہے حکومت بی این پی کی ہو یا کسی وسیع اتحاد کی اس کے لیے سب سے بڑا چیلنج داخلی استحکام معاشی بحالی اور خارجی توازن ہوگا خطے میں چین اور امریکا کی بڑھتی دلچسپی، بھارت کے ساتھ پیچیدہ تعلقات اور داخلی سیاسی دباو¿ اسے ایک محتاط مگر فعال حکمت عملی اپنانے پر مجبور کریں گے۔ آج کا بنگلہ دیش صرف انتخابی نعروں سے نہیں بلکہ معاشی کارکردگی، سیاسی برداشت اور ادارہ جاتی توازن سے آگے بڑھے گا، اور یہی عناصر اس کی نئی حکومت کی کامیابی یا ناکامی کا فیصلہ کریں گے۔

شیخ حسینہ کے بعد کا بنگلہ دیش

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us