Banner
Daily Sahafat Quetta
November 1, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
بلوچستان کی خواتین کے لیے 15 لاکھ روپے تک بلاسود قرضوں اور جدید کاروباری مواقع کا اعلانبلوچستان کی عابدہ بتول نے تھائی باکسر کو شکست دے کر عالمی ایٹم ویٹ ٹائٹل اپنے نام کرلیاافغان طالبان بگڑتے تعلقات کی وجوہات تسلیم کرنےکو آمادہ نہیں،کابل کو دہشتگردی روکنےکی ذمہ داری پوری کرنا ہوگی، پاکستانایرانی حملوں سے24 امریکی فوجی اڈے اور 274 عمارتیں تباہ ہوئیں : امریکی اخبار کی تصدیق’ 13 سال تک عوامی خدمت کے بجائے بڑے بڑے دعوے کیے‘، وزیراعظم نےکے پی حکومت کی کارکردگی پر سوالات اٹھا دیےبائنانس نے سائبر حملے میں چوری ہونے والی رقم میں سے 90 فیصد کی تلافی کردیسوئی گیس کمپنی نے گھریلو کنکشن پر پابندی غیر معینہ مدت تک بڑھادیپاکستان افغانستان سے ہونیوالے دہشتگرد حملوں پر تشویش کا اظہار کر رہا ہے، نہیں چاہتے پاکستان دہشتگردی کا نشانہ بنے، مارکو روبیوسستی شہرت کے ہاتھوں انسانیت کا قتلایل پی جی قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ، ایسوسی ایشن کا 16 نومبر سے فروخت بند کرنے کا اعلانبلوچستان کی خواتین کے لیے 15 لاکھ روپے تک بلاسود قرضوں اور جدید کاروباری مواقع کا اعلانبلوچستان کی عابدہ بتول نے تھائی باکسر کو شکست دے کر عالمی ایٹم ویٹ ٹائٹل اپنے نام کرلیاافغان طالبان بگڑتے تعلقات کی وجوہات تسلیم کرنےکو آمادہ نہیں،کابل کو دہشتگردی روکنےکی ذمہ داری پوری کرنا ہوگی، پاکستانایرانی حملوں سے24 امریکی فوجی اڈے اور 274 عمارتیں تباہ ہوئیں : امریکی اخبار کی تصدیق’ 13 سال تک عوامی خدمت کے بجائے بڑے بڑے دعوے کیے‘، وزیراعظم نےکے پی حکومت کی کارکردگی پر سوالات اٹھا دیےبائنانس نے سائبر حملے میں چوری ہونے والی رقم میں سے 90 فیصد کی تلافی کردیسوئی گیس کمپنی نے گھریلو کنکشن پر پابندی غیر معینہ مدت تک بڑھادیپاکستان افغانستان سے ہونیوالے دہشتگرد حملوں پر تشویش کا اظہار کر رہا ہے، نہیں چاہتے پاکستان دہشتگردی کا نشانہ بنے، مارکو روبیوسستی شہرت کے ہاتھوں انسانیت کا قتلایل پی جی قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ، ایسوسی ایشن کا 16 نومبر سے فروخت بند کرنے کا اعلان

سستی شہرت کے ہاتھوں انسانیت کا قتل

کائنات کا ازلی اصول ہے کہ بقا کی جدوجہد انسان کو حرکت میں رکھتی ہے، لیکن جب یہی جدوجہد کسی بامقصد سعی کے بجائے محض مفت انعام یا سرابِ تمنا کے تعاقب میں اندھی دوڑ بن جائے تو منزل زندگی نہیں، موت کا کنواں بن جاتی ہے۔ سیالکوٹ کے نواح میں ایک سوشل میڈیا شہرت یافتہ شخصیت کی تقریبِ مہندی میں پیش آنے والا دلخراش سانحہ محض ایک حادثہ نہیں، بلکہ ہمارے اجتماعی معاشرتی دیوالیہ پن، معاشی بے حسی اور نفسیاتی شکست و ریخت کا بین ثبوت ہے، جہاں چند موٹر سائیکلوں اور مادی ترغیبات کی چمک نے ہزاروں انسانوں کو اس قدر اندھا کر دیا کہ وہ اپنے ہی بھائیوں کو روندتے ہوئے آگے بڑھ گئے۔
اس المیے کو محض لالچ کا نام دینا حقیقت سے آنکھیں چرانے کے مترادف ہے، یہ دراصل مجبوری کا سانحہ تھا۔ جب ملک کی چالیس فیصد سے زائد آبادی خطِ غربت کے آس پاس زندگی گزار رہی ہو اور ریاست اپنے شہریوں کو روزگار، صحت اور چھت جیسی بنیادی سہولیات دینے میں ناکام ہو جائے تو ایک موٹر سائیکل بھی کسی خاندان کے لیے محض انعام نہیں بلکہ روزگار کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ یہ ہجوم بھوکا نہیں تھا بلکہ نظام کا ستایا ہوا تھا، جو ایک سہانے خواب کی تعبیر چند ہزار روپے میں ڈھونڈ رہا تھا۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی مفلس معاشروں میں غربت کا تماشا لگانے کے لیے انعامات کا جال بچھایا گیا ہے، وہاں انسانی وقار پامال ہوا ہے۔ کبھی مفت آٹے کی قطاروں میں مائیں دم توڑ دیتی ہیں، کبھی زکوٰۃ کی تقسیم کے نام پر ناداروں کی تذلیل کی جاتی ہے اور اب ڈیجیٹل دنیا کے سستے شہرت کے متلاشی کرداروں نے اپنی ریٹنگ اور ویوز کی ہوس پوری کرنے کے لیے ہجوم کو چارے کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔
نفسیاتی نکتہ نظر سے دیکھا جائے تو یہ سانحہ ہجوم کی نفسیات یعنی موب سائیکالوجی کی ایک کلاسیکی اور بھیانک مثال ہے۔ فرانسیسی ماہرِ عمرانیات گستاف لی بون نے اپنی شہرہ آفاق کتاب “دی کراؤڈ” میں لکھا تھا کہ ہجوم کبھی عقل سے نہیں بلکہ ہنگامی جبلت سے سوچتا ہے۔ جب فرد انفرادی شعور کو ترک کر کے بے لگام ہجوم کا حصہ بنتا ہے تو اس کی عقلی صلاحیتیں معطل ہو جاتی ہیں اور اس کا ذاتی ضمیر ختم ہو جاتا ہے۔ وہاں نہ قانون باقی رہتا ہے نہ اخلاقیات، صرف ایک ہی جبلت حاوی رہتی ہے کہ مجھے ہر صورت آگے بڑھنا ہے اور اسی نفسیاتی اندھے پن نے بھگدڑ کو قتلِ عام میں بدل دیا۔ لیکن اس سے بھی بڑا مجرم وہ نظام اور وہ منتظمین ہیں جنہوں نے بغیر کسی حفاظتی انتظام، ہنگامی حکمتِ عملی اور ایمرجنسی ایگزٹ کے ہزاروں افراد کو ایک محدود احاطے میں جمع کر دیا۔ ہمارے ہاں فیکٹری لگانے کے لیے این او سی لینا پڑتا ہے لیکن ہزاروں افراد کو جمع کرنے کے لیے کسی اجازت کی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی۔ یہ مجرمانہ غفلت تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ دو سو اڑسٹھ اور تین سو بائیس کے تحت قابلِ سزا جرم ہے، جہاں انسانی جان کی قیمت کو تماشے کے ٹکٹ سے بھی ارزاں سمجھا گیا۔ اس جرم میں ہمارا مرکزی دھارے کا میڈیا بھی برابر کا شریک ہے جو رات دن ایسے کرداروں کو سیلیبریٹی بنا کر پیش کرتا ہے جن کا سرمایہ صرف شور اور نمائش ہے۔ جب علم، ہنر اور محنت کے بجائے تماشا بکنے لگے تو معاشرہ ایسے ہی سانحات کو جنم دیتا ہے۔
ادبی حوالے سے منیر نیازی کا یہ شعر اس سماجی افراتفری پر پوری طرح صادق آتا ہے کہ کچھ شہر دے لوک وی ظالم سن، کچھ سانوں مرن دا شوق وی سی۔ یہ شوقِ مرگ نہیں بلکہ وہ اجتماعی بے حسی ہے جس میں ہم جی رہے ہیں۔ ہم نے قناعت کو غربت اور نمود و نمائش کو کامیابی سمجھ لیا ہے۔ ہم زوال کے ایسے دور میں داخل ہو چکے ہیں جہاں متوسط طبقہ سکڑ رہا ہے اور نچلا طبقہ سسک رہا ہے۔
وقت کا تقاضا ہے کہ اب محض تعزیتی بیانات اور چند لاکھ روپے کے اعلانِ امداد پر اکتفا نہ کیا جائے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسے عوامی اجتماعات کے لیے سخت قانونی ضوابط وضع کیے جائیں، ہر اجتماع کے لیے ڈپٹی کمشنر سے اجازت، سیکیورٹی پلان اور انشورنس کو لازمی قرار دیا جائے اور خلاف ورزی پر منتظم اور اسپانسر دونوں پر قتلِ خطا کا مقدمہ درج ہو۔ پیمرا اور پی ٹی اے کو چاہیے کہ ایسے مواد پر پابندی لگائے جو غربت کو بطورِ تفریح استعمال کرے اور ریاست کو مفت خیرات کے کلچر کے بجائے ہنر اور روزگار کے مواقع دینے ہوں گے۔ اگر آج بھی ہم نے اس سانحے کو محض ہجوم کی غلطی کہہ کر فائل بند کر دی اور اخلاقی و انتظامی اصلاح کی جانب قدم نہ بڑھایا تو سستی شہرت کا یہ بازار یوں ہی سجتا رہے گا اور مفلسی کے مارے عوام اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر مٹی کے بھاؤ بکتے رہیں گے۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *