Banner
Daily Sahafat Quetta
October 24, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
کوئٹہ میں مزاحیہ ڈراما ’’تھانہ دودھ پتی‘‘ پیش، رانا عبدالروف کی شاندار اداکاری نے شائقین کے دل جیت لیےپتوکی میں اوباشوں کی غنڈہ گردی نجی چینل کے رپورٹر پر بہیمانہ تشدد اور ڈکیتیچیئرمین پاکستان آبزرور فیصل زاہد ملک کی صدر آزاد جموں و کشمیر ڈاکٹر محمد نجیب نقی خان سے ملاقات، مسئلہ کشمیر کے عالمی سطح پر مؤثر ابلاغ پر تبادلۂ خیالایس ڈی پی او چشتیاں ، چوہدری اکمل بسرا کا گورنمنٹ گریجویٹ کالج چشتیاں میں اہم سیمیناردیامر کا تین روزہ تفصیلی دورہ، وزیراعلیٰ گلگت بلتستان کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں، شعیب مغلنوابزادہ خواجہ محمد خان ہوتی مردان اور خیبرپختونخوا کی سیاست کا ایک معتبر اور معروف نام ہےسندھ سول ڈیفنس کو ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے جدید خطوط پر فعال بنانے کا فیصلہایڈووکیٹ شہریار نیشنل پیس کونسل یوتھ ونگ کے سینٹرل چیئرمین مقررسنگداس پوسٹ پر بھتہ خوری کا سلسلہ بند کیا جائے، بیروزگار یونینرحمت اللہ لائن مین کی شہادت افسوسناک واقعہ ہے،کیسکو لیبر یونینکوئٹہ میں مزاحیہ ڈراما ’’تھانہ دودھ پتی‘‘ پیش، رانا عبدالروف کی شاندار اداکاری نے شائقین کے دل جیت لیےپتوکی میں اوباشوں کی غنڈہ گردی نجی چینل کے رپورٹر پر بہیمانہ تشدد اور ڈکیتیچیئرمین پاکستان آبزرور فیصل زاہد ملک کی صدر آزاد جموں و کشمیر ڈاکٹر محمد نجیب نقی خان سے ملاقات، مسئلہ کشمیر کے عالمی سطح پر مؤثر ابلاغ پر تبادلۂ خیالایس ڈی پی او چشتیاں ، چوہدری اکمل بسرا کا گورنمنٹ گریجویٹ کالج چشتیاں میں اہم سیمیناردیامر کا تین روزہ تفصیلی دورہ، وزیراعلیٰ گلگت بلتستان کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں، شعیب مغلنوابزادہ خواجہ محمد خان ہوتی مردان اور خیبرپختونخوا کی سیاست کا ایک معتبر اور معروف نام ہےسندھ سول ڈیفنس کو ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے جدید خطوط پر فعال بنانے کا فیصلہایڈووکیٹ شہریار نیشنل پیس کونسل یوتھ ونگ کے سینٹرل چیئرمین مقررسنگداس پوسٹ پر بھتہ خوری کا سلسلہ بند کیا جائے، بیروزگار یونینرحمت اللہ لائن مین کی شہادت افسوسناک واقعہ ہے،کیسکو لیبر یونین

لفظوں کا آخری گھر

تحریر: حافظ محمد صدیق مدنی ۔
زبان محض آوازوں کا مجموعہ نہیں ہوتی یہ ایک قوم کی روح کا وہ گھر ہے جس کی بنیادیں صدیوں کی یادداشت میں پیوست ہوتی ہیں۔ اس گھر کے دریچوں سے ماضی جھانکتا ہے، حال اپنی صورت پہچانتا ہے اور مستقبل اپنے لیے راستہ تلاش کرتا ہے۔ جب کوئی بچہ پہلی مرتبہ اپنی ماں کی زبان میں کوئی لفظ ادا کرتا ہے تو دراصل وہ صرف بولنا نہیں سیکھتا وہ اپنے گرد پھیلی ہوئی دنیا سے رشتہ قائم کرتا ہے۔ اس ایک لفظ میں ماں کی محبت، گھر کی فضا، مٹی کی خوشبو اور تہذیب کی پہلی دستک شامل ہوتی ہے۔ زبان کا سفر انسان کی پیدائش سے شروع ہوکر اس کی ذات سے بہت آگے نکل جاتا ہے۔ ایک لفظ باپ کی زبان سے بیٹے تک، ایک کہانی دادی کی زبانی پوتے تک اور ایک کہاوت کسی گمنام بزرگ کے تجربے سے پوری قوم تک پہنچتی ہے۔ اس طرح زبان وقت کے بہاؤ میں ایک ایسا پل بناتی ہے جس پر نسلیں ایک دوسرے سے ملتی رہتی ہیں۔ لیکن ہر پل کی طرح زبان کو بھی دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسے بولنے والوں کی محبت، لکھنے والوں کی محنت اور پڑھنے والوں کی توجہ درکار ہوتی ہے۔ اگر کسی پل سے گزرنے والے لوگ ہی اسے بھول جائیں تو اس کی مضبوطی کے دعوے بے معنی ہوجاتے ہیں۔ آج ہم ایک ایسے زمانے میں کھڑے ہیں جہاں الفاظ کی کمی نہیں مگر معنی کی تلاش بڑھتی جارہی ہے۔ پیغامات کی رفتار تیز ہوگئی ہے، گفتگو کے ذرائع وسیع ہوگئے ہیں اور معلومات کے دروازے ہر لمحہ کھلے رہتے ہیں۔ اس کے باوجود اظہار کی گہرائی، مطالعے کا ذوق اور لفظ کی حرمت کئی نئے سوالات کے سامنے کھڑی ہے۔ ہم لکھتے بہت ہیں مگر کیا ہم اتنا ہی پڑھتے بھی ہیں؟ ہم بولتے بہت ہیں مگر کیا اپنے لفظوں کے اثرات پر غور بھی کرتے ہیں؟ ہم اپنی شناخت کا ذکر تو کرتے ہیں مگر کیا اس شناخت کے تہذیبی سرچشموں سے ہمارا تعلق بھی زندہ ہے؟ یہ سوال اردو کے حوالے سے اور بھی اہم ہوجاتا ہے۔ اردو کی تاریخ کسی ایک خطے، ایک طبقے یا ایک زمانے کی ملکیت نہیں۔ اس زبان نے مختلف تہذیبوں، بولیوں، تجربات اور انسانی میل جول سے اپنی صورت بنائی ہے۔ اس کے دامن میں گلی کوچوں کی گفتگو بھی ہے اور ایوانوں کی خطابت بھی صوفی کی دردمندی بھی ہے اور شاعر کی تخیل آفرینی بھی۔ اس میں میر کی شکستہ دلی، غالب کی فکری وسعت، اقبال کی بیدار نگاہ اور فیض کی انسانی آرزو کے الگ الگ رنگ دکھائی دیتے ہیں۔ یہ زبان اپنے اندر اختلاف کو جگہ دے کر بھی ایک تہذیبی رشتہ قائم رکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اردو کی اصل قوت صرف اس کے بڑے ناموں میں نہیں اس کے عام بولنے والوں میں بھی پوشیدہ ہے۔ کسی مزدور کی گفتگو، کسی ماں کی لوری، کسی مسافر کی داستان اور کسی بچے کی پہلی نظم بھی اس زبان کی زندگی کا حصہ ہے۔ ادب کے بڑے دریاؤں کو اکثر ایسی ہی چھوٹی ندیوں سے پانی ملتا ہے۔ مگر زبانیں صرف ماضی کے کارناموں سے زندہ نہیں رہتیں۔ انہیں حال میں بولنا، برتنا، لکھنا اور نئے زمانے کے سوالات سے ہم آہنگ کرنا پڑتا ہے۔ اگر ہم اردو کی عظمت بیان کرتے رہیں مگر اس میں علم، تحقیق، سائنس، ٹیکنالوجی اور جدید زندگی کے تجربات پر معیاری تحریریں پیدا نہ کریں تو ہماری محبت محض دعوے کی صورت اختیار کرسکتی ہے۔ زبان سے محبت کا سب سے معتبر ثبوت اس میں کام کرنا ہے۔ ایک طالب علم کو اپنی زبان میں معیاری علمی مواد ملنا چاہیے۔ ایک نوجوان لکھنے والے کو اپنی تخلیق کے لیے حوصلہ افزائی اور تنقید دونوں میسر ہونی چاہییں۔ ایک قاری کو کتاب تک رسائی آسان ہونی چاہیے اور ایک ادیب کو ایسا ماحول ملنا چاہیے جہاں اس کی تحریر کو اس کے نام، تعلق یا شہرت کے بجائے اس کی ادبی قدر کی بنیاد پر پڑھا جائے۔ یہیں سے ادب اور معاشرے کے درمیان حقیقی تعلق قائم ہوتا ہے۔ ادب کسی زبان کی آرائش ضرور ہے مگر صرف آرائش نہیں۔ یہ اس کی فکری صلاحیت کا امتحان بھی ہے۔ جب ایک افسانہ کسی فراموش شدہ انسان کی زندگی کو مرکز بناتا ہے ، جب ایک نظم زمانے کے دکھ کو آواز دیتی ہے اور جب ایک مضمون کسی مروجہ خیال پر سنجیدہ سوال اٹھاتا ہے تو زبان محض اظہار کا وسیلہ نہیں رہتی شعور کی تشکیل میں شریک ہوجاتی ہے۔ ایک زندہ زبان سوال کرنے سے نہیں ڈرتی۔ وہ نئے الفاظ قبول کرتی ہے، بدلتے ہوئے حالات کو سمجھتی ہے اور اپنے اندر موجود امکانات کو دریافت کرتی ہے۔ اس کی حفاظت کا مطلب اسے زمانے سے الگ کردینا نہیں بلکہ اسے زمانے کے ساتھ چلنے کے قابل بنانا ہے۔ یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ اپنی زبان سے محبت کا مطلب دوسری زبانوں سے نفرت نہیں۔ دنیا کی ہر زبان اپنے بولنے والوں کے تجربات اور احساسات کی امین ہے۔ دوسری زبانیں سیکھنا علم کے نئے دروازے کھولتا ہے جبکہ اپنی زبان میں گہری جڑیں رکھنا انسان کو اپنی شناخت کا شعور دیتا ہے۔ درخت کی شاخیں جتنی چاہیں دور تک پھیل جائیں، اس کی زندگی جڑوں کی قوت سے وابستہ رہتی ہے۔ اصل مسئلہ زبانوں کے درمیان مقابلے کا نہیں بلکہ علم اور احساس کے درمیان توازن قائم رکھنے کا ہے۔ ہمیں ایسے معاشرے کی ضرورت ہے جہاں بچہ اپنی مادری زبان میں سوچنے اور سیکھنے کی حوصلہ افزائی پائے، قومی زبان میں وسیع علمی و ادبی سرمایہ حاصل کرسکے اور دوسری زبانوں کے ذریعے دنیا کے تجربات سے بھی فائدہ اٹھائے۔ زبان کو دیوار بنانے کے بجائے پل بنانا ہی دانش مندی ہے۔ اس مقصد کے لیے گھر، مدرسہ، اسکول، کالج، جامعات، ناشرین، ادبی اداروں اور ذرائع ابلاغ سب کی ذمہ داری بنتی ہے۔ کتاب کو زندگی کا حصہ بنانا ہوگا۔ بچوں کو کہانیاں سنانی ہوں گی۔ نوجوانوں کو معیاری ادب تک رسائی دینی ہوگی۔ مقامی ادبی سرگرمیوں کو فروغ دینا ہوگا اور ان لکھنے والوں کو بھی سننا ہوگا جن کی آواز بڑے شہروں کے ادبی حلقوں تک ابھی نہیں پہنچی۔ خصوصاً چھوٹے شہروں اور دور افتادہ علاقوں میں تخلیقی صلاحیتیں اکثر وسائل، رہنمائی اور اشاعت کے مواقع کی کمی کا سامنا کرتی ہیں۔ کسی قلم کار کا جغرافیائی فاصلہ اس کی تخلیقی قدر کا پیمانہ نہیں ہوسکتا۔ ممکن ہے کسی دور دراز بستی میں بیٹھا ہوا شخص ایسا جملہ لکھ دے جس میں پورے عہد کی بے چینی سمٹ آئے۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ اس کی تحریر کو پڑھنے، پرکھنے اور آگے پہنچانے کے منصفانہ مواقع میسر ہوں۔ ادبی اداروں کی اہمیت اسی مقام پر نمایاں ہوتی ہے۔ ان کا کام صرف تقریبات منعقد کرنا یا کتابوں کی رونمائی تک محدود نہیں ہونا چاہیے انہیں نئے لکھنے والوں کی تربیت، معیاری تخلیقات کی حوصلہ افزائی، تنقیدی مکالمے کے فروغ اور ادبی سرمایہ محفوظ کرنے میں بھی کردار ادا کرنا چاہیے۔ ادب کو زندہ رکھنے کے لیے تعریف ضروری ہے مگر دیانت دارانہ تنقید بھی اتنی ہی ضروری ہے۔ کیونکہ قلم کو صرف داد نہیں بلکہ راستہ بھی چاہیے۔ میں کبھی کبھی تصور کرتا ہوں کہ اگر ہماری زبان کے تمام لفظ ایک دن خاموش ہوجائیں تو کیا باقی رہ جائے گا؟ شاید کتابوں کی جلدیں موجود ہوں گی، الماریوں میں لغتیں رکھی ہوں گی اور کتب خانوں کے دروازے بھی کھلے ہوں گے مگر ان سب کے درمیان ایک عجیب ویرانی ہوگی۔ جیسے کسی شہر کی تمام عمارتیں باقی رہ جائیں مگر ان میں رہنے والے لوگ کہیں چلے گئے ہوں۔ لفظوں کی زندگی کاغذ پر چھپ جانے سے مکمل نہیں ہوتی۔ وہ اس وقت زندہ رہتے ہیں جب کوئی انہیں پڑھتا ہے، ان سے اختلاف کرتا ہے، انہیں اپنے تجربے میں آزماتا ہے اور پھر ان سے کوئی نیا مفہوم پیدا کرتا ہے۔ یہی ادب کا تسلسل ہے۔ ہمیں اپنی زبان کے لیے صرف ماضی کا نوحہ نہیں لکھنا، مستقبل کا نقشہ بھی بنانا ہے۔ ہمیں نئی کتابیں تخلیق کرنی ہیں، نئی نسل کو مطالعے کی طرف لانا ہے، ادبی معیار بلند کرنا ہے اور یہ یقین پیدا کرنا ہے کہ اردو میں بھی پیچیدہ ترین خیال، جدید ترین تجربہ اور انسانی زندگی کی گہری ترین حقیقت بیان کی جاسکتی ہے۔ زبان کا گھر تبھی آباد رہتا ہے جب اس میں نئے لوگ داخل ہوں، پرانے مکین اپنی کہانیاں سنائیں اور آنے والی نسلیں اس گھر میں اپنے خوابوں کے لیے جگہ تلاش کرسکیں۔ شاید ایک دن ہماری لکھی ہوئی کتاب کسی ایسی آنکھ کے سامنے کھلے گی جس نے ہمیں کبھی دیکھا نہیں ہوگا۔ ہمارا زمانہ گزر چکا ہوگا، ہمارے شہر بدل چکے ہوں گے اور ہماری آوازیں ہوا میں تحلیل ہوچکی ہوں گی۔ مگر کوئی نوجوان ہمارے لفظوں میں اپنے سوال کا عکس دیکھ لے گا، کوئی قاری کسی جملے سے امید حاصل کرلے گا اور کوئی طالب علم ہماری زبان کے ذریعے اپنے ماضی سے تعلق جوڑ لے گا۔ اس لمحے ہمیں معلوم ہوگا کہ زبان کا گھر ابھی آباد ہے۔ کیونکہ لفظوں کا آخری گھر کوئی عمارت، کوئی الماری یا کوئی کتب خانہ نہیں وہ انسانی شعور ہے اور جہاں محفوظ کیا گیا لفظ وقت کے اندھیروں سے گزر کر بھی روشنی پیدا کرسکتا ہے۔ اور جب تک کوئی انسان اپنے احساس کو لفظ دے سکتا ہے، کسی دوسرے کے لفظ میں اپنا دکھ پہچان سکتا ہے اور ایک نئی نسل تک اپنی کہانی پہنچا سکتا ہے اور زبان کا چراغ بجھ نہیں سکتا۔ اسے صرف ایسے دلوں کی ضرورت ہے جو لفظوں کو محض بولیں نہیں بلکہ ان کی ذمہ داری بھی محسوس کریں۔

#siddiqmadani

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *